لائف اسٹائل نقطۂ نظر

رازِ زندگی

زندگی اور دائم زندہ رہنے کی خواہش کسے نہیں ہوتی۔ ہم سب کسی نہ کسی  طرح ہمیشہ زندہ رہنے کی کوشش میں ہوتے ہیں، اس لیے کہ مرنا کوئی نہیں چاہتا۔  لیکن کیا یہ جو سانس کی آمدورفت جاری ہے وہی زندگی ہے؟ کیا یوں ہم اپنے جسم کو رفتہ رفتہ شکست و ریخت کا شکار ہوتے دیکھتے رہیں اور مضمحل ہوتے قویٰ پر افسوس کرتے یا کُشتے اور مغزیات گھوٹ گھوٹ کر کھاتے بڑھتی عمر اور اس کے آخر میں ہم پر مسکراتی موت کو غچہ دے سکتے ہیں؟

نہیں!

موت یقیناً وہ حقیقت ہے جس سے  بظاہرمفر ممکن نہیں۔ کہتے ہیں زندہ وہ ہوتا ہے جو کسی کی یاد میں زندہ رہے یا کسی کے دل میں۔ لیکن بات وہیں آجاتی ہے کہ ہم جن کی یاد میں زندہ رہیں یا جن کے دل میں ان کو بھی تو موت نے گھیر ہی لینا ہے نا!  

کچھ لوگ اولاد بالخصوص اولادِ نرینہ کی پیدائش کو ہمیشہ کی زندگی گردانتے ہیں۔ اکثر بے اولاد یا غیر شادی شدہ  افراد  یا وہ افراد جن کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہو ان کے لیے کفِ افسوس ملا جاتا ہے کہ  ہائے اس کا تو کوئی نام لیوا نہ رہے گا، ہائے اس کی تو نسل ہی ختم ہوگئی لیکن غور کیجیے تو ہم میں سے کتنے ہیں جنھیں اپنے دادا اور پرداد اسے آگے کسی کا نام ہی یاد ہو یا  قول یاد ہو۔ ہاں شاید کچھ کی اولادیں ایصالِ ثواب کا ذریعہ بنتی ہوں  لیکن اس کا بھی کچھ بھروسا تو نہیں!

   لیکن آئیے آپ کو زندہ رہنے کا ایک  تیر بہدف نسخہ بتائے دیتے ہیں۔ معروف حدیثِ نبوی ہے: خیر الناس من ینفع الناس۔ یعنی:  بہترین لوگ وہ ہیں جو دوسروں کو نفع پہنچاتے ہیں۔ آئیے اس حدیث کی روشنی میں غور کرتے ہیں آج کون لوگ زندہ ہیں۔

جب تک بلب روشن رہے گاایڈیسن  زندہ رہے گا۔

جب تک جہاز محوِ پرواز رہیں گے ول رائٹ اور ولبر رائٹ کا نام آسمانوں کی بلندیوں سے سینۂ زمین پر محوِ پرواز زندہ و جاوید رہے گا۔

جب جب انسانیت کا نام آئے گا عبدالستار ایدھی، ڈاکٹر رتھ فاؤ، مدر ٹریسا، ہیلن کیلر و دیگران کا نام زندہ و جاوید رہے گا۔

محمد علی جناح کا نام زندہ رہے گا جب تک پاکستان صفحۂ دنیا پر جگمگاتا رہے گا۔

سائنس دان، موجد، ڈکٹر، انجینئرز، ہی نہیں عبدالستار ایدھی جیسے بظاہر عام انسان بھی ہمیشگی اور بقائے دوام پاسکتے ہیں  بشرط کہ وہ انسان اور انسانیت کے لیے نفع بخش ہوں۔

ہم اپنی زندگی جی لینا چاہتے ہیں، خواہ اس کے لیے کسی کے دل پر پیر رکھنا پڑے یا جذبات پر، خواہ رشتوں کو دھوکا دینا پڑے یا محبتوں کو دکھ دے کر، ہم بس جینا چاہتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ نفس کو لذتوں سے ہم کنار کر کے ہم محض چند روزہ زندگی کا سامان کر رہے ہیں۔

ہاں آج ہٹلر، فرعون و ہامان ، شداد کے نام بھی زندہ ہیں  اور قارون کے بھی  لیکن ان کے یہ زندہ نام  ان کے اعمال کے ساتھ جڑی سیاہی کو دور نہ کرسکے۔ کیا وجہ ہے کہ یہ آج بھی نفرت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ کوئی ماں باپ کبھی اپنی اولاد کو ان اشخاص جیسا نہ دیکھنا چاہتے ہیں نہ ان جیسا بننے کی دعا ہی کرتے ہیں۔

سوچیے!

عارم
اپنی شناخت سے لاعلم ایک ہستی جو اس کائنات میں موجود ہر ذی روح میں دھڑکتی ہے۔ جنس، رنگ ، نسل، زبان سے ماورا عارم معاشرے کا آئینہ ہیں۔ سماج پر لکھنا  اور بلاتفریق پسماندہ طبقوں کی آواز بننا ان ان کی خواہش ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے