نقطۂ نظر

لوڈشيڈنگ، ایک عذاب

بجلی کسی بھی ملک کی ترقی کے سفر میں بنیادی حيثیت رکھتی ہے۔ ایک بنیادی انسانی ضرورت ہونے کے ساتھ صنعتی پہیے کی روانی کے لیے بھی بجلی کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ ہماری ستم ظریفی ہے کہ ستر دہائیاں گزرنے کے باوجود ہم وطن عزیز کو بجلی ميں خود کفیل نہ بنا سکے۔ لوڈشيڈنگ کے عذاب نے عوام کاجينا محال کر ديا ہے۔ بجلی کا گھنٹوں غائب رہنا ایک معمول بن چکا ہے۔  مريض، بوڑھے، بچے، طالب علم الغرض ہر کوئی لوڈشيڈنگ کی وجہ سے سخت پريشان ہے۔ کتنی بڑی ستم ظريفی ہے کہ تمام تر دعووں کے باوجود کوئی بھی حکومت اس جن پر مکمل قابو نہيں پا سکی۔ اگر دور رس حکمت عملی اور منصوبہ بندی کی جاتی تو يہ مسئلہ کب کا حل ہو گيا ہوتا۔ الزام تراشيوں اور ماضی کی حکومتوں کو کوسنے کے بجائے  کوئی بھی سنجيدگی سے اس مسئلے پر توجہ ديتا تو آج حالات کافی بہتر ہوتے۔

ہمارا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہماری سیاسی جماعتيں عوام کے بنیادی مسائل کے سلسلے میں خاموش ہیں۔ذاتی مفاد اور اقتدار کے لیے دھرنے دیے جاتے ہیں مگر عوامی مسائل کے لیے کوئی گرمجوشی نہيں دکھائی جاتی۔ الیکشن کے قریب آتے بڑے بڑے دعوے اور وعدے کیے جاتے ہیں مگر الیکشن کے بعد دعوے اور وعدے کرنے والے غائب ہو جاتے ہيں۔عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر لگنے کے بجائے  اشرافیہ کی شاہ خرچیوں اور عياشیوں کی نظر ہو جاتاہے اور بیچارے عوام وہیں کے وہيں رہ جاتے ہیں۔ خواص عوام کا خون نچوڑ کر جنریٹروں اور ایئرکنڈیشنروں کے مزے لیتے ہيں۔ یہی عیاش طبقہ بجلی چوری بھی کرتا ہے اور بل بھی ادا نہیں کرتا۔ غریب بےچارا  پورا بلکہ بعض اوقات زائد بل ادا کرنے کے باوجود بجلی سے محروم رہتا ہے۔

  • بجلی کا ضیاع بھی عروج پر ہے۔ شاہراؤں، پارکوں ،ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں وغیرہ پر بلا ضرورت سینکڑوں لائٹوں کا استعمال سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس پر کنٹرول کر کے اور فالتوں بتیاں گل کرکے بھی لاکھوں گھروں کو اندھیروں سے نجات دلائی جا سکتی ہے اور ان عیاشیوں کو صرف ضرورت کی سطح پر لا کر کئی  غریبوں کے گھر روشن کیے جاسکتے ہیں۔
  • جاری منصوبوں کو دن رات کام کر کے جلد از جلد مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ آزادانہ ذرائع سے آڈٹ کروا کر کرپشن اور تاخير کرنے والوں کو سزا دینا بے حد ضروری ہے۔ بجلی کی چوری ختم کرنے کے لئے سخت اقدامات کرنے چاہئیں۔مانیٹرنگ کا موثر نظام شروع کيا جائے۔ برطانيہ اور ديگر کئی  ممالک کی طرح پوسٹ پيڈ کی جگہ پری پيڈ سسٹم متعارف کيا جائے تاکہ بجلی کے استعمال میں ذمہ داری کا مظاہرہ نظر آئے۔
  • تر‎سيل کا نظام بہتر کيا جائے اور جديد ٹيکنالوجی کا استعمال کيا جائے تاکہ بريک ڈاؤنز اور لائن لاسز پر قابو پايا جا سکے۔
  • تمام اداروں اور افراد سے بقايا جات وصول کيے جائيں۔اسی طرح خام مال مہيا کرنے والی کمپنیيوں اور اداروں کو بھی بروقت ادائیگیاں کی جائيں۔
  • تحصيل کی سطح پر انڈسٹريل زونز بنانے کی ضرورت ہے۔ ان زونز ميں سرمایہ کاری کرنے والوں کو ايک ایک پاور پلانٹ لگا کر اپنی اور علاقے کی بجلی کی ضروريات بھی پوری کرنے کا پابند بنايا جا سکتا ہے۔
  • مستقبل میں پانی کے ذخائر پر انحصار کرنے کے بجائے  توانائی حاصل کرنے کے ديگر ذرائع کو فروغ ديا جائے ۔ سالڈ ويسٹ،شمسی،ونڈ مل وغيرہ سے بجلی بنانے کو ترجيح دی جائے ۔

ماحولیاتی تبدیلی،حدت میں اضافے اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے  جیسے عوامل کی وجہ سے دنیا بھر میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ترقی یافتہ اور مہذب ممالک ان مسائل سے نمٹنے کے لیے عرصہ دراز سے طویل المیعاد منصوبوں پر عمل پیرا ہیں ۔ اس کے  برعکس پاکستان میں  اس حوالے سے مناسب حکمت عملی اور منصوبہ بندی کا فقدان رہا ہے۔ اگر وجوہات کا جائزہ  لیا جائے تو اس میں سیاسی، سماجی، اقتصادی، اور جانے کون کون سے عوامل حصہ لیتے نظر آئیں گے، تاہم  ماہرین کی اکثریت کے مطابق آبی قلت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے  پانی کے ذخائر اور ڈیمز کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہے۔

قارئين ، زبانی جمع خرچ کرنے کے بجائے  اگر سنجيدگی سے اقدامات کیے جائيں تو کوئی وجہ نہيں کہ لوڈشيڈنگ سے چھٹکارا نہ پايا جا سکے۔ خلوص نیت سے ٹھوس اقدامات کر کے وطن عزیز کو اندھیروں سے نکالا جاسکتا ہے۔

عبدالباسط علوی
عبدالباسط علوی پیشے سے انجینئر ہیں، ایم بی اے بھی کر رکھا ہے اور ادب سے بھی ازحد شغف ہے۔ عرصہ دراز سے مختلف جرائد اور ویب سائٹس کے لیے لکھ رہیں۔ امید ہے نوشتہ کے قارئین سے جُڑنے والا ان کا رشتہ بھی اسی طرح پائیدار ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے