سیر و سیاحت متفرقات مقامات

وکٹوریہ البرٹ میوزیم اور نیچرل ہسٹری میوزیم

منزل کی جستجو ہے تو جاری رہے سفر — تیسرا حصہ میوزیم یاترا

جانا تو تھا آج ہمیں گرینچ، لیکن اللہ بھلا کرے بارش کا۔ لندن میں رات سے ہی رم جھم جاری تھی۔ ٹکٹیں خریدی جا چکی تھیں۔ ہم گرینچ کے ارادے سے گھر سے نکلے مگر بارش نے زور پکڑ لیا۔ پروگرام میں تبدیلی کرنی پڑی کہ وکٹوریہ البرٹ میوزیم جایا جائے۔ میوزیم مجھے ہمیشہ اپنی جانب کھینچتے ہیں۔ میں جہاں بھی جاؤں وہاں کا میوزیم ہمیشہ میری ترجیحات میں سر فہرست رہتا ہے۔ ان میوزیمز کا ذکر میں آئندہ اپنی کسی تحریر میں ضرور کروں گی۔

شاہدہ باجی کے گھر سے موٹسپر پارک کا اسٹیشن بہت قریب ہے۔ ہم وہاں پیدل ہی پہنچ جاتے ہیں۔ کس قدر خاموشی ہے۔  محلے میں ایک سکوت ہے۔ نہ تو سبزی والے کی ریڑھی اور نہ ہی دم ہلاتے ہوئے آوارہ کتے جن سے پطرس بخاری بھی گھبراتے تھے کہ نہ جانے کب بھونکنا بند کریں اور کاٹنا شروع کر دیں۔ نہ ہی سڑکوں پر جھاڑو لگاتے خاکروب۔ ہم آرام سے اسٹیشن پہنچ گئے۔ ٹیوب پکڑنا تھی۔ اسٹیشن پر بھی جیسے جمود طاری تھا۔ صرف دو چار لوگ ایک دوسرے سے نہایت اجنبیت کے فاصلے پر  تھے۔ ہمیں زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا۔

ٹیوب کی صفائی مثالی تھی۔ سرخ رنگ کی آرام دہ نشستیں۔ ہنستے مسکراتے سیاح۔ کم از کم مجھے انگریزوں کی روایتی بے رخی کہیں نظر نہیں آئی۔ ہمیں دو ٹیوب اور  چھ ایسکیلیٹروں کا فاصلہ طے کرنا تھا۔ اس مرحلے سےگزرے تو ایک طویل سرنگ سے گزرنا تھا۔ ہم سرنگوں سے گزرنے کے عادی ہیں۔ زندگی بھی تو ایک طویل سرنگ ہے۔ یہ سرنگ زندگی کی تمام تر رنگینیوں سے آراستہ تھی۔ سیاح تیز قدموں سے اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھے۔ باہر کے بھیگے موسم کا اندر کچھ پتا نہیں چل رہا تھا۔ اچانک ایک "عمر رسیدہ جوان”پر نظر پڑی۔ ہاتھ میں گٹار، آنکھیں بند کیے وہ ایک سرمستی کے عالم میں سروں سے کھیل رہا تھا۔ ہم کو علامہ اقبال یاد آگئے۔ شاید ایسے ہی لوگوں کے لیے انھوں نے کہا تھا:

      اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ ز ندگی

انیس نے اپنا پرس کھول کر ایک پاؤنڈ نکالا اور نہایت عقیدت و احترام سے بابا جی کی نذر کر دیا۔ آگے بڑھے۔ چند ہی قدم پر ایک نوجوان حسینہ بال کھولے آؤووو اوووئے کر رہی تھیں۔ انیس نے اسے بھی کچھ دیا۔ ہمیں افسوس ہوا کہ ہم نے یہ پیشہ یہاں نہ کیوں اپنایا۔ اچھا خاصا کما لیتے۔ کم از کم ٹرکی کا خرچہ ہی نکل جاتا۔ خیر اس مرتبہ کی خیر ہے۔ آئندہ انتظام کر کے آئیں گے اور انیس کو تو ضرور ہی ساتھ لائیں گے۔

ہم آگے بڑھے۔ ہمارے ساتھ ایک بھارتی خاتون بھی تھیں۔ پڑھی لکھی اور باوقار لگ رہی تھیں۔ ان سے باتیں ہونے لگیں۔ پوچھا کیا کیا دیکھ ڈالا۔ ہم نے انھیں بتایا کہ ہم نے لندن میں کیا نہیں دیکھا۔ تو ان کی کھل گئیں، پوچھنے لگیں، کس کی مہمان ہیں آپ؟ جب ہم نے شاہدہ باجی کا بتایا تو پھر آنکھیں اور منھ دونوں کھلے کے کھلے رہ گئے۔

ہم آگے بڑھے اور  میوزیم کی عمارت میں داخل ہوگئے۔ اب گویا آنکھیں اور منھ کھولنے کی باری ہماری تھی۔ سچ کہا تھا کسی نے کہ انگریزوں کے دور حکومت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ آج اس جملے کا حرف بہ حرف مطلب سمجھ آگیا۔ دنیا کا وہ کون سا ملک تھا جو اس عمارت میں نہیں تھا۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا میوزیم ہے جو کوئین وکٹوریہ اور ان کے شوہر البرٹ کے نام سے موسوم ہے۔ یہ آرٹس اور آرائشی اشیا کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ اس کی بنیاد 1852ء میں رکھی گئی۔ یہاں پر مجسمے، نوادرات اور پینٹینگز کے علاوہ ہر ملک کی تہذیبی و ثقافتی اشیا کی بھر مار ہے۔ اس کی تعمیر کا مقصد ہی عوام کو آرٹ کی دنیا سے روشناس کروانا تھا۔ یہاں پر تقریبا 145 گیلریاں ہیں اور ان کو سرسری دیکھنے کے لیے بھی کم از کم تین گھنٹے ضرور درکار ہیں۔

ہم ساوتھ انڈین ہال میں تھے۔ ہم ایران میں تھے، ہم چین اور جاپان میں تھے، ہم کشمیر میں تھے ہم توران میں تھے۔ دنیا ہمارے سامنے ایک کھلی کتاب کی مانند تھی۔ صرف اس کو پڑھنے کی ضرورت تھی۔ کھلی آنکھوں اور کھلے ذہن کے ساتھ۔ ہم آگے بڑھتے رہے۔ بعض چیزیں تو ایسی تھیں کہ نظریں ان پر گویا جم سی گئیں۔ پھر ہم ایک وسیع ہال میں پہنچے۔ آزر بائیجان کی ایک وسیع و عریض قالین ہمارے سامنے ایک شیشے کے سائبان تلے بچھی ہوئی تھی۔ ہر آدھ گھنٹے بعد سائبان کی بتیاں کرسٹل کے فانوسوں میں جل اٹھتیں اور قالین کچھ ساعتوں کے  لیے  ان کی روشنی میں یوں جگمگا اٹھتا کہ اس کا ایک ایک ٹانکا، ایک ایک گرہ جگمگا اٹھتی۔ ہم وہاں پہنچے تو دس منٹ باقی تھے۔ سائبان کے سامنے ہی کچھ بنچ پڑی ہوئی تھیں۔ ایک بنچ پر دو غیر ملکی ٹورسٹ بیٹھے تھے۔ ہمیں دیکھ کر نہایت خوش اخلاقی سے  مسکرا کر انھوں نے ہمیں بیٹھنے کی پیش کش کی۔ اور چند منٹ کے بعد جب شعائیں قالین  پر پڑیں تو مجھے وہ کاری گر یاد آگئے جن کی انگلیاں شہنشاہ وقت نے اس لیے  کٹوا دی تھیں کہ وہ کسی اور کے لیے  پھر یہ کام نہ کرسکیں۔ اب اس کے بعد دیکھنے کے لیے  کچھ نہ رہا ۔

    میوزیم سے باہر بارش چھاجوں برس رہی تھی۔ لگتا تھا کہ آسمان میں شگاف پڑ گئے ہوں۔ نیچرل ہسٹری میوزیم قریب ہی تھا۔ ٹورسٹوں کا ایک  سیلاب تھا جو اس بارش کی پروا کیے بغیر امڈا چلا جاتا تھا۔ ہم بھی اس کا ایک حصہ بن گئے۔ مگر کیا نظم و ضبط تھا۔ وہ ان کی برساتیاں، رنگ برنگی چھتریاں، اور خاموشی دیکھنے کے لائق تھی۔ ہم تو لوگوں کو دھکے دینے اور دھکے کھانے کے عادی ہیں۔ مگر سب ایک لمبی قطار میں اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ ہم بھی قطار میں لگ گئے۔ جب اندر داخل ہوئے تو ہم صدیوں پرانی دنیا میں تھے۔ استقبالیہ پر ایک دیو ہیکل ڈائنوسار کا ڈھانچا چھت سے لٹک رہا تھا۔ راشدہ اور سلیم تو وہیں سیڑھیوں پر پسر گئیں۔ ایک تو یہ کہ وہ پہلے بھی دیکھ چکی تھیں اور دوسرے یہ کہ وہ تھک بھی گئی تھیں۔ شاہدہ باجی اور انیس نے میرا ساتھ دیا۔ نیچرل ہسٹری میوزیم میں نیچر سے متعلق ہر چیز ہے مگر مجھے زیر زمین جانا تھا۔ ہم ایک ایسکیلیٹر سے گزر کر زمین کے اندر داخل ہوئے۔ ہم آگ کے گولے سے گزر رہے تھے ہمارے چاروں طرف معدنیات پگھل رہی تھیں۔ ناقابل یقین  نظارہ تھا۔ ہم ایک ایسے اسٹیج پر پہنچے جہاں مارکیٹ کا سیٹ لگایا گیا تھا۔ اچا نک ایک گڑگڑاہٹ ہوئی۔ زمین نے کروٹ بدلی یا گائے نے سینگ بدلے۔ فرش ہلنے لگا لوگ لڑکھڑانے لگے۔ انگریز لڑکوں نے اپنی اپنی گرل فرینڈز کو دبوچ لیا۔ ہم اس منزل سے گزر چکے ہیں اس لیے  کوئی خدشہ نہ تھا۔ آتش فشاں کو پھٹتے اور  ابلتے دیکھا۔

ایک شان دار دن گزار کر ہم واپس ہولیے۔

گذشتہ دو حصے یہاں سے پڑھے جاسکتے ہیں:

پہلا حصہ https://www.navishta.com/bibury-honey-stone-village/

دوسرا حصہ https://www.navishta.com/greenwich/

سیدہ رابعہ
اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں میں تدریس کا 50 سالہ تجربہ لیے سیدہ رابعہ ماما پارسی اسکول کے شعبۂ اردو کی ڈین بھی رہ چکی ہیں۔ رنگوں اور اسکیچنگ میں دل چسپی رکھتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بلاگنگ اور کالم نگاری بھی ان کا مشغلہ ہے۔ باغ و بہار سی شخصیت جن کی معیت میں آپ کبھی بور نہیں ہوسکتے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے