زبان و ادب کتب خانہ نقطۂ نظر

خزاں رسیدہ شجر سے امیدِبہار رکھ (پہلاحصہ)

اللہ ہماری پھوپھی کے لیے آسانیاں پیدا کرے جنھوں نے ہمیں ادب کی ایسی گھٹی پلائی کہ اس کا چسکا زبان کو لگ گیا اور ایسا لگا کہ اب جان نہیں چھٹتی۔ شروعات ’نونہال‘ سے کی اور اس کے بعد انواع و اقسام کی کتابیں پڑھ ڈالیں۔ اُردو ہو یا انگریزی، پریوں کی کہانیاں ہوں یا سبق آموز حکایتیں، سب ہی نہایت محبوب۔ جب ’نونہال‘ میں مسعود احمد برکاتی کا اُردومیں ترجمہ کیا گیا ’بلیک بیوٹی‘ قسط وار چھپنا شروع ہوا تو حالت ایسی کہ رسالہ ہاتھ میں آیا اور جھٹ پٹ پڑھ ڈالا ۔ پھر پورا مہینہ انتظار کی سولی پر گزرتا کہ اگلی قسط میں کیا ہوگا۔ یہی نہیں، شوق کا عالم یہ تھا کہ جیسے ہی نئے تعلیمی سال کا نصاب آتا، سب سے پہلے اُردو اور پھر انگریزی کی درسی کتب پڑھ لی جاتیں۔ ایک دودن میں جیسے ہی کھیل کود سے فراغت ہوئی یا والدین کو یہ جتانا ہوا کہ ہم کتنے ہونہار ہیں، لگے بلند خوانی کرنے۔ (وہ تو بعد میں پتا چلا کہ ہمارے اس علم کے شوق کو والدین خوب سمجھتے ہیں)۔ میٹرک تک پہنچتے پہنچتے ہمیں سزا دینے کے طریقے بھی تبدیل ہو گئے تھے۔ ’نونہال‘ اور دوسری کتابیں اس لیے خرید کر دی جاتی تھیں کہ ہم زبان سیکھیں اور پڑھائی لکھائی اچھی ہو سکے۔ جب یہ پڑھائی مشغلہ بن گئی تو جب کبھی سزا دینی ہو تی کتابوں کے تحفے روک لیے جاتے اور ہم کئی دن اذیت میں گزارتے۔
چوتھی جماعت کے نصاب میں شامل ’تندرستی ہزار نعمت ہے‘ ہمیں انتہائی پسند تھی اور اسے بار بار اتنا پڑھا تھا کہ ہر لفظ رٹ گیا تھا۔ والدہ گواہ ہیں کہ اُردو کے کسی امتحان میں پڑھ کر نہیں گئے، ہر سبق پہلے سے ہی ازبر جو تھا۔ تعلیمی سال شروع ہونے سے پہلے ہی اُردو کی نصابی کتاب پڑھنے کا یہ عمل بارھویں جماعت تک یوں ہی جاری و ساری رہا۔ جب بھی اُردو کی درسی کتاب آتی تو امی کہتیں، ’’یہی کتاب میں نے پڑھی ہے۔‘‘ ’’ارے یہ سبق تو بہت دل چسپ ہے۔‘‘ ’’دیکھو ذرا اس کتاب میں وہ نظم کیا ابھی بھی موجود ہے۔‘‘ امی کی اس بات سے اس وقت بہت خوشی ہوتی کہ ہم بھی وہی سب پڑھ رہے ہیں جو ہمارے والدین نے پڑھا ہے ۔ سمجھ پختہ نہیں تھی اور نہ ہی معاملے کی سنگینی کا احساس تھا۔
ہمیں آج بھی یاد ہے کہ جب دسویں جماعت کی کتاب ہاتھ میں آئی اور سرسید کا مضمون ’گزرا ہوا زمانہ‘ کا عنوان پڑھا تو امی کو جھٹکا لگا اور فورا ً ہمارے ہاتھ سے کتاب لے کر دیکھنے لگیں۔ ’’لو دیکھو بھلا اتنے برسوں میں کوئی تبدیلی نہیں، کچھ تو نیا ہوتا۔ اللہ یہی سب تو ہم نے پڑھا ہے۔ بالکل یہی کتاب تھی ہماری۔‘‘ رات میں والد صاحب کو بھی بتایا کہ میٹرک کی کتاب وہی ہے جو ہم نے اپنے وقت میں پڑھی تھی۔ ہمیں بھی افسوس تھا کہ بالکل وہی کیوں ہے دو چار کہانیاں اور ڈال دیتے۔ ’توبتہ النصوح‘ سے کوئی اقتباس یا ’حماقتیں‘ کے کچھ صفحات۔ امی کو نیا سبق نظر آتا تو پتا چلتا نا کہ آج کل کی پڑھائی کتنی مشکل ہے اور پھر وہ بھی ایک نیا سبق پڑھ لیتیں۔ دراصل اُردو ادب سے ہماری والدہ ماجدہ کو بھی شغف تھا۔ ’نونہال‘، ’ساتھی‘، ’تعلیم و تربیت‘ میں کبھی جو کسی مصنف کا تعارف مع اس کے کام کے حوالے پڑھ لیتے تو ادب کی پیاسی روح بے چین ہوجاتی کہ ہم کیسے پڑھیں۔ لائبریریوں کا فقدان اور جو کوئی نظرآ بھی گئی تو وہا ں تک جایا کیسے جائے، کتابیں انتہائی مہنگی، اور ہم پاکٹ منی پر گزارا کرنے والے لوگ بھلا کیسے اپنی روح کو سیراب کرتے۔ ایسے میں درسی کتب میں یہ اقتباسات ہمیں جِلا بخشتے۔
ادب کی محبت میں خوب صورت بچپن گزارتے ہوئے جب یونیورسٹی پہنچے تو اپنے ملک کے تعلیمی نظام کی ابتری سمجھ آئی۔ اور پھر یونیورسٹی کے سال اسی افسوس میں گزرے۔ یونیورسٹی کے زمانے میں یوں تو ہر کوئی ہی ڈگری ہاتھ میں لے کر سوچتا ہے کہ اب وہ دنیا بدل دے گا لیکن جب جامعہ سے قدم باہر نکلتے ہیں تو دنیا کی نرالی چال اور فکرِ معاش کے گرداب میں ایسا پھنستا ہے کہ سارے فلسفے دھرے رہ جاتے ہیں۔ لیکن ہم تھوڑے سے ڈھیٹ ثابت ہوئے۔ ادب سے شدید قسم کی محبت اتنی تھی کے والدین کی بی ایس سی کی خواہش کو بہت بے دردی سے کچلتے ہوئے انگریزی میں ایم اے کیا اور تدریس کو ذریعہ ٔمعاش بنایا۔ اپنے تقریباً ۳ سال کے کرئیر میں ہر ممکن کوشش کی کہ جہاں کہیں نصاب میں کمی ہے وہ ہم پوری کردیں اور ہمارے طلبہ کو کوئی تکلیف نہ ہو، اور الحمدللہ اس میں کافی حد تک کامیاب بھی رہے۔شاید اللہ پاک ہم سے پوری دنیا نہیں لیکن کچھ تو بدلوانا چاہتے تھے جو ہم ایک نجی اشاعتی ادارے کا حصہ بن گئے، اور لگے درسی کتب پر کام کرنے۔ ہم نے اپنے طور پر جو بن سکا کیا اورجتنا علم تھا وہ سارا بروئے کار لاکر پوری دل جمعی سے کتابیں تیار کیں۔ اس مرحلے میں کئی بار، بار بار، تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا ۔لیکن ہم ایک مشن پر ہیں اور جب تک ہمارے خالق نے جان دی ہے ہم اپنا کام پوری ایمان داری سے کریں گے۔ اس دوران کبھی کبھی جب ہمیں اُردو کی درسی کتب کا خیال آتا تو دل مسوس کر رہ جاتے۔ تمام وسائل ہونے کے باوجود سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے ہمارے ملک کے طالب علموں کے ساتھ جو ظلم کیا اس کی تلافی کیسے ہو۔ اسی ادھیڑبُن میں سال گزر گئے۔ لیکن شاید ہمیں یہ صبح بھی دیکھنی تھی۔

(جاری ہے)

ثنا شاہد
ثنا شاہد، رنگوں، خوشبوؤں اور کتابوں کی دیوانی جو چھوٹی سی زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتی ہیں۔ انگریزی ادب میں ماسٹرز کرنے کے باوجود اردو زبان کا اچھا اور معیاری استعمال نہ صرف سیکھنے بلکہ سکھانے کے لیے بھی کوشاں رہتی ہیں۔ نجی اشاعتی ادارے سے بطور منیجر، پبلشنگ وابستہ ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے