سماج

مزدور ڈے کی پوسٹ

ویسے تو جانے آج کل کون کون سے الا بلا ڈے منائے جانے کا رواج چل نکلا ہے۔ آئے دن کوئی نہ کوئی ڈے منانے پر نہ صرف بچوں کے اسکول والے ہماری جیب ڈھیلی کرواتے ہیں بلکہ مختلف دوڑیں بھی لگواتے ہیں، جیسے ارتھ ڈے پر پودے لیے چلے جاؤ یا پیٹ ڈے پر پالتو جانور، دیگر ڈیز پر ان کی مناسبت سے لباس خریدتے پھرو۔ کچھ ڈیز پر گھر والے سوالی بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں، جیسے بیگم کو ماؤں کے دن بھی تحفہ چاہیے، بیویوں کے دن پر بھی اور تو اور محبت کے عالمی دن پر بھی، لو بھلا۔۔۔!

بہرحال، عرضِ منشا یہ تھا کہ اتنے سارے ڈیز کے انبوہ میں واحد ایک دن ایسا بھی آتا ہے جو ہمیں خوشی دے جاتا ہے؛ یکم مئی کو ” مزدور ڈے” ۔ اب یہی تو ایک دن ہے جس میں چھٹی ملتی ہے۔ ایکسائٹمنٹ تو ایک شام پہلے ہی سے شروع ہوجاتی ہے نا۔ آفس سے آتے ہی گھر سے نکل جاتے ہیں، اتنے دن کی پینڈنگ شاپنگ ، اور باہر سے کھانا کھا کر گنگناتے گھر آؤ، لیٹ نائٹ فلمز دیکھ کر،  انجوائے کرکے سونا اور پھر صبح آرام سے ۱۱ بجے سو کر اٹھنا۔ نیند پوری ہوتی ہے تو بھوک بھی خوب لگتی ہے ویسے۔ ناشتا کھلانے کے ساتھ ساتھ بیگم کی ماسی کو دی جانے والی صلواتیں بھی ہضم کرنا پڑتی ہیں۔  ویسے کہتی تو ٹھیک ہے نا! پتا بھی ہے آج ہم گھر ہوں گے تو بندہ وقت پر آجائے اب یہ سارا گندا گھر منھ کو آرہا ہے۔ ایسے تو واقعی ناشتا کرنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔ چلو  بھئی خدا خدا کر کے ناشتا تمام ہوا اور ماسی بھی آگئی۔ اب بیگم کی باقی کی جھڑکیاں ماسی ہی سنے، ہم تو چلے!

” کچھ مزدور لگوا کر آج یہ پیچھے کا صحن بھی صاف کروالیں، جی آگے رمضان ہیں!”  یہ بیگم بھی نا! ایک چھٹی کا دن کیا ملا ان کو بھولے بسرے کام یاد آنے لگے۔ خود بھی ماسی کو لگایا ہوا ہے جھاڑ پونچھ میں کہ رمضان آرہے ہیں۔ "ان ماسیوں کا تو روزہ ہوتا نہیں ہے، دین مذہب سے ان کا تو واسطہ نہیں، پر ہمیں تو روزے میں دھول مٹی واقعی گراں گزرے گی”۔ ٹھیک ہی کہتی ہیں بیگم، اور بیگم بھلا کبھی غلط کہہ سکتی ہیں۔

اففف! گیٹ پر یہ ڈسٹ بن ایسے ہی پڑا ہے، آج یہ کوڑے والا بھی کم بخت چھٹی کر گیا۔ سارے ہی ہڈ حرام ہیں، پتا بھی ہوگا آج صاحب لوگوں کی چھٹی ہے، تو کچرا بھی زیادہ ہوگا، اسی لیے ” گول ” ہوگیا۔ ہر مہینے سو روپے لینے کیسا شیر ہو کر آتا ہے، اب آئے تو دیکھنا  کیسا ٹھیک کرتا ہوں۔ چلو آج کسی مزدور کے بچے کو بھی پکڑتا ہوں۔ کیاری کا برا حال ہورہا ہے، سب جھاڑ جھنکاڑ بھر رہا ہے، ابا مرحوم نے کیسے شوق سے بنائی تھی۔ ویسے مزدوروں سے بہتر ان کے بچے ہوتے ہیں، دس بیس میں کام کردیتے ہیں۔ اور ان کا کام بھی کیا ہے گلیوں میں آوارہ ہی پھرنا ہے نا، انھیں کون سا اسکول جانا ہوتا ہے۔

ویسے مجھے تو یہ نکمے مزدور  بھی سمجھ نہیں  آتے ۔۔۔ گندے اس قدر رہتے ہیں ہر وقت بو آتی رہتی ہے، پسینہ بہتا ہے اور رنگ دھوپ میں جل کر تانبے سا سرخ اور سیاہ۔  اور ان سے خیر سگالی بھی کی جائے۔ اب انھیں چھٹی دے دی جائے  تو کام کیسے چلے گا، بھلا بتاؤ۔ ایک ہی دن تو بڑی مشکل سے چھٹی کا میسر آتا ہے، اتنے کام پینڈنگ پڑے ہوتے ہیں ۔ گیراج بھی جلدی پہنچنا ہوگا، آج چھٹی ہے رش لگا ہوگا وہاں۔ غنیمت ہے موبائل چارج ہے ورنہ دو گھنٹے  کیا کرتا میں۔ ارے آج تو سوشل میڈیا پر مزدور ڈے کی پوسٹ بھی لگانی ہے نا!

کیا لکھوں، ہاں۔۔۔ ” ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات”، یہ پوسٹ ہوگیا۔۔۔

"چھوٹے ذرا جلدی ہاتھ چلا بابو!”

 

عارم
اپنی شناخت سے لاعلم ایک ہستی جو اس کائنات میں موجود ہر ذی روح میں دھڑکتی ہے۔ جنس، رنگ ، نسل، زبان سے ماورا عارم معاشرے کا آئینہ ہیں۔ سماج پر لکھنا  اور بلاتفریق پسماندہ طبقوں کی آواز بننا ان ان کی خواہش ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے