سماج

میں بھی

انسانی اقدار کی پامالی کی شاہد، شاید سب سے بڑی، مہم جو ازل سے جاری اُس انسانی جبر اور زبردستی  سے پردہ اٹھاتی ہے،   جو انسانوں کو معاشرے، روایات، اور خود ان کی اپنی ہی نظروں میں گرا دیتی ہے۔ کب کسی دوست، مہربان، بزرگ، رشتے دار، پڑوسی، استاد، کولیگ، بہن بھائی، یا ماں باپ کا  ایک عام جانا پہچانا ، محبت و شفقت آمیز لمس ایک کراہیت آمیز، گھناؤنے اور قابلِ نفرت احساس میں بدل جاتا ہے، یہ صرف وہ ہی جان سکتا ہے جس پر گزر رہی ہو۔ سیکڑوں لوگوں کی محفل ہو یا ہزاروں لوگوں کا ہجوم لیکن بدلتی نیت اورآنکھوں کے زاویے نیز جسمانی اشارے اس مخصوص انسان سے پوشیدہ نہیں رہ پاتے جو ان سب کا نشانہ بن رہا ہوتا ہے۔

کچھ سال پہلے یا بہت عرصہ پہلے، یا غالباً صدی یا صدیوں پہلے راستے سے گزرتے مجھے جنسی اشاروں کنایوں کا سامنا ہوا۔ میرے کرب کی طرح میرا احتجاج بھی شدید تھا جس کی اثرانگیزی کی شدت نے مجھے چاردیواری میں چنوا دیا۔ جی ہاں، میرے لیے چادر اور چاردیواری کو گوشۂ عافیت مان کر یہ جواز دیا گیا کہ عورت ہونے کے ناتے  میری بہتری اسی پردہ پوشی میں مضمر ہے۔ تعلیم، زندگی، اور دیگر  خوشیوں  سے میرا حق خارج سمجھا گیا۔ یہ تھا آواز اٹھانے کا انجام؛ خاموشی۔ سو جسے میرے انجام سے عبرت ملی اس نے خاموشی سادھ لی۔۔۔ آزادی کی پہلی قیمت، خاموشی! #میں_بھی

—————-

میں وہ ہوں جس نے خاموشی کا انتخاب کیا؛ مجھے مرد کہا جاتا ہے۔ میں برداشت، ہمت و شجاعت کا پیکر سمجھا جاتا ہوں۔ میں جنگ آزما، طاقت کا استعارہ ہوں۔ پہلا احتجاج بھی میرے خلاف ہوا اور اس کا ردعمل بھی میرے ہم جنسوں کے ہاتھوں میں نے خوب دیکھا۔ میں بھی پامال ہوا؛ اپنے ہم جنسوں کے ہاتھوں اور مخالف جنس کے ہاتھوں بھی۔ لیکن، میرا انتخاب خاموشی تھا؛ اس لیے نہیں کہ میری کوئی عزت نہیں، اس لیے بھی نہیں کہ مجھے استحصال پسند ہے، یہ بھی نہیں کہ دست درازی میرے لیے باعثِ لطف ہوتی ہے، یہ بھی نہیں کہ میری مردانگی پہ چوٹ پڑتی ہے یا مجھے اس سب پہ تذلیل محسوس نہیں ہوتی؛ صرف اس لیے کہ میرے استحصال کو چھپانا آسان ہے، میرا استحصال مجھے منھ  چھپانے یا بےموت مرنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔  تاریخ، مذہب، سماج سب میرے استحصال کے  گواہ ہیں۔ ہر دور کی زلیخا نے میرا کرتا چاک کیا اور میری شکایت کو خود میری جنس نے تسلیم نہ کیا۔میں جب لُوٹا جاتا ہوں تو میرا درد کوئی نہیں سمجھتا؛ کیونکہ میں آنسو نہیں بہا سکتا: مرد روتے نہیں ہیں نا!  ہاں #میں_بھی

—————-

میں وہ ہوں جو جینا چاہتی تھی۔ میں خوش ہونا چاہتی تھی؛ سجنا سنورنا چاہتی، گڑیوں سے کھیلنا چاہتی تھی؛ میں پڑھنا چاہتی، دنیا میں نام کمانا چاہتی تھی۔ ہاں نام ملا مجھے: پامال ہوئی ؛  مشہور ہوئی میں؛ گھر گھر میری  تصویر پھری؛ میری مسکان سب کے دل میں کھُبی۔ میں وہ کلی تھی جسے کھلنے سے پہلے مسل دیا گیا۔ میں نے اپنی جان پر وہ  درد سہا جو تصور سے سوا تھا۔  کیا ہوا جو میری زندگی کا چراغ گُل ہوا، جہاں بھر اسی طرح چراغاں رہا۔ زندگی۔۔۔ آہ #میں_بھی!

—————-

میں وہ ہوں جو جینا چاہتا تھا۔ میں خوش ہونا چاہتا تھا؛ کمانڈو بننا ، جہاز اڑانا چاہتا تھا؛ بہت سا پڑھ کر دنیا میں نام کمانا چاہتا تھا۔ نام ملا نہ شناخت ملی؛ پامال ہوا میں تباہ ہوا؛ نہ کسی پہ کوئی اثر ہوا۔ میری خبر کوئی خبر نہ تھی۔ میرا درد کسی پہ عیاں نہ تھا۔  ہاں #میں_بھی

—————-

میں نہ مرد تھا نہ عورت تھی، میں تو شاید انسان بھی نہ تھا؛ افسوس میں جانور بھی نہ ہوسکا۔ کیوں پیدا ہوا کیسے مرگیا، اس سے کسی مذہب، کسی سماج، کسی انسان کو فرق نہیں پڑتا۔ میرے لیے کسی سماج، کسی مذہب کے پاس  کوئی حقوق نہیں تھے۔ ایک عضو کی کمی نے  بحیثیت انسان میری نفی تو کی لیکن۔۔۔ لیکن ہوس کے پجاریوں کے لیے تو یہ کمی بھی کمی نہیں۔ میری پامالی کے لیے کوئی عذر مانع نہیں تھا۔  مجھے نوچا گیا، مسلا گیا، لہو لہو کیا گیا ، سسک سسک کے میں مرگیا، لیکن مجھے مسیحا نہ ملا۔ زندہ تھا تو زندگی نہ تھی؛ اب موت پہ کوئی آنکھ نم نہیں۔ افسوس#میں_بھی

—————-

مجھے جانور کہا جاتا ہے؛ جان +ور؛ یعنی مجھ میں جان سہی لیکن اس جان کا خراج دینا پڑجاتا ہے۔ میری پامالی  کا نہ کوئی گواہ نہ ثبوت، ہاں کچھ لوگ آواز اٹھاتے ہیں  میرے لیے، میرے ریپ کے خلاف: میں ڈالفن، میں چوپایہ: گائے، بکری، بھینس، گدھی، میں مرغی۔۔۔ ہاں #میں_بھی

—————-

میں زندہ بھی نہیں، مجھ میں سانس بھی نہیں۔۔۔ قبر میں لیٹی حشر کی منتظر میں ۔۔۔ لیکن پامال #میں_بھی

—————-

میں عورت، کسی کی بیوی، بیٹی بہن، ماں؛ میں مرد کسی کا بیٹا، بھائی، باپ،  میں لڑکی، میں لڑکا، میں فنکار، میں مسیحا، میں مریض، میں استاد ، میں شاگرد، میں عام میں خاص، میں نام ور میں گم نام، لیکن میں پامال۔۔۔ ہاں #میں_بھی

 

عارم
اپنی شناخت سے لاعلم ایک ہستی جو اس کائنات میں موجود ہر ذی روح میں دھڑکتی ہے۔ جنس، رنگ ، نسل، زبان سے ماورا عارم معاشرے کا آئینہ ہیں۔ سماج پر لکھنا  اور بلاتفریق پسماندہ طبقوں کی آواز بننا ان ان کی خواہش ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے