شخصیات لائف اسٹائل

سمیرہ کا گھر

میرا نام سمیرہ ہے ۔ میں ایک گاؤں میں رہتی ہوں ۔ ہم چار بہن بھائی ہیں ۔ دادی، امّی ابّو بہن بھائی اور چچا سمیت ہم نو افراد ایک گھر میں رہتے ہیں ۔ ہمارا گھر اتنا بڑا نہیں ہے ، لیکن اس کا صحن بہت بڑا ہے۔ صحن میں درخت بھی ہیں جہاں ہم گرمیوں میں دھوپ سے بچنے کے لیے کھلی فضا میں درخت کے سائے تلے بیٹھتے ہیں۔ صحن کا تھوڑا سا حصّہ الگ کرکے اس میں ایک بھینس اور دو بکریاں رکھی ہوئی ہیں ۔ بھینس دودھ دیتی ہے ۔ اس دودھ میں سے کچھ دودھ ہم بیچ دیتے ہیں کچھ چائے اور پینے کے لیے رکھ لیتے ہیں ۔ باقی کا دددھ لسّی بنانے کے کام آتا ہے جس سے مکھن بھی حاصل ہوجاتا ہے۔ جو مکھن ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے اسے ہم رکھ لیتے ہیں اور اس طرح ایک دو روز میں ہم اس مکھن کا گھی بنا لیتے ہیں ۔ جو لوگ شہروں میں رہتے ہیں وہ یہ سب سُن کر حیران ہوتے ہیں کہ دہی سے مکھن اور مکھن سے گھی کیسے بنتا ہے ۔ لیکن ہمارے لیے یہ سب بہت ہی آسان ہے ۔ہماری خالہ اور خالو اپنے بچوں کے ساتھ شہر میں رہتے ہیں ۔ جب چھٹیوں میں کبھی وہ ہمارے ہاں آتے ہیں تو ہمارے خالہ زاد بہت خوش ہوتے ہیں ۔ گھر میں جانوروں کو دیکھ کر حیران ہوتے ہیں ۔ کبھی بکری کے بچوں کے پیچھے بھاگتے ہیں تو کبھی چوزے پکڑنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

ہمارے دادا جان ایک ریٹائرڈ  فوجی تھے  وہ ہمیں اکثر   ملازمت کے دوران پیش آنے والے واقعات سناتے رہتے تھے۔ چونکہ وہ انگریز کے زمانے کے فوجی تھے پہلے تو انگریزوں کے بارے میں بیان کرتے کہ کیا اصول تھے  اُن کے ،کیا ڈسپلن تھا  کس طرح سے وہ بہادر سپاہیوں کی قدر کرتے تھے ۔ پھر وہ دوسری جنگِ عظیم میں  بھی حصّہ لے چکے تھے  اور ہندوستان کےمختلف علاقوں کے  علاوہ کئی ممالک میں جا چکے تھے  اس لیے  بات بات پر انھیں کوئی نہ کوئی قصّہ یا واقعہ  یاد آجاتا۔ ہم بچپن سے  برما ،بنگال ،سیلون اور کشمیر کے بےشمار  واقعات  کئی کئی بار سُن چکے تھے۔  دادا جان   لالہ جی  کے نام سے مشہور ہو چکے تھے۔   ہر چھوٹا بڑا انھیں لالہ جی کہہ کر پکارتا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اُن کے بیٹے بیٹیاں حتیٰ  کہ ہم بھی انھیں لالہ جی  ہی کہہ کر بُلاتے تھے۔  آس  پاس کے گاؤں میں بھی   دادا جان کی پہچان تھی  وہ لوگ بھی  آپ کو لالہ جی  ہی کہہ کر پُکارتے تھے۔ ہاں البتہ ایک شخصیت ایسی تھی جو انھیں لالہ جی نہیں کہتی تھیں  وہ تھیں ہماری دادی جان ۔  

لالہ جی سوشل  ورکر بھی  تھے لوگوں کی مدد بھی کرتے تھے ۔ تھانے کچہری کا معا ملہ ہو یا کوئی جھگڑا  لالہ جی  پنجایت  میں بھی فیصلہ کرنے والوں میں بطور منصف اور تھانہ کچہری میں  ملزم کے ساتھ جاتے تاکہ ان کے ساتھ  زیادتی نہ ہو ۔ لالہ  جی کی شخصیت بھی بڑی پُر کشش تھی ۔جب  وہ  کالی شیروانی سفید شلوار  قمیص چمکتے پالش شدہ جوتے  پہنے سر پر  کُلّہ  جس پر طرہ دار  پگڑی لپٹی ہوتی اور ہاتھ میں چھڑی لیے گھر سے نکلتے تو اُن کا بہت رعب  و دبدبہ ہوتا ۔ ہاں لا لہ جی نے کبھی اسکول کا منھ نہیں دیکھا تھا  لیکن سامنے والی جیب میں پین ضرور رکھتے تھے ، اس لیے کہ انھوں نے  دستخط کرنا سیکھ لیا تھا  اور کسی بھی فارم پر انگوٹھا نہیں لگاتے  تھے۔ وہ  دستخط کرتے تھے اور  اپنی وضع قطع و اندازِ گفتگو سے بھی ان پڑھ نہیں لگتے تھے۔ کوئی بھی موضوع ہوتا  پڑھے لکھے لوگوں میں بھی گفت و شنید میں پیش پیش  رہتےتھے ۔ گاؤں کی مسجد  کی تعمیر  کی مد میں چندہ اکھٹا  کرنا ہو مستری و مزدور کا اہتمام اور پھر ان سے  اچھے طریقے سے کام لینا  انھیں مطمئن رکھنا تعمیر کی نگرانی میں اپنا بھرپور وقت دینا، ہر کام پوری ذمہ داری سے انجام دیتے تھے۔ دادا جان نے چونکہ اتنی تعلیم حاصل نہیں کی تھی اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے اور پوتے پوتیاں خوب پڑھیں ، اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کریں۔  

ایک عجیب واقعہ 

ہمارے گاؤں اورقریب کے دو گاؤں کے  درمیان  گورنمنٹ  پرائمری سکول تھا   جس کے صرف تین کمرے تھے اور باہر کُھلا میدان ساتھ ہی ایک برساتی نالہ اور سرکاری  جنگل تھا ۔ ایک بار اتنی بارشیں ہوئیں کہ دو   کمروں کی چھتیں  گر گئیں  اور تیسرے کمرے کی چھت سے پانی ٹپکتا تھا۔ اب ان کی تعمیر و مرمت  کے لیے گرانٹ  کے لیے اپلائی کرنا  اور اس کی منظور ی پھر اسکول کی مرمت میں نہ جانے کتنا عرصہ لگ جاتا اس لیے اسکول کے اسا تذہ  اور ہیڈ ماسٹر  صاحب نے ایک پلان بنایا جس کا بعد میں علم ہوا۔ گاؤں سے اسکول کا فاصلہ  چند فرلانگ کا ہی تھا ۔ اسکول کے بچے  اور اساتذہ ایک جلوس کی شکل میں  گاؤں کی جانب بڑھ رہے تھے  اور ایک شور سا سُنائی دے رہا تھا ۔ جلوس میں بچے سب سے آگے تھے اور اساتذہ پیچھے تھے۔ جب یہ شور  ہماری گلی میں پہنچا تو مطالبہ  کچھ سمجھ میں  آیا۔ نعرہ لگ رہا تھا  ۔ لالہ   جی اسکول بنوا کے دیں! لالہ جی زندہ باد ۔ مین گیٹ کُھلا تھا  بچے نعرے لگاتے ہوئے ہمارے صحن میں داخل ہو گئے ۔   اتفاق سے لالہ جی گھر  پر موجود تھے  وہ باہر آئے  بچوں کو  ہاتھ کے اشارے سے چُپ   کرا یا  اور کہا آرام سے بتاؤ  کہ کیا بات ہے ۔ اتنی دیر میں ہیڈ ماسٹر صاحب بھی  آگے آ گئے اور انھوں نے لالہ جی کو سارا ماجرا بیان کیا۔ تھوڑی  بہت گفتگو  اور کچھ سوچ بچار کے بعد لالہ جی نے اسکول بنوانے کی حامی بھر لی ۔ اب اسکول کے بچے لالہ جی زندہ  باد   کے نعرے لگاتے ہوئے واپس اسکول کی جانب  بڑھ رہے تھے ۔

لالہ جی نے بعد میں تنہائی میں اس پر مزید سوچا  اور ایک اسکیم تیار کی ۔ دوسرے دن دو مستری جنھیں ہم ترکھان کہتے تھے  جو لکڑی کا کام کرتے ہیں انھیں  لےکر جنگل میں پہنچے  اور ضرورت کے مطابق  شیشم کے درخت کٹوائے اور انھیں کام پر لگا دیا کہ ان سے شہتیر اور بالے تیار کریں۔  گاؤں سے کسی نے محکمہ جنگلات سے شکایت کردی کہ لالہ جی نے سرکاری  جنگل سے بےشمار درخت کٹوا  کر جُرم کا ارتکاب کیا ہے لہذا  دوسرے دن  محکمہ جنگلات کے متعلقہ افسر  پولیس کے ساتھ موقعِ واردات پر پہنچے  اور تمام شواہد کی موجودگی میں لالہ جی کو طلب کیا ۔ اقرار جُرم کی تصدیق کے لیے پوچھا کیا یہ درخت آپ نے کٹوا ئے ہیں ؟ لالہ جی نے بلا خوف و خطر  کہا  ۔ جی ہاں میں نے کٹوائے ہیں ۔

کیا تمہیں معلو م ہے کہ یہ سرکاری جنگل ہے اور یہاں  درخت تو کیا کسی درخت کی ٹہنی کاٹنا بھی جُرم ہے ۔  لالہ جی نے  ساتھ ہی اسکول کی طرف  اشارہ کیا  اور کہا کہ یہ اسکول آپ دیکھ رہے ہیں۔ یہ بھی  سرکاری ہے ۔ اب سرکار کے درخت  ہم  سرکار کے اسکول کے لیے  استعمال کر رہے ہیں  تو  معاملہ  میرا نہیں  بلکہ خود  سرکار کا اپنے ساتھ  ہے۔ اسکول کی حالت دیکھیں یہ تو اللہ کا شکر ہے کہ جب چھتیں گری ہیں اُس وقت  اسکول میں  چھُٹی تھی  ورنہ ہمارے بچوں کے ساتھ حادثہ ہوجاتا تو اس کی ذمہ دار  سرکار ہی ہوتی ۔پولیس والوں کی بھی  لالہ جی  سے جان پہچان  تھی۔  انھوں نے  جنگل کے دروغہ  سے گفت و شنید  کے بعد کیس کو رفع دفع کرادیا اور  بچوں نے پھر نعرے لگانے شروع کردیے۔ لالہ جی زندہ باد۔ لالہ جی زندہ باد۔

اسکول کی چھتوں کی مرمت کے علاوہ تین کمروں کے ساتھ ایک برآمدہ بھی  تیار ہو گیا۔ اساتذہ بھی بہت خوش تھے اور بچوں کے ساتھ والدین بھی مطمئن تھے کہ اُن کے بچوں کے لیے کوئی خطرہ نہیں رہا۔

ہم اتنے امیر تونہیں لیکن ہم اپنی زندگی سے مطمئن ہیں بہت ، ملنسار، مہمان نواز اور ایک دوسرے کی مدد کرنے والے لوگ ہیں۔ دوسروں کی خوشی اور غم میں شریک ہوتے ہیں اور سادگی سے زندگی بسر کرتے ہیں ۔

ملک خادم حسین
محکمہ تعلیم سے گذشتہ 33 برس سے وابستہ ہیں اس کے علاوہ قرآنک ریسرچ، ناروے کے چیئرمین بھی ہیں۔ ان کا مقصدِحیات قرآن کریم کا مطالعہ اور غور و تدّبر، روایتی نہیں بلکہ عربی زبان کے قواعد کے مطابق، قصّے کہانیوں اور روایات سے ہٹ کر یہ معلوم کرنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں براہ راست ہمیں کیا پیغام دیتا ہے۔

3 thoughts on “سمیرہ کا گھر”

  1. دل کو چھوتی تحریر جو موٹی موٹی اور طویل و بیزار کن نصیحتوں کی بجائے کہانی کے دل نشین پیرائے میں انسانیت، بھلائی، محبت اور دردمندی نیز فلاح عامہ کا درس بھی دیتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے