سماج نقطۂ نظر

ماں کا دن کیسے اور کیوں؟

دنیا میں اگر کوئی ایسا رشتہ ہے جو مکمل طور پر بے غرضی اور خودخواہی سے عاری ہے تو وہ ایک ہی ہے، سر کھجانے کی ضرورت نہیں، سب جانتے ہیں کہ وہ ماں کا رشتہ ہے۔ یہ بے لوث بے غرض اور انمول رشتہ ہے۔ اس کا نہ کوئی بدل ہے اور نہ ہی کوئی اور اس کی جگہ لے سکتا ہے۔

ماں کے اس رشتے کی اہمیت کو یوں تو یاد دلانے کی ضرورت نہیں پڑنا چاہیے لیکن پھر بھی ایک دن اس کے لیے بھی رکھ دیا گیا ہے جو دنیا کے 46 ملکوں میں منایا جاتا ہے۔ اس دنیا میں جہاں مردوں کی اجارہ داری ہے یہ ایک دن بھی غنیمت ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ دن کیوں اور کب سے منایا جا رہا ہے؟ یہ دن 1908ء سے منایا جا رہا ہے۔ انا جارویس نے اپنی ماں این جارویس کے لیے ایک یادگار دن کا اہتمام کیا۔ این ایک امن کارکن تھیں جو جنگ کے دوران زخمی امریکی فوجیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔ انا کی والدہ کی وفات 1905ء میں ہوئی، تب ہی سے انا نے امریکہ میں ماں کے دن کا جشن منانے کے حوالے سے حمایت حاصل کرنے کے ضمن میں کام شروع کردیا۔ وہ دنیا کی تمام ماؤں کا احترام کرنا چاہتی تھیں، ان ماؤں کا جنھوں نے اپنے خاندان اور معاشرے کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔

انا کی اس جدوجہد اور لگن کو دیکھتے ہوئے 1911ء  میں امریکہ کی مختلف ریاستوں میں اس دن کو مقامی طور پر منایا جانے لگا نیز ویسٹ ورجینیا ، جو انا اور ان کی ماں کا آبائی مقام تھا، میں 1910ء سے عام تعطیل بھی ہونے لگی۔ سرکاری طور پر یہ طے پایا کہ ماہ مئی کے دوسرے اتوار کو ماں کا دن منایا جائے گا۔

1914ء میں امریکی صدر وڈرو ولسن نے اس دن کو قومی دن کا درجہ دے دیا۔ اب یہ دن دنیا کے بیشتر ممالک مناتے ہیں۔ جن میں اٹلی، سنگاپور، پاکستان، انڈیا اور بنگلہ دیش بھی شامل ہیں۔ ناروے میں بھی یہ دن منایا جاتا ہے لیکن فروری کے دوسرے اتوار کو۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ ناروے میں مئی کے مہینے میں اور بہت سی تعطیلات آتی ہیں، اور ایسے دن بھی جنھیں بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے، جیسے کہ : یکم مئی مزدوروں کا دن، ۱۷ مئی ناروے کا قومی دن، اور چند مذہبی تعطیلات بھی۔

اب سوال یہ ہے کہ آپ کو یہ دن کیسے منانا چاہیے اور آپ اس دن کو کیسے مناتے ہیں؟ یہاں ناروے میں تو چھوٹے بچے عام طور پر اپنے ہاتھ سے کارڈ بناتے ہیں، اس پر ماں کے لیے پیارے پیارے پیغامات لکھتے ہیں نیز جنگلوں سے خودرو پھول توڑ کر چھوٹا سا گلدستہ بنا کر ماں کو دیتے ہیں۔ بڑے بچے، جو ابھی اپنے والدین کے ہی گھر میں رہتے ہیں، وہ ماں کے لیے ضرور کوئی تحفہ خریدتے ہیں۔ انھیں اپنی ماں کی پسند معلوم ہوتی ہے ، جیسے: ماں کا پسندیدہ پرفیوم، میوزک کی سی ڈی، کوئی کتاب یا کوئی سوئیٹر وغیرہ۔ اس کے علاوہ بستر میں ناشتہ، یہ عیاشی ماں کو ساتویں آسمان کی بلندی پر پہنچا دیتی ہے۔

جو بچے گھر چھوڑ کر جا چکے ہیں (جیسے عموماً شادی شدہ بیٹے بیٹیاں) ان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے قیمتی وقت میں سے کچھ وقت نکال کر اپنی ماں کو دیں۔ انھیں اپنے ساتھ لنچ پر لے جائیں، سنیما لے جائیں یا صرف ملنے آجائیں اور اس بار جلدی میں نہ ہوں، باربار اپنی گھڑی نہ دیکھیں اور نہ ہی اپنے سیل فون کو تکتے رہیں۔ یاد رکھیے یہ وہی ہستی ہے جس نے اپنے دن رات ایک کر کے آپ کو ایک نازک کونپل سے تناور درخت بنایا۔آپ انھیں مینی کیور یا اسپا کا تحفہ بھی دے سکتے ہیں۔ اگر آپ کی جیب اجازت دے تو چند دن کے لیے کسی پر فضا مقام کی سیر پر بھیج دیں۔ اگر آپ کچھ بھی نہ کر سکیں تو پھول ہی بھیج دیں۔ سب سے اچھا تحفہ ماں کے لیے آپ کا وقت ہے جس کی وہ بھوکی بھی ہے اور منتظر بھی اور سب سے بڑھ کر حق دار بھی۔ اتنا تو بنتا ہی ہے نا؟

نادرہ مہرنواز
وہ جسے دیکھ کر جاننے کی خواہش ہوتی ہے، جان کر رشک آتا ہے، اور یہ رشک شدید محبت میں بدل جاتا ہے۔ نادرہ مہرنواز بھی ایسی ہی مہربان ہستی ہیں۔ قارئین کے لیے ان کا خلوص ان کے ہر لفظ سے عیاں ہوتا ہے۔ نوشتہ کے لیے ان کی محبت یقیناً ہماری خوش بختی ہے۔

One thought on “ماں کا دن کیسے اور کیوں؟”

اپنی رائے کا اظہار کیجیے