زبان و ادب کتب خانہ نقطۂ نظر

خزاں رسیدہ شجر سے امیدِ بہار رکھ (دوسرا حصہ)

(گزشتہ سے پیوستہ)

کل اُردو کے ایک پروفیسر صاحب سے گفتگو کے دوران پتا چلا کہ سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے اس بار اُردو کی کتاب میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں تو ہم سے رہا نہ گیا اور فوراً کتاب منگوا لی۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے جتنی خوشی اپنی پہلی کتاب (جس میں بطور مدیر ہم کام کرچکے ہیں) کے چھپنے کی ہوئی تھی اتنی ہی خوشی آج ’اُردُو لازمی‘ (نویں اور دسویں جماعت کے لیے) کو دیکھ کر ہوئی۔ ہم تو صاحب بس یوں سمجھیے کہ امید ہی چھوڑ چکے تھے۔ جس ملک کی عوام پانی، بجلی، روٹی اور مناسب علاج کے لیے ترستے ہوں وہاں اُردو کی درسی کتاب میں تبدیلی کیوں کر ممکن ہو۔ خیر۔۔۔ دیر آید درست آید۔
بظاہر تونثر اور نظم میں تقسیم ہوئی، اسی قد کاٹھ اور جسامت کی کتاب ہے لیکن ذرا کھول کر تو دیکھیے اصل لطف آئے گا۔ پہلا سبق مولانا شبلی نعمانی کی ’سیرت النبیؐ‘ جبکہ آخری حکیم محمد سعید کے سفرنامے ’لندن اور کیمبرج‘ سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ ہمارا شوق نہیں بلکہ اُردو زبان کی حلاوت ہے جو دل میں اتر جاتی ہے۔ پھر وہ چاہے سرسید کا مضمون ہو یا مرزا فرحت اللہ بیگ کا ’اونہہ‘ ہر ایک لفظ چاشنی میں ڈوبا ہوا۔ اورڈپٹی نذیر احمد کی دلی کی با محاورہ زبان کا کیا ہی کہنا۔ ’بنات النعش‘ کے ماخذ سے طلبہ ضرور محظوظ ہوں گے۔
اس بار اُردو کے نصاب پر خصوصی توجہ دی گئی ہے اور تمام ہی اسباق تبدیل کردیے گئے ہیں ۔ ابنِ انشا کے سفر نامے اور طنزومزاح کے بجائے حکیم محمد سعید اور فرحت اللہ بیگ کا انتخاب بالترتیب ہمیں بہت بھلا لگا اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ابنِ انشا کے انتخاب دوسرے درجات کی درسی کتب میں پہلے ہی موجود ہیں۔ اس انتخاب سے طلبہ کو اردو ادب کے مزید مصنفین اور متعلقہ کتب کے بارے میں جاننے کا اور انھیں پڑھنے کا بھی موقع ملے گا۔ اسی طرح حصۂ نظم میں ادا جعفری کی غزل ’ہونٹوں پہ کبھی اُن کے مرا نام ہی آئے‘ کا انتخاب طبیعت کو انتہائی خوش گوار لگا ۔ اتنے سالوں میں پہلی دفعہ ایک شاعرہ کا انتخاب اخذ کیا گیا ہے۔ انگریزی ادب میں کئی دفعہ (خاص طور پر انیسویں صدی کے ناول کی کلاس میں) ہمارے اساتذہ ہمیں مصنف اور مصنفہ کا آپس میں موازنہ کرنے کو کہتے، جیسے جین آسٹن اور چارلس ڈکنس ۔ دونوں نے ایک ہی صدی میں اور ایک ہی صنف میں لکھا اور دونوں کا ہی نام انگریزی ناول میں ایک مثال ہے، لیکن دونوں کا طریقہ اور سوچ مختلف۔ ناولوں کا مزاج، کردار اور مرکزی خیال بھی یکسر مختلف۔ لیکن جب اُردو ادب کی بات آتی تو کسی مصنفہ یاشاعرہ کا کلام ہی نہیں جس سے طلبہ میں یہ رجحان پیدا کیا جاتا کہ وہ موازنہ کریں۔
ایک اور انتہائی اہم اور خوش آئند تبدیلی اس میں حاصلاتِ تعلم اور ہدایات برائے اساتذہ کا شُمول ہے۔ چوں کہ ضرور یہ کتاب اندرونِ سندھ بھی پڑھائی جاتی ہے اور افسوس کے ساتھ ایسے کافی علاقوں میں اساتذہ کی تربیت کا کچھ سامان نہیں ، ایسے میں یہ اندراج ضرور مددگار ثابت ہوگا۔ پیش لفظ میں متانت اور شستہ زبان میں اساتذہ کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ سبق پڑھانے سے پہلے پوری تیاری سے جائیں اور صرف کتاب تک ہی محدود نہ رہیں بلکہ اپنے مشاہدے اور تجربے کی روشنی میں دیگر متعلقہ مواد کو بھی شامل کر لیں۔
ہر سبق کے آغاز میں مصنف یا شاعر کا چھوٹا سا حوالہ بھی دیا گیا ہے اور اختتام پر موضوعی اور معروضی مشقیں شامل کی گئی ہیں جو کہ قابلِ تعریف ہیں۔ اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی دل چسپ سرگرمیاں بھی موجود ہیں۔ جیسے، طلبہ انٹرنیٹ کی مدد سے میر کا کلام تلاش کریں۔ اس کے بھی کئی فوائد ہیں جیسے طلبہ اُردو کی بورڈ سیکھ سکیں گے اور انھیں ایسی بھی کئی ویب سائٹس کا پتا چلے گا جہاں سے اُردو ادب بغیر کسی قیمت کے ڈاؤن لوڈ کیا جاسکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کتاب کے پیچھے قومی ترانے کے عین نیچےعلمی کے نام سے ایک ایس ایم ایس سروس بھی متعارف کروائی گئی ہے جو کہ طلبہ کے ہوم ورک سے متعلق مسائل کے حل کے لیے ہے۔
عموماً اساتذہ اور طلبہ اُردو کی املا کی وجہ سے اسی طرح پریشان رہتے ہیں جیسے انگریزی میں برٹش انگلش اور امیریکن انگلش کو لے کر۔ بحیثیت مدیر ہماری یہ خوش بختی ہوئی کہ ہمارا واسطہ کچھ لغت نویسوں اور زبان دانوں سے پڑ گیا اور ہم نے اپنے مسائل ان کے گوش گزار دیے۔ نتیجتاً ہم نے اپنی کتب میں اُردو کا معیاری املا استعمال کیا، الفاظ کو بلا ضرورت ملانے سےبھی اجتناب کیا اور زیادہ تر الفاظ پر اعراب لگائے۔ وجہ یہ محسوس ہوئی کہ آج کل بچوں کو اُردو مشکل زبان لگتی ہے والدین بھی جیسے تیسے اُردو بولتے ہیں تو بچے جن الفاظ سے آشنا نہیں وہ الفاظ درست تلفظ سے کیسے ادا کریں۔ گو کہ اس معیاری املا کے چکر میں جب ہم نے پتہ کو پتا، کیجیئے کو کیجیے اور طوطا کو توتا لکھا تو آدھی دنیا کو اپنا دشمن بنا لیا۔ صد آفریں ان تمام مصنفین اور مولفین کے لیے جنھوں نےاُردُو لازمی میں معیاری املا کو ترجیح دی اور بہت بڑی تعداد میں ہماری زبان کو ہمارے ہی بچوں کے ہاتھوں مزید بگڑنے سے بچا لیا۔ شایع اور ضایع میں سے ہمزہ کا اخراج، مُنقَطَع، مُکَدَّر پر مناسب اعراب اور شان دار، ہم دردی ، گم راہ کو توڑ کر لکھنے کی جو روایت شروع کی ہے وہ قابلِ ستائش ہے۔
ویسے تو ہر چیز میں بہتری کی گنجائش رہتی ہے لیکن اس کتاب کے بنیادی خاکے پر کافی محنت کی گئی ہے، محض سرکاری کام نہیں کیا گیا۔ اور کیوں کہ ہم خود ایک اشاعتی ادارے سے منسلک ہیں تو اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ اتنی بڑی تبدیلی میں کتنا وقت، سوچ بچار اور محنت لگی ہوگی۔ اسی لیے ہمیں بہ مشکل ہی اس میں کچھ کمیاں نظر آئیں ۔ ایک ہلکی سی چبھن ہوئی یہ دیکھ کر کہ ’جوابِ شکوہ‘ اب اس کتاب کا حصہ نہیں۔ ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ کا سیانا بادشاہ دسویں جماعت کے لحاظ سے بے حد آسان لگا۔ اور کیوں کہ یہ افسانوی ادب کے گروہ میں نذیر احمد کے ’اصغری نے لڑکیوں کا مکتب بٹھایا‘ اور منشی پریم چند کے’بوڑھی کاکی‘ کے ساتھ موجود ہے تو بہت پھیکا بھی معلوم ہوا۔
زبان اور ادب کے دلداہ ہونے کے ناتے تو خوشی ہے ہی، ہم اس لیے بھی مطمئن ہیں کہ ہمیں بھی اپنی اولاد سے یہ نہیں کہنا پڑے گا، ’’ارے یہ کتاب تو میں نے اور تمھاری نانی نے بھی پڑھی ہے۔‘‘

ثنا شاہد
ثنا شاہد، رنگوں، خوشبوؤں اور کتابوں کی دیوانی جو چھوٹی سی زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتی ہیں۔ انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے کے باوجود اردو زبان کا اچھا اور معیاری استعمال نہ صرف سیکھنے بلکہ سکھانے کے لیے بھی کوشاں رہتی ہیں۔ نجی اشاعتی ادارے سے بطور منیجر، پبلشنگ وابستہ ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے