کتب خانہ

محبت کی کتاب – آخری قسط

سر کے پچھلے حصّے پر ہر اک نے ہاتھوں کو

      کچھ ایسے باندھ رکھا تھا  کہ اُن کی کُہنیاں

آنکھوں کا پردہ بن گئی تھیں

سنبل اپنی کہنیوں کے درمیاں، نیچے زمیں پرگرنے والے

 پھول کی مسلی ہوئی کلیوں پہ نظریں گاڑ کر گھٹنوں کے بَل بیٹھی ہوئی تھی، پھول ابھی ٹوٹا نہ تھا، اُس کی سفیدی گرچہ کچھ کُملاگئی تھی پھر بھی اُس کی مسکراہٹ کا فسوں ویسے

کا ویسا تھا

پھول پر سے اپنی نظروں کو ہٹا کر

اُس شجرزادی نے اپنی بائیں کہنی کو ظفر کی

دائیں کہنی سے لگایا

ایک لمبی سانس لی

گویا اب دونوں کے بیچ

 خامشی میں گفتگو کا سلسلہ چلنے لگا

سنبل:یہ سب کیا ہورہا ہے!

ظفر:تم نے اس سے پہلے کوئی ایسا منظر…

سنبل:اوہوں…[وقفہ] نہیں دیکھا

محبت اور محبت کی جنوں خیزی نے فرصت ہی نہیں دی تھی

مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں ،میں بے خبر تھی

ظفر: بے خبر میں بھی نہیں تھا

ہم بھی اس دنیا میں رہتے ہیں

بھنک پڑتی رہی ہے کانوں میں آہ وبُکا کی

مقتلوں سے خوں کی بو آتی رہی ہے

لیکن اے جانِ جہاں!

محبت اس قدر بے رحم ہوتی ہے کہ یہ جس جس کے دل میں

 گھر بناتی ہے اُسے پھر اپنے گردوپیش سے بیگانہ کردیتی ہے

اپنے آپ کو دیکھو، مجھے دیکھو

سنبل:صحیح کہتے ہو تم

[خامشی کے ساتھ اس کے حلق میں

 سسکی کا گولا سا اٹک کر رہ گیا]

ظفر: [ظفرکی خامشی گویا ہوئی] اس نے ہمارے گرد و پیش

ایک ایسا آئینہ خانہ سا چن رکھا تھا سنبل، جس میں باہر کی کوئی شے منعکس ہوتی نہ تھی

سنبل:اور اب جس صورت ِحالات میں ہم سر کے پیچھے ہاتھ باندھے

کہنیوں کے بیچ چہروں کو چھپائے، خوف کی چھاؤں میں بیٹھے ہیں

توکیا وہ آئینہ خانہ جو سینے میں کہیں پر جگمگاتا تھا، ابھی تک ہے

ظفر:یقیناً ہے

سنبل: مگر اس میں مجھے اک موت کے چھتے کے جیسی کوئی شے بھی

  اب دکھائی دے رہی ہے

ظفر:[ایک لمبی ’ہوں‘ کے بعد]مجھے تو مکھیوں کی بھنبھناہٹ بھی سنائی دے رہی ہے

ظفر،سنبل کا یہ خاموش ذہنی رابطہ

 اِس بھنبھناہٹ  کے بھنور میں

گردشیں کرتا ہوا

 معدوم ہوتا جارہا تھا

موت کا چھتہ اب اُن دہشت زدوں کے سرپہ تنتاجارہاتھا

…*…

ایمبولینسیں

تینوں لاشیں لے کے  کافی دیر پہلے جاچکی تھیں

صورتِ حالات کے پیش نظر

ہاسپٹل کی چاروں جانب سخت پہرہ لگ چکا تھا

میڈیا کو ایک حد تک اندر آنے کی اجازت تھی

فضا تاریک تھی جس کے مساموں میں اک اَن ہونی کی

وحشت سرسراتی پھررہی تھی

اچانک خامشی کے بھاری شیشے میں لکیریں پڑگئیں

رات کی چادر کی کالک میں کئی بارودی چھینٹوں نے

دراڑیں ڈال دیں

چاروں سمتوں سے کمانڈو ایکشن

اک موجِ وِغا کی طرح در آیا

اک قیامت آگئی تھی

جسم دھجی دھجی ہو کر روئی کے گالوں کی صورت

یاں سے واں اُڑ کر گرے تھے

تیسری اور دوسری منزل پہ دہشت گرد ابھی سنبھلے نہ تھے

اور آرمی کے نوجوانوں کی گنوں نے ان کو چھلنی کردیا

یہی وہ لمحہ تھا

جب نچلی منزل پر کوئی بدبخت خود کش حملہ آور

پھٹ گیا

لوہے کے چھینٹے اُڑے

اور کتنے ہی دہشت بھرے جسموں سے گزرے

     اور لہو کی بوندیوں میں ڈھل گئے

عجب اک وصل کا ہنگام تھا

ظفر کے جسم کے ٹکڑوں پہ سنبل کا لہو

سنبل کے اُدھڑے جسم پر اس کی محبت کا لہو

یک جان ہو کر

دودھ ایسے رنگ کے

سہمے ہوئے اک پھول کی کلیوں تک آیا

اور پھر آہستہ آہستہ سے اُن میں ویلن ٹائن ڈے کا رنگ بھرنے لگا

یہ پہلا ویلن ٹائن ڈے تھا

جس کو دو محبت کرنے والوں کے لہو ہی سے نہیں

بلکہ

مریضوں اور عیادت کرنے والوں اورمسیحاؤں کے خوں سے سرخ ہونا تھا

…*…

رات کے بارہ بجے تھے

ہاسپٹل کے چپے چپے کی تلاشی ہو چکی تھی

ایمبولینسوں کے رضا کار اور رینجرز

زخمیوں اور مرنے والوں کو قریبی ہسپتالوں کی طرف

اور سینئر افسر پولیس کے، آٹھ میں سے تین دہشت گردوں کو سرکاری گاڑی میں بٹھا کر ایک نامعلوم منزل کی طرف لے جا چکے تھے

فضا پر خامشی کا سرخ کہرا جم چکا تھا

صرف پہرے داروں کے قدموں کی بے ترتیب ٹھک ٹھک

یا کبھی سگریٹ کو سلگاتے ہوئے ماچس کی تیلی

ڈبیہ کے اوپر رگڑتے وقت کی آواز

یا پھر جھینگروں کے بین تھے

جو فروری کی چودھویں شب کے مساموں میں اُترتے

جارہے تھے

…*…

فروری کی پندرھویں صبح ملال

اپنی آنکھیں ملتے ملتے شہر کے مقتل میں اتری

اک نظر اس نے بھی چشم نم سے دیکھا

چھت کے پنکھوں

کھڑکیوں اورکھڑکیوں کے پردوں، دیواروں کے

بے سلوٹ پلستر اور دروازوں، ستونوں، بالکنیوں اور فرشِ مرمریں پر بے گناہوں کے لہو کی بوٹیوں کی

شکل میں چپکی ہوئی دہشت کو دھویا جارہا تھا

فورس کے اک نوجواں نے

کھڑکی کو دھوتے ہوئے جب اس کا پٹ کھولا تو یک دَم

دھوپ کے اک چھوٹے سے ٹکڑے نے صبحِ بے سخن 

کے ہاتھ سے انگلی چھڑا کر کچھ قدم آگے بڑھائے

دودھیا سی جھیل جیسے فرش پر

سرخ کائی کی طرح جمتے لہو میں

 اُس کو ہیرے کی چمک جیسا کوئی نقطہ نظر آیا

اصل میں وہ سرخ ہوتے پھول کی

اک دودھیا پتی کا گوشہ تھا

جہاں تک آتے آتے

خون کی بوندوں کی سانسیں جم گئی تھیں

دھوپ کا ٹکڑا ابھی تک

پھول کی اُس دودھیا پتی کو ہیرے کی فسوں کاری سمجھ کر

دیکھنے میں محو تھا

یک لخت اُس کو یوں لگا

پانی کے بدرنگ چھینٹے

اُس کی آنکھوں میں بھی سُرخی بھر گئے

آنکھیں ملتے ملتے جب دوبارہ اُس جا پر نظر کی

تو کُھلا

کچھ بھی نہ تھا

زندگی اور اس کی دہشت

کوڑے کرکٹ کی طرح

سطحِ فرشِ مرمریں پر سے اُٹھائی جارہی تھی

ویلن ٹائن ڈے کی جس جس جگہ پر

جو بھی نشانی تھی، مٹائی جارہی تھی

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے