طنز و مزاح متفرقات

پرائے پھٹے میں ٹانگ اڑانا

ہماری قوم کی عادت ہے کہ ہم دوسروں کے پھڈے میں ٹانگ اڑاتے ہیں اور اپنی ٹانگ تڑوا بیٹھتے ہیں۔لاکھ سمجھایا کہ بھئی اپنے کام سے کام رکھو اور دوسروں کو اپنا کام کرنے دو۔ مگر وہ جو اپنے غالب  کہہ گئے ہیں:

؎            وہ اپنی خو نہ چھوڑیں گے ہم اپنی وضع کیوں بدلیں

ڈرامے دیکھ لیں۔ ہر ڈرامے میں ایک پھڈے باز ہوتا ہے۔ اچھا خاصا ڈرامہ چل رہا ہے۔ ہیر کی شادی رومیو سے ہونے ہی والی ہے کہ رقیبہ رومیو کو نیند میں ایسے اغوا کر لیتی ہے جیسےالہ دین کے چراغ کا جن راتوں رات محل کو اٹھا کر دوسری جگہ پہنچا دیتا ہے۔ بے چار ی ہیر کو اب رومیو کو تلاش کرنا ہے۔ اب پھڈا پڑ گیا نا! کہیں بہو بےچاری بیاہ کر آئی تو ساس نندوں سمیت سارا جہاں دشمن بن گیا جیسے بس اسے اس لیے ہی لایا گیا ہو۔ ڈراموں میں تو مانا کسی کو کوئی کام نہیں سوائے پھڈے بازی اور پرائے پھٹے میں ٹانگ اڑانے کے۔

اب ہم اپنی کیا کہیں، ہم خود دوسروں کے معاملات میں دخل در معقولات بلکہ دخل در نا معقولات کے عادی ہیں۔ شاید ہمیں گھٹی ایسی پلائی گئی تھی ہمیں خواہ مخواہ ہی پنگا لینے کی عادت ہوچکی ہے۔ لیکن اس کے پیچھے بھی ایک گہرا راز ہے، ہاں ہاں بتا دیں گے! ابھی آگے تو پڑھیں اس داستان کو۔

کل تو بیٹھے بٹھائے ہم بھی قدوائی صاحب سے الجھ بیٹھے کہ آپ نے اپنے گھر کی کیاری میں رات کی رانی کیوں لگائی۔ آتے جاتے بچے رانی،  رانی کا نعرہ لگاتے ہیں۔ ہمیں لگتا ہے کہ وہ ہماری  بیگم کو چھیڑ رہے ہیں۔

قدوائی صاحب پہلے تو ہکا بکا رہ گئے پھر بھنا کر بولے، بھئ ! میرا دل چاہا، لگالی، میرا گھر میری کیاری اور میری مرضی۔ اور ویسے بھی مجھے اس کی خو شبو پسند ہے۔

لیکن ہم اپنی ضد پر اڑے تھے "مگر میں اس کی خوشبو سے الرجک ہوں۔ آپ آج ہی اسے نکال دیں ۔۔۔”

یہ صرف ہم پر ہی موقوف نہیں۔ سارا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ہر ایک اپنے خود سے زیادہ دوسروں کے معاملات میں دل دچسپی رکھتا ہے۔ ہمیں اس دن بڑی حیرت ہوئی جب مرزا نے ہم سے کہا کہ تمھارا بیٹا تمھارا خیال نہیں رکھتا۔ یہاں تک کہ ان کا خیال یہ تھا کہ ہماری بیگم بھی ہمارا خیال نہیں رکھتیں،  تبھی تو ہم بولائے بولائے پھرتے ہیں۔ ہمارا شک یقین میں بدل گیا۔ اب ہمیں وہ ساری باتیں یاد دلانے لگے جنھیں ہم نظر انداز کرتے تھے۔ یعنی ہم نے بیوی سے کہا تھا کہ ہمیں یاد دلا دینا کہ ہمیں چشمہ پہننا ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم اپنے گھر کے بجائے قدوائی صاحب کے گھر میں گھس گئے۔ بھابی نے ہمیں دیکھ  شرما کر جو سر پر دوپٹہ اوڑھا تو ہماری سمجھ میں آیا۔ اسی طرح بقول ان کے بیٹے نے ہمیں نظر انداز کیا۔ آفس سے آتے ہی نہ سلام نہ دعا۔ سیدھا باتھ روم میں گھس گیا۔ ایک گھنٹے بعد برآمد ہوا۔ اچھا تو مرزا ہمارے گھر کی جاسوسی  بھی فرما تے ہیں۔

خیر ایک مرزا ہی کیا ہم سب ایک دوسرے کی جاسوسی کرتے ہیں۔ جیمز بانڈ بن گئے ہیں۔ لاکھ چھپائیں لیکن ہمیں  بھی خوب پتا ہے کہ قدوائی صاحب کے بیٹے نے امریکہ میں ایک میم کو مسلمان کیے بغیر شادی کر لی ہے مگر انھیں اعتراض ہے کہ ہمارے سپوت نے اپنی پسند کی شادی کر لی۔ وہ آتے جاتے ہم سے "سب خیریت ہے نا!”  ضرور پوچھتے ہیں۔

فہیم صاحب تو گویا پورے محلے کے کندھوں پر بیٹھے ہوئے فرشتے ہیں اور وہ بھی بائیں کندھے کا فرشتہ جس کا کام صرف ہمارے گناہوں کا حساب رکھنا ہے۔ اس لیے تو ان پر نظر پڑتے ہی لوگ اپنے بائیں کندھے پر سلام پھیر لیتے ہیں۔

کل یونین آفس سے ایک نوٹس دیوار پر آویزاں تھا کہ اپنےبقایا جات تین دن میں جمع کردیں ورنہ قانونی کارروائی ہوگی۔ ہم نے چشمہ نہیں پہنا تھا۔ گھور گھور کر پڑھنے لگے تو ماجد صاحب نے جھٹ  خبر اڑا دی کہ ہم نادہندگان میں سے ہیں۔ جھٹ کن سنیاں لینے کو پُرسے کے بہانے فون آنے لگے۔ بے چار ی بیگم وضاحت کرتے کرتے تھک گئیں۔

ہم کو اپنے پڑوسیوں سے یہ عرض کرنا ہے کہ خدائی فوج دار نہ بنیں ۔ ہم کو ہمارے حال پر رہنے دیں۔ پھرہم بھی وعدہ کرتے ہیں کہ ہم انھیں ہر گز نہ روکیں گے  چاہے وہ گو بھی کا پھول اگائیں یا رات کی رانی کا پودا لگائیں۔

سیدہ رابعہ
اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں میں تدریس کا 50 سالہ تجربہ لیے سیدہ رابعہ ماما پارسی اسکول کے شعبۂ اردو کی ڈین بھی رہ چکی ہیں۔ رنگوں اور اسکیچنگ میں دل چسپی رکھتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بلاگنگ اور کالم نگاری بھی ان کا مشغلہ ہے۔ باغ و بہار سی شخصیت جن کی معیت میں آپ کبھی بور نہیں ہوسکتے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے