حالاتِ حاضرہ سماج مذہب نقطۂ نظر

تبدیلیِ مذہب اور ماضی کی ایک یاد!

بیشتر انسانوں کی زندگی میں مذہب کا کردار ناقابلِ فراموش ہوا کرتا ہے۔ دنیا میں پہلی سانس تا آخری سانس ان کی زندگی اکثر ایک ہی مذہب کے تحت گزرتی ہے یوں ان کا پیدائشی مذہب ان کے خون کا حصہ بن جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ہم مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ان کے چال ڈھال نشست و برخاست اور رویوں سے بھی بآسانی شناخت کرلیا کرتے ہیں (ایک خطے میں رہنے والے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے لباس و خوراک جیسے ثقافتی اجزا کی مماثلت کے باوجود)۔

بعض اوقات یہ بھی دیکھا گیا ہےکہ لوگ مختلف وجوہات کی بنا پر اپنے مذہب یا فرقے یا مکتبہ فکر کو تبدیل کرتے پائے گئے۔ فرقے کی تبدیلی کو عموماً نظرانداز کر دیا جاتا ہے لیکن تبدیلیِ مذہب آسانی سے نظرانداز نہیں کی جاتی۔ خواہ کوئی کسی مذہب میں داخل ہو یا کسی مذہب سے خارج ہو ہر دو صورتوں میں اس بات کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ تبدیلی مذہب کی وجوہات کبھی محبت ہوتی ہے تو کبھی لالچ، کبھی سماجی دباؤ تو کبھی دھونس و دھمکی اور بیشتر تبلیغ و وعظ۔۔ تاہم، جس مذہب کو اختیار کیا جائے وہاں اس امر پر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے تو جس مذہب کو چھوڑا جائے اس میں اضطراب اور ناپسندیدگی دکھائی دیتی ہے۔ جنوب ایشیائی ممالک میں اسلام، عیسائیت اور ہندوازم اہم مذاہب ہیں جن کے افراد کے حوالے سے تبدیلیِ مذہب کی خبریں آئے روز میڈیا کی زینت بنتی ہیں۔ بالخصوص بھارت اور پاکستان میں اکثر اقلیتوں کی جانب سے الزام عائد کیا جاتا ہے کہ اکثریت دھونس اور جبر کے ساتھ ان کے مذہب تبدیل کرواتی ہے۔ اس ضمن میں خواتین کا نام زیادہ شد و مد سے سامنے آتا ہے۔

کیا تمام خواتین محبت کے نام پر مذہب تبدیل کرتی ہیں یا واقعی انھیں جبری مذہب تبدیل کروانے کے لیے اغوا کیا جاتا ہے یا کہیں اقلیتی خواتین مناسب رشتہ نہ ملنے کے سبب فطری خواہشات کی بنا پر مذہب تبدیل کرلیتی ہیں ان سب پر خصوصی تحقیق کی جانا ضروری ہے اس لیے بھی کہ ہمارے ہاں مذہب کی تبدیلی سے براہ راست مذاہب متاثر ہوتے ہیں اورفسادات کی صورت میں سرحد کے دونوں طرف کئی جانیں نشانہ بنتی ہیں۔ ۔

حال ہی میں سندھ سے دو نوجوان لڑکیوں کے قبولِ اسلام، نکاح اور ان کے بارے میں جبری نکاح و اغوا کی گردش کرتی روایتی کہانی سے راقم کو ایک سچی کہانی یاد آگئی۔ یہ نہ مذہب کی تبدیلی کا کوئی جواز ہے اور نہ ہی کسی بزدل مسلمان کی کہانی جس نے "ایک اہم مذہبی خدمت” سے عقلی بنیادوں پر منھ موڑ کر "آخرت کی کامیابی” کا اہم موقع گنوا دیا۔ تاہم یہ کہانی پاکستان میں مذہب کی تبدیلی کی ایک مضبوط وجہ کو ضرور آشکار کرتی ہے۔

آج سے لگ بھگ بارہ برس قبل ایک نیم سرکاری گرلز انٹر کالج میں مختلف جامعات کی لڑکیاں جزوقتی تدریس کا کام کرتی تھیں۔ یہ سادہ سی ڈرپوک لڑکیاں مذہب سے محبت بھی کرتی تھیں اور اپنے مستقبل، کرئیر اور مستقبل میں ایک پرسکون گھریلو زندگی کی بھی خواہاں تھیں۔ پڑھنے والی لڑکیوں میں سے اکثر مسلمان تھیں جبکہ چھ سات لڑکیاں عیسائی بھی تھیں۔ یہ نیم سرکاری کالج دراصل کمیونٹی کی سطح پر اس لیے شروع کیے گئے تھے کہ وہ لڑکیاں جو کالجز دور ہونے کی وجہ سے میٹرک کے بعد تعلیمی سلسلہ ختم کرچکی تھیں، وہ اپنا تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کے قابل ہوسکتیں۔ یہی وجہ تھی کہ تقریباً سب ہی لڑکیاں تعلیم کے عمل میں سنجیدہ تھیں۔

عیسائی لڑکیوں میں ایک لڑکی ماریہ (فرضی نام) بھی تھی۔ یہ لڑکی بہت مؤدب اور علم دوست ہونے کے ساتھ ساتھ بلا کی حسین بھی تھی۔ کمر سے نیچے آتے گھنیرے بال، سنہری چمکتی ہوئی ہرنی سی آنکھیں اور سنہری رنگت پر بھرے بھرے خم کھائے لب۔ تقریباً تمام ہی ٹیچرز کو وہ بہت پسند تھی۔

ایک دن ماریہ نے ایک ٹیچر سے اکیلے میں بات کرنے کے لیے وقت لیا اور پھر مقررہ وقت پر آفس میں آگئی۔ ڈرتے جھجکتے بتائی جانے والی کہانی نے ٹیچر کو پریشان کر دیا۔ ماریہ نے میٹرک میں کسی کوچنگ سینٹر سے پڑھا تھا جہاں ایک مرد استاد کے اخلاق و تعلیمات اور یقیناً شخصیت سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرلیا تھا۔ اور اب چونکہ انٹر کرتے ہی والدین اس کی شادی کر دینا چاہتے تھے تو وہ اپنی ٹیچرز سے اس ضمن میں مدد کی خواہاں تھی۔ مدد؟ کس نوعیت کی ہو یہ بھی شاید وہ نہیں جانتی تھی۔ تاہم وہ خود کو مسلمان سمجھتے ہوئے غیر مسلم سے شادی کو گناہ سمجھتی تھی اور اپنے اہلِ خانہ سے چھپ کر نماز پڑھتی روزے رکھا کرتی تھی۔

ٹیچر اپنی جگہ حیران و پریشان کہ اب کیا کیا جائے۔ اس لڑکی نے مسلمان ہونے کے ناتے مدد مانگی تھی اور ایک نومسلم کو کفر و شرک کے شکنجے سے نکال کر اسلام کی عافیت میں لانا تو بہت بڑے ثواب کا کام تھا۔ عمیرہ احمد کی کہانیاں بھی خوب پڑھی تھیں اور ان سے متاثر بھی رہی تھیں۔ ماریہ کے بقول وہ مرداستاد تو ٹیوشن سینٹر چھوڑ کر جانے کہاں جا چکا تھا لیکن اب وہ "کسی بھی مسلمان” سے شادی پر رضامند تھی یا اسے کسی دارالامان تک چپکے سے فرار کروانے میں اس کی مدد کی جائے۔

ٹیچر نے یہ مسئلہ دیگر کولیگز کے سامنے رکھا اور سب ہی سکتے میں آگئیں۔ بہت غور و خوض کیا لیکن کوئی سرا ہاتھ نہ آیا۔ کرتیں بھی کیا، متوسط طبقے کی لڑکیاں جو اپنے اپنے گھروں سے اعتماد کی چادر لے کر نکلتی تھیں۔ اگر فرار کروا بھی دیں تو کہاں اور کیسے۔۔۔ اور ان کے عیسائی والدین اس بات کو مذہبی رنگ دے دیں تو اپنی عزت، کالج کی عزت اور خاندان بھر کی عزت داؤ پر۔ ایک نومسلم کی مدد نہ کریں تو خدا کی مجرم۔

بالآخر سوچا کہ اس لڑکی کو بٹھا کر اس تمام صورتِ حال کے سنگین پہلو اس کے سامنے رکھے جائیں اور پھر کوئی فیصلہ کیا جائے۔ ماریہ کو بٹھا کر سب ہی نے اسے عیسائی مسلم فساد کے خدشات سے آگاہ کیا۔ اس سے پوچھا کہ کیا آپ کے والدین آپ کے قبولِ اسلام کو تسلیم کرلیں گے، جواب ملا وہ بہت برا ماریں گے۔ کیا وہ آپ کے فرار پر خاموش ہوجائیں گے؟ جواب آیا نہیں ایف آئی آر کٹوائیں گے۔ پوچھا آپ کے دارالامان سے بازیاب ہوجانے یا کسی اور کے نکاح میں آجانے کے بعد کوئی عدالت کچہری کا سلسلہ ہوا تو آپ والدین کے خلاف کھڑی ہوسکیں گی، جواب آیا پتا نہیں۔

بہرحال اس لڑکی کو صاف گوئی سے سمجھا دیا گیا کہ اگر آپ والدین کے سامنے کھڑی ہونے کی ہمت نہیں رکھتیں اور مار پیٹ سے خوف زدہ ہیں تو ہم بھی اپنے مستقبل کو داؤ پر لگانے کو تیار نہیں۔ ماریہ کالج چھوڑ گئی۔ زندگی آگے بڑھ گئی۔ اب ماریہ عیسائیت پر قائم ہے یا اب بھی دل سے مسلمان ہے اس کا قطعی علم نہیں۔

ہوسکتا ہے بہت سے قارئین کو اس وقت کا یہ ردعمل ایک اچھے مسلمان کا طرزِعمل محسوس نہ ہو وہ کچھ تجاویز بھی پیش کریں کہ یہ کیا جاتا یا وہ کیا جاتا۔ کسی نومسلم کی مدد ضرور کی جاتی وغیرہ کہ ہمارے ہاں کا یہی رواج ہے۔ تاہم اس وقت کا عقلی بنیادوں پر کیا گیا فیصلہ بارہا درست محسوس ہوا جب اس طرح کے واقعات سامنے آئے جن میں لڑکیاں محبت کے نام پر آگے بڑھیں اور مشکلات سے گھبرا کر ہر بات سے مُکر گئیں۔

جب بھی ہندو عیسائی لڑکیوں کی اغوا نما شادی یا شادی نما اغوا جیسے کیسز نظر سے گزریں تو یہ کہانی ضرور یاد آتی ہے۔ تمام ہی مسلمان یا ہندو یا عیسائی یا دیگر اکثریتی طبقات نہ اغوا کار ہوتے ہیں نہ زیادتی پر آمادہ۔ لڑکیاں کبھی دولت و آسائش یا وعدوں سے متاثر ہوتی ہیں یا محبت اور خواہشات کی ماری اور پھر اس راہ میں آنے والی سختی کے آگے ٹھہر نہیں پاتیں اور پھر والدین کے پاس واپس آجائیں یا مبینہ اغوا کاروں کے پاس، وہ ان کی ہی بولی بولنے لگتی ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب!

بےنام
موت اور زندگی کے بیچ ایک موہوم لکیر ہوتی ہے جو عموماً نظر نہیں آتی۔ کچھ لوگ زندہ ہوتے ہوئے بھی مرجاتے ہیں اور کچھ مر کر بھی زندہ رہتے ہیں۔ زندہ درگور لوگوں کا کوئی نام ہوتا ہے نہ شناخت وہ بس nobody ہوتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے