طنز و مزاح نقطۂ نظر

یہ جو محبت ہے!

بچپن سے ہی شوق تھا ایک دھانسو قسم کا عشق لڑانے کا۔۔۔ ویسےیہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ عشق اگر ذوق و شوق اور ارادے سے کیا جائے تو عشق لڑانا کہلائے اور اگر بے وقوفوں کی طرح پہلی نظر میں ہی دل کسی کی زلفوں کا اسیرہو گیا تو اسے نرم روپہلے جذبوں سے گندھی محبت قرار دیاجائے، خیر کہاں تک اس بحث میں الجھا جائے۔ ویسے بھی ہم کسی کی زلفوں کے اسیر ہوں تو ہوں کوئی کیوں کر ہمارے چند خشکی زدہ بالوں کے دام میں آنے لگا۔ بتائیے صاحب جب ہمارے پاس حسین زلفیں تو کجا بس ایسے بال ہیں کہ خال خال ہیں،( صد شکر خدا نے بھرم رکھ لیا جو یہ بھی نہ ہوتے تو کیا ہوتا) تو کیسی محبت کہاں کا عشق گویا یہ نیم فارغ البالی ہماری محبت کی راہ میں تو رکاوٹ بن گئی۔ ہوتے جو یہ کوئی حسین، گھنیرے دراز بال تو لاکھ ان میں جوؤں کے ڈیرے ہوتے لیکن کسی لٹ میں الجھ کے کوئی تو دل آن ملتا ۔ہائے! یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا، تو جی دل کی تمنا دل میں ہی رہ گئی۔ یوں بھی ہم دل کی دل میں رکھتے ہیں اور اس میں بھی کچھ ہمارا دوش نہیں کیوں کہ اگر سب کچھ دل سے زبان پر آگیا تو چندیا پہ موجود یہ چند بال بھی نہ رہیں گے۔ویسے یہ بھی ہے کہ آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے وہ واقعی لب پر نہیں آسکتا کہ کئی پردہ نشینوں کے راز کھل جائیں گے اور نتیجتاً ہم بھی کسی بوری میں بند چند ٹکڑوں میں بٹے کٹےنظر آئیں گے کہ آج کل بوری بہت سستی ہے اور ابھی اس جہان فانی سے گزرنے کے ہمارے دن بھی نہیں ہیں، اورابھی تو غنچۂ دل کا کھلنا بھی باقی ہے۔

یار لوگوں سے عشق محبت کی گھاتیں جو بھی سنی ہیں ایسا گدگداتی ہیں دل کو کہ خدا کی پناہ اور اگر کہیں حقیقی زندگی میں ایس ہی کسی داستان سے ہم بھی دوچارہو گئے تو خوشی کے مارے مسکرا مسکرا کے بے حال نہ ہو جائیں گے۔ مگر کیا کیجیے دل کی لگی اور یہ ہنسی بھی اب تو کھانسی میں بدل جاتی ہے اور ہانپتے کانپتے انہیلر(Inhaler) سے سانسیں بحال کرنی پڑجاتی ہیں، ہائے او ربا! چاہے عمر پچپن کی سہی دل تو یہ معصوم نادان بچپن کا ہے نا۔ ہالی وڈ بالی وڈ میں تو دیکھیے ۵۰ سال کے ہیرو ابھی تک موٹر سائیکلوں پر انیس سالہ ہیروئینوں کے ساتھ دھوم مچا رہے ہوتے ہیں اور اپنے ہاں تو چالیس کے پیٹے کی مٹیاریں کھیتوں میں گنڈاسوں کی لے پررقصاں ہوتی ہیں۔

ہم نے بہت سوچا کہ کیونکر اس زندگی میں محبت کا تڑکہ لگایا جائے، مگر یہ محبت ہے کرنے کا کام، پر کرنا کیسے ہے یہ کون جانتا ہے؟ کیا جو شاعر، فنکار اور لوگ باگ کہتے اور کرتے نظر آتے ہیں وہ محبت ہے۔ فلموں میں کئی بار دیکھا کہ راہ چلتے دو” جوانیاں” ٹکرائیں اور محبت ہوگئی، یا کیلے کے چھلکے پر سے پھسل گئے اور ہیرو کی بانہوں میں لینڈ کیا ساتھ ہی میوزک بجا اور دل میں گھنٹیاں بجنے لگیں، چوٹ بھی نہیں لگی، اور پیار ہو گیا۔ حد تو یہ کہ تھپڑ کھا کے بھی اسی ظالم سے محبت کر بیٹھتے ہیں، جب کہ جواب میں سر پھاڑ دینا چاہیے تھا، خیر معذرت یہ ہماری ذاتی رائے ہے، اعانت جرم نہ سمجھنا کہ دفعہ 109عائد ہو جائے۔ واپس آتے ہیں اپنی داستان پہ، کہاں توہم ذرا سی چوٹ لگنے پر اودھم مچا دیا کرتے تھے پر اب سوچا کہ نہیں بھئی برداشت کی عادت ڈالی جائے کہ جب ہیرو کی بانہوں میں گرنے کا حسین موقع آئے گا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ منھ پھاڑ کے جو کان پھاڑ صدائیں نکلیں تو محبوب صاحب نے وہیں دھکا دے کر دو چار پسلیاں مزید توڑ ڈالنی ہیں۔

ہماری انتہائے شوق کو بس اسی صورت قرار مل سکتا تھا جب ایک عدد محبوب ہوتا، جب وہ ہمارا نام لیتا تو کلیاں چٹک کے پھول بن جاتیں، کیا کہا شہروں میں پھول ندارد، ارے تو جناب جذبات کی شاخ پہ ہی پھول مہکانے دو اس میں کیا جاتا ہے۔ خیر آتے ہیں وہیں کہ ابتدا کہاں سے ہو؟ کچھ پتا بھی تو ہو کہ مبتلائے عشق ہونے کو کیا جتن کرنا پڑیں گے، واردات قلبی کیوں کر برپا ہو سکے گی؟ گھر میں تو یہ حال کہ ابا جان نے ٹیلی ویژن پہ سرکاری چینل کے سوا کبھی کوئی دوسرا چینل دیکھنے ہی نہیں دیا اس پر بھی جب چند "نامناسب” اشتہارات چلنا شروع ہوگئے تو سبز نیلے پیلے ستارے، اور وزارت صحت کے کھلے ڈلے مکالموں سے مزین معنی خیز متحرک تصاویر دیکھ کر والد صاحب نے اس پر بھی پابندی لگا دی۔ رہ گئیں والدہ صاحبہ تووہ تمام ماؤں کی طرح انتہائی شرمیلی واقع ہوئی ہیں۔ جب ان سے چند” معصومانہ” سوال کیے تو مارے لاج کے انھوں نے ایک دھموکا جڑ ڈالا کہ ماں سے ایسی باتیں کرتے شرم نہیں آتی۔ ویسے بڑا کہتی ہیں میں تمھاری ماں نہیں دوست ہوں کوئی بات ہو تو مجھ سے نہ چھپانا اور”کام” کی باتیں بتاتی نہیں ہیں، یہ تو کھلا تضاد ہے۔۔۔بس یہ کہتے ہی ہم نے کمرے سے باہر دوڑ لگائی کہ والدہ کی قینچی چپل ہمارے ہی تعاقب میں تھی۔

رومانی ناولوں اور زنانہ رسالوں سے بھی مددلے دیکھی، دنیا انھیں لاکھ گھٹیا، تھرڈ کلاس اور اخلاق باختہ سمجھتی رہےہمارے لیے تو مانو یہ ایک کھلا خزانہ تھے جن میں عشق و عاشقی کے فسانے اور جملہ آداب و شرائط درج تھے۔ شرائط سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ ان شرائط میں چاند چہرہ ، ستارہ آنکھیں ، شہد گھلی رنگت، مخروطی انگلیاں، ستواں ناک، سانچے میں ڈھلا بدن اور جانے کیا کیا الا بلا درج تھا، آگے بڑھے اور چند چیدہ چیدہ اصول جو ہر کہانی میں مشترک تھے ان ہی کو آزمانے کا فیصلہ کیا۔ سر فہرست اسکول کے گیٹ پر محبت تھی، ہیروئن اسکول سے نکلی باہر اپنی بہن کے منتظر کسی بھائی سے نگاہیں ملیں اور دل میں بجا گٹار، لیکن اس محاذ پر بھی ناکامی تاک میں بیٹھی تھی۔ ایک تو اسکول ہماری گلی کے سرے پر ہی تھااور دوسرا کسی لڑکی کا معقول اور قبول صورت بھائی دستیاب ہی نہیں تھا، جو دو چار نٹھلے، نکمے نالائق دھوپ سے سیاہ پڑتے چہرے اور ڈی ہائیڈریشن کے سبب ستے ہوئے وجود کے ساتھ (بزعم خود) ہیرو نظر بھی آئے تو ہماری نفاست پسند طبیعت کو وہ گوارا نہ ہوئے ، اور ہم بھی کون سا ان کو گوارا تھے ۔ ایک گلی کا راستہ جس پہ ہم پوری آنکھیں کھولے نگاہ بھر کے اپنے متوقع محبوب کے دیدار کو تیار گزرتے ، لیکن اگر کوئی ہوتا تو چشم شوق کے سامنے آتا، ہائے ری مایوسی!

موبائل اس زمانے میں تھے نہیں، پتنگ اڑانی نہیں آتی تھی، کبوتروں سے بھی خاص شغف نہ تھا، اور پھراس پر مستزاد ابا جان کا خوف۔بھلے وقتوں میں جب بسنت کے حسین موسم میں آسمان پر ست رنگی پتنگوں سے دل بو کاٹا ہونے کو مچلتا ، ابا جان کا فرمان عالی شان (عرف عبرت نشان) آتا ، ’’خبردار جو کسی نے کوٹھے پر قدم دھرا ‘‘ ( او نا جی! وہ والا’’کوٹھا‘‘ نہیں، پنجابی میں بالائی چھت بھی کوٹھا کہلاتی ہے)۔ ہائے ہائے! اپنے ابا ہی ظالم سماج بنے ہوئے تھے تو کیا کسی غیر کو الزام دیتے ۔ کئی بار چاہا کہ ابا کو پاس بٹھا کر پیار سےسمجھائیں کہ آپ نے یہ جو چھ بیٹیاں بیاہنی ہیں تو تھوڑی سی رسی بھی دراز کریں، اتنا کس کے باندھیں گے تو کھونٹے ہی سے بندھی رہ جائیں گی۔ بھئی مشہور ہے نا، کر حیلہ بنے وسیلہ لیکن ہر بار یہ بات لبوں تک آ کر دم توڑ گئی کہ اپنی ٹانگیں ہمیں عزیز تھیں اور ان کو تڑوا کر پھرنے کی نہ تاب تھی نہ یارا۔

زنانہ رسالوں کے مطابق عشق لڑانے کا ایک اور زریں اصول یہ تھا کہ ہیروئن ہر وقت ہنستی ر ہے ۔ بے ساختہ ہنسی پہ فدا ہو کر اکثر پروانے منڈلاتے پھرتے ہیں۔  بے ساختہ ہنسی تو محال تھی لہذا ساختہ طور پر جا بجا ہاہا ٹھی ٹھی شروع۔۔۔ پھر ایک دن ایک "مخلص محترمہ” نے بتایا کہ یہ قہقہے ہمارے تھلتھل کرتے وجود پر مضحکہ خیز لگتے ہیں۔ برا تو بہت لگا کہ یہ ستر کلو وزن کچھ ایسا زیادہ بھی نہیں تھا کہ نیل کے ماٹ سے تشبیہہ دی جاتی لیکن برداشت کرنا پڑا، اس لیے نہیں کہ ہم بہت آدرشی سنسکاری تھے، وجہ محض یہ تھی کہ محترمہ تین عدد بلا کے حسین ہیرو ٹائپ بھائیوں کی اکلوتی بہن تھیں اسی لیے بس پیچ و تاب کھا کے رہ گئے۔
زنانہ ناولوں کی ماہر ایک ناول نگار کی تصانیف سے بھی رجوع کیا۔ناول نگار کی تمام زنانہ ہیروئینز کا جائزہ لینے کے بعد پتہ چلا کہ شرمانے لجانے کی بھی بہت قدر ہے ایسے معاملات میں۔ لیکن شرمیلے پن کی کوششیں بھی ناکام گئیں تو از سر نو غوروحوض کیا۔ جب ہی یہ عقدہ کھلا کہ ناولز مصنفہ کی جوانی کی یادگار تھے اورموجودہ فلسفۂ عشق بہت بدل چکا ؛ اب تو بےباکی رواجِ عام ہے۔

ہائے ری قسمت! بہت کوششیں کیں، بہت زخم کھائے لیکن ایک عدد محبوب نہ ملا، ساری زندگی جس محبت کی ڈگر پر بھٹکنے میں کوشاں رہے وہاں ہر راہ صراط مستقیم ہی ملی۔ اب تو دعاؤں پر ہی آسرا ہے، آپ بھی ہمارے لیے دعا کیجیے کہ عمر کی اس آخری اننگ میں ہی کوئی مل جائے۔

حمیرا اشرف
لغت نویس، ترجمہ نگار اور بلاگر حمیرا اشرف اپنے ماحول میں مثبت رویوں کی خواہاں ہیں۔ بلا تفریق رنگ، نسل، زبان و جنس صرف محبت پر یقین رکھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل صرف محبت میں ہی مضمر ہے۔

One thought on “یہ جو محبت ہے!”

  1. آپ نے خاصی طوالت سے اپنی زیست کے گوشۂ تشنہ محبت کا احاطہ کیا ہے۔ محبت تو کی جاسکتی نہیں اور روکی جاسکتی بھی نہیں، زیرک لوگ کہتے ہیں، ایمان اور محبت خاص عطیہ خداوندی ہے، یہ کرائی نہیں جاسکتی۔ باقی راقم کے شوقِ شہادت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہماری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔ دوسری بات شعرا اور ادیب اکثر اوقات کوئی خاص محبت نہیں کرتے جیسا کہ ان کے بارے میں قیاس کیا جاتا ہے کہ جذبات کی کیا قیامت ترجمانی کرتے ہیں تو جذبات رکھتے بھی ہوں گے۔ ایسا کچھ نہیں میں خود کئی معروف شعرا کو قریب سے جانتا ہوں،،، اور بین الاقوامی شعرا کو بھی ،،، ان کی مثال ایسے ہی ہے کہ حلیم بیچنے والا خود اپنا حلیم نہیں کھاتا بلکہ دوپہر کو سبزی کھارہا ہوتا ہے۔ جذبات کی ترجمانی ان کے لیے کام کی طرح ہوتا ہے۔ اکثر کو تو جذبات سے کوئی جذباتی لگاؤ نہیں ہوتا۔ بہرحال ہمیں محبت اپنی زات میں کھوجنی چاہیے۔ دنیا میں ہر کوئی چاہے جانا پسند کرتا ہے۔ امید ہے کہ آپ کی آئندہ زیست کی اننگز گذشتہ تشنگیوں کو سیراب کریں۔ آمین

اپنی رائے کا اظہار کیجیے