مذہب

رمضان الکریم

ماہِ رمضان دل میں سکون کی ہلکی مگر مسلسل پڑنے والی پھوار کی مانند ہےجو خوشی اور طراوت ساتھ لاتا ہے۔ موجودہ  حبس زدہ، تناؤ بھرےماحول میں جہاں ایک ایک سانس دشوار ہے، رمضان ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ثابت ہوتا ہے۔ روزہ تیس دن کے لیےکھانا پینا ترک کر کے دنیا و مافیہا سے کنارہ کشی کا نام نہیں ہے۔ روزہ جتنی ظاہری عبادت ہے اس سے کہیں زیادہ باطنی عبادت کا نام ہے۔ یہاں یہ سوال بھی سامنے آتے ہیں: باطنی عبادت کیا ہے؟  اس کے تقاضے کیا ہیں؟ نیز باطن کی کیا ضروریات ہیں؟

باطن انسان کے اندر کا اندر ہے، جو ظاہری دنیا سے مخفی ہوتا ہے۔ یہ آپ کی وہ حقیقت ہے جو آپ خود پر بھی عیاں نہیں کرتے، یقیناً  اس کا علم صرف اللہ کو ہے،وہ رب جو ہر شے کا مالک ہے ۔بجا طور پر انسان کی حقیقت اس کے باطن میں ہی پنہاں ہے ۔باطن عبادت کا مغز ہے۔  باطن کی مثال چھلکے میں چھپے   ہوئے خول کی مانند ہے ۔باطن میں جھانکنے کے لیے باطن کے مالک کے در کو تھامنا ،  اس سے اپنا تعلق مضبوط کرنا ضروری ہے ۔اور اللہ سے بندے کے تعلق کا  بہترین ذ ریعہ تلاوت ِ قرآن ہے  ، جی ہاں قرآنِ حکیم جو اس دانا و حکیم کا کلام ہے، وہ کلام جو ہماری زندگی کے لیے خدا کا طے کردہ لائحہ ہے۔ جو قرآن کو سمجھ کر پڑھنا  شروع کرے وہ ایسا ہی محسوس کرتا ہے گویا اللہ  سے براہ راست بات کررہا ہو۔

’’قرآن جب کسی کے دل میں سرایت کرتا ہے تو اس کے ظاہر باطن کی دنیا  بدل کر رکھ دیتا ہے، ایک انقلاب آجاتا ہے۔اور یہ انقلاب اْسے حقیقی معنوں سے ہمکنار کرتا ہے‘‘

تیرے ضمیر پر جب تک نہ ہو نزول ِ کتاب

گرہ کشا ہ ہے، نہ رازی، نہ صاحبِ کشاف

یہی معاملہ روزے کا بھی ہے۔ روزہ کے لفظی معنی بہت مختصر ہیں یعنی: خود کو روکے رکھنا ،باز رہنا ۔ مگر اس باز رہنے اور روکے رکھنے کے باطنی معنی بہت وسیع ہیں ۔ خود کو باز رکھنا اتنا بھی آسان نہیں جتنا کہ سمجھا جاتا ہے۔ روزے میں ظاہرکوباز رکھنا درحقیقت باطن کو پاک کرنے کے عمل کا ایک حصہ ہے۔  روزہ درحقیقت  اْس مالکِ حقیقی کا ہمارے گمراہ قدم راہِ راست پر لاانے کا ایک انداز ہے ۔وہ ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتا ہے کہ ہم نامحسوس انداز میں سنبھل جائیں،سدھر جائیں۔

جب انسان دل کے ارادے سے روزہ رکھتا ہے، چاہے وہ اسے اسلام کا لاگو کردہ  ایک فرض سمجھ کر ہی رکھے، پر کہیں نہ  کہیں اس کے دل میں معبود کی عبادت،  مالک کو خوش کرنے کا خیال بھی ہوتا ہے۔  اسی خیال کے تحت وہ دورانِ روزہ  چھوٹی موٹی نیکی بھی کرنا چاہتاہے، اور وہ نیکی جب اس کے دل میں سکون کی لہر پیدا کرتی ہے تو باطن پاک ہوتا چلا جاتاہے۔ جسم پر برسوں کی اٹی لاپروائی کی دھول سے کچھ زرّے اڑ کر ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں جن سے انسان خود  ہلکا پھلکا محسوس کرتا ہے۔ اسی سکون کے احساس کے ساتھ  وہ مزید نیکیوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔

میری دعا ہے کے ہم سب  اس ماہِ  رمضانِ مبارک میں روزے کی حقیقی روح کو پا سکیں۔

آپ سب کو رمضان مبارک!

گل زہرہ طارق
گل زہرہ ترجمہ نویس اور بلاگر ہیں۔ سٹیزن آرکائیوز پاکستان سے منسلک ہیں۔ روزمرہ زندگی کے امور اور پلکے پھلکے موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔
http://[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کیجیے