سماج نقطۂ نظر

خون ریزی و بربریت

تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو انسانی معاشروں کا جو پہلو سب سے نمایاں نظر آئے گا وہ ہے "خون ریزی”۔ ایسا کیوں ہے کہ انسان نے جس قدر بھی ارتقائی مراحل طے کیے لیکن وہ اپنے اندر اپنے جیسے انسانوں کے لیے  برداشت کا مادہ نہ پیدا کرسکا۔ احترامِ انسانی، خلوص، محبت، انسیت، دوستی، رواداری، بھلائی، یگانگت، بھائی چارہ، اتحاد، مساوات، اخوت، ہمدردی، مہربانی، حسنِ سلوک، احساس، لحاظ، پاس داری،  یک دلی، بہی خواہی، خیر اندیشی، خیر سگالی، فلاح، بہبود، رفاہِ عام، اچھائی،  بہتری، خیر طلبی، اخلاص مندی سب محض الفاظ ہی رہے اور جب جب حضرتِ انسان کو کسی دوسرے کو گرا کر آگے بڑھنے یا کسی دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر خود کامیابی کے نشان کو جیت لینے کا موقع ملا تو یہ کسی بھی منفی ہتھکنڈے کو اپنانے سے باز نہ آیا اور ظلم، بربریت، وحشت، غیر انسانی سلوک، جبر و تعدی، استبداد، سرکشی، ناانصافی، شقاوتِ قلبی، خوں خواری،  قہر و آزار دہی کی وہ وہ مثالیں سامنے آئیں کہ روح کانپ اٹھے۔  

شاید انسانی فطرت کے اسی تاریک پہلو کو دیکھتے ہوئے مختلف ادوار کے دانا و بینا، حساس انسانوں نے  جتنے بھی سماجی ضابطے تشکیل دیے یا جو بھی مذاہب خواہ الہامی تھے یا انسان ساختہ  سب ہی نے انسان کو پابند کرنے کی ہرممکن کوشش کی اور درج بالا مثبت ناموں اور احساسات کے فروغ کی کوششیں کیں۔ کچھ مذاہب نے  منفی پہلوؤں کے اپنانے پر سزائیں بھی تجویز کیں اور آخرت کے عذاب سے ڈرانے کے بھی حوالے پیش کیے۔ لیکن کیا انسان اپنی سرکشی سے باز آسکا؟  کیا بہتے  خون کو دیکھنے کا جنون ، لوگوں کو خود سے کم تر اور اپنے آگے بےبس  دیکھنے کا شوق انجام کو پہنچا؟  کیا انسان  اپنے نفس کو تسکین دینے کی خاطر لوگوں کی زندگیوں اور جسموں سے کھیلنا چھوڑ سکا؟ تو اس کا جواب نفی میں ہی ہوسکتا ہے۔

مشاہدے میں یہی بات آئی ہے کہ انسان کو جب جب اور جہاں کہیں موقع ملا وہ خون خرابے اور ظلم و جبر سے باز نہ آیا۔ اقتدار ملا تو فرعون و نمرود و شداد اور یزید بن بیٹھا۔ اختیار ملا تو انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنا نے والا ہٹلر اور حجاج بن یوسف  بن بیٹھا تو کبھی نیزوں پر انسانی سروں کو ٹانگنے والا ہلاکو خان بن گیا۔  اعتبار توڑنے پر آیا تو سگے رشتوں کو نہ بخشا،  لوٹنے پر آیا تو اپنے گھر کو لوٹ لیا،  چھننے پر آیا تو اپنی نسلوں سے جینے کا حق چھین لیا۔ الغرض انسان  نے بہت سے مقامات پر اپنی وحشت کے ہاتھوں جانوروں کو بھی مات دے دی۔

یوں تو جنوب ایشیائی خطے میں عموماً  تہذیب، ثقافت ، اخلاص اور دوستی و رواداری کی باتیں سننے میں آتی ہیں۔  اور شاید اس بات کی گواہی تو راقم کی یادداشت بھی دیتی ہے کہ کچھ عرصہ پہلے تک عام لوگوں کی سطح پر  کوئی بہت  بڑی ظلم کی خبر سامنے آتی تو وہ  بہو پر ظلم و ستم کی ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ کچھ مخصوص علاقوں میں  بیٹیاں کاری یا ونی کردی جاتیں جن پر لوگ کانوں پر ہاتھ کرتے توبہ استغفار پڑھتے چلے جاتے۔ نیز ان سب کو سب قیامت کی نشانی بھی مانا جاتا۔

بےشک غیرت یا رقابت کے نام سے خواتین پر عائلی ظلم و جبر بہت ہی برا عمل ہے لیکن اب جو خبریں نیوز چینلوں پر نظر آتی ہیں ان کے آگے تو  ماضی کی اقتدار و خزانے کے لیے کی جانے والی  بڑی بڑی جنگوں کے مظالم بھی چھوٹے معلوم ہونے لگے ہیں۔ وطنِ عزیز کی بات کی جائے تو جب کبھی  مختلف نیوز چینلز پر پیش کی جانے والی مقامی خبریں دیکھنے کا اتفاق ہوا بس ایک یہی پہلو سامنے آیا ۔ فرسٹریشن کا یہ عالم ہے کہ گود کے بچے بچیاں، اسپتالوں میں علاج کی غرض سے جانے والی نیز اسپتالوں میں بےہوشی کی حالت میں پڑی عورتیں،  گلی محلے میں افلاس کے ہاتھوں مجبور بستہ چھوڑ کر چند سکے کمانے کے لیے سارا دن سرگرداں رہنے مزدوری کرنے والے بچے بھی ریپ سے محفوظ نہیں۔ سگے ماموں،  چاچا، بہن بھائی  ریپ کرکے جان سے مار دیتے ہیں۔ کہیں ماں اور بیٹا مل کر باپ کو قتل کر رہے ہیں، کہیں کوئی ممانی حسد کے مارے دیڑھ سالہ بچے کو گلا گھونٹ کر مار رہی ہے تو بچے اور ماں مل کر باپ کو قتل کردیتے ہیں۔ کہیں باپ غیرت کے لیے  بیٹیوں کو زہر دے رہا ہے، کہیں  جائیداد کے لیے بھائی بھائی کا گلا کاٹ رہا ہے۔ کہیں شادی سے انکار پر حوا کی بیٹی  قتل ہورہی ہے تو کہیں تیزاب گردی کا شکار۔  کہیں شادی سے انکار پر حوا کی بیٹی کے ہاتھوں سابقہ منگیتر کے بچے کو جان سے مار دیا جاتا ہے۔ کہیں دوستوں میں معمولی تلخ کلامی پر گولیاں چل رہی ہیں تو کہیں دشمنوں کی دشمنی میں نہتے انسانوں پر کتے چھوڑ دیے جاتے ہیں۔ کہیں پنچ بیٹھ کر بھائی کے جرم کی سزا میں بہن کو گلیوں میں برہنہ پھراتے ہیں تو کہیں  اسے سرعام ریپ کی سزا دیتے ہیں۔ کہیں  تڑپا تڑپا کرجان سے مارنے کے لیے ایک ایک عضو کی بوٹی بوٹی الگ کر دی جاتی ہے تو  کہیں  مرغی، مچھلی، بکری،  گدھی سے ریپ کے واقعات نظر سے گزرتے ہیں۔   کہیں مجرمانہ غفلت کے ہاتھوں معصوم بچے اسکول وین میں جلا کر مار دیے جاتے ہیں تو کہیں جاوید جیسا سفاک قاتل سو بچوں کو ریپ کر کے تیزاب میں ڈبو کر مار دیتا ہے۔ کہیں قصور کے سینکڑوں بچے ریپ کا شکار ہوتے ہیں اور کسی کے کان پر جوں نہیں رینگتی تو کہیں  اسکول پڑھنے جانے والے بچے بےدردی سے موت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں جن کی موت پر نوحے، نغمے لکھے جاتے، سیمینار ہوتے، سوشل میڈیا مہمیں چلائی جاتی ہیں اور جو نہیں کیا جاتا وہ یہ ہے کہ ذمہ داروں کو سزا نہیں دی جاتی۔

 پاکستان ہی نہیں بلکہ بھارت، بنگلہ دیش، اور تمام جنوب ایشیائی خطے میں یہی حالات ہیں تو دنیا کے ترقی یافتہ مہذب کہلائے جانے والے ممالک میں بھی انسانی جان و آبرو کی ارزانی کا یہی عالم ہے۔ ظلم و جبر کی یہ کہانیاں روزانہ کی بنیاد پر جاری و ساری ہیں اور راقم کے دل و دماغ پر صرف یہی سوچ حاوی رہتی ہے کہ کیا جنھیں انسان کہا جارہا ہے وہ واقعی انسان ہیں؟

عارم
اپنی شناخت سے لاعلم ایک ہستی جو اس کائنات میں موجود ہر ذی روح میں دھڑکتی ہے۔ جنس، رنگ ، نسل، زبان سے ماورا عارم معاشرے کا آئینہ ہیں۔ سماج پر لکھنا  اور بلاتفریق پسماندہ طبقوں کی آواز بننا ان ان کی خواہش ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے