سماج نقطۂ نظر

سانحہ صفورا کے پس منظر میں

ٹی وی پر تین بڑی سیاسی جماعتوں کے نمائندے ایک نیوز اینکر کے سامنے بیٹھے ہیں۔ اینکر صاحب کی دکھ سے بوجھل آواز، دھیما لہجہ لیکن بہت کچھ سخت سست کہنے کو مچلتے ان کے لب 13 مئی کو صفورا چوک پر وقوع پذیر ہونے والے اس بربریت کے واقعے کی مذمت کرنے اور ذمہ داران کو ان کی مجرمانہ غفلت کا احساس دلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہر بار بات لبوں سے نکلنے سے ذرا پہلے مصلحتوں کا دامن تھام لیتی ہے اور آنکھیں، ہاں آنکھیں ضبط گریہ سے مزید سرخ ہوئی جارہی ہیں۔

میں نے اپنا پسندیدہ لائیو نیوز شو بے دلی سےآن کیا تھا۔اسماعیلی برادری کی بس پر ہونے والے بہیمانہ حملے اور نہتے معصوم شہریوں کے قتل عام پر میرا بھی دل بوجھل تھا۔ یہ رسمی جملہ نہیں کہوں گی کہ خون کے آنسو رولیے تاہم دماغ ایک ایسی خلا کی سی کیفیت میں معلق تھا کہ جس میں گھٹن اور گھور اندھیرا ہوتا ہے۔ بار بار ٹی وی پر دکھائے جانے والے آج صبح کے خون آلود مناظر کے ساتھ ساتھ اس سے پہلے ہونے والے قتل و غارت کے مناظر بھی دماغ براہ راست نشر کر رہا تھا۔ کبھی آنکھوں میں معصوم پشاور سانحے کے بچے اپنے خون میں نہائے نظر آرہے ہیں تو کبھی بلوچستان میں کام کے لیے جانے والے وہ بیس جواں سال مزدوروں کے خاک و خون میں لتھڑے لاشے سوال کر رہے ہیں۔ کبھی ہزارہ برادری کے معصوم لوگ اپنی زندگی کی حرارت سے محروم اور بے نور آنکھوں سے ٹکٹکی لگائے انصاف کے منتظر نظر آئے اور کبھی ان سب کے لیے آواز بننے والی سبین محمود اپنی صدا بصحرا  چیخ کے بعد کفن اوڑھے ایک جنازے میں لیٹی نظر آرہی ہے۔ یہ ہجوم دن بدن بڑھتا ہی جارہاہےاورآج اس ہجوم میں 45 افراد کا مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ یہ زندہ لوگ لوگ جب بین کرتے ہیں تو جمادات و نباتات سب یک لخت ساکت ہوجاتے ہیں لیکن ہم مُردوں کی بستی پر کوئی اثر نہیں نظر آتا۔

نیوزاینکر نے پروگرام کے آغاز پر ہماری منتخب حکومت کے عوامی نمائندوں کا اس سانحہ عظیم پردیاگیاردعمل پیش کیا۔ اتنے بڑے سانحے کے بعد اتنے سرد ردعمل نے جیسے اعصاب پر مزید مردنی سی طاری کردی۔ یا خدایا ! یہ کیسا جنگل کا معاشرہ ہے جہاں بس سب کو ہر آن اپنی جان کا دھڑکا ہے، کھل کر سانس لینےبھر بھی کہیں کوئی روزن نہیں۔ ہم یہ کیسی تاریخ رقم کرنے جارہے ہیں۔ کیوں ہمارے زمانے کی چادر معاشرتی و معاشی مسائل کے ہاتھوں میلی اور پرشکن ہی نہیں بلکہ ان گنت مظلوموں کے خون سے سرخ ہے۔ یہ وہ خون ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ حکومتوں اور اہل اقتدار و ارباب اختیار کے ضمیر کی طرح سیاہ پڑتا جاتا ہے اور روز ہی اس سیاہی پر کوئی نہ کوئی نیا سانحہ، تازہ گرم لہو اس کی سرخی کو پھر سے تب و تاب دے دیتا ہے۔

جیسے جیسے میں یہ ٹی وی پروگرام دیکھ رہی ہوں میرا دل مزید دکھ، ندامت اور مایوسی میں ڈوب رہاہے۔ سب ہی سیاسی جماعتوں کے نمائندے دہشت گردی اور دہشت گردوں کی مذمت کرنے کے لیے بٹھائے گئے ہیں ۔ مجھے یہی توقع تھی کہ اب عوام سے یکجہتی کا اظہار کیا جائے گا ، مجرموں کے لیے عبرت ناک سزائیں تجویز کی جائیں گی اور دکھ کی اس گھڑی سے اس بات کا اعادہ کیاجائےگا کہ دہشت گردی کے خلاف لڑائی اور عوم کی جان و مال کی حفاظت میں سب ایک ہیں۔ لیکن یہ کیا! ہر ایک کے لیے مخالف سیاسی جماعت ہی ان واقعات کی ذمہ دار ہے۔ یہاں تو سب دودھ میں نہائے بیٹھے ہیں۔ سب ہی حکومت کا پھل چکھ چکے ہیں اور ہر ایک کے دور میں یہی مسائل رہے بھی ہیں، اور جو ایک جماعت ابھی حکومت میں نہیں بھی تو آئی وہ بھی اسی شطرنج کے پرانے کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ الزام تراشیوں کا وہی لامتناہی سلسلہ، وہی بےحسی کا مظاہرہ۔ کون ہے ان میں جس کے ہاتھ خون سے رنگے نہیں، لیکن سب ہی بس دوسروں پر لعن طعن کرنے بیٹھے ہیں۔ حد تو یہ کہ ایک سیاسی جماعت کے مقرر جوش خطابت میں اپنی جماعت کے جرائم پیشہ افرادکو ریاستی دہشت گردی میں ملوث عناصر کی نسبت معصوم قرار دے گئے۔
آہ!آج دنیا سے جانے والے افرادکے خون آلود لاشے، ان کا غم، ان کے گھروں پہ بچھی صف ماتم، سب نظر سے اوجھل ہو چکاہے۔ پروگرام کے ابتدائی ۳۰ منٹ گزرنے کے بعد سب اسی معمول کی نورا کشتی پر اتر آئے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر ہر ٹی وی چینل پر لڑی جاتی ہے۔ اب بات ذاتیات پر اتر آئی ہے، پے در پے الزامات لگائے جارہے ہیں۔ لال بھبوکا چہروں کے ساتھ کف اڑاتے ایک دوسرے  پر کیچڑ اچھالتے یہ سیاسی لیڈر اپنی اپنی سیاست چمکانے میں مشغول ہیں۔
اف ! میں مزید الجھ چکی ہوں۔ یہ رہ گئی ہے ہماری اخلاقیات کہ روز بھرے دسترخوان والے بھی اس خونریزی کو دانستہ نظرانداز کیے پرتکلف ضیافت کے مزے لےرہے ہیں۔ سیاسی کارندے جائےوقوعہ اور متاثرین کے پاس جانے کی بجائے کیمروں کے آگے اپنی سیاست چمکارہےہیں۔ وزیراعلی مقتول کے اہل خانہ کو فی کس پانچ لاکھ دینے کا اعلان کرکے یہ ثابت کررہے ہیں کہ بس اب مظلومین کی اشک شوئی کردی گئی ہے۔ میڈیا کے نمائندے اس تمام واقعے کو ہر اس انداز سے دکھانے میں مگن ہیں جس سے واقعے کی سنگینی کے ساتھ چینل کی ریٹنگ بڑھنے کی امید ہو۔ سوشل میڈیا پر بھی بہت سی پروفائل پکچرز سرخ و سیاہ رنگ کی چادر تان چکی ہیں۔ ٹویٹر پر آج ان کو بھی اپنی ٹویٹ کے ری ٹویٹ اور فیورٹ قرار پانے کی امید ہوگئی ہے جن کے لکھے کو عام زندگی میں کوئی دوسری نظر نہیں ڈالتا۔ لیکن برابر کے محلے میں یا ایک ہی علاقے یا ایک ہی شہر میں ہونے والے اس واقعے کے سوگواران کے ساتھ یکجہتی کے لیے اپنے گھروں سے کوئی باہر نہیں آرہا۔

 اب پروگرام ختم ہوگیا ہے، اسکرین پر مشروبات، موبائل کمپنیوں اور دیگر مصنوعات کے اشتہارات اسی روایتی جوش و خروش اور موسیقی کے ساتھ جلوہ افروز ہیں اور نیچے ایک ٹکر چل رہا ہے ،”وزیراعظم نے سوگ کا اعلان کیا ہے”۔


پس نوشت: چار سال قبل آج کے دن پیش آنے والے سانحہ صفورا کی مذمت میں لکھی گئی میری تحریر۔ واضح رہے کہ سانحہ صفورا کے ذمہ داران کا تعین ہو جانے کے بعد بھی اب تک ان کی سزا کا حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ سانحہ صفورا کے مرتکب افراد تعلیم یافتہ اور ٹاپ یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل ہیں۔ یہی افراد معروف سماجی کارکن سبین محمود کے قتل سمیت متعدد دہشت گری کی کارروائیوں میں بھی ملوث ہیں۔ جرائم ثابت ہوجانے کے بعد بھی انصاف میں یہ تاخیر بذاتِ خود واجب سزا ہے کہ یہ تاخیر دیگر منفی عناصر کو جرائم پر اکساتی ہے۔

حمیرا اشرف
لغت نویس، ترجمہ نگار اور بلاگر حمیرا اشرف اپنے ماحول میں مثبت رویوں کی خواہاں ہیں۔ بلا تفریق رنگ، نسل، زبان و جنس صرف محبت پر یقین رکھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل صرف محبت میں ہی مضمر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے