کتب خانہ

محبت کی کتاب – چوالیسویں قسط

ویلن ٹائن ڈے2010

یہ ویلن ٹائن ڈے کی صبح ہے

سنبل جو اپنے آپ سے بھی چھپ کے گھر سے بھاگ آئی تھی

reception پرکھڑی تھی

ہاسپٹل تک آتے آتے

پچھلے سارے سال کی اَن ہونیوں اور ہونیوں کے درمیاں

وہ ایک دُہرے راستے پر چل رہی تھی

حال اورماضی کے دونوں راستے آپس میں گڈمڈ ہورہے تھے

ابھی اُس کے خیالوں میں

ظفر سے پہلی پہلی بار ملنے کا وہ منظر چل رہاتھا

جس میں وہ اک میز پر رکھے ہوئے اُپنے ہی رنگِ لب کے جیسے پھول کو  پہچان کر آگے بڑھی تھی

reception سے اُسے آواز آئی

آواز: روم نمبرایک سو بارہ

وہ چونکی

شکریہ کہتے ہوئے

وہ روم نمبر ایک سو بارہ کی جانب چل پڑی

بس کے اڈّے سے نکل کر

اُس نے پھولوں کی دکانوں کے کئی چکّر لگائے تھے

بالآخر ایک وائٹ روز [white rose] اس کو مل گیا تھاجس کی Packing اس نے اپنے ہاتھ سے

کی تھی

اُسے پورا یقیں تھا

ظفر جب پھول دیکھے گا تو اُس کے چہرے کی

سرخی توکیا اس کے دلِ مضطر کی لے بھی اپنے

سم پرلوٹ آئے گی

لفٹ میں داخل ہوئی تو اس نے وہ packing دوبارہ اک

 نظر دیکھی

لفٹ سے نکلی تو اس کے بائیں جانب راہ داری تھی

کمرا نمبر ایک سو بارہ ابھی کچھ فاصلے پر تھا کہ سنبل

کی نظر اُس پر پڑی

ایک سو بارہ کے ہندسے دیکھ کر اس کے قدم جیسے وہیں پر جم گئے

بڑی مشکل سے دروازے تک آئی

اورپھر اُس نے ظفر کے نام کی چٹ پڑھتے پڑھتے جوں ہی

دروازے کے دل پر ہاتھ رکھاتو یہ اندازہ ہوا

دروازہ پہلے سے کھلا ہے

…*…

ظفراحتشام

بستر پہ لیٹا ہوا

اپنے سینے کے اندر کی دھک دھک گنے جارہا تھا

اچانک اُسے یوں لگا جیسے اک جانی پہچانی

خوشبو کی آہٹ قریب آرہی ہے

پلٹ کر جو دیکھا تو سنبل کھڑی تھی

وہ بستر سے اُٹھا

مگر اس میں چلنے کی ہمت نہ تھی

 مرمریں فرش پر

 اپنے پیروں کے تلوے جمانے کی کوشش میں ساکت نظر

  اپنے شجرے کی شاخِ ثریا سے ٹوٹا ہوا شہرزاد

اُس نے سنبل کو دیکھا تو بس دیکھتا رہ گیا

سر سے نوکِ کف ِ پا تلک بس محبت کا پیکر تھی وہ

جس کے اک ہاتھ کی دو لرزتی ہوئی انگلیوں میں محبت

کا اور امن کا پھول تھا مسکراتا ہوا

 اورکمرے کے دیوار و دَر

 کھڑکیاں…

کھڑکیوں پر لٹکتے ہوئے بھاری پردے

پردوں میں ہلکورے کھاتی ہوئی جھالریں

 ventilator اور اس کے لوازم

 دوائیں

دواؤں کے پاس ای سی جی کی رپورٹوں کے ساتھ ایکسرے

مرمریں فرش

شفاف  بے داغ بستر پہ لیٹی ہوئی سلوٹیں

رت جگوں سے بھرے نرم تکیوں کی وحشت نشاں آلکس

یعنی کمرے کی ہر چیز کو

سنبل افراز نے دم  بہ خود کردیا

ایک لمحے میں صدیاں گزرنے کی جو کیفیت شاعری کی 

کتابوں میں اُن دونوں نے پڑھ رکھی تھی اب اُس کیفیت کا فسوں ان کی نس نس میں تھا

 بے یقینی، یقیں سے، یقیں بے یقینی سے دست و گریباں تھے

باہر ہَوا نے درختوں کی شاخوں میں ایڑی گھمائی

تو ان دونوں کے دل میں پایل سی چھنکی

وہی ایک لمحہ تھا

جس کی لپک کی جھپک بن کے سنبل

ظفر سے کچھ اس طرح لپٹی

ہوا جیسے باہر درختوں کی شاخوں سے لپٹی ہوئی تھی

کمرے کی ہر چیز جو دم بہ خود تھی

وہ یوں کھِل کِھلا کر ہنسی

جیسے بادِ صبا کا دوپٹّا ذرا سا بھی چُھو جائے

تو غنچوں کی کم سِنی کھل کھلا اُٹھتی ہے

[کچھ دیر بعد]

ظفر کے کمرے کی ہرچیز اور دیوار ودَر نے

اپنے اپنے کان لمبے کرلیے تھے

اور وہ ان کی خامشی کے سارے وقفوں میں

وہ سب بھی سن رہے تھے جو فقط ان دونوں کی نظروں میں تھا

[سنبل اپنے خواب گوں لہجے میں گویا تھی]

ایوب خاور
مشہور و معروف ڈراما نگار و شاعر ایوب خاور الفاظ کے صورت گر، نباض، مصور، ماحول ساز و منظر نگار ہیں۔ پاکستان ٹیلی ویژن کے یہ وہ مایہ ناز سپوت ہیں جن کی شمولیت و سرپرستی کسی بھی ڈرامے یا ٹی وی پروگرام کو شہرت و ہر دلعزیزی کے بام پر پہنچا دیتی ہے۔ ان کا ذہنِ رسا حالات و واقعات کی جزئیات کے ذریعے انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں تک پہنچ کر ان گرہوں کو سلجھاتا ہے اور کبھی کچھ سلجھی ہوئی کہانیوں کو یوں الجھادیتا ہے کہ ناظر و قاری کے دل و دماغ کہانی و سچویشن کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے