نقطۂ نظر

نطفے کا قرض

نطفہ، جما ہوا خون جس سے انسان کو پیدا کیا گیا۔ یقیناً یہ بنیاد اہمیت کی حامل ضرور ہے، لیکن کیا واقعی انسان ایک آم، سیب ، کیلے کا پودا ہے یا دھنیا پودینہ جس کے بیج کا مقسوم صرف یہ ہے کہ وہ اپنے پودے سے ہی پہچانا جائے گا؟ ایسا ہی معاملہ کچھ تطہیر کے ساتھ بھی پیش آیا جسے اس کے باپ نے اس کا نام نہ دیا اور سماجی ضابطوں نے اس سے ہمیشہ باپ کے نام کا تقاضا کیا۔ علاج معالجے، تعلیم، سفر ہو یا سماجی تعلقات ہر جگہ اس سے باپ کا حوالہ مانگا گیا اور اس حوالے کی عدم موجودگی پر ہمیشہ دھتکارا گیا۔

کیا اپنی لمحاتی خوشی کے لیے اپنا نطفہ کسی کے رحم میں چھوڑ کر اس نطفے کی طرف پلٹ کر نہ دیکھنا، اسے اس کے وراثتی حق سے محروم کردینا، اپنی اس لمحاتی مسرت کا قرض بھی اس نطفے سے پیدا ہونے والی اولاد پر عائد کرنا اور پھر اس اولاد کو مجبور کرنا کہ اگر سماج سے ملنے والی ذلت کا داغ دھونا چاہتی  ہو ، میرے نطفے کو بطور پہچان  اپنے ماتھے پر فخر کی صورت سجانا چاہتی ہوتو میری ناجائز شرائط کو تسلیم کرو ورنہ ساری زندگی ‘حرامی” کا تمغہ سجائے سسکتی رہو۔

کیوں اس نطفے کی پہچان کو کسی فرد کی ہر صلاحیت، ہر خوشی، ہر اعزاز، اور ذات کے اعتماد کے آگے سوالیہ نشان بنا دیا جاتا ہے۔ کیوں سارا اختیار اس فرد کو حاصل ہے کہ جب چاہے اس کو تسلیم کرنے سے انکار کردے اور اسے اس کے حقِ وراثت سے محروم کردے۔ کیوں اس نطفہ گرانے والے کو پابند نہیں کیا جاتا کہ چلو اب اپنی اس حاصل کردہ مسرت کو ذمہ داری بھی سمجھو۔  

زنا سے ڈرایا جاتا ہے، وعیدیں سنائی جاتی ہیں لیکن نطفے کی ذمہ داری  کیوں نہیں سکھائی جاتی؟ کیوں نہیں بتایا جاتا کہ جسم کی آگ کو ٹھنڈا کر لینا ، مسرتوں کی انتہاؤں کو چھولینا ہی حاصلِ حیات نہیں، کسی عورت کے یا کسی مرد کے جسم سے کھیل لینا ہی مقصدِ زندگی نہیں بلکہ اس کھیل میں جس نطفے کو چھوڑ آتے ہیں اس کے لیے آپ ذمہ دار بھی ہوا کرتے ہیں۔

اس نطفے کو اسپتالوں کے زچہ خانوں سے بصورتِ ابارشن نکال پھینکنے، جانوروں کی غذا بننے یا فلش میں بہہ جانے یا پیدا ہوکر کوڑے دانوں پر پھینکے جانے، یا پھر کوٹھوں  یا یتیم خانوں تک پہنچنے،  کسی کا گند کہلوانے کا طعنہ سننے یا پھر کسی فریب پر مبنی جھوٹے نکاح نامے سمیت دنیا کی نظروں میں بصورت حرامی پلنے تک بھی دنیا اور آخرت میں اس نطفے کے ذمہ دار آپ خود ہیں۔

تسلیم نطفہ نہ ہوتا تو دنیا میں پیدا ہونا محال تھا، لیکن  حرامی کا داغ لیے پیدا ہونا کون چاہتا تھا؟ کیا یہ اس نطفے کی ، پیدا ہوجانے والے کی اپنی لغزش تھی کہ وہ ایک بےحس و بے غیرت انسان کے جسم کا حصہ بنا؟  کیا وہ مسرتیں اس نطفے نے اٹھائی تھیں؟ ہاں اس نے صرف تکلیف سہی، دنیا  کی ذلت  پائی، محرومی کا سزاوار رہا۔ جب اور بچے والدین کے ساتھ لاڈ اٹھواتے وہ نطفہ منھ تکتا۔ جب جب  اس کی جانب دنیا والے تنفر و حقارت سے دیکھتے وہ نطفہ ٹوٹ سا جاتا۔

 لیکن جب وہ نطفہ زندگی میں آگے بڑھنا چاہے، اس سماج کی بندش توڑ کر دوسری دنیاؤں میں اپنی پہچان بنانے، خود کو  ذلت سے بچانے کو آمادہ سفر ہو تو پھر وہی نطفے کی پہچان اس کے آڑے آجائے۔ وہ جو اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں ، جو اسے اپنا وجودماننے کو تیار نہیں، جو اس کی ہر تکلیف کا ذمہ دار ہو اب اس مقام پر بھی اس کے لیے اسی شخص کا نام لازمی قرار دیا جائے؟

اسلام والدین کے فرائض مقرر کرتا ہے ، والدین کو اولاد کے حقوق کے ضمن میں دنیا و آخرت میں جواب دہ گردانتا ہے تو اب  وہ جو کبھی باپ بنا ہی نہیں اس  اولاد کی ولدیت کے خانے میں اس نام نہاد باپ کے نام کی پابندی کیوں؟

کیوں اس باپ کے ذمے عمر بھر کی لاپروائی پر صرف  مالی ہرجانہ ہی عائد ہو؟ اسے شفقت سے محرومی، تذلیل سے ہمکنار کرنے پر کڑی سے کڑی سزا کیوں نہیں؟

جب ریاست ایک فرد کی ذمہ دار ہے، اور دیگر قانونی معاملات میں بھی فرد کو انصاف دلانے کے لیے ریاست فریق بن سکتی ہے تو کیوں نہیں اس نطفے کو ریاست کے نام کی ولدیت دی جائے؟

جہاں بہت سے دیگر امور میں قوانین کو واضح کرنے کی ضرورت ہے، وہیں گناہ ثواب سے قطع نظر ایک بچے کے حق میں نطفے کے ضمن میں عائد ہونے والی ذمہ داری کو بھی واضح کیا جائے اور ان سے رو گردانی کے مرتکب کو سخت سزا بھی دی جائے۔

عارم
اپنی شناخت سے لاعلم ایک ہستی جو اس کائنات میں موجود ہر ذی روح میں دھڑکتی ہے۔ جنس، رنگ ، نسل، زبان سے ماورا عارم معاشرے کا آئینہ ہیں۔ سماج پر لکھنا  اور بلاتفریق پسماندہ طبقوں کی آواز بننا ان ان کی خواہش ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے