سماج لائف اسٹائل نقطۂ نظر

وقت کب گزرتا ہے!

کل شام سے ہی مینہ پڑنے لگا اور رات بھر بادل خوب جم کر برسے تھے۔  یہ مون سون کی پہلی بارش تھی اور برسی بھی خوب تھی کہ دھرتی ماں نے پچھلے دو ماہ جو تپش سینے پر سینکی تھی اس کی  ساری پیاس مٹا دی۔ صبح انتہائی خوشگوار تھی۔ درخت رات بھر نہا کر خوب بھلے لگ رہے تھے اور شاخیں جھوم جھوم کر خوشی کا اظہار کر رہی تھی۔

میکے میں ہونے کی وجہ سے اس پر آج  کام کا بوجھ تو نہ تھا البتہ حسبِ عادت وہ جلد ہی اُٹھ گئی۔ عمر ابھی تیسری دہائی کے نصف کو ہی پہنچی تھی۔ ماں باپ نے کم عمری میں سر سے بوجھ  کی طرح اتار دیا اور پھر یکے بعد دیگرے بچوں کی پیدائش کے سبب وہ لڑکپن سے سیدھا ادھیڑ عمر میں پہنچ گئی ،تاہم چہرے سے ابھی بھی بالی عمر عیاں تھی۔ والدہ نے کہا بھی دو گھڑی لیٹی رہو آج بچے بھی نہیں اٹھے۔  لیکن وہ کہنے لگی کوئی نہیں موسم اچھا ہے میں کپڑے دھو لیتی ہوں۔ آپ ناشتہ تیار کر لیں۔ انہی چھوٹے موٹے کاموں میں صبح گزر گئی۔  آفتاب بادلوں کی اوٹ سے آہستہ آہستہ چمکنے لگا، ہوا تھم گئی اور دھرتی نے اپنے سارا بوجھ واپس کرنا شروع کر دیا۔ یوں معلوم ہوتا کہ آفتاب میاں سر پر اٹک گئے ہیں اور مغرب کی طرف جھکنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔

حبس اور گھٹن بڑھتے ہی چلےجا رہے تھے۔ دو پہر تھی کہ ڈھلنے کا نام نہیں لے رہی اور نہ ہی بجلی آنے کا۔ یو پی ایس بھی دغا دے چُکا تھا۔ ایسے میں ایسی سخت گرمی کا مقابلہ کرنے کی خاطر بالآخر وہ تینوں بچوں کو لے کر جامن کے درخت کے نیچے آ گئی۔ کمروں کے سامنے ایک چھوٹا ورانڈا٭جس کے آگے لمبوترے رُخ کا صحن اور دوسری طرف دیوار کے ساتھ کیاری میں چند پودے تھے تاہم جامن ان سب میں نمایاں تھا۔ جامن کی چھاؤں میں اس نے دو چارپائیاں بچھا کر ایک پر بڑے بچوں کو لٹا دیا اور دوسری پر چھوٹی ننھی کو لٹا دیا ۔ خود ساتھ بیٹھ کر پنکھا جھلنے لگی۔ گرمی کے ستائے بچوں کو راحت کا احساس ہو تو وہ فوراً نیند میں چلے گئی۔

کچھ ہی دیر میں اس کی بڑی بہن بھی باہر آ گئی۔ وہ دونوں اِدھر اُدھر کی باتیں کرتیں  ساتھ ساتھ  بچوں کو مسلسل پنکھا جھل رہی تھیں۔ اک لمحے کو بھی ہاتھ رُکتے تو بچے پریشان ہو جاتے۔ شاید ان کی سرگوشیاں سننے یا بچوں کو لوری سنانے کے لیے پتوں نے بھی آہستہ آہستہ سرسراہٹ شروع کر دی۔ ہوا کا جھونکا کچھ تیز ہوتا تو چند جامن ان کی جھولی میں بھی آ پڑتے۔ اس نعمتِ مفت کو کھاتے ہوئے پرانی یادوں کے در کُھل گئے۔ کچھ ساعتیں  ایسی ہی ہوتیں ہیں کہ ان کو  دیکھتے ہی پُرانی باتوں کے در وا ہو جاتے ہیں۔

دونوں بہنیں یاد کرنے لگیں کہ کیسے وہ امی کی آنکھ لگنے کا انتظار کیا کرتی تھیں کہ کب امی کی آنکھ لگے وہ درخت پر چڑھ کر جامن توڑ سکیں۔ امی روزانہ ڈانٹتیں کپڑے خراب نہ کرنا، اور روز یہ دھمکی ملتی کہ اگر آج کپڑے خراب ہوئے تو مجھ سے بُرا کوئی نہ ہوگا۔ کئی دفعہ گرے بھی درخت سے لیکن پھر بھی ان دوپہروں میں کوئی خاص احساس تھا، اُس گرمی میں کچھ خاص کشش تھی اور اُس حبس میں بھی لطف کا ایک احساس تھا کہ روز کی جھڑکیوں کے باوجود جامن توڑنے اور کھانے ضروری تھے۔ وہ دونوں یہ باتیں کر ہی رہی تھیں کہ امی آواز آئی اندر آ جاؤ بجلی آ گئی ہے، بچوں کو بھی لے آؤ۔ ان دونوں نے ایک ایک بچہ اُٹھایا اور تیسرے کے لیے چھوٹے بھائی کو آواز دی کہ اسے اٹھا کر اندر لٹا دے۔ باہر نکلتے ہی بھائی کو  جامن کا ایک گچھا نظر آگیا،  جسے دیکھتے ہی اس کا من للچا گیا۔ بڑی عاجزی سے کہنے لگا آپی جامن توڑوں، دیکھیں کتنے کالے ہو رہے ہیں۔ یہ سنتے ہی دونوں نے بیک زباں والدہ کے الفاظ دہرائے ” کوئی ضرورت نہیں، کپڑے الگ خراب کرو گے فرش الگ گندہ ہوگا” چلو اس کو  اندر لے کر آؤ اور سکون سے لیٹ جاؤ۔ ہاں اب وہ "واہی وریں٭” ہو گئیں تھیں۔

٭ برآمدہ

٭ شادی شدہ 

 

 

ابن وسیر
عاجز سا بندہ ہوں، زندگی جو رنگ دکھاتی ہے کاغذ پر منتقل کرنے کی کوشش کرتا ہوں، اس لیے میری تحریر میں بندھے ٹکے موضوعات کی بجائے عام آدمی کی سوچ نمایاں ہے۔

2 thoughts on “وقت کب گزرتا ہے!”

اپنی رائے کا اظہار کیجیے