لائف اسٹائل نقطۂ نظر

سیلف کا اظہار، سیلفی

سیلفی بُری ہے،  بُری ہے یہ سیلفی

کہے جا رہے ہیں، لیے جا رہے ہیں

یوں تو دنیا کے ہر معاملے میں ہمارا یہی حال ہے: اوروں کو نصیحت، آپ میاں فضیحت،  یعنی دوسرا کرے تو برا اور خودکریں تو اچھا۔ بس یہی حال سیلفی کے معاملے میں بھی ہے۔ ذوق و شوق سے ہر ہر جگہ اور موقع محل کے اعتبار سے سیلفی لینے والے ہی اس کی برائی میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اداکار، صداکار، کھلاڑی، اناڑی، سیاست دان، بلائے جان، موالی ہوں یا ملا سب ہی سیلفی لینے اور سیلفی بنوانے کے شوقین نظر آتے ہیں۔

دنیا گلوبل ولیج بن گئی، یہ مقولہ آج سے زیادہ پہلے کبھی اس قدر صادق نہ تھا کیونکہ  آج اگر دنیا کو لاحق مسائل  یکساں ہیں تو مشاغل بھی مختلف نہیں۔ رومی ہوں کہ شامی، دیسی ہوں یا بدیسی، عربی ہوں یا ہندی، چینی ہوں یا جاپانی، اگر دنیا بھر میں سبھی کا مقبول ترین رواج  پوچھا جائے  تو سب کا ایک ہی جواب ہوگا۔۔۔ سیلفی۔

جی ہاں! سیلفی ہی وہ واحد مشترکہ شوق، جذبہ، فکر، سوچ اور تعلق ہے جو محمود و ایاز کو ایک سطح پر لے آتا ہے۔ صدیوں کے دشمن ہوں یا خون کے پیاسے اور غصے میں لال پیلے، جیسے ہی سیلفی کا نام آئے سب کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ جاتی ہے۔ خود ہی تجربہ کرلیں، خواہ جیسی بھی کشیدگی ہو جھٹ کیمرہ اٹھا کر سیلفی کا نام لے کر آگے آجائیں اور پھر دیکھیں اس جادو بھرے اسم کا کمال۔

کیسا ہی دکھ کا مارا ہو، ہجر کا ستایا ہو، محبوب کی جدائی اس کی بےوفائی کے رنج میں دل  گرفتہ سینہ سوختہ ہو ہا غمِ دوران کی تلخیوں کا ستایا، حد تو یہ کہ مچھروں، گرمی اور لوڈشیڈنگ سے بے حال ہو تو بھی نجات کا فوری، مسلمہ، سستا ترین اور قابلِ رسائی حل ایک ہی ہے، جی ہاں، سیلفی!

آنسو بہتے ہوں، کسی صورت نہ رکتے ہوں، دل بھر بھر آرہا ہو، ماحول کی کشیدگی سے بچنے کا کوئی آسرا نہ ہو لیکن خودداری کا بھرم  رکھنا بھی ضروری ہو، اب فکر کی کوئی بات نہیں، موبائل نکالیے اور کیمرہ کھول کر خود کو دیکھیے، اول تو اپنی صورت دیکھ کر ہی ہنسی چھوٹ جائے گی، لیکن بالفرض ایسا نہ بھی ہو تو ۔۔۔بس تھوڑی آنکھیں گھمانے، ہونٹ پھیلا کر ان کی چونچ بنانے تک موڈ خوشگوار ہو ہی جائے گا اور ہر دکھ اپنا راستہ ناپ چکا ہوگا۔  اب یہ کیجیے بیگ سے ایک لپ اسٹک ڈھونڈ لیں یا موبائل میں فلٹرز لگا لیں (تاکہ اوریجنل حالت میں اپنی شکل دیکھ کر کسی اضافی صدمے سے بچ سکیں)۔۔۔ اور بس کھٹاکھٹ سیلفیاں شروع۔

سیلفی ہر عمر کا شوق ہے جس پر کسی خاص جنس، نسل، زبان، رنگ و روپ کی کوئی اجارہ داری نہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے جو سیلفی کو عالم گیریت اور بقائے دوام  عطا کرتی ہے۔

سیلفی کا حسین ہونا بھی کوئی ضروری نہیں، اگر آپ قبول صورت ہیں یا سیلفی میں ذہنی مریض ہی کیوں نہ نظر آرہے ہوں بس کسی بھی دل چسپ ٹیگ کے ساتھ سیلفی کو سوشل میڈیا پر ڈال کر ہزاروں ثواب نہ سہی لیکن کچھ نہ کچھ لائیکس تو کما ہی لیں گے۔ سیلفی کی بنا پر ملنے والے یہ لائیک سیروں خون بڑھا کر نہ صرف خون کی کمی جیسے بڑے مسئلے سے مفت میں نجات دلاتے ہیں بلکہ انگ انگ میں بے مثال فرحت اور سرمستی کی لہر دوڑا دیتے ہیں۔

ایک اچھی سیلفی انسان کے اعتماد میں کئی گنا اضافہ کردیتی ہے؛ احساسِ کمتری کو رفو چکر کر کےگھر اور جاب دونوں جگہ کارکردگی میں گراں قدر بہتری لے آتی ہے۔ کسی جاب کے لیے انٹرویو دینا ہو، گھبراہٹ کا شکار ہوں، اپنے چہرے پر نادیدہ پسینے کو بار بار پونچھ رہے ہوں اور اپنی "لُک” اچھی محسوس نہ ہو رہی ہو۔۔۔ بس موبائل کیمرہ نکال کر دو چار سیلفیاں لیں اور پھر دیکھیں کمال۔۔۔

ایک زمانہ تھا جب تصویر کھنچوانے کے لیے باقاعدہ اہتمام کیا جاتا تھا۔ شادی بیاہ میں لڑکے بالے نمایاں نظر آنے کے لیے کیمرہ ہاتھ میں لیے پھرتے تاکہ خواتین میں ہاتھوں ہاتھ لیے جائیں۔ شادیوں میں دلھن دلھا سے زیادہ فوٹوگرافر کی آؤبھگت ہوتی اور وہ راجا اندر بنے حسیناؤں کے جھرمٹ میں گھومتے پھرتے۔ نوکری، رشتے یا کسی اور مقصد کے لیے تصویر کھنچوانی مقصود ہو تو گھر سے نہا دھو کر، سرخی پاؤڈر لگا کر، اور سب سے بہترین لباس زیبِ تن کرکے فوٹو اسٹوڈیو جاتے اور فوٹوگرافر کی لاکھ جھڑکیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کرکے تصویر کھنچوائی جاتی جبکہ تصویر کی فیس ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ازحد شکرگزاری کا اظہار بھی کیا جاتا تھا۔ کھینچی گئی تصویر  بھی کم از کم ایک دن بعد ملتی چنانچہ گھر واپس آکر باقاعدہ دعائیں مانگیں جاتیں کہ یاخدا تصویر اچھی آجائے، بھرم رہ جائے، بچی/ بچے کا رشتہ طے ہوجائے، نوکری کی سبیل نکل آئے۔ یہ اور بات کہ اگلے دن نتیجہ (تصویر) سامنے آنے پر سر پیٹ لیا جاتا۔

سیلفی کے انقلاب نے ان سب مشکلات سے چھٹکارا دلایا ہے۔ اب تو جس حال میں بھی بیٹھے ہوں، بس "ادھر سے” فرمائش آئے چاند چہرہ دکھانے کی، یہاں جھٹ فلٹر لگا کر تصویر لی اور پٹ سے واٹس ایپ کردی۔ ہینگ لگی نہ پھٹکری اور سیٹنگ پکی۔ تفریحی مقامات کی یادیں محفوظ کرنا ہوں یا سی وی، رشتے، یا کسی "اُن” کو بھیجنے کے لیے، یا کسی میت کی ہی تصویر لینا ہو ہر موقع کی مناسبت سے فریم، بیک گراؤنڈ، فلٹر، اسٹیکرز، ایموجیز دستیاب ہیں، استعمال کیجیے اور کم خرچ بالانشین کے فلسفے سے مستفید ہوں۔

حمیرا اشرف
لغت نویس، ترجمہ نگار اور بلاگر حمیرا اشرف اپنے ماحول میں مثبت رویوں کی خواہاں ہیں۔ بلا تفریق رنگ، نسل، زبان و جنس صرف محبت پر یقین رکھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل صرف محبت میں ہی مضمر ہے۔

8 thoughts on “سیلف کا اظہار، سیلفی”

    1. شکریہ دوست! سیلفی زندگی کا اظہار یادیں محفوظ رکھنے کا ذریعہ ہے، گوکہ یہ حادثات کی وجہ بھی بنی لیکن اس میں سیلفی سے زیادہ خود ہم ذمہ دار ہیں ورنہ سیلفی تو بس خوشی کا ذریعہ ہے۔

    2. جی بالکل! لمحوں کو یادیں نہیں یادگار بنائیے، اپنے ہر لمحے کو سیلفی میں قید کیجیے اور بعد میں بار بار دیکھ کر مسکرائے جائیے۔

    1. شکریہ ثنا!
      ویسے سیلفی لینا میرا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ اور مجھے اس بات سے عموماً چڑ ہوتی ہے جب لوگ بھر بھر سیلفی کی برائیاں بھی کرتے ہیں اور موقع ملنے پر خود بھی سیلفی لیتے ہں یا کسی گرینڈفی کا حصہ بھی بنتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے