نقطۂ نظر

سانحہ ساہیوال،بچوں سے زیادتی اور ہمارا ناقص نظام

زینب اور اس جیسے بے شمار بجوں کے ساتھ زیادتی کے واقعات نیز حالیہ دل دہلا دینے والے سانحۂ ساہیوال نے ہر کسی کو رنج اور دکھ میں مبتلا کر دیا ہے۔  پوری قوم غم و غصے کی کیفیت سے دوچار ہے۔ ان غیر انسانی اور درندگی سے بھرپور واقعات نے ہماری انسانی واخلاقی قدروں اور ہمارے نظام پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

ماورائےعدالت قتل اور فرضی پولیس مقابلے کا کسی مہذب معاشرے میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔  بغیر ثبوت کسی کو قتل کرنا اور وہ بھی معصوم بچوں کے سامنے ان کے پیاروں کو گولیوں سے چھلنی کر دینا کہاں کا انصاف ہے۔  

ہماری ستم ظریفی ہے کہ ہمارے ملک میں ایسے واقعات تواتر سے ہو رہے ہيں مگر کبھی بھی انصاف کے تقاضے پورے کر کے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا نہیں دی گئی اور اسی وجہ سے آئے روز ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

ایک اور اہم پہلو جس کی طرف عوام الناس  کی توجہ مبذول کروانا چاہوں گا وہ  اس واقعے یا اس جیسے دیگر واقعات میں سیاست چمکانے کی ارادی کوشش ہے۔ ہمارے نظامِ سیاست میں سب ہی کے ہاتھ کسی نہ کسی طرح مظلوموں کے خون سے رنگے ہیں لیکن نقیب اللہ محسود کے قتل میں ملوث یا سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ذمہ داران جب اس وقعے کی مذمت کے بہانے سیاست بازی کی کوشش کریں تو یہ بھی ایک ناگوار عمل محسوس ہوتا ہے۔ عوام کو ان سیاسی گدھوں کو یکسر مسترد کرنا ہوگا اور مفاد پرست عناصر کو یہ موقع نہیں دینا ہوگا کہ وہ ان واقعات کی آڑ میں اپنی پاکستان دشمنی کے جذبے کی تسکین کریں۔ ملک کے نظامِ عدل کو گالیاں دینے والے، موجودہ حکومت کو برطرف ہوجانے یا وزیراعظم کو مستعفی ہوجانے کا مطالبہ کرنے والے ایسے بچے تو نہیں جنھیں انتخابی عمل کی حساسیت کا اندازہ نہ ہو؟ کیا ملک ہر چھ ماہ بعد کسی انتخابات کا بوجھ سہار سکتا ہے؟َ  بہتر اور اصلاحی عمل صرف یہی ہے کہ ایسے تمام معاملات پر شفاف تحقیقات کروائی جائیں اور جو بھی مجرم ثابت ہو اسے قرار واقعی سز دی جائے۔

 کسی بھی مہذب ملک و معاشرے کا خاصہ اس کا فوری اور يکساں نظامِ عدل و انصا ف ہوا کرتا ہے۔ انصاف کے ترازو ميں امير غريب، چھوٹا بڑا سب برابر ہونے چاہئیں۔  انصاف ہوتا نظر آنا چاہيے اور انصاف بھی ايسا ہو جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔ ترقی یافتہ ممالک کا ایک اہم خاصہ ان کی مضبوط اور آزاد عدلیہ بھی ہے۔  وہاں فیصلے کسی دباؤ اور مصلحت کے بجائے قانون اور آئین کے تحت کیے جاتے ہيں۔ امیر ہو یا غریب قانون کی نظر میں سب برابر ہيں۔  انصاف برسوں کے بجائے گھنٹوں اور دنوں میں فراہم کیا جاتا ہے۔  انصاف ہوتا دکھائی دیتا ہے اور قانون و آئین کے تابع کیے گئے فیصلے ہر کوئی کھلے دل سے قبول کرلیتا ہے۔  

بدقسمتی سے ہمارا نظامِ عدل امیر و غریب اور طاقت ور و کمزور کو مساوی،فوری اور شفاف انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہا ہے۔  فیصلوں تک پہنچنے میں سالہا سال لگ جاتے ہيں۔  غریب اور کم زور حصولِ انصاف کے لیے دہائیاں دیتے رہتے ہیں جبکہ انصاف کے ترازو کے پلڑے کا جھکاؤ طاقت ور اور صاحب حیثیت کی طرف محسوس ہوتا ہے۔

اصلاح احوال کے لیے ضروری ہے کہ زير ِالتوا لاکھوں مقدمات کے فيصلے ہنگامی بنيادوں پر اور  انصاف کے تمام تقاضے پورے کر تے ہوئے ہونے چاہئیں۔  فريقين کو صفائی اور اپنے دفاع کے بھرپور اور مساوی مواقع ملنے چاہئيں۔

غريب اور مالی استعداد نہ رکھنے والوں کو رياست کی طرف سے بہترين وکيل کی سہولت ملنی چاہيے۔ جھوٹی شہادتوں اور ثبوتوں کا سلسلہ ختم ہونا چاہيے۔ نظام عدل کو سائنسی اور آن لائن بنيادوں پر استوار کرنا چاہيے۔  عدالتی عمل کو خفيہ نہيں رکھنا چاہيے۔  عدالتوں میں تعیناتياں غير جانب دار اور آزاد کميشن یا طريقہ کار کے ذريعے ہونی چاہیئں۔  ایسے بے داغ ماضی اور کردار کے حامل افراد تعينات ہونے چاہئیں  جن پر کوئی بھی انگلی نہ اٹھا سکے۔

پسند و ناپسند کے بجائے آئين اور قانون کے مطابق فيصلے ہونے چاہئيں۔ فيصلے کے خلاف اپيل کا پورا حق ملنا چاہيے۔  انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لیے  اپيل کی سماعت ابتدائی فيصلہ کرنے والے کے بجائے غير جانب دار کمیشن ميں ہونی چاہيے۔

مجرم اور قصور وار کو آئين اور قانون کے مطابق کڑی اور عبرت ناک سزائيں ملنی چاہئیں  تاکہ ديگر جرائم پيشہ عناصر کی حوصلہ شکنی ہو۔  دہشت گردوں ملک دشمن عناصر کے مقدمات فوجی عدالتوں کی طرز پر چلنے چاہئیں ۔  بغیر مقدمے،ثبوت اور صفائی سزا کی کسی طور بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

قارئين، وطن عزيز کو خوشحال اور امن کا گہوارہ بنانے کے لیے  ہر ممکن اقدامات کرنا وقت اور حالات کی اشد ضرورت ہے۔  عوام کو یکساں،فوری اور شفاف انصاف فراہم کرنا حکومت وقت کی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے۔  ساہیوال جیسے واقعات کی شفاف اور فوری تحقیقات کرکے ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دینے کی بھی اشد ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جاسکے۔

عبدالباسط علوی
عبدالباسط علوی پیشے سے انجینئر ہیں، ایم بی اے بھی کر رکھا ہے اور ادب سے بھی ازحد شغف ہے۔ عرصہ دراز سے مختلف جرائد اور ویب سائٹس کے لیے لکھ رہیں۔ امید ہے نوشتہ کے قارئین سے جُڑنے والا ان کا رشتہ بھی اسی طرح پائیدار ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے