طنز و مزاح

بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے

سنا ہے محبت ایک سے ہوتی ہے، میں نے کم و بیش 7 محبتیں کیں اور ہر ایک کو دل کی گہرائیوں سے چاہا۔ میرے دل میں آج بھی ہر ایک کے لیے مخصوص مقام ہے۔ میرا دل آج بھی ہر ایک کے لیے ایک الگ انداز سے دھڑکتا ہے۔ ہاں یہ اصول ضرور میں مشاہدہ کرسکتا ہوں کہ میری ہر محبت موحد تھی۔ میری محبت کی زندگی میں ایک وقت میں میری زندگی اور تمام تر توجہ ایک ہی کے ساتھ جڑی رہی۔ میں نے اپنی ہر محبت کو ٹوٹ کر چاہا۔ اپنے دل کی ہر بات شیئر کی، بھرپور اظہارِ محبت کیا۔ دل و جان ہی نہ لٹائےہدیۂ جسم و روح بھی پیش کیا۔ جس کو مرغوب ہوا اس نے مجھے اپنے انداز سے استعمال کیا۔ میری ہر محبت جب تک میری چاہت کا ساتھ دے سکی، میری گرم جوشیوں سے لطف لیتی رہی، وہ میرے ساتھ رہی۔ اور جب دل بھر گیا، آگے بڑھ گئی۔

میں نے ہر محبت کا پرجوش ماتم کیا، رویا پیٹا، دہائیاں دیں، معافیاں مانگیں، منایا، ای میلز، ٹیکسٹ میسجز، ان باکس میسجز، واٹس ایپ کون سا در تھا جو نہ کھٹکھٹایا اور ہر در سے بلاک کر کے نکالا گیا۔ دلچسپ بات یہ کہ ہر بار اسی درد و غم کی اندھی تاریک رات میں میرے کُرلاتے، بلبلاتے، پیاسے، اور نیر بہاتے دل کو اگلی محبت نے سہارا دیا۔ ہر پچھلی محبت کا دکھ میں نے اگلی محبت کے کاندھے پر آنسو ؤں کے ساتھ بہایا۔ ہر نیا چہرہ میرے روتے بلکتے دل کو سکون کی تہوں میں پہنچاتا رہتا اور پھر اس سکون بخش احساس سے مجھے محبت ہوجاتی۔ پھر وہی محبتوں کی نرمیاں اور گرمیاں چلتیں اور پھر آہستہ آہستہ دوری آجاتی، پھر وہی رونا اور پھر نئی سمت بڑھ جانا۔

لوگ کہتے ہیں ہر انسان اپنے وجود کے گمشدہ ٹکڑے کی تلاش میں بھٹکتا ہے اور جب وہ گمشدہ حصہ سامنے آجائے تو بے اختیار اس کی جانب کھنچا چلا جاتا ہے۔ ہاں تلاش کی حد تک تو بات ٹھیک ہے، کھنچے چلے جانے کا قصہ بھی خوب ہے پر۔۔۔ یہ کوئی ایک گمشدہ ٹکڑا نہیں کچھ پزل سا معلوم ہوتا ہے۔ بھول بھلیاں سا جس میں تلاش ہے، پیاس ہے اور ڈھیر ساری محبت بھی، اور ہر محبوبِ نظر سے بھرپور محبت بھی۔

ہوسکتا ہے پہلی نظر کی محبت، ایک ہی شخص کو محبوب بنائے رکھنے کے جذبے مخالف صنف کی کمیابی اور عدم دستیابی کی بنا پر گھڑ لیے گئے ہوں، جیسے پرانے زمانے میں لڑکیاں سات پردوں میں چھپی ہوتی تھیں اور چلمن پر نظریں جمائے عمریں بیت جاتیں کہ کب کسی چلمن کے پیچھے سے نگاہوں کا تیر چلے اور دل نشانہ کردے۔ اسی لیے کسی نے اپنی استطاعت اور قدرت نہ ہونے کی بنا پر ایک محبت کا نعرہ لگا دیا۔ جسے ایک بھی نہ ملی اس نے محبت کو ہی گناہ اور طریقۂ بد قرار دے دیا۔ وگرنہ انسانی دل تو محبت کیش ہے اسے تو محبت ہی کیے جانا ہے۔ اب موجودہ زمانے میں اچھے ہینڈسم لڑکے کمیاب ہیں تو اس لیے بھی لڑکیاں محبت میں توحید کے کانسیپٹ کو آلۂ کار بنائے ہوئے ہیں۔

اب یہاں ایک بات اور بھی سامنے آتی ہے۔ بھئی جب ایک انسان بیک وقت بہت سے لوگوں سے نفرت کرسکتا ہے، بہت سے لوگوں سے دشمنی کا رشتہ پال سکتا ہے، تو پھر محبت یا محبت کا رشتہ کیوں نہیں پال سکتا؟ ہر کوئی ایک وقت میں ایک ہی دشمن سے جنگ کرتا ہے۔ اگر چومکھی لڑے تو اکثر بربادی ہی ملتی ہے یہی حال محبت کا بھی ہے۔ یہاں بھی چومکھی لڑنے میں بربادی کا اندیشہ بہرحال رہتا ہی ہے۔ اسی لیے تو دل اور جسم دونوں کی صحت و عافیت کے لیے ایک وقت میں ایک محبت ہی بہتر ہے۔ اور پھر جب ایک وقت میں ایک محبت سے وہ مطلوبہ خمار، اور جسم میں گرم و سرد لہروں کی سنسنی دوڑ ہی سکتی ہے تو پھر کیا پڑی کہ وقت اور جذبات ضائع کرتے پھریں۔ کچھ محبتیں ریزرو میں بھی تو رکھی جاسکتی ہیں نا! جب ایک محبت بے وفائی کا داغ دے جائے تو آنسو بہانے کو بھی تو کوئی کاندھا چاہیے ہوگا۔ تنہائی و فرقت اور بے وفائی کے داغ سے گھبرا کر خودکشی کو دل چاہے تو آنکھوں کے آگے کسی اور دل رُبا کا چہرہ بھی تو ہو جو ہر دکھ سے نکال کر اپنے دامِ دل فریب و راحت اندام میں یوں الجھائے کہ دل ایک بار پھر پھڑپھڑا کر رہ جائے اور ہم بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے۔

عارم
اپنی شناخت سے لاعلم ایک ہستی جو اس کائنات میں موجود ہر ذی روح میں دھڑکتی ہے۔ جنس، رنگ ، نسل، زبان سے ماورا عارم معاشرے کا آئینہ ہیں۔ سماج پر لکھنا  اور بلاتفریق پسماندہ طبقوں کی آواز بننا ان ان کی خواہش ہے۔

2 thoughts on “بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے”

اپنی رائے کا اظہار کیجیے