مقامات

سندھ

سندھ ماں، سندھو دیش، سندھو دھرتی، تہذیب کا گہوارہ اور محبتوں سے گندھی دھرتی جو دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ سندھ کے موجودہ جغرافیے اور حالت زار سے قطع نظر وادی سندھ جو مغرب میں مکران تک، جنوب میں بحر عرب اور گجرات تک، مشرق میں موجودہ مالوہ کے وسط اور راجپوتانے تک اور شمال میں ملتان سے گزر کر جنوبی پنجاب کے اندر تک وسیع تھی اور عرب مورخین اسی سارے علاقے کو سندھ کہتے تھے۔
اس تہذیب کا سب سے پہلے ملنے والا شہر ہڑپہ تھا اور اس وجہ سے اسے ہڑپہ سویلائزیشن بھی کہا جاتا ہے ۔ دوسرا بڑا شہر موہنجوداڑو تھا ۔ بعد میں اب گنویری والا ملا ہے۔ جو ہڑپہ سے بڑا شہر ہے لیکن ماہرین نے زیادہ اہمیت ہڑپہ اور موہنجوداڑو کو دی۔
بڑے شہروں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ آبادی وسیع تھی اور شہروں اور دیہاتوں میں آباد تھی ۔ اس لیے یہاں وافر مقدار میں اجناس پیدا کی جاتی تھیں جو دوسرے شہروں کو بھی بھیجی جاتی تھیں۔ ملک کے طول و عرض میں پختہ اینٹوں کا کثرت سے استعمال کیا جاتا تھا۔ شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ وسیع جنگلات بھی تھے ۔ برتن اور مہروں پر جانوروں کی شکلیں اور دفینوں پر ان کی ہڈیاں جانوروں کی کثرت سے موجودگی نیز جنگلوں کی کثرت کا ثبوت ہیں ۔ جانوروں میں گینڈے، شیر، دریائی بھینس اور ہاتھی کثیر تھے ۔ ان کے علاوہ گھڑیال کا ثبوت ملا ہے۔ ریچھ کی بعض نسلیں، بندر گلہری اور طوطا بھی ملا ہے۔ بارہ سنگھا اور ہرن بھی ملے ہیں۔ اس تہذہب کے نمایاں شہر موہنجوداڑو، ہڑپہ کے علاوہ چنھودڑو، ستکگن دڑو، بالاکوٹ، سوتکا کوہ ، ٹوچی، مزینہ دمب، سیاہ دمب، جھائی، علی مراد، گنویری والا اور معتدد شہر شامل ہیں۔
موجودہ سندھ جو ہند و پاک میں پھیلا ہوا ہے اپنی جغرافیائی اہمیت کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ اپنے تاریخی پس منظر کے لیے بھی ممتاز ہے۔ پاکستان میں شامل سندھ برِصغیر کے قدیم ترین تہذیبی ورثے اور جدید ترین معاشی و صنعتی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔سندھ پاکستان کا جنوب مشرقی حصہ ہے۔ یہاں کی صوبائی زبان سندھی جبکہ دیگر زبانوں میں گجراتی، کاٹھیاواڑی، پشتو ، بلوچی، سرائیکی، پنجابی شامل ہیں۔
موجودہ سندھ 23 اضلاع میں منقسم ہے جبکہ صوبائی دارالحکومت کراچی ہے۔ سندھ کے اہم شہر حسب ذیل ہیں:
بدین، ٹھٹہ، ، لاڑکانہ، حیدرآباد،ٹنڈو الہ یار، ٹنڈو محمد خان،جیکب آباد، خیر پور، دادو، سانگھڑ، شکارپور، سکھر، عمرکوٹ، قمبر علی خان، کراچی، کشمور، گھوٹکی، مِٹیاری، میرپورخاص، نوشیروفیروز، نوابشاہ۔
فنِ تعمیر، مصوری، صنم تراشی، نقاشی، کندہ کاری، زر دوزی وغیرہ سندھ کے ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔ موجودہ زمانے میں سندھی تہذیب کی بہت سی تاریخی نشانیاں شدید موسمی صورت حال، سیلاب وغیرہ کی نذر ہو کر ہمیشہ کےلئے نابود ہو چکی ہیں، لیکن اب سندھ آرکائیوز موجودہ آثار کو ریکارڈ پر لانے اور اُن کے تحفظ کی جدو جہد کر رہا ہے اور اس غرض سے کئی تحقیقی منصوبوں پر کام بھی کیا جا رہا ہے۔
سندھ کی اہم تاریخی عمارتوں میں قلعہ رنی (یا رانی) کوٹ جامشورو ڈسٹرکٹ، کوٹ ڈیجی خیرپور ، عمر کوٹ، پکا قلعہ حیدرآباد، نوکوٹ فورٹ میرپورخاص، چوکنڈی کا قبرستان، درگاہ سیہون شریف و ملحق قلعہ و مزارات، شاہ لطیف بھٹائی کا مقبرہ، شاہ جہاں مسجد ٹھٹہ، فیض محل خیرپور، جامی مسجد دادو، مقبرہ غلام کلھوڑوحیدرآباد، وغیرہ شامل ہیں۔ اہم تاریخی مقامات موہنجو داڑو اور ہڑپہ ہیں۔
سندھ کے اہم تفریحی و سیاحتی مقامات میں مذکورہ بالا عمارات کے علاوہ منچھر جھیل دادو، جو پاکستان میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ موہن جودڑو اور ہڑپہ کی تہذیبوں سے بھی قدیم ہے۔ حمل جھیل اور ڈرگ جھیل ضلع قمبر شہدادکوٹ میں جبکہ کینجھر جھیل جسے کلری جھیل بھی کہا جاتا ہے، ہالیجی جھیل، ہڈیری یا ہڈیرو جھیل ضلع ٹھٹہ میں اور بکری وارو جھیل ضلع خیرپور میں واقع ہیں۔ ان کے علاوہ مزار قائد اعظم، سندھ عجائب گھر، قومی عجائب گھر، کیرتھر نیشنل پارک بھی اہم مقامات ہیں۔

      

حمیرا اشرف
لغت نویس، ترجمہ نگار اور بلاگر حمیرا اشرف اپنے ماحول میں مثبت رویوں کی خواہاں ہیں۔ بلا تفریق رنگ، نسل، زبان و جنس صرف محبت پر یقین رکھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل صرف محبت میں ہی مضمر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے