کھیل

پاکستانی بچوں کے منفرد کھیل

پاکستان میں بین الاقوامی کھیلوں کی مقبولیت اپنی جگہ لیکن بچوں کے علاقائی کھیلوں کی بھی اپنی نرالی شان ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچے وہاں کی آب و ہوا، رسم و رواج اور رہن سہن کے اطوار سے مطابقت رکھنے والے بہت سے کھیل کھیلتے ہیں۔ ان بچوں کے مقامی کھیلوں میں چند ایک کھیل ایسے بھی ہیں جو اپنی مقبولیت کے باعث پورے ملک میں یکساں قبولِ عام حاصل کرچکے ہیں۔ آج ہم ایسے ہی کھیلوں کا ذکر کریں گے۔ بہت ممکن ہے یہ کھیل آپ کے بچپن کی حسین یاد کا حصہ ہوں اور آپ ابھی تک اپنے گلی محلوں میں بچوں کو یہ کھیل کھیلتا دیکھتے ہوں۔

کھیلوں کے نام کے ساتھ اُن کا تھوڑا بہت تعارف بھی  پیشِ خدمت  ہے تاکہ وہ لوگ جو اب تک ان کھیلوں سے انجان ہیں وہ بھی انھیں کھیلنے کا طریقہ جان سکیں۔ لیکن ٹھہریے! کھیلوں سے پہلے پْگم کا طریقہ تو جان لیں ۔

پْگم:

پْگم کی پْگائی میں کوئی بچوں کا گیت یا مخصوص الفاظ بولے جاتے ہیں جس  بچے پر یہ گیت ختم ہوتا ہے وہ کھلاڑی بن جاتا ہے، اسی طرح آخری بچ جانے والے بچے تک یہی گیت دہرایا جاتا ہے اورجو بچہ آخر میں رہ جاتا ہےوہ باری لیتا ہے یعنی چور بنتا ہے۔ پْگم ہاتھوں کی مدد سے بھی کی جاتی ہے مطلب یہ کہ ہاتھ کی پشت اور سیدھ دیکھی جاتی ہے تین میں سے دو بچوں کی  ہاتھ کی پوزیشن ایک جیسی ہو تو وہ کھلاڑی بن جاتے ہیں اور جس کی پوزیشن مختلف ہو وہ چور۔ ایک سے زائد بچوں کی صورت میں  باری باری پگم کی جاتی ہے اور آخری تین میں سے  اگر دو کی پشت اور ایک کی سیدھ ہو تو جس کی سیدھ ہوتی ہے وہ کھیل میں باری لیتا ہے، یعنی چور بنتا ہے ۔

پکڑم پکڑائی:

یہ کھیل تقریبا ً پاکستان کے ہر بچے  نے اپنے بچپن میں ضرور کھیلا ہوگا ۔اس میں کم از کم  دو یا زیادہ کھلاڑی ہوتے ہیں ۔ ایک بچے کو پگم کے ذریعے چور مان لیا جاتا ہے  جس  کا کام باقی کھلاڑیوں کو پکڑنا ہوتا ہے۔ چور جب کسی کھلاڑی کو پکڑ لیتا ہے تو وہ بچہ  چور بن جاتا ہے اور دوسرے کھلاڑیوں کو پکڑتا ہے۔ جو بچہ پورے کھیل کے دوران ایک بار بھی پکڑائی میں نہیں آتا وہ اس کھیل کا فاتح قرار پاتا ہے ۔

یہ کھیل عموماً میدان یا کھلی جگہ پر کھیلا جاتا ہے تاکہ بھاگنے کا زیادہ سے زیادہ موقع مل سکے ۔

اونچ نیچ کا پہاڑ:

یہ بھی بہت دلچسپ کھیل ہے ۔اس کھیل میں ایک بچے کو عموماً  پگم کی پگائی کے ذریعے چور مان کر باقی سب بچے اونچی جگہوں پر چڑھ جاتے ہیں ۔ اب جو بچہ چور بنتا ہے اسے ان بچوں کو اس وقت پکڑنا ہوتا ہے جب وہ ایک اونچی جگہ سے بھاگ کر دوسری اونچی  جگہ جاتے ہیں ۔ بچے چور سے آنکھ بچا کر اور اس  کو چکما دے کر چپکے سے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں اس لیے انھیں پکڑنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے۔ چور جب کسی بچے کو پکڑنے میں کامیاب ہو جائے تو وہ  پکڑا جانے والا بچہ چور  بن جاتا ہے اور کھیل جاری رہتا ہے۔

چھپن چھپائی:

چھپن چھپائی میں پگم کے ذریعے چور بنایا گیا بچہ ایک نسبتاً دور جگہ جا کر آنکھیں ڈھانپ کر گنتی (عموماً ایک سے دس تک) پڑھتا ہے اس دوران بچے مختلف جگہوں پر چھپ جاتے ہیں۔  گنتی ختم کرکے چور بچوں کو تلاش کرتا ہے۔ سب سے پہلے پکڑا جانے والا بچہ اگلی باری پر چور بنتا ہے۔

آنکھ مچولی:

آنکھ مچولی کس نے نہیں کھیلا ہوگا۔ اس کھیل میں بھی چور طے کیے گئے بچے کی آنکھوں پر پٹی باندھی جاتی ہے اس طرح کے وہ اب  کسی کو دیکھ نہیں سکتا ۔  بچے اپنے طور پر تسلی بھی کرتے ہیں کہ اسے پٹی میں سے دکھائی نہ دے رہا ہو۔ اس کے بعد باقی سب بچے آگے پیچھے گھوم کر چور کے آس پاس اسے آوازیں لگا کر  اور چھیڑتے ہوئے بھاگتے ہیں۔ جو بچہ پکڑا جائے اگلی باری میں وہی چور بنتا ہے۔

گِلی ڈنڈا:

یہ کھیل بیس بال اور کرکٹ سے مماثل ہے ۔اس کھیل میں آدھ میٹر لمبائی اور ایک سے دیڑھ انچ قطر کا ایک ڈنڈا ہوتا ہے اور ایک گِلی ہوتی ہے جو  تقریبا چھ انچ لمبی اور دو  انچ چوڑی لکڑی ہوتی ہے۔ گلی  کناروں کی جانب سے نسبتاً پتلی ہوتی ہے۔ اس کھیل میں دو ٹیمیں بنائی جاتی ہیں  جبکہ   عموماً سکّے کی مدد سے ٹاس  کیا جاتا  ہے کہ کون سی ٹیم پہلے کھیلے گی ۔  کھلاڑی اپنے بلّے کی مدد سے گلی کے ایک سرے پر چوٹ مارتے ہیں جس سے وہ ہوا میں اڑتی ہے پھر بلڈنڈے باز ہوا میں اْڑتی گلّی کو بلّے کی مدد سے دور پھینکنا ہوتا ہے ،اگر اس دوران وہ ہوا میں اڑتی گلِّی کو بلے کی مدد سے (تین بار)مارنے میں ناکام ہوتا ہے تو آؤٹ ہو جاتا ہے یا پھر اس کی ماری گئی گلی کو مخالف ٹیم کا کھلاڑی پکڑ لے تو بھی وہ آؤٹ ہی تصور کیا جاتا ہے۔گلی جتنی دور جا کر گرتی ہے اس کے بھی پوائنٹ ہوتے ہیں ۔اس طرح ہر ٹیم کے کھلاڑی اپنی باری لیتے اور پوائنٹس بناتے ہیں ۔ایک ٹیم کے آؤٹ ہو جانے پر دوسری ٹیم کھیلتی ہے اور جب دونوں ٹیموں کے سب کھلاڑی کھیل کر آؤٹ ہو جاتے ہیں تو جس ٹیم کے پوائنٹ زیادہ ہوتے ہیں وہ جیت جاتی ہے۔

گو گو :

گو گو  بھی پاکستانی بچوں  کا مقبول کھیل ہے۔  اس میں بھی ٹاس  کے ذریعےدو ٹیموں کے درمیان باری لینے اور کھیلنے کا فیصلہ ہوتا ہے۔ جو ٹیم ٹاس ہار جاتی ہے اس ٹیم کا ایک بچہ باری دیتا ہے باقی بچے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر ایک سیدھ میں کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ دوسری ٹیم کے  بچے درمیان میں موجود خالی جگہوں میں بھاگ کر ایک طرف سے دوسری طرف آتے ہیں۔ چور  ان درمیان کی  خالی جگہوں نہیں گزرسکتا۔  دوسری ٹیم کے بچوں کو  پکڑنے کے لیے  چور پورا چکر کاٹ کر پکڑتا ہے یا پھر سیدھ میں کھڑے اپنے ساتھی کھلاڑیوں کی مدد بھی لے سکتا ہے۔ مدد لینے کے لیے  وہ ‘گو’  کہہ کر ساتھی کھلاڑی کی جگہ پر کھڑا ہوجاتا ہے اور دوسرا کھلاڑی بھاگ کر جلد سے جلد دوسری ٹیم کے کھلاڑیوں کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔  پوری ٹیم کے کھلاڑی پکڑے جانے کے بعد اب دوسری ٹیم  کی باری آتی ہے۔

کوڑا جمال شاہی:

یہ کھیل بھی بہت دلچسپ ہے اس میں دوپٹے یا چادر کی مدد سے ایک مصنوعی  کوڑا بنایا جاتا ہے۔  جو بچہ باری لیتا ہے وہ یہ کوڑا اپنے ہاتھ میں رکھتا ہے باقی سب بچے ہاتھوں سے اپنے منھ چھپائے نیچے دائرے کی شکل میں بیٹھ جاتے ہیں۔  باری لینے والا بچہ سب پر کڑی نظر رکھتا ہے اور یہ الفاظ دہراتا رہتا ہے ’’کوڑا  جمال شاہی جس نے پیچھے دیکھا اس کی شامت آئی‘‘جو بچہ سر اٹھا کر دیکھتا ہےاور باری لینے والے کی نظر اس پر پڑ جاتی ہے تو  باری لینے والا اس کی کمر پر زور سے یہ مصنوعی کوڑا رسید کرتا ہے اس طرح پکڑا جانے والا بچہ کھیل سے  باہر  ہو جاتا ہے اور باری لیتا ہے۔

پہل دوج:

پہل دوج بھی بچپن کے کھیلوں کی ایک سہانی یاد ہے۔  اس میں چاک کی مدد سے زمین پر ڈبے بنائے جاتے ہیں۔ ایک ایک کر کے ہر خانے میں پتھر ڈال کر ایک پیر کو زمین کی سطح سے اوپر رکھتے ہوئے صرف ایک پیر کی مدد سے کود کود کر سارے ڈبے پار کرنے ہوتے ہیں۔ اس کھیل میں  آپ کا  پیر ڈبے  کی لائن سے نہ  تو مس ہو اور نہ ہی باہر، ورنہ آپ اآؤٹ ہوجائیں گے۔  اس طرح سب  کھلاڑیوں کی باری آتی ہے جو سب سے پہلے سارے ڈبے پار کر کے آخری ڈبے میں چلا جاتا ہے وہ کھیل کا فاتح ہوتا ہے۔

پٹو گرم:

پٹو گرم  میں دو ٹیمیں بنائی جاتی ہیں۔ ایک ٹیم باری دیتی ہے اور دوسری کھیلتی ہے۔ باری لینے والی ٹیم میں سے ایک وقت میں ایک کھلاڑی ہی کھیل سکتا ہے یا جس کو وہ تالی مار کر  اپنی جگہ بلاتا ہے اور خود کھڑا ہو جاتا ہے ۔کھیلنے والے بچے چار سے پانچ مسطح پتھر   ایک کے اوپر ایک رکھتے ہیں ۔  باری لینے والا کھلاڑی  ایک کرمچ ( ٹینس/ربڑ)  کی گیند سے  اُن پتھروں کا نشانہ لے کر انھیں  بکھیر دیتا ہے۔ اب کھیلنے والی ٹیم اُن پتھروں کو دوبارہ ترتیب سے رکھنے کی کوشش کرتی ہے جبکہ مخالف ٹیم  انھیں ایسا کرنے سے روکتی ہے ۔

لوڈو:

یہ بھی بہت دلچسپ کھیل ہے۔  باقی کھیلوں کی طرح اس کھیل سے بھی پاکستان کا بچہ بچہ آشنا ہے ۔ اس کھیل میں چار مختلف رنگ کے خانے ہوتے ہیں اور ہر رنگ کی چار گوٹ ہوتی ہیں۔  چھکے (پانسے)  کی مدد سے باریاں چل کر جو سب سے پہلے اپنی ساری گوٹیں رنگ کر لیتا ہے وہ فاتح ہوتا ہے ۔اس کے بعد دوسرے اور تیسرے نمبر کا فیصلہ ہوتا ہے

پتنگ بازی:

پتنگ بازی بھی پاکستان کا مقبول کھیل ہے ۔پتنگ اڑانے اور پیچ لڑا کر دوسرے کی پتنگ کاٹنے سے ہر پاکستانی واقف ہے۔

 

ان کھیلوں کے علاوہ بھی  بہت سے کھیل ہیں جو پاکستان کے تقریباً  سب ہی بچے کھیلتے ہیں ان  میں بادشاہ وزیر چور سپاہی،پھلوں کے نام،  نام چیز جگہ جانور،گھر گھر،  گڑیا کی شادی،ڈاکٹر ڈاکٹر،برف پانی،چھم چھم،بندر قلعہ اور دیگر کھیل شامل ہیں۔

 

گل زہرہ طارق
گل زہرہ ترجمہ نویس اور بلاگر ہیں۔ سٹیزن آرکائیوز پاکستان سے منسلک ہیں۔ روزمرہ زندگی کے امور اور پلکے پھلکے موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔
http://[email protected]

2 thoughts on “پاکستانی بچوں کے منفرد کھیل”

    1. گٹے کھیلنا بہت دل چسپ ہوتا تھا۔ کسی زیِر تعمیر مکان کی چھت پر ڈالے جانے کے لیے آنے والے کنکریٹ کے ڈھیر سے مخصوص سائز کے گول گول اور چکنے پتھر چننا بھی ایک دل چسپ ایکٹیویٹی تھی۔ یہ پٹھر یعنی گٹے کھیل کے دوران ہاتھ میں رہ رہ کر اور چمک جاتے تھے۔

      اچھا ایک اور کھیل ہوتا تھا ٹوٹی چوڑیوں سے کھیلا کرتے تھے اب اس کا نام بھی یاد نہیں آرہا نہ کھیلنے کا طریقہ ہی یاد ہے بس اتنا یاد ہے کہ جب بھی کوئی چوڑی ٹوٹتی تھی تو اسے اٹھا کر اپنے تھیلے میں ڈال لیا کرتے تھے اور رنگ برنگ ٹوٹی چوڑیوں کا ایک ڈھیر تھا ہمارے پاس۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے