نقطۂ نظر

شکستہ اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں

ایک کام کے سلسلے میں راولپنڈی جانا ہوا۔  جس جگہ جانا تھا وہاں کی سڑک نہایت شکستہ اور ٹوٹی پھوٹی تھی اور ہر جگہ گندا پانی تھا۔ اس پر مستزا د آس پاس سے گزرتی اور  چھینٹے اٹھاتی گاڑیوں نے ہر کسی کو نادانستہ  طور پر ناچنے پہ مجبور کر رکھا تھا۔ ایسے اور اس سے ملتے جلتے مناظر لگ بھگ ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں۔  پوش  علاقوں اور عام جگہوں کی سڑکوں میں واضح فرق بھی صاف دکھائی دیتا ہے۔ اشرافیہ اور خواص یہاں بھی بازی لے جاتے ہیں جبکہ عوام کے حصے میں شکستہ اور ٹوٹی پھوٹی سڑکیں آتی ہیں ۔  عوام اور خواص کی سڑکوں کے درمیان واضح فرق کی ایک نمایاں جھلک اسلام آباد سے راولپنڈی میں داخل ہوتے ہوئے ملاحظہ کی جاسکتی ہے جہاں راولپنڈی کی حد کا تعین  ہی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کے آغاز سے ہوتا ہے۔                   

جدید، مہذب اور ترقی یافتہ ممالک میں عوام کے ٹیکس سے حاصل کیا گیا پیسہ عوام کو سہولیات فراہم کیا جاتا ہے جس کا ثبوت ان کے شہروں کی شکل  میں نظر آتا ہے۔ یہ ممالک اربن پلاننگ اور دیکھ بھال پر کثیر رقم خرچ کرتے ہیں۔  شہر بنانے سے پہلے نکاسی، بجلی، پانی، سڑکوں، اسکولوں، الغرض چھوٹی سے چھوٹی چیز کا خیال رکھا جاتا ہے۔ مستقبل کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے شہروں اور سوسائٹیوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔

اس کے برعکس وطن ‏عزیز میں سرکاری سطح پر کہیں بھی اربن پلاننگ دکھائی نہیں دیتی۔  بغیر منصوبہ بندی کے شہر کے شہر بسادیے جاتے ہيں۔  سیاسی اور سفارشی بنیادوں پر نااہل اور نان ٹیکنیکل لوگوں کو ٹھیکے دیے جاتے ہیں۔  نکاسی آب، بجلی اور پانی وغیرہ کا خیال نہیں کیا جاتا۔ کوئی باقاعدہ ڈرائنگ نہیں بنائی جاتی اور نہ ہی مستقبل کے تقاضوں، جیسے آبادی میں اضافے کے ساتھ وسائل میں بہتری و اضافہ، وغیرہ  کو مد نظر رکھا جاتا ہے نتیجے کے طور پر سڑک بن جانے کے بعد بھی گیس، سیوریج اور ٹیلیفون کی لائنوں کے ضمن میں   مختلف پائپ بچھانے کےلیے ‎پختہ سڑکوں کو جگہ جگہ سے ادھیڑ کر رکھ دیا جاتا ہے۔ سیوریج کے ناقص نظام اور  پانی کی مناسب نکاسی  نہ ہونےکی وجہ سے بارش کی صورت میں سڑکوں پر گھٹنوں تک پانی اکٹھا ہو جاتا ہے۔  یورپ میں تقریباً سارا سال ہی بارشیں رہتی ہیں مگر سڑکوں پر پانی جمع نہیں ہوتا ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہاں اربن پلاننگ کے موقع پر ہی  نکاسی کا خاص خیال رکھا جاتا ہے اور دوسری اہم وجہ جس کا میں نے ذاتی مشاہدہ بھی کیا کہ وہ سڑکوں کی  ڈھلوانیں اورنشیب وفراز ایسا رکھتے ہیں کہ پانی جمع نہیں ہوتا بلکہ سیدھا نکاسی میں چلا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں صفائی پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔  

وطن عزیز کے شہروں اور ان کے باسیوں کی حالت زار دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔  کرپٹ اور نااہل اشرافیہ کی بے حسی اور عوامی مسائل سے چشم پوشی قابل مذمت ہے۔

قارئین، لمبی تمہید کا مقصد کسی کی بلاجواز تعریف یا برائی کرنا نہیں بلکہ خامیوں کی نشان دہی کر کے بہتری کی راہ تلاش کرنا ہے۔  ہر شہری کو یکساں اور بلا تفریق سہولتیں فراہم کیے جانے کی ضرورت ہے۔  وطن عزیز کے ہر فرد تک قومی وسائل کی رسائی بہم پہنچانے کے لیے انقلابی اقدامات کرنا ہوں گے تب ہی حقیقی تبدیلی دکھائی دے گی جو وقت کی ضرورت بھی ہے اور پاکستانیوں کا اہم تقاضا بھی۔

عبدالباسط علوی
عبدالباسط علوی پیشے سے انجینئر ہیں، ایم بی اے بھی کر رکھا ہے اور ادب سے بھی ازحد شغف ہے۔ عرصہ دراز سے مختلف جرائد اور ویب سائٹس کے لیے لکھ رہیں۔ امید ہے نوشتہ کے قارئین سے جُڑنے والا ان کا رشتہ بھی اسی طرح پائیدار ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے