طنز و مزاح

مرزا اور مرزا غالب

ہمارے مرزا بھی عجیب ہی شے  ہیں۔ آج کو کل  سے ملانے لگے۔ فرما تے ہیں کہ مرزا غالب برسوں پہلے وہ کہہ گئے جو آ ج ستاروں کا احوال اور ستاروں کا حال اور ستاروں کی چال بتانے والے نجومی کاغذ پر آڑی  ترچھی لکیریں کھینچ کر ٹی وی کی اسکرین پر نمو دار ہو کر فرما تے ہیں۔چاہے وہ کسی کا عقدِ ثانی بلکہ عقد تانی ہو یا شرجیل میمن کی شہد کی بوتل۔

ہم نے مرزا کو جو موڈ میں پایا تو کہہ اٹھے ۔بھئ مرزا آج مرزا نوشہ کے بارے میں کچھ ہو جائے۔

 کیوں نہیں تمہاری تربیت اور معلومات میں اضافے کا اس سے بہترین موقع کون سا ملے گا۔ سنو آج کے دور کے بارے میں ہمارے مرزا نوشہ نے فر مایا:

؎    زندگی  اپنی جب اس  شکل سے گزری غالب

   ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے

     ہم فوراً اچھل پڑے۔ افوہ! کس قدر سچ کہتے تھے۔واقعی آج کی مہنگائی، اور کٹھن حالات کو دیکھ کر یہی کچھ کہنے کو دل چاہتا ہے۔وہ ہمارے آبا ؤ اجداد کے بارے میں بھی تو کچھ کہہ گئے ہیں:

؎       یاد ِماضی عذاب ہے یا رب

     چھین لے مجھ سے حافظہ میرا

   تم یہ دعا مانگ نہیں رہے ہو۔تمھارے ساتھ یہ ہو چکا ہے 

   کیا مطلب؟

   کچھ نہیں۔ اب آگے سنو۔ کیا کہہ گئے ہیں

؎     قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں

    رنگ لائے  گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

    یہ فاقہ مستیاں صرف ان کی نہیں جو آج کل جیل کاٹ رہے ہیں۔تم بھی ان میں شامل ہو۔

    تم نے ہم کو شراب پیتے کب دیکھا ہے؟

    اب اگر میں تمھاری عقل کا ماتم کرنے لگوں تو رونے مت بیٹھ جانا۔ مرزا نے ہما ری طرف گھورتے ہوئے کہا۔

   اب آگے سنو، تمھارے ہی بارے میں ہے

؎     ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند

     گستاخیِ فرشتہ ہماری جناب میں

   کچھ آیا عقل شریف میں۔

   اتنی سمجھ تو ہے ہمیں۔ تم براہ راست آدم کو نہ کہہ سکے تو ہمارے سر منڈھ دیا۔

   تو کیا تم نسل ِآدم نہیں ہو؟

   ہم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔وہ تو ٹھیک ہے۔مگر تم اپنے لیے بھی تو کہہ سکتے تھے۔ 

   اب سنو میرے بارے میں کیا کہہ گئے ہیں حضرت قبلہ و کعبہ۔۔۔

؎      پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسد

     ڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں

   مرزا! تم کو کتے نے کاٹا تھا۔کب ؟واللہ ہمیں خبر نہیں۔اسی لیے تم ہفتہ ہفتہ نہا نے سے گھبراتے ہو۔

     مرزا کے اشعار کو سمجھنا تمھارے بس کی بات نہیں ۔اسی لیے تو فرما گئے ہیں:

؎    اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھے

   وہ ایک علی عاصم جعفری بھی تو ہیں ماہر غالبیات

ہمم ہمم ہمم

   بھئ مرزا تمھارے   سگ گزیدہ ہونے کے بارے میں مرزا نوشہ کا ہی ایک شعر اگر ا جازت دو تو عرض ہے۔۔۔

؎             بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا

   اچھا جی۔ ہماری بلی ہمیں سے میاؤں۔

   بلی اور کتے کی لڑائی تو وہی ہے جو آج کل ہمارے سیاستدانوں کے درمیان چل رہی ہے ۔اسی لیے تو فرما گئے

؎    قید حیات بند و غم اصل میں دونوں ایک ہیں

   موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

جب تک یہ لوگ موجود ہیں یوں سمجھو کہ بس۔آگے حد ِادب۔

   ہم بھی بولیں۔

   پھوٹو۔

؎    جب توقع ہی اٹھ گئی  غالب

   کیوں کسی کا  گلہ کرے کوئی

    اور سنو! ان ہی لوگوں کے  لیے مزید  کیا فر مایا۔۔۔

؎      ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد

      یا رب اگر ان کردہ گناہوں کی سزا ہے

    پتہ نہیں دل میں کیا کیا حسرتیں تھیں جو خاک نسیاں ہو گئیں۔

   ہماری عوام کو ان کا کہنا یہی ہے

    کوئی دن گر زندگانی اور ہے

    اپنے جی میں ہم نے ٹھانی اور ہے

بس اٹھ کھڑے ہوں۔اور مرزا کے اس شعر کی تفسیر بن جائیں

؎             ان آبلوں سے پاؤں کے گھبراگیا تھا میں

جی خوش ہوا ہے راہ کو پر خار دیکھ کر

خوب بہت خوب!!!

اب تو یہی کہنا ہے 

؎       ہوئی  مدت کہ غالب مر گیا پر یاد آتا ہے

    وہ  ہر  اک بات پہ کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا!

سیدہ رابعہ
اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں میں تدریس کا 50 سالہ تجربہ لیے سیدہ رابعہ ماما پارسی اسکول کے شعبۂ اردو کی ڈین بھی رہ چکی ہیں۔ رنگوں اور اسکیچنگ میں دل چسپی رکھتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بلاگنگ اور کالم نگاری بھی ان کا مشغلہ ہے۔ باغ و بہار سی شخصیت جن کی معیت میں آپ کبھی بور نہیں ہوسکتے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے