نقطۂ نظر

زبانی جمع خرچ کے بجائے عملی اقدامات کی ضرورت

کرپشن نے ہمارے ملک کو بے حد نقصان پہنچايا ہے۔ يہ ايک تلخ حقيقت ہے کہ جس کا جہاں بس چلتا ہے وہ بہتی گنگا ميں ہاتھ دھوتاہے۔ اوپر سے لےکر نیچے تک لگ بھگ ہر کوئی اس حمام ميں ننگا ہے۔  لوٹ کھسوٹ کا دور دورہ ہے۔ کرپشن کے ساتھ ساتھ سفارش،رشوت ستانی اور اقربا پروری بھی زوروں پر ہے۔ ميرٹ نام کی کوئی  چيز نہيں۔ حق داراپنے حق کے لیے  مارے مارے پھرتے ہيں۔  غريب اور پڑھے لکھے لوگوں ميں مايوسی اور بے چينی بڑھتی جا رہی ہے۔ ايسے ميں دردمند اور محب وطن شہری ہونے کے ناطے ان برائیوں سے نمٹنے کے لیے  ميری چند تجاويز مندرجہ ذيل ہيں:  

  • بنيادی اجرت ميں اضافہ کيا جائے۔  کم سے کم تنخواہ اتنی ہو کہ گھر کا نظام آسانی سے چل جائے اور کرپشن کرنے کا ایک ناجائز بہانہ بھی ختم ہو جائے۔
  • کرپشن کرنے والوں کو بلا تفريق سخت سزائيں دی جائيں۔  احتساب سب کے لیے  يکساں ہو۔
  • محلے اور گاؤں کی سطح پر شکايت بکس رکھے جائيں اور عوام کو شناخت ظاہر کيے بغير شکایت کرنے کی اجازت ہو۔  کرپشن کی نشاندہی کرنے والے فرد  کو بازیاب شدہ رقوم سے کچھ حصہ بطور انعام دینا بھی ایک مستحسن اور پرکشش اقدام ثابت ہو سکتا ہے۔  کرپٹ کے لیے  سزا اور ایمان دار کے لیے  جزا کا نظام ہونا چاہیے۔
  • ہرقسم کی ملازمت اور عوامی عہدہ حاصل کرنے سے پہلے اور حاصل کرنے کے بعد ہر سال دولت اور اثاثے ظاہر کرنے کی شرط رکھی جائے۔  ان تفصيلات کو خفيہ رکھنے کے بجائے عوام کے سامنے رکھا جائے ۔
  • ٹينڈراور پروکيورمنٹ کے عمل کو بھی خفيہ نہ رکھا جائے۔  شفافيت کو یقینی بنانے کے لیے  تمام مراحل سب کے سامنے ہونے چاہئیں۔  میڈیا کے ذریعے عوام کو باخبر رکھنا چاہیے۔  آزاد اور شفاف آڈٹ کا نظام ہونا چاہیے۔
  • ميرٹ کو يقينی بنايا جائے اور ہر کسی کو برابر مواقع فراہم کیے جائيں۔  
  • روائتی فائلوں کے نظام کو ختم کر کے آن لائن سسٹم کو فروغ ديا جائے۔
  • ملازمتيں اور ٹھيکے دينے کے مراحل سرانجام دينے کے لیے  آذاد کميشن بنائے جائيں۔ ان کمیشنوں ميں حکومتی اور با اثر افراد کا عمل دخل ختم کيا جائے۔  
  • بھرتی کے طریقہ کار کی اصلاح بھی بے حد ضروری ہے۔  سب کے لیے  یکساں اور ایک جیسا امتحان اور انٹرویو ہو نہ کہ من پسند اور خواص سے آسان جبکہ عوام سے سخت سوالات۔

ہمارے کئی قومی ادارے ایک عرصے سے خسارے میں جا رہے ہيں اور معیشت پر بہت بڑا بوجھ ہیں۔ ایسے مسلسل خسارے میں جانے والے اداروں میں پاکستان سٹیل،ریلوے اور پی آئی اے وغیرہ شامل ہیں۔ ستم ظریفی ہے کہ نقصان ميں جانے والے اداروں کے ملازمین جتنے برے حالات میں ہیں وہیں افسران کی شاہانہ تنخواہیں ،مراعات اور شاہ خرچیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں اور اس پر  مستزاد کرپشن ۔۔۔   سرکاری ملازمین و افسران کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ چکی ہے کہ سرکاری ملازمت ميں کام کرو یا نہ کرو مہینے کے بعد تنخواہ مل جاتی ہے۔  ہمارے قومی اداروں کو تباہ کرنے میں کرپشن کے بعد اس سوچ کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔  علاوہ ازیں سیاسی حکومتوں نے اپنے اپنے ادوار ميں اضافی ملازمین بھرتی کر کے ان اداروں کی تباہی میں برابر حصہ ڈالا۔ تباہی کی ایک بہت بڑی وجہ سیاسی طور پر بھرتی ہونے والے ان غیر ہنر مند ملازمین کی اکثريت بھی ہے۔ پیشہ ور و ٹیکنیکل افسران  کی کمی اور  نااہل سربراہان  کی افراط بھی ان اداروں کی تباہی کا ایک بہت بڑا سبب ہے۔

اب آيئے تصویر کے دوسرے رخ کی طرف۔ اداروں کی تاريخ بتاتی ہے کہ سرکاری اداروں کے بجائے نجی اداروں کی  خسارے میں جانے کی شرح بہت کم ہے۔ مؤثر نگرانی،کرپشن کا تقریباً نہ ہونا، اہل و پیشہ ور ملازمین،  افسران و سربراہان، اہلیت کی بنیاد پر ترقیاں اور پرکشش تنخواہ و مراعات،  وغیرہ جیسے عناصر نے سرکاری اداروں کے مقابلے میں نجی اداروں کی شرحِ منافع کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔  ایک اور بات جو سمجھ سے بالاتر ہے وہ یہ کہ  کیا حکومتوں کا کام محض  ٹرینیں،بسيں،جہاز اور کارخانے وغیرہ چلانا ہوتا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ قومی سلامتی ،دفا‏‏‏‏ع،خارجہ،تعلیم اور صحت وغیرہ کو چھوڑ کر باقی ادارے اکثروبیشتر نجی شعبے کے سپرد کیے جاتے ہیں۔  ان نجی اداروں سے حکومتیں ٹیکس کی مد میں خطیر رقم بھی حاصل کرتی ہيں۔

قارئين، قیمتوں کے تعين پر حکومتی کنٹرول  کے نفاذ سے  نیز خسارے والے اداروں کی نج کاری کے فوائد کو مدنظر رکھ کر سنجیدگی سے اقدامات اٹھانا وقت کی اشد ضرورت ہے۔ ملازمین کی جاب سیکورٹی،پنشن اور مراعات وغیرہ کی ضمانت کے ساتھ ان اداروں کی نج کاری کے بارے سنجیدگی سے پیش قدمی کرنی چاہیے۔ قارئين، اصلاح احوال کے لیے  بلند بانگ وعدوں اور دعووں کے بجائے ہنگامی بنیادوں پرعملی اقدامات کا آغاز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

عبدالباسط علوی
عبدالباسط علوی پیشے سے انجینئر ہیں، ایم بی اے بھی کر رکھا ہے اور ادب سے بھی ازحد شغف ہے۔ عرصہ دراز سے مختلف جرائد اور ویب سائٹس کے لیے لکھ رہیں۔ امید ہے نوشتہ کے قارئین سے جُڑنے والا ان کا رشتہ بھی اسی طرح پائیدار ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے