حالاتِ حاضرہ سیر و سیاحت مقامات

سانحۂ وادیِ نیلم

موت برحق ہے، جس ذی روح نے دنیا میں آنکھ کھولی ہے اس نے جانا ضرور ہے۔ اللہ کی طے کردہ مدت سے زائد کوئی ایک سانس اوپر نہیں لے سکتا۔ تاہم، موت پر قادر نہ ہونے کے باوجود اور موت جیسی تلخ سچائی سے آگاہ ہونے کے باوجود کچھ اموات ایسی ضرور ہوتی ہیں جو ذہن و دل پر گہرا نقش چھوڑتی ہیں۔ اور جن کی موت کو بے وقت موت قرار دیا جاتا ہے۔ یہی وہ اموات ہیں جن کی وجہ سے ہر آنکھ اشک بار ہوجاتی ہے۔

گزشتہ روز وادی نیلم میں کنڈل شاہی کے علاقے میں سیاحوں کے جاگراں نالے میں بہہ جانے کا واقعہ اور ان میں جاں بحق ہونے والے افراد کا غم بھی ایسا ہی ایک واقعہ  ہے جو دل خراش اور اداس کرنےوالا ہی نہیں بلکہ ناقابلِ یقین سا بھی ہے۔ کیسے کیسے پیارے چہرے، جوان رعنا،  ہونہار افراد جنھوں نے آگے چل کر اس ملک کے مستقبل کا  معمار ہونا تھا۔ ماؤں کی آنکھوں کی ٹھنڈک، جو ماؤں کے عالمی دن پر ہی اپنی ماؤں کو روتا چھوڑ گئے۔ وہ اپنے باپ کے بازو: جن کے کاندھوں پر سوار ہو کر اپنی آخری منزل کی جانب جانے کے خواب دیکھے ہوں گے ان کے والد نے، اور اب  ان کے والد  کو ان جوان میتوں کو کاندھا دینا ہوگا؛ کیسا المیہ ہے جس پر ساری عمر اب ان کے گھرانوں نے آنسو بہانا ہیں۔۔۔ ان کی مائیں منتظر ہوں  گی کہ  کب ان کا بچہ یا بچی گھر پہنچیں گے،  لیکن اب وہ  کبھی دوبارہ ان سے نہ مل سکیں گے،  یا اگر مل بھی پائیں گے تو بس ایک  آخری جھلک کے لیے۔ وہ جھلک جس کے بعد ساری زندگی ان کی یادوں  کی تڑپ  ہی باقی رہ جائے گی۔ کسی  کا باپ  اپنے بیٹے کو  سہارے کے روپ میں دیکھتا تھا تو  کوئی اپنی بیٹی کو شان سے  رخصت کرنے  کے خواب سجاتا تھا۔ کسی کے بہن بھائی اس انتظار میں تھے کہ اب ان کے پیارے  انھیں  دور دیس سے اپنی نئی  نئی تصاویر بھیجیں گے اور واپس آ کر اس علاقے کی خوبصورتی کے بارے میں بتائیں گے۔ لیکن اب اس ماں کا انتظار، اس باپ کی امید،  اس بہن یا بھائی کی محبت ان  پانیوں میں بہہ  گئے جن  کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے وہ سیکڑوں میل دور گئے تھے۔ اب یہ خوب صورتی ان کے پیاروں کے لیے محض دکھ اور خوف بن کر رہ جائے گی۔

یہ سب محض قضا کا کرشمہ نہیں نہ ہی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ موت کے خوف ناک پنجے ہی ایسے حادثوں کے ذمہ دار ہیں۔ موت برحق ہے ہر حال میں آنا ہے لیکن جب ایسے حادثات پیش آتے ہیں تو ان کے پیچھے ہماری  بہت سی لاپروائی بھی ہوا کرتی ہے۔ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ موجودہ امن و امان کے زمانے میں سیرو سیاحت کو منافع بخش کاروبار سمجھ کر حال ہی میں بہت سی  ٹور آپریٹر کمپنیاں وجود میں آگئی ہیں۔ اس کے لیے کوئی بھی باقاعدہ طور پر تربیت یا ڈگری نہیں لیتا بلکہ  کوئی بھی عام آدمی ایک  فیس بک صفحہ بنا کر اپنی ٹور آپریٹنگ کمپنی بنالیتا ہے۔ برساتی کھمبیوں کی مانند اُگ آنے والی یہ کمپنیاں مسابقت کے لیے ناقص انتظامات کے ساتھ کم سے کم ریٹ پر لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ ان کمپنیوں کے پاس نہ ان علاقوں کی مناسب معلومات ہوتی ہیں نہ ہی احتیاطی تدابیر ہی کا علم ہوتا ہے۔ اس حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دیے جانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ایسے حادثات رونما نہ ہوں۔  میرے خیال میں درج ذیل امور پر دھیان دے کر ایسے سنگین حادثے سے بچا جا سکتا تھا۔ جانے والوں کو ہم واپس نہیں لاسکتے تاہم، احتیاطیں اپنا کر مستقبل میں ایسے ممکنہ حادثات کی روک تھام کر سکتے ہیں۔

  1. چونکہ یہ کاروبار ہے، لہٰذا ٹور آپریٹرز کو پابند کیا جائے کہ وہ خود کو سیکرٹری، ایس آر بی، پی ٹی ڈی سی اور دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ رجسٹر کروائیں۔
  2. انھیں متعلقہ علاقے، اس پورے خطے اور موسمی حالات کی کافی معلومات ہونا چاہیے جہاں وہ وہ درجنوں افراد کو لے جا رہے ہیں۔ اس ضمن میں محکمہ سیاحت کو ریفریشر کورسز اور ٹیسٹ کا انعقاد کروانا چاہیے۔ جبکہ ہر گائیڈ کو ان ٹیسٹ کو پاس کرنا لازمی ہو۔
  3. ایسے سیاحتی دوروں میں مقامی افراد کو ہمیشہ سیاحتی گروپ کے ساتھ رکھا جائے جو مناسب ہدایات پر عمل کروائیں۔
  4. ٹور آپریٹرز کے لیے پیشہ ور تربیت ضروری ہے جو ابتدائی امداد سمیت تمام تکنیکی پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہو۔
  5. لوگوں کو کم اخراجات کے لالچ میں مشروم غیر رجسٹرڈ ٹورنگ کمپنیوں کے ساتھ سفر نہیں کرنا چاہیے بلکہ ٹور کمپنی کے بارے میں تفصیلی معلومات اور ریویوز لینا چاہئیں۔ زندگی سے قیمتی کچھ بھی نہیں ہے۔
  6. ان علاقوں میں سیاحوں کے لیے سیفٹی گائڈلائنز بھی جاری کرنی چاہئیں اور ان پر سختی سے عملدرآمد بھی  کروانا چاہیے۔
  7. سب سے اہم بات یہ ہے کہ، لوگوں کو خود بھی سمجھ دار اور الرٹ رہنا چاہیے۔ ایک منفرد selfie کے لیے زندگی کو خطرے میں ڈالنا دانش مندی نہیں۔

یقیناً پاکستان کے شمالی علاقہ جات کا انفراسٹرکچر اتنا بہتر نہیں ہے۔ سڑکیں اور پُل وغیرہ اتنے پائیدار نہیں آئے دن افسوس ناک خبریں ہم سنتے رہتے ہیں۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ  آپ مہم جوئی اختیار نہ کریں۔ خطرے کے ڈر سے گھر بھی نہیں بیٹھ سکتے۔ اللہ کی زمین کو گھوم پھر کر دیکھنا اور مادر ارضی کے حسن سے لطف اندوز ہونا ہر انسان کا حق ہے۔ اس علاقے میں سیاحت کے فروغ اور اسے محفوظ بنانے کے لیے انفراسٹرکچر کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ قیمتی جانوں کے نقصان کو دریا کے کھاتے میں ڈال کر چپ کر ہو کر  بیٹھ جانا جہالت اور بے حسی ہے۔ محفوظ اور صحت مند تفریح ہم سب کا حق ہے اور اس کے لیے آواز اٹھانا نیز احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔

کاشف علی
کاشف علی ایک بینکر ہیں۔ لکھنے پڑھنے سے شغف رکھتے ہیں۔ زندگی اور سماج کے حوالے سے معتدل نظریات کے حامل ہیں۔ عملی زندگی میں پروفیشنل رویوں کی ترویج کے خواہاں ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے