کتب خانہ

محبت کی کتاب – چھیالیسویں قسط

اچانک ایک بھگدڑ سی مچی

گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں بہت سی عورتوں، مردوں کی

اور بچوں کی چیخیں

جیسے ان دونوں کے دل سے ہوکے دیواروں سے چپکی

جارہی تھیں

شجرزادی کے دل میں سب سے پہلا یہ خیال آیا

کہیں ایسا نہ ہو

فخر الزماں اور اس کے ساتھی میرا پیچھا کرتے کرتے

ہاسپٹل تک آگئے ہوں

مگر ایسا نہیں تھا

دھڑسے دروازہ کھلا

اور ایک دہشت گردنے ان کو اٹھا کر کمرے سے باہر اچھالا

خوف سے لب ریز چیخوں کے سمندر میں

ظفر کے ساتھ سنبل منھ  کے بل جاکر گری

گولیوں کی دوسری بارش میں چیخیں،کچھ مریضوں

کے گلے میں پھنس گئیں

…*…

آٹھ دہشت گرد تھے

جن کا کہنا تھا کہ اُن کے  ساتھیوں کو جو کسی معلوم ونامعلوم

اذیّت خانے میں سرکارکی زیرِ حراست ہیں انھیں آزاد کردو ورنہ جتنے یرغمالی ہیں انھیں

ایک ایک کرکے ماردیں گے

علاقے کی پولیس نے ہاسپٹل کو لے لیا تھا اپنے گھیرے میں

سارے ٹی وی چینلوں کے اینکرز اور پرنٹ میڈیا کے

نمائندے وہاں موجود تھے

ہر گھر میں بریکنگ نیوز نے دہشت مچا دی

ڈاکٹروں، نرسوں، مریضوں اور ان کے رشتے داروں کے علاوہ

ہاسپٹل کا دوسرا عملہ ملا کر تین سو سے بھی زیادہ یرغمالی زیرِدہشت ہی نہیں تھے حالاتِ سکرات میں تھے

…*…

ہاسپٹل کی چاروں طرفوں میں

پولیس کی بھاری نفری

اعلیٰ افسر

فوج کے چوکس جواں

اپنی اپنی طے شدہ پوزیشنوں پر تھے

مگر جو مسئلہ درپیش تھا اُس سے نمٹنے کے لیے

بس ایک ہی حل تھا

’’کمانڈو ایکشن ‘‘

اوراب اُس کی پلاننگ ہورہی تھی

ہاسپٹل کے نقشے کو گاڑی کے بونٹ پر بچھا کر

یہ بھی اندازہ لگایا جارہا تھا، کتنے دہشت گرد ہوسکتے

ہیں، کن کن جگہوں پر…

اچانک تین لاشیں خوف سے جامد فضا کی

murmuringکو توڑ کرباہر گریں

اک پولس گاڑی کے بونٹ پر گری

جو ایک ستّر سال کے  Patient کی تھی

غالباً کچھ ڈاکٹرز کے ساتھ نرسیں اور عملہ اُس کا

میجر آپریشن  کرنے میں مصروف تھا

لاش کے چہرے پہ اور سینے پہ زخموں کے نشاں تھے

اور اس کے جسم سے

سرجری میں کام آنے والے  کچھ آلات بھی لٹکے ہوئے تھے

جن سے یہ اندازہ کرنے میں کوئی مشکل نہ تھی

آپریشن روم دہشت گردوں کے اس حملے میں سات

آٹھ معصوموں کا مقتل بن گیا ہوگا

دوسری اک نوجواں کی لاش

جو اک پیڑ کی شاخوں میں جا اٹکی تھی

ٹی وی کیمرے اس کا کلوزاَپ لے رہے تھے

تیسری لاش ایک لڑکی کی تھی جس کی زخمی گردن چار دیواری کے اک column کے گِرد اِس

رخ سے اٹکی تھی کہ باقی جسم  لیر و لیر چادر

کی طرح دیوار سے چپکا ہوا تھا

اوردلوں میں اک تہلکہ سا بپا کردینے والا شور تھا

اور ایمبولینسوں کی چھتوں پر مختلف رنگوں کے بھنوراتے ہوئے وہ سائرن تھے جن کی چیخیں سیدھی

دل میں دھنس رہی تھیں

چیخنے کی حد تک اونچی اونچی آوازوں میں

اس منظر کی تفصیلیں بتانے والے ٹی وی اینکر

بھاگتے پھرتے کئی دہشت کے مارے لوگ

یہ سب کچھ چاردیواری کے اندر بھی سنائی اور

دکھائی دے رہا تھا

ظفر کی اوٹ میں سمٹی ہوئی سنبل کے بالکل سامنے ہی

لاؤنج کی دیوار پر لٹکا ہوا ٹی وی دُہائی دے رہا تھا

نہتے یرغمالی

خوف کی رسّی میں جکڑے یرغمالی

اس قیامت خیز منظر کی footage پر دَم بخود تھے

اچانک ایک دہشت گرد نے دو یرغمالی چھلنی چھلنی کردیے

دوسرا اُوپر کی منزل کی کسی کھڑکی سے دھاڑا

دہشت گرد:خبردار!

اپنے دونوں ہاتھ گردن پر رکھو اور سرجھکا لو

اُسی لمحے ظفر، جواپنی سنبل اپنی بانہوں میں چھپائے

ٹی وی کو دہشت بھری نظروں سے دیکھے جارہا تھا، اور لوگوں  کی طرح اس کے دلِ دہشت زدہ

میں بھی دھماکہ سا ہوا

دوسرے ہی لمحے اُس نے لرزہ براندام سنبل سے کہا

اور خود بھی اپنے ہاتھ گردن میں حمائل کرلیے

شہر بھر میں ٹی وی چینل اپنی خبروں، تبصروں

اورتجزیوں میں ہاسپٹل کی  صورتِ حالات

سے آگاہ کرتے جارہے تھے ساری دنیا کو

ہاسپٹل میں تین سو سے بھی زیادہ یرغمالی

زندگی اور موت کی دو کھونٹیوں کے درمیاں باندھی ہوئی

سانس کی اک تار سے لٹکے ہوئے تھے

کسی کو بھی نہیں معلوم تھا

آٹھ حملوں آوروں میں کتنے دہشت گرد خودکش

جیکٹیں پہنے ہوئے ہیں

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے