متفرقات نقطۂ نظر

قصّہ ایک انٹرویو کا (یادداشتیں)

(تمنا تو بہت مختصر تھی مگر تمہید کچھ زیادہ ہی طولانی ہو گئی)

بھٹو حکومت کا آخری سال تھا۔ ملاں ملٹری سازباز شروع ہو چکی تھی مگر ابھی اس نے سر پوری طرح زمین سے باہر نہیں نکالا تھا۔ ایکٹ پر بنی پیپلز اوپن یونیورسٹی ابھی گھٹنوں کے بل رینگ رہی تھی۔  ڈاکٹر ولی محمد ذکی کی جگہ ڈاکٹر شیر محمد (ایس ایم) زمان وائس چانسلر بن چکے تھے اور پورے زور و شور سے اکھاڑ پچھاڑ کر رہے تھے۔ ڈاکٹر زمان کے حوصلے بلند تھے کیوں کہ وە حسن نثار کی ادارت میں شائع ہونے والے بھٹو دور کے خوبصورت ترین رسالے’السیف’ کو  ڈکار مارے بغیر ہضم کرکے آئے تھے۔ چن وے میں نورجہاں کے ہیرو اور سیالکوٹی منڈے جہانگیر خان اور حسن نثار کی ٹیم  نے آرٹ پیپر پر چھپنے والے "السیف” کو بین الاقوامی سطح کا معیار دیا تھا۔ دھنک کے بعد یہ پاکستان کا دوسرا خوبصورت ترین رسالہ تھا اور سرور سکھیرا صاحب کے ساتھ دھنک کا تجربہ یقینی طور پر حسن نثار کے کام آ رہا تھا۔ السیف کی ٹیم کے ایک رکن پشتو لکھاری عبدالکافی ادیب تھے، انتہائی محبت کرنے والے۔ ان کا ہمیشہ ایک ہی مطالبہ رہتا تھا کہ میں حسن نثار سے ملنے کے بعد ان کے ساتھ چائے ضرور پیا کروں۔ 

حسن نثار شروع سے ہی چھرے والی اس بندوق کی طرح تھا جس میں توپ کا گولہ فٹ تھا۔ اس اینگری ینگ مین کے ساتھ مل کر ہم کچھ نئے لکھنے والے دوستوں نے لائل پور (موجودہ فیصل آباد)  میں ایک تنظیم بنائی تھی اینگری یوتھ سرکل کے نام سے۔ تنظیم تو نہ چلی، البتہ حسن نثار چل گیا۔ وہ اپنا کام  جانتا  تھا اور پرفیکشن کا قائل تھا۔ اس لیے اپنے کام میں اسے ایس ایم زمان کے اندر چھپے عربی کے ثانوی سطح کے مدرس کی مداخلت بالکل پسند نہ آئی۔ وہ نوکری کو لات مار کر چلا گیا اور لاہور جا کر ‘احساسات’ کے نام سے ایک نئے رسالے کا ٹھیلا لگا لیا۔ حسن نثار کی تحریک پر میں بھی ‘السیف’ کے لیے لکھتا رہا۔ خوبصورتی کے علاوہ ‘السیف’ کی ایک کشش اس کا معاوضہ بھی تھا۔ مجھے یاد ہے زرعی یونیورسٹی پر میرے ایک فیچر پر مجھے پانچ سو روپے معاوضہ ملا تھا جو اس دور میں لیکچرار کی ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر تھا، اسی طرح رانا ارشاد احمد خان کی کتاب "سرخ ستارہ چین پر” جو ایڈگر سنو کی تصنیف Red Star over China کا خوبصورت ترجمہ تھا کے ریویو کے لیے ڈیڑھ سو روپے ملے تھے اور فی نظم دو سو روپے معاوضہ ملتا تھا)۔ "السیف” کے قتل پر ڈاکٹر زمان کے ہاتھ ویسے ہی دفعہ ٣٠٢ ت پ سے آلودہ تھے۔ اس لیے ایکٹ کی کمزور بنیاد پر استوار یونیورسٹی کے ملازمین کا اپنے مستقبل کے بارے میں خدشات کا شکار ہونا بلا جواز نہ تھا۔ ان کا بس چلتا تو آتے ہی یونیورسٹی پر CLOSED کا سائن بورڈ لگوا دیتے۔ 

ڈاکٹر  ذکی نے اس نوزائیدہ یونیورسٹی کو کامیاب کرنے کے لیے  پاکستان بھر سے چیدہ چیدہ لوگ جمع کیے تھے۔ ڈاکٹر تنویر احمد خان  لودھی، پروفیسر جاوید اقبال سید (بعد میں وائس چانسلر بنے) ڈاکٹر معین الدین جمیل،  پروفیسر لئیق احمد (لیجنڈری ٹی وی کمپئر)، ڈاکٹر ایس این رحمان، عبدالجلیل قاضی (امر جلیل ۔ معتبر کالم نگار)، پروفیسر ریاض احمد، مسز عابدە ریاض (بینظیر بھٹو کے بعد ٹی وی پروگرام انکاؤنٹر کی کمپیئر تھیں اور بینظیر بھٹو اکثر ان کے پاس آیا کرتی تھیں)، اکرام بٹ (میرے نباتیات کے استاد اور یہاں میرے صدر شعبہ)،  ڈاکٹر اکرم قاضی، سید عطاالله شیرازی (مرحوم ایک زمانے میں زرعی یونیورسٹی میں جمعیت کے ناظم تھے)، ایل حبیب خان اور ان کی خوبصورت بیگم شائستہ حبیب، افسر رضوی، ڈاکٹر عبدالغفور، نظیر صدیقی (معروف نقاد)،  ڈاکٹر محمّد صدیق شبلی، اسد اریب،  ظفر اقبال فاروقی، حامد ہاشمی، آفتاب اسرار، جاوید محمود قصوری اور غلام حیدر بھرگری ان چند ناموں میں سے تھے جو اس ادارے سے وابستہ تھے۔ 

ڈاکٹر ذکی مرحوم کا معمول تھا کہ ہر صبح دفتر میں آنے کے بعد یونیورسٹی کا راؤنڈ لگاتے، کام کی پراگریس کا جائزہ لیتے اور موقع پر احکام جاری کرتے۔ میں ابھی یونیورسٹی میں نیا آیا تھا کہ ایک دن میرے کمرے میں آ گئے اور مجھ سے میرے کام کے بارے میں سوال کرتے رہے۔ مجھے کہا کہ کام مکمّل کرکے اگلے ہفتے مجھے ملو۔ جب میں نے بتایا کہ اگلے ہفتے مجھے ایک ذاتی کام سے (علی اکبر عباس کی شادی) لاہور جانا ہے تو حکم ہوا کہ ٹور بنا لو وہاں یونیورسٹی کی کچھ کتب شایع ہو رہی ہیں ان کی پراگریس دیکھ آنا مگر کام ہر حال میں اگلے ہفتے مکمّل ہونا چاہیے۔ یہ تھا ان کا کام لینے کا اسٹائل۔ ان کے دور میں گیارہ بجے ٹیچنگ اسٹاف کی چائے میں وہ خود شریک ہوتے، گپ شپ بھی لگاتے اور کام کی رفتار اور مسائل سے بھی باخبر رہتے۔ 

ڈاکٹر ذکی کیا گئے دنیا ہی بدل گئی۔ پہلا وار اسٹاف ٹی کلب پر ہوا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مرکزیت ختم ہو گئی  اور جگہ جگہ ٹی کلب بن گئے۔ ڈاکٹر زمان اپنے ایک عزیز ڈاکٹر عبدالعلیم شیخ کو یونیورسٹی میں لےآئے جو ڈیفکٹو وائس چانسلر کا کردار ادا کرنے لگے۔ افواہوں اور نفسانفسی کو فروغ ملا۔ ڈیپوٹیشن پر آئے ہوئے حضرات واپسی کے لیے  رخت سفر باندھنے لگے۔ میرے ایسے ایڈہاک ملازمین جو ڈاکٹر ذکی کے زمانے میں ہر لحاظ سے مطمئن تھے اصل مخمصے میں تھے۔ 

مارچ ١٩٧٧ ءکے عام انتخابات کے بعد پی۔این۔اے کو پر لگ چکے تھے، ڈالر کی دھونی سے بے چینی کا بار بی کیو مہک اٹھا۔ وزارتِ تعلیم کے ذریعے ہر روز نئے نئے  پروانے آ رہے تھے کہ بھٹو کے کارناموں کو مضامین اور اشتہارات کے ذریعے اجاگر کیا جائے۔ وزارت تعلیم کےتعلیمی منصوبہ بندی ونگ کے سربراہ ڈاکٹر عبدالعزیز خان سے میری دوستی تھی اور ان کے ذریعے مجھے اندر کی بہت سی معلومات مل جاتی تھیں۔ ان معلومات اور تازہ خبروں کی مدد سے ان دنوں ڈاکٹر زمان کے رویے  کا مطالعہ میرے لیے خصوصی دلچسپی کا باعث تھا۔ جس روز تحریک زور پکڑتی دکھائی دیتی، اخبار میں اوپن یونیورسٹی کے بارے میں چھپنے والے مضمون پر کسی ایرے غیرے کا نام  ہوتا اور اگر حکومت کا رویہ سختی پر مائل ہوتا جو اس کی مضبوطی کا اشارہ ہوتا تو مضمون پر ڈاکٹر زمان کا اپنا نام جلی حروف میں چھپتا۔ لاٹھی چارج تو خیر معمول کی بات تھی، گولی چل جاتی تو مضمون کے ساتھ ڈاکٹر زمان کی تصویر بھی چھپ جاتی۔ کئی  بار تو خصوصی طور پر حامد ہاشمی صاحب (افسر تعلقات عامہ) کو آخری وقت پر صاحب مضمون کا نام  بدلوانے کی ذمہ داری سونپی جاتی۔ گویا ان دنوں تحریک کے اتار چڑھاوٴ کے حوالے سے ڈاکٹر زمان کا رویہ سانپ اور سیڑھی والے کھیل سے مشابہ تھا اور گراف کی شکل میں اس کا اظہار کیا جا سکتا تھا۔

میں ڈاکٹر ذکی صاحب کی ضمانت پر واپڈا کی مستقل ملازمت کی پیشکش نظرانداز کر چکا تھا، اور اب بدلے ہوئے  حالات میں زرعی یونیورسٹی میں لیکچررز کی آسامیوں کے اشتہار میں روشنی کی کرن تلاش کر رہا تھا- اگرچہ مجھے اپنی کوتاہیٴ فن کا شدید احساس تھا مگر ڈاکٹر ظفر علی ہاشمی مرحوم (زرعی یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر) کی یہ بات پلے باندھ کر انٹرویو کے لیے  چلا گیا کہ انٹرویو ایک فن ہے۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ میز کے کس طرف بیٹھا شخص زیادہ بڑا فنکار ثابت ہوتا ہے۔ ڈاکٹر امیر محمد وائس چانسلر تھے اور انہی کے دفتر میں انٹرویو ہو رہا تھا۔ ان کے ساتھ فیکلٹی کے ڈین ڈاکٹر غلام سرور شیخ اور تینوں شعبوں کے سربراہ، خواجہ خالد پرویز، ڈاکٹر امانت علی اور ڈاکٹر اے ڈی چوہدری موجود تھے۔ چاروں میرے استاد تھے اور اپنی غیر نصابی سرگرمیوں کی وجہ سے میں کسی کی نظر میں بھی ایک ‘اچھا’ اسٹوڈنٹ نہیں تھا۔ پہلا سوال ڈاکٹر امیر محمد صاحب کی طرف سے آیا "اچھا تو آپ ہیں ظہیر پراچہ، اس یونین کے رکن جس نے وائس چانسلر کے دفتر پر قبضہ کیا تھا” سوال نے ایک بار تو مجھے دہلا دیا۔ ڈاکٹر صاحب  سے پہلی بار میرا سامنا ہو رہا تھا اور وہ اس وقت کو یاد کر رہے تھے جب وہ ابھی یونیورسٹی سے کوسوں دور غیاب میں تھے اور ادھر ابھی آئے بھی نہیں تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے میری بجائے ڈاکٹر صاحب انٹرویو کی مکمل تیاری کرکے آئے  ہیں۔ میرے لیے  یہ Do or Die کا موقع تھا۔ 

ڈاکٹر صاحب نے غیر ارادی طور پر خود ہی انٹرویو کی باگیں میرے ہاتھ میں دے دی تھیں، اب بھی اگر میں انٹرویو کو اپنے ٹریک پر نہ چلا سکتا تو مجھ سے بڑھ کر نااہل کون ہو سکتا تھا۔ سو میں نے جواب دینا شروع کیا "جناب اگر یہ واقعہ آپ کے علم میں ہے تو آپ کو یہ بھی معلوم ہوگا کہ گیارہ اراکین نے اس کے بعد یونین سے استعفٰی دے دیا تھا۔ میں بھی ان میں شامل تھا۔ اوروں کا تو مجھے پتہ نہیں لیکن میں نے اسی واقعہ پر بطور احتجاج استعفٰی دیا تھا”۔ اس سے پہلے کہ میری بات ختم ہوتی اگلا سوال آیا "مگر کیوں؟” اور اس کیوں کی مجھے اس وقت شدید طلب ہو رہی تھی۔ یہ "کیوں” نہ بھی آتا تو بھی جواب تو مجھے اس کا دینا ہی تھا۔ میں نے کہنا شروع کیا "جناب میں ڈاکٹر افضل قاضی صاحب کا شاگرد ہوں۔ سینئر موسٹ ڈین ہونے کے ناطے وائس چانسلر صاحب کی غیر موجودگی میں ڈاکٹر قاضی ہی قائم مقام وی سی ہوتے تھے۔ یہ عرصہ چاہے جتنا بھی طویل ہوتا ہم نے کبھی ان کو وی سی کی کرسی پر بیٹھے نہیں دیکھا۔ وہ سامنے والے صوفے پر بیٹھ کر ہی کام کرتے تھے۔ ایک بار میں نے ان سے عرض کیا ‘یہاں آپ کو فائل ورک میں کافی مشکل ہوتی ہو گی، آپ کرسی پر بیٹھ کر کام کیوں نہیں کر لیتے’۔ ان کا جواب میرے لیے  چشم کشا تھا، کرسی کی طرف اشارہ کرکے فرمانے لگے "بیٹا میں اس مسند کا اہل ہوتا تو وہاں مستقل بیٹھا ہوتا”۔ جب وہ عارضی وائس چانسلر ہو کر بھی اس مسند پر بیٹھنا معیوب سمجھتے تھے تو میں اپنے دوست حافظ وصی محمد خان صاحب (تب یونین کے صدر) کا اس مسند پر بیٹھنا کیسے گوارا کر لیتا، تو جناب یہ تھی میرے  استعفٰی کی اصل وجہ”۔ مجھے صاف دکھائی دے رہا تھا کہ تیر نشانے پر بیٹھا ہے اور انٹرویو کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اگلے سوال کے لیے  صدر نشین نے اراکین بورڈ کی طرف دیکھا۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ بھی فیصلہ قبول کر چکے ہیں۔ 

حجت پوری کرنے کے لیے  ڈاکٹر شیخ نے سوال کیا۔ "چائنا ایک کم ہارس پاور کا ٹریکٹر ہماری مارکیٹ میں لا رہا ہے۔ تمھارے  خیال میں اس کا مستقبل کیا ہے پاکستانی مارکیٹ میں؟”۔ میری دلچسپی شروع سے ہی اریگیشن ڈرینیج میں تھی، میری بلا سے اس ٹریکٹر کا حال کیا ہے یا مستقبل کیا ہوگا۔ مگر جواب دینا بھی ضروری تھا سو میں نے کہا "جناب میں نہیں سمجھتا کہ لیفٹ ونگ کا دوسرا ٹریکٹر کامیاب ہوگا بیلارس جیسے امرت دھارے کی موجودگی میں (قہقہہ) ۔ دراصل ہمارے کسانوں کو عادت سی ہو گئی ہے ٹیپ لگے روسی ٹریکٹر کی، وہ شاید اس عادت سے باہر نہ آ سکیں اور ویسے بھی بڑے سے چھوٹے کی طرف مراجعت کے لیے  ایک نفسیاتی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے جسے ہمارے معاشرےمیں پسندیدە نہیں سمجھا جاتا”۔ میں نے گول مول سا جواب دے کر صدر نشین کی جانب حسرت بھری نظروں سے دیکھا۔ اشارہ کام کر گیا۔ صدر نشین نے دوبارہ کمان سنبھال لی اور پوچھا "دنیا کے بارے میں کتنا جانتے ہو؟”

"کچھ زیادہ نہیں، اتنا ہی جتنا ہمارےاخبارات بتانا چاہتے ہیں” میں نے جواب دیا۔

"گڈ! تو بھلا روس کا صدر کون ہے؟”

"میں نے آج کا اخبار نہیں دیکھا۔ کل رات تک تو پڈگورنی تھا اب تک شاید برزنیف  کی قسمت یاوری کر چکی ہو” میں نے ترنت جواب دیا  

"اچھا تو امریکہ کے نائب صدر سے واقفیت ہے؟”۔ میں نے کہا "جی ہاں مگر زیادہ نہیں  کیونکہ اس کا بھلا سا نام اس وقت مجھے یاد نہیں آ رہا”۔ انھوں  نے ہونٹوں کو خفیف سی حرکت دی۔ میں نے اشارہ پا لیا اور جھٹ سے بولا "مونڈیل”۔ "کوئی اور سوال؟” صدر نشین نے پوچھا۔ جواب میں ایک گھمبیر خاموشی چھا گئی۔ میرےمحترم اساتذہ کو نوشتہٴ دیوار نظر آ رہا تھا، اب سوال ہوتا بھی تو نہ پوچھتے۔ اس کے ساتھ ہی صدر نشین نے یہ کہتے ہوئے  ہاتھ آگے بڑھا دیا "شکریہ نوجوان چند ہفتوں میں آپ کو جواب مل جائے  گا”۔  یہ ایک اور اشارہ تھا ورنہ ناکام امیدوار کو مطلع کرنے کا رواج کہاں ہے ہمارے ہاں۔ (بعد میں ڈاکٹر امیر محمد کو ایک انٹرویو اور دیا تھا جب وہ پاکستان زرعی تحقیقاتی کونسل کے چیئرمین تھے۔ میرا مطالبہ تجربے کی بنیاد پر اگلے گریڈ کا تھا جبکہ انھوں نے کچھ اضافی انکریمنٹس کی پیشکش کرتے ہوئے  کہا ‘میں نے تمہیں پہلے بھی منتخب کیا تھا مگر تم نے جوائن نہیں کیا۔ مجھے پتہ ہے تم اب بھی نہیں کرو گے اس لیے  میری شرط یہ ہے کہ ابھی میری شرائط پر جوائن کر لو چھ ماہ کے اندر اگلا گریڈ دے دوں گا’۔ کتنا درست اندازہ تھا ان کا۔ واقعی میں نے جوائن نہیں کیا)۔ 

میرا مسئلہ یہ تھا کہ ٣٠ جون کو میری ایڈہاک ٹرم ختم ہو رہی تھی اور مزید توسیع کے چکر میں پڑے بغیر مجھے ایک ٹھکانا درکار تھا اور یہاں ہفتوں مہینوں کی بات ہو رہی تھی۔ ٹی کلب میں جا ساری واردات سنائی انٹرویو کی۔ ملتانی مٹی سے ڈھلےاور کالا باغی مونچھوں سے آراستہ ظفر اقبال فاروقی مرحوم ڈپٹی رجسٹرار تھے۔ اپنے ظاہر کی طرح خوبصورت باطن کے مالک تھے۔ کہنے لگے "تمہاری فائل میں کل ہی واپڈا کی ایک آفر دیکھی ہے میں نے مستقل ملازمت کی، اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟”  میں نے کہا "مگر وہ تو ایک سال پرانی ہے”۔  بولے "تو کیا ہوا۔ تم کل میرے ساتھ جا رہے ہو، اس کا کچھ کرتے ہیں” اگلے روز ہم ڈاکٹر صاحبزادە مسعود علی خان (صاحبزادہ فاروق علی خان اسپیکر قومی اسمبلی کے بھائی) کے پاس وزارت خزانہ میں کافی پی رہے تھے۔ کچھ پوچھے بغیر انھوں نے کے ایم چیمہ ممبر فنانس واپڈا کو فون کیا اور مجھے ان سے ملنے کو کہا۔ ٢٩ جون کو میں نے ملاقات کے لیے  چٹ بھیجی۔ کافی دیر بعد بلاوا آیا تو صرف اتنا کہا "آپ اقبال شہاب کے ساتھ چلے جائیں” ایک معمول کی طرح میں شہاب صاحب کے پیچھے چل پڑا۔ شہاب صاحب (قدرت الله شہاب کے بھائی اور چیف انجینئر ایڈمن)  نے مجھے آفریدی ڈپٹی ڈائریکٹر کے حوالے کر دیا۔ ٹھیک پندرہ منٹ بعد میرے ایک سال پرانے اپائنٹمنٹ لیٹر کی ٣٠ جون تک توسیع ہو چکی تھی۔ اسی وقت میں نے واپڈا کو جوائن کر لیا اوپن یونیورسٹی چھوڑے بغیر۔ اگلے روز یونیورسٹی کو خیر باد کہا مگر عملی طور پر اس روز واپڈا پر مسلط ہوا جس روز جنرل ضیا ملک پر۔ جنرل نے تو ملک کو ظالمان کے حوالے کرکے گیارہ برس بعد ملک کو بخش دیا مگر میں نے واپڈا کو پورے چھبیس برس نہیں بخشا۔ 

نوٹ: یہ مضمون جناب ظہیر پراچہ صاحب کی یادداشتوں کا حصہ ہے جو ہمیں 70ء کے عشرے اور لوگوں کے مزاج و حالات کی ایک جھلک دکھاتا ہے۔

ظہیر پراچہ
”نہ تو زہر ہلاہل کو قند کہنے کا مرض ہے اور نہ لائکس کی تمنا “ زندگی کی چاشنی میں حقائق کی تلخی سے گندھے ، سماجی ناہمواریوں، نیز دیہی زندگی کے مسائل کے 20 سالہ قریبی مشاہدے، زرعی تحقیق کے میدان میں ملازمینِ سرکار کی رفاقت کے تجربے کے ساتھ ساتھ جہاں گردی اور لکھنے کے شغف کا حامل ،” ایک ستریا بہتریا “

اپنی رائے کا اظہار کیجیے