کتب خانہ

محبت کی کتاب – پینتالیسویں قسط

سنبل:سنو!

ہم نے جو اپنے اپنے دل اور اپنے اپنے ماضی کو اک دوسرے

 کے سامنے کھولا ہے، اُس میں تو نیا کچھ بھی نہیں

فقط کردار اور حالات کا کچھ فرق ہے اور بس…

ظفر: محبت کی کہانی ایک سی ہوتی ہے جانِ جاں!

سنبل:   تم ٹھیک کہتے ہو

 میں جب اک آزمائش کے قفس میں تھی

شکستہ دل ،شکستہ تن

عجب اک  پیش وپس میں تھی تو تم مجھ سے ہی کیا

میری محبت سے بھی گویا روٹھ بیٹھے تھے

مرے بادل !

[سنبل افراز نے اپنا سراس کے شانے پہ رکھتے ہوئے

پھر کہا]

سنبل:مرے دریائے دل پر سے تمھارا سایہ گرچہ ہٹ گیا تھا

پھر بھی دریا کی روانی میں کمی آئی نہ تھی، حالاں کہ میں یہ بھی سمجھ بیٹھی تھی، اپنے حصّے کی آدھی محبت اپنے ہی ہاتھوں

سے میں نے ماردی ہے لیکن  اب تو …

ظفر: چلو چھوڑو اب اس قصّے کو سنبل

[ظفرنے اس کے بالوں کی مہک

چھوتے ہوئے ٹوکا اُسے]

ظفر: مجھ کو تو ایسا لگا ہے

 جیسے پہلی بارہم اک دوسرے سے مل رہے ہیں

سنبل:ہاں ہمارا پہلا ویلن ٹائن ڈے ہے

 تم مرے اور میں تمھاری ویلن ٹائن ہوں

[ظفر نے اس کی ٹھوڑی کو چھوا

توسنبل افراز اور کچھ آگے بڑھی

اور پھر

ظفر کے کان میں سرگوشی کی]

 سنبل:تمھیں وہ یاد ہے نا پہلا message

ظفر:ہاں…مجھے سب یاد ہے

ایک ایک دن

اور ہر دن کا ہر اک لمحہ

مگر یہ وائٹ روز… یہ ویلن ٹائن ڈے کا رنگ تو ہرگز نہیں

سنبل:پیار کا اور امن کا سمبل تو ہے نا

[سنبل نے لگاوٹ سے کہا

اورپھرذرا سا وقفہ لے کر اس نے اپنی بات کو

آگے بڑھایا]

سنبل:تمھاری بدگمانی اور ناراضی کو لے کر میں نے سوچا

محبت امن ہے اور امن کا پرچم ہم اپنے درمیاں رکھ کر ہمیشہ کے لیے اک دوسرے کے ساتھ رہنے کا وہی وعدہ کریں گے، دنیا کی تاریخ میںجتنے محبت کرنے والوں نے ہمیشہ ایک دوجے

سے کیا ہے

[یہ کہتے کہتے سنبل اب ظفر کے

 شانے سے ہوتی ہوئی

آغوشِ جاں میں آچکی تھی]

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے