حالاتِ حاضرہ سماج نقطۂ نظر

خوش آئے تجھے شہر منافق کی امیری

ابھی تو رمضان میں مہینے میں لوگوں کے رویے پر ہی بات کی تھی۔ اب ماتم بھی لازم ہو گیا۔ بچیوں سے دردناک زیادتی کے پے در پے واقعات نے دل دہلا دیا۔

میرے بچے بڑے ہو گئے ہیں۔ اب بچوں کے بچوں کو بڑھتا پھلتا پھولتا دیکھ رہی ہوں۔ ان کی پیار بھری معصوم باتوں پر میرا دل خوش ہو جاتا ہے۔ انھیں  ہنستا دیکھ کر میں ہنستی ہوں۔ کھیل کھیل میں اگر انھیں کوئی خراش بھی آجائے تو میں گھبرا جاتی ہوں۔ ان کا ایک آنسو بھی میرے دل کو دکھا دیتا ہے۔ میں انھیں چوم چوم نہیں تھکتی۔ ان کے واپس گھر جانے کے بعد بھی میں دیر تک ان کی باتیں یاد کر کر کے مسکراتی ہوں۔  کسی کی غلیظ انگلی انھیں بری نیت سے چھوئے یہ تصور ہی مجھے دہلا دینے کو کافی ہے۔ 

وطن عزیز سے یوں تو ویسے بھی اچھی خبریں نہیں آتیں لیکن سب سے زیادہ دردناک بچوں سے زیادتی اور ان کا قتل ہے۔ اور اب یہ روز کی بات نظر آتی ہے۔ کوئی دن نہیں گزرتا جب کسی کی آبروریزی کی خبر سامنے نہ آئے۔ اس بار نئی بات یہ بھی ہوئی کہ جو عوام کے محافظ ہیں ظلم بھی انھوں نے ہی کیا۔ پولیس جن کا فرض لوگوں کی جان و مال و آبرو کی حفاظت کرنا ہے وہی لٹیرے ہیں۔  22 سالہ بچی پولیس کے ہاتھوں گینگ ریپ کا شکار ہوئی۔ ایک دوسرے کیس میں  دس سالہ بچی کی گم شدگی کی رپورٹ درج کرانے والے خاندان کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز رویہ اختیار کیا گیا۔ دس سالہ گم شدہ بچی کے بھائی کو پولیس کی جانب سے یہ کہا گیا کہ وہ خود ہی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہو گی۔ ایسی سنگ دلی ہماری پولیس ہی دکھا سکتی ہے۔ اور تو اور اس بچی کی مسخ شدہ لاش پر جہاں اظہارِ افسوس کرنے والے ہی موجود ہیں وہاں ایک چینل کو اس دہائی سے ہی فرصت نہیں کہ بچی کا تعلق افغانستان سے تھا یا اس کے والد  کا شناختی کارڈ جعلی تھا۔ کیا یہ دو حوالے کسی بھی فرد کو ایک انسانی جان  اور ایک بچی کی آبروسے کھیلنے کی اجازت دے سکتے ہیں؟

ذرا سوچیے یہ دونوں واقعات رمضان کے با برکت مہینے میں ہوئے ہیں۔ ہم تو مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کو رو رہے تھے یہاں تو معصوم بیٹیاں ہوس کا نشانہ بن رہی ہیں۔

علما خاموش ہیں۔ ان کے لیے چاند اپنی آنکھ سے دیکھنے کا مسئلہ سب سے اہم ہے۔   رہنمائے قوم کا سیاسی افطاری پر جانا مقدم ہے۔ مذہبی ٹھیکے داروں کے اپنے ٹی وی  چینلز پر حوروں کے پیکر بیان کرنا عبادت ہے۔ ناموس رسالت پر دھواں دھار تقریریں کرنے والے بچیوں کی آبرو اور زندہ رہنے کے حق پر بات بھی کرنے سے کتراتے ہیں۔

اب قوم ان  بچیوں کے لیے انصاف مانگتی ہے۔ کیسا انصاف؟  انصاف مل بھی گیا تو کیا ایسے واقعات ہونا رک جائیں گے؟ کیا مجرموں کو پھانسی پر لٹکانے سے باقی سارے ریپیسٹ توبہ توبہ کرتے ہوئے عبرت پکڑ لیں گے؟ نہیں ایسا بالکل بھی نہیں ہوگا۔ کیا زینب کے قاتل کو پھانسی نہیں ہوئی تھی؟ توکیا اس کے بعد یہ وحشی تائب ہو گئے؟ ایک رپورٹ کے مطابق بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں پچھلے سال سے 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ قصور کے بچے ابھی تک انصاف کے منتظر ہیں اور بے رحم معاشرے سے منھ چھپائے پھرتے ہیں۔ بے قصور ہوتے ہوئے بھی سزا بھگت رہے ہیں۔ ۔

لیکن شاید یہ اور ایسے واقعات ہمارے لیے اہمیت  نہیں رکھتے۔ اخلاقیات کا دیوالہ ہو چکا ہے۔ معاشرہ بگڑ چکا ہے۔ لوٹی ہوئی دولت واپس آ بھی گئی، سمندر سے تیل نکل بھی آیا، ڈالر گر کر جھولی میں آ بھی گیا، آئی ایم ایف سے آسان شرائط پر قرضہ مل بھی گیا تو بھی معاشرے کا یہ بگاڑ ٹھیک نہیں ہو سکے گا۔ لوگوں کی ذہنیت آلودہ ہو چکی ہے۔ جرم تفریح سمجھ کر کیا جانے لگا ہے۔ لوٹ مار حق بن گئی ہے۔ جھوٹ کوئی مسئلہ نہیں رہ گیا۔ شاید سب ٹھیک ہونے اور سنورنے میں ایک صدی لگ جائے۔ پاکستان کو مدینہ کی ریاست جیسا بنانے کی باتیں کرنے والے یہ بھی سن لیں کہ اس ریاست کا خلیفہ ڈرتا تھا کہ فرات کے کنارے کوئی کتا بھی پیاسا مرا تو حاکم سے باز پرس ہو گی۔

نادرہ مہرنواز
وہ جسے دیکھ کر جاننے کی خواہش ہوتی ہے، جان کر رشک آتا ہے، اور یہ رشک شدید محبت میں بدل جاتا ہے۔ نادرہ مہرنواز بھی ایسی ہی مہربان ہستی ہیں۔ قارئین کے لیے ان کا خلوص ان کے ہر لفظ سے عیاں ہوتا ہے۔ نوشتہ کے لیے ان کی محبت یقیناً ہماری خوش بختی ہے۔

2 thoughts on “خوش آئے تجھے شہر منافق کی امیری”

  1. نادرہ بہن ! ایسی خبر کو مکمل پڑھنے کی ہمت نہیں ہوتی ۔خبر کی سُرخی تو میں نے بھی پڑھی تھی لیکن اسے پڑھ کر دکھ افسوس کے سواکچھ نہ ملتا ۔آپ کی ہمت ہے کہ آپ نے پڑھ کر ہمت کی اور شرم کا احساس دلایا۔لیکن جب ضمیر مردہ ہوں توشرم کیا اور احساس کیا۔ چاند پر ایک بہت پرانا کسی کا شعر یاد آیا۔
    چاند کو ہاتھ لگا آئے ہیں اہل ہمت اُن کی دی دھن ہے کہ جانبِ مریخ بڑھیں ایک ہم کہ دکھائی نہ دیا چاند ہمیں ہم اسی سوچ میں ہیں عید پڑھیں نہ پڑھیں ۔
    خادم ملک

  2. اسلام علیکم نادرہ بہن
    بہت اچھا تبصرہ کیا ہے آپ نے۔ اچھی بات ہے آپ اپنے حصے کی شمع جلا رہی ہیں ۔ جاری رکھیں ۔اللہ آپ اجر دے ۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے