نقطۂ نظر

شادی کے بعد محبت ہوجاتی ہے!

ایک جانا مانا قول جو اکثر والدین، سماج اور ظالم سماج بھی بولتا نظر آتا ہے۔ لیکن آج تک کسی نے اس کی توضیح نہیں کی کہ کس سے؟ اس سے جسے بیوی یا شوہر بنا کر سر پر منڈھا گیا ہے یا اس سے جس کا تصور بطور آئیڈیل  فرد کے حواسوں پر سوار ہوتا ہے، یا اس آئیڈیل کی تلاش میں ملنے والے ہر دھوکے باز سے۔

چلیں تھوڑے کہے کو بہت مان کر  سمجھ لیتے ہیں کہ مذکورہ جملے میں  نکاحی بیاہی زوجہ  یا جنابِ زوج  ہی مراد ہیں  تو ذرا بتائیں پھر اتنی طلاقیں  کیوں ہوتی ہیں ، کیوں شوہر بیوی میں ہر وقت سر پھٹول ہوتی رہتی ہے اور اور تو اور شادی کے رشتے میں بیزاری اور ناپسندیدگی و بوجھل پن کا اظہار کرتے لطیفے کیوں اس قدر رواج میں ہیں بھلا!

ہمارے ہاں اس شادی کے بعد محبت والی بات پر اس قدر یقین کیا جاتا ہے کہ بہت سی کہانیوں، ڈراموں اور فلموں کے کلائمکس کا بیڑا غرق ہوجاتا ہے۔ ہیرو یا ہیروئن کسی سے وعدے کریں، قسمیں کھائیں، ایک پیالی سے آئس کریم کھائیں یا ایک گلاس میں دو اسٹرا ڈال کر جوس پیتے نظر آئیں۔۔۔ لیکن ماں کے دوپٹے سے ہار کر کسی ناپسندیدہ فرد سے شادی کرلیتے ہیں جب سب یقین دلاتے ہیں "شادی کے بعد محبت ہو ہی جاتی ہے” ۔ پھر صبح شام لڑتے بھڑتے رہتے ہیں یا اشکوں کو پیتے رہتے ہیں اور جب ہمیں یقین ہوتا ہے کہ یہ بندا /بندی بس اب سماج کی زنجیریں توڑے گا اور اس جنجال و وبال تعلق سے نکل بھاگے گا تو کہیں سے ایک "بچہ” پیدا ہوجاتا ہے، اور شرماتے ہوئے اقرار ہوتا ہے کہ "وہ جی ہمیں بس محبت ہو ہی گئی” یا کیا کریں جی "بس غلطی سے یہ ہوگیا، اور اب بھی محبت نہ کریں تو کیا کریں”۔

وہ جو ذہنی ہم آہنگی تھی، یا سابقہ محبوبہ کے لیے جذبات تھے وہ سب ختم، ٹا ٹا بائے بائے، تم اپنے گھر خوش ہم اپنے گھر خوش۔۔۔

کچھ ایسے  بھی ہوتے ہیں جو  شادی کے بعد محبت ہوجانے کے قول کو سیریس لے لیتے ہیں اور پھر محبت پر محبت کرتے ہی جاتے ہیں۔ جیسے ایک صاحب نے ددھیالی دباؤ سے گھبرا کر خالا کی بیٹی سے منگنی توڑ کر ابا کی مرضی سے کہیں اور شادی کرلی، اس کے بعد انھیں یاد آیا کہ محبت ہوگئی ہے، خالا کی اسی بیٹی سے، بس کیا تھا پہلی بیوی اور دو بچوں کی موجودگی میں کر لی شادی خالا کی بیٹی سے۔ اب دونوں بیگمات میں بچے پیدا کرنے، میرا مطلب ہے شوہر کی زیادہ سے زیادہ محبت حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہوگئی۔ اور شوہر صاحب کو تو وہ ایک جملہ ہی لڑ گیا تھا نا شادی کے بعد محبت ہونے کا سو وہ تو کھُل کھیلنے کو تیار تھے۔ لہٰذا انھیں پھر محبت ہوگئی، اور یوں  گھر میں تیسری بیگم بھی آپڑیں۔ اب جو محبت کا رن پڑا ہے تو کُل تیرہ بچے ہوگئے جبکہ شوہر صاحب ہنوز  محبت کی تلاش میں دربدر۔ چوتھی بار محبت کی کوشش کو تینوں بیویوں نے بھانپ لیا اور پھر اس سے پہلے کہ شوہر کی چوتھی محبت گھر میں شریف لاتی ، مار مار کر شوہر صاحب کی تشریف سُجا دی گئی یوں محبت بھری اس نصیحت کا کہیں جا کے اختتام ہوا۔

کچھ محبت کے لیے اس قدر اتاولے ہوتے ہیں کہ بالکل باؤلے ہوجاتے ہیں۔ انھیں گھر میں ایک بیوی اور گھر سے باہر قدم رکھتے ہی محبتوں کے جہاں درکار ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا ان باؤلے محبتیوں کے لیے جائے قرار بن چکی ہے جہاں ان کا گوہرِ مقصود وافر دستیاب ہے۔ کبھی کسی سے محبت کرتے ہیں، پھر اس سے دل بھر جانے پر کسی اور سے تعلق جوڑتے ہیں، کسی کو میٹھی نظروں سے نوازتے ہیں، کسی کو باتوں کےجادو میں اتارتے ہیں، کسی کے ان باکس میں جا دھمکتے ہیں اور ہیلو ہائے سے لے کر حکایتِ دل اور ملاقات کے وعدے لینے پر تُل جاتے ہیں تو کسی کے کمنٹ سیکشن میں جا کر پھڑکتے ہوئے شعر چسپاں کرجاتے ہیں۔ اور پھر جب کہیں سے دال نہیں گلتی تو دوبارہ اسی کے پاس جا نکلتے ہیں جسے دل سے نکال بیٹھے تھے۔ ان باولے اتاو لوں کو نہ رنگ سے کام، نہ روپ سے، نہ عمر سے نہ ہنر سے، نہ مزاج سے نہ عادات سے، بس جو بھی ہو جنسِ مخالف سے ہو اور بات بن جائے۔

اگر کسی سے بھی شادی ایسی ہی محبت کی ضامن ہوتی تو دل یوں بھٹکتے نہ پھرتے۔ ہم تو یہی درخواست کریں گے کہ رُکیے، سوچیے سمجھیے، محبت اور نرم گوشے کا فرق محسوس کیجیے، ذہنی ہم آہنگی جیسے عامل کو جانیے اور پھر شادی کا اہم فیصلہ کیجیے۔ اپنی شادی، اپنی پہلی شادی کا فیصلہ۔۔۔ اور والدین سے بھی گزارش ہے، اپنی تو زندگی خراب کر لی اس شادی کے بعد محبت والی ٹافی سے، اب بس کردیجیے، مان لیجیے  جس کی زندگی اس کی مرضی۔۔۔

عارم
اپنی شناخت سے لاعلم ایک ہستی جو اس کائنات میں موجود ہر ذی روح میں دھڑکتی ہے۔ جنس، رنگ ، نسل، زبان سے ماورا عارم معاشرے کا آئینہ ہیں۔ سماج پر لکھنا  اور بلاتفریق پسماندہ طبقوں کی آواز بننا ان ان کی خواہش ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے