حالاتِ حاضرہ نقطۂ نظر

پانی رے پانی

میں نئی نئی ناروے آئی تھی اور میری ہمسائی  "آنے” جو بعد میں میری بہترین دوست بھی بنی، اور آج تک ہے،  ایک پارٹی کی ممبر تھی اور بہت فعال تھی۔ وہ پارٹی تھی گرین پارٹی جس کی میں بھی بعد میں ممبر بنی۔ اس پارٹی کا فوکس ماحول  پر ہے اور اس کے لیے  سیاسی طور پر بھی کوشش کی جاتی ہے۔ حکومت پر دباو ڈالا جاتا ہے کہ ماحول کو خراب نہ ہونے دیں۔ میں اس وقت نارویجین زبان سے قطعی بے بہرا تھی۔ ہماری گفتگو انگریزی میں ہوتی تھی۔ اس نے ایک دن کہا، پچھلے زمانوں میں جنگیں زمینوں، خزانوں اور ذاتی عناد پر ہوتی تھیں (یعنی وہی زر، زمین، زن والے کے جھگڑے) آج کے دور میں یہ جنگیں تیل اور دوسری معدنیات پر ہوتی ہیں؛ لیکن آنے والے زمانے میں جنگیں پانی پر ہوں گی۔ پانی پر؟ میں چونکی۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔  ہماری زمین کا  توستر فیصد حصہ پانی ہے۔” ہاں وہ تو ہے لیکن  وہ سمندروں کا پانی ہے، کھارا نمکین پانی۔ کمی ہے تو تازہ میٹھےپانی کی؛ وہ پانی جو ہم پیتے ہیں، جس میں کھانا پکاتے ہیں، نہاتے دھوتے ہیں اور اپنی فصلوں کو سیراب کرتے ہیں، اور وہ  ہےصرف تین فیصد ہے۔ اس میں بھی کچھ برف اور گلیشیرز کی شکل میں ہے جسے عام استعمال میں نہیں لایا جاسکتا۔ سنا تھا سائنس دان کوششیں کر رہے تھے کہ سمندر کے پانی کو میٹھا بنا سکیں۔ لیکن یہ ممکن نہ ہو سکا۔اس پہ بہت محنت اور لاگت درکار ہے۔

پانی زندگی کے لیے  لازم  و ملزوم ہے۔ جہاں پانی ہے وہاں زندگی ہے۔ اور جب پانی نہ ہوگا تو زندگی بھی نہ ہوگی۔ ہر جاندار انسان، جانور، کیڑے ،گھاس، پودے سب کا دارومدار پانی پر ہے۔ پانی کم ہو رہا ہے زندگی داؤ پر لگی ہے اور ہم سو رہے ہیں۔2025ء  تک پانی کی یہ کمی جان لیوا ہو  جائےگی۔ جب دنیا کی دو تہائی آبادی پانی سے محروم ہو گی۔ پانی کی طلب بڑھتی جا رہی ہے اور رسد گھٹتی جا رہی ہے۔ کچھ ملکوں میں تو ابھی سے اس کمی کے شدید اثرات دکھائی دینے لگے ہیں۔

CNN کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی افریقہ کا شہر کیپ ٹاؤن پانی کی کمی کا پہلا بڑا شکار ہے۔وہ لوگ اب نہانے اور  ٹوائلٹ کے استعمال شدہ پانی کو ری سائیکل کر رہے ہیں۔ شہریوں کو کہہ دیا گیا ہے کہ ان کا شاور نوے سکینڈ سے ز یادہ کا نہ ہو۔وہ بھی مہینے میں صرف دو بار۔وہاں گندے الجھے بال ان کی لاپرواہی اور کاہلی کا نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ پانی کی قلت کا شکار بھی ہیں اور اس مسئلے  کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ افریقہ کے کئی دوسرے ممالک پانی کی کمی سے قحط اور خشک سالی کا شکار ہیں۔ عورتوں کو ہر صبح تقریباْ  پانچ ، چھے کلو میٹر دور جا کر پانی لانا ہوتا ہے۔ یہ پانی جوہڑوں اور تالابوں سے لایا جاتا ہے جو  نہ تو تازہ ہوتا ہے اور نہ صاف۔ پانی لانے والی  عورت یہ بھی جانتی ہے کہ یہ پانی ایک دن اس کی اور اس کے کنبے کی جان بھی لے سکتا ہے۔یہ گندا پانی زندگی بخش نہیں بلکہ جان لیوا ہے۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں 2 ارب سے زائد افراد پینے کے لیے صاف پانی سے محروم  ہیں۔

عرب امارات جو پانی کی کمی کے شکار ممالک میں دسویں نمبر پر ہیں   انٹارکٹک سمندر میں موجود آئس برگ کو گھسیٹ کر اپنے ملک لا رہے ہیں تاکہ پانی کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔اب وہاں پہنچتے پہنچتے یہ برف کتنی باقی رہے گی؟ یہ ابھی نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن اس کا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور پہنچ جائے گا۔ خیر وہ امیر لوگ ہیں یہ کر سکتے ہیں۔

کچھ ملکوں کے پاس ابھی بھی پانی کی بہتات ہے۔ یورپ کے ممالک میں برفباری اور بارشیں دریاؤں کو بھر دیتی ہیں۔ اور ان دریاؤں پر بند باندھے گئے ہیں۔ اسی پانی سے بجلی بھی بنتی ہے۔ میں ناروے کی مثال دیتی ہوں کیوں کہ میں یہاں رہتی ہوں۔ یہاں پانی بھی فرواں ہے اور بجلی بھی۔ بجلی تو ایکسپورٹ بھی کی جاتی ہے۔ پانی صاف اور تازہ ہے، آپ سیدھا نلکے سے پی سکتے ہیں۔ اب سنا ہے کہ دنیا میں پانی کی کمی کو دور کرنے کےلیے  اس کی تقسیم ہو گی۔یہ کیسے ہوگا؟  اور کیا پانی والے ممالک پیاسے ملکوں کو اپنی اس  قدرتی دولت میں شریک کر لیں گے؟

اب آتے ہیں وطن عزیز کی طرف۔ آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پانی کی قلت کے شکار ملکوں میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے۔ قحط سالی کا بھوت اب فصلوں میں ناچے گا۔ بے تحاشا بڑھتی ہوئی آبادی جو پہلے سے ہی پیاسی ہے اب بوند بوند کو ترسے گی۔ جو پانی لوگوں کو مل بھی رہا ہے وہ گندا ہے۔ اس میں فضلہ کی آمیزش ہے۔ اس گندے پانی کی وجہ سے لوگوں کو  ہر طرح کی بیماریاں لگ رہی ہیں جس میں ملیریا اور ہیپاٹائٹس سرفہرست  ہیں۔صوبہ سندھ کا اسّی فیصد پانی پینے کے قابل نہیں ہے۔ کچھ ایسا ہی حال پنجاب کا بھی ہے۔

ماہرین لکھتے رہے۔ بڑےبڑے محقق شور مچاتے رہے  وارننگز  دیتے رہے۔ آمنہ مفتی چیخیں چلائیں کہ پانی مر رہا ہے۔ وسعت اللہ خان اور ان کے ساتھیوں نے  اپنے ٹی وی پروگرام میں کئی بار بحث میں یہ نکتہ اٹھایا  کہ خدارا کچھ کر لو۔ لیکن جوں کو نہ رینگنا تھا نہ رینگی۔ٹاک شوز میں بس "کیوں نکالا” اور ” اس لیے  نکالا” پر گفتگو ہوتی رہی۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم برسوں پہلے ہی اس مسئلے پر غور کرلیتے۔ لیکن وہ ہم ہی کیا جو غور کر لیں۔ پانی کی اس قلت کا بہترین حل ڈیم بنانا تھا۔ کالا باغ ڈیم کے منصوبے کے بارے میں  یاد ہے کہ کب سے سن رہے ہیں؟ جی ہاں بچپن سے سن رہے ہیں ۔ یہ بن جاتا تو پانی بھی ہوتا اور بجلی بھی۔ لیکن ہمارے آپس کے جھگڑے کب کچھ سنورنے دیتے ہیں۔ کبھی علاقائیت سے نکل کر ملک کا سوچا؟

"مرسوں مرسوں ڈیم نہ بنن دیسوں”۔ سندھ کو اعتراض کہ اس ڈیم سے پنجابی فائدہ  اٹھا ئیں گے  اور سندھ محروم رہے گا۔ان کا کہنا ہے کہ دریا ئے سندھ میں پانی بارشوں سے آئے گا۔ اب قدرت کی یہ نعمت بھی ساتھ نہیں دیتی۔ بارشیں کم کم ہو رہی ہیں اور دریا خشک ہو رہے ہیں ۔ ڈیم کا  یہ منصوبہ قومی سے زیادہ سیاسی ہو گیا۔ اور اس کو ایشو بنا کر ووٹ لیے  گئے۔کے پی کے والوں کے اپنے خدشات ہیں۔ انہیں بھی یقین ہے کہ اس ڈیم سے صرف اور صرف پنجاب کو فائدہ ہوگا۔ بلوچستان تو پہلے ہی خشک ہے۔  وہ اور بھی ڈر گئے ہیں کہ یہ ڈیم ضرور ملک دشمن عناصر کی سازش ہے۔ بلوچستان کے بعض علاقوں میں توبارش اور برفباری کی وجہ سے کسی حد تک خشک سالی کا خاتمہ ہوا ہے لیکن گوادر اور اس سے متصل مکران ڈویژن کے بعض علاقے اب بھی خشک سالی سے دوچار ہیں۔   گوادر میں سی پیک کا منصوبہ تو شروع کر دیا گیا لیکن صاف پانی کا مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوگیا ہے۔ہم  عجیب لوگ ہیں سیلاب برداشت کر لیں گے، بجلی کی بے ہنگم لوڈ شیڈنگ جھیل لیں گے۔ گندا پانی پی کر مرتے رہیں گے لیکن ڈیم بنا کر بارشوں کا پانی محفوظ کرنا نہیں چاہتے۔ ملکی دریاؤں میں آنے والے پانی میں سے 28 ملین ہیکٹر فٹ پانی ضائع ہو کرسمندر میں چلا جاتا ہے۔

پاکستان آج تک اپنی واٹر پالیسی کا اعلان نہیں کر سکا۔ پہلی واٹر پالیسی کا مسودہ 2003ء  میں تیار کیا گیا جو تاحال مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کا منتظر ہے، ہمیں یہی نہیں پتہ کہ ہمیں کرنا کیا ہے۔

خدا کا شکر ادا کیجئے کہ ہمارے پاس تربیلا اور منگلا  ہے۔ ورنہ کل کے مرتے آج مر گئے ہوتے۔ دعا دیجیئے  فوجی جرنیل ایوب خان کو جو یہ کام کر گئے۔چلیے  آپ کالا باغ نہ بنایئے۔ کوئی سفید ،نیلے، پیلے، چھوٹے موٹےکوئی تو بند بنا لیں۔ پانی کو ضائع ہونے سے بچا لیں۔

دوسری طرف پاکستانی ڈراموں میں دیکھ کر دانتوں میں انگلی آجاتی ہے کہ ہر بنگلے میں سوئمنگ پول ہے۔ جس کے کنارے پر ہیروئن پریشان سی ٹہلتی ہے، یا پاس پڑی کرسی پر ہیرو رونی صورت بنائے بیٹھا ہے۔ جہاں اتنا پانی ہے وہاں کس بات کی فکر ہے؟

ہم کہتے تو ہیں کہ ہمسائے ماں جائے ہوتے ہیں لیکن کسی ہمسائے سے بھی ہمارے تعلقات اچھے نہیں۔ بھارت سے تو ہم جدی پشتی دشمنی نباہ رہے ہیں۔ پانی کے لیے  ان کے محتاج ہیں لیکن انہیں آنکھیں بھی دکھاتے رہتے ہیں۔ بھارت جب چاہے ہمارا پانی بند کر دے۔ ہماری فصلوں کو خشک کر دے اور جب ان کے اپنے دریاوں میں پانی بڑھ جائے تو بند کے دروازے کھول کر پانی کا رخ ہماری جانب کر دے۔  ہمیں سیلاب میں ڈبو دے۔ ساریاں بھجوائی گئیں،اسٹیل کنگ سے تجارت کی باتیں ہوئیں، شادیوں پہ بلایا گیا، مری میں مہمان داری کی گئی ان تمام جھمیلوں میں پانی کی  بات کہاں ہو سکتی ہے بھلا۔

اسرائیل کے بارے میں ہم کوئی بھی اچھی بات نہیں سن سکتے۔  کہنے والے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں کوئی توہین مذہب کا الزام نہ لگ جائے۔اسرائیل صحرا کے بیچوں بیچ واقع ہے، لیکن انہوں نے صحیح ٹیکنالوجی، اقتصادی وسائل ، سیاسی عزم  اور قومی یکجہتی کے بل بوتے پر اپنی زمین کے تقریبا 40 فیصد حصے کو فضلے کے پانی سے سیراب کرنے کی صلاحیت پیدا کر لی اور صحرا کو باغبان کر دیا۔ ہم ان سے یہ ٹیکنیک سیکھ سکتے تھے۔

ہمارے ملک کا اولین مسئلہ پانی ہے ۔۔۔ پانی ہے۔۔۔ پانی ہے۔ اور بحثیں ہو رہی ہیں تو  الحمداللہ پناما پیپر پر،  ڈان لیکس اور میمو گیٹس پر۔

سونے والو جاگ جاؤ ایسا نہ ہو کہ پھر چلوبھر پانی بھی نصیب نہ ہو۔

نادرہ مہرنواز
وہ جسے دیکھ کر جاننے کی خواہش ہوتی ہے، جان کر رشک آتا ہے، اور یہ رشک شدید محبت میں بدل جاتا ہے۔ نادرہ مہرنواز بھی ایسی ہی مہربان ہستی ہیں۔ قارئین کے لیے ان کا خلوص ان کے ہر لفظ سے عیاں ہوتا ہے۔ نوشتہ کے لیے ان کی محبت یقیناً ہماری خوش بختی ہے۔

2 thoughts on “پانی رے پانی”

  1. !a very thought provoking article
    read about the Drip System of Israel years ago and quite appreciated it. If only we could do this in Pakistan it would be advantageous; not only a considerable amount of water would be saved but the harvest which we lose because of unavailability of proper irrigation system could be avoided too

    1. Thank you for your comments… Yes water crisis is very serious issue and should be handle seriously.
      The world’s water problem is being caused by multiple simultaneous factors: Reduced rainfall, increased population, and the rapid development of impoverished societies have all come together to deplete the amount of water available to humankind. None of these causes are going away. Solutions will come only from changing the way we find and use water.

اپنی رائے کا اظہار کیجیے