سماج نقطۂ نظر

خط، ایک بُھولی کہانی

آج مرزا پر قنوطیت کا دورہ پڑا ہوا تھا۔ آتی جاتی ہر سانس پر ٹھنڈی آہیں بھر رہے تھے۔ غور کیا تو آنکھوں کے کنارے ایک شبنمی قطرہ بھی اٹکا ہوا تھا۔ ہم نے ڈرتے ڈرتے ان کو چھیڑ ہی دیا۔ کہنے لگے بھئی!کل میرا گزر پوسٹ آفس کے سامنے سے ہوا۔ پہلے تو میں سمجھا کہ یہ آثار قدیمہ کی کوئی عمارت ہے لیکن ایک تار سے جھولتے ہوئے لال ڈبے کو دیکھ کر پوسٹ بکس کی یاد آگئی اور پھر پردیس بیاہی بیٹی کی یاد آگئی۔ رابطہ تو ویسے اس سے روز ہی ہوجاتا ہے پر میں جب بھی اس سے خط لکھنے کی فرمائش کرتا ہوں تو وہ ایک قہقہہ لگا دیتی ہے اور میشنی ڈبے کے اُس پار بیٹھی میری طرف ترحم بھری نظروں سے دیکھنے لگتی ہے۔  کہتی ہے پہلا اور آخری خط میں نے میٹرک میں اردو اور انگریزی زبان کے پرچے میں لکھا تھا۔

ہم نے بھی مرزا کو بیٹی کی نگاہوں سے دیکھا۔ ٹھیک ہی تو ہے مرزا۔ تم بھی آج کے ڈیجیٹل دور میں پتھر کے دور کی باتیں کرتے ہو۔

مرزا نے کہا۔ دوست؛ راستہ؛ کتاب اور سوچ اگریہ چار چیزیں غلط ہوں تو گمراہ کردیتے ہیں۔

ہم نے مرزا سے کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آیا  کہ تم کیا فرما گئے۔

کچھ نہیں! بتاؤ تم نے خط کب سے نہیں لکھا؟

کسے؟

خیر!تمھارا ہمارے سوا ہے کون جسے تم خط لکھو۔ تم کیا جا نو کہ خط لکھنے میں کیا سکون ہے، کیا لطافت ہے۔

بات تو مرزا سچ کہتے ہو۔ خط لکھنا تو ہماری ایک روایت ہے۔ تم نے وہ  مشہورگیت تو سنا ہی ہوگا۔

چٹھی آئی ہے ۔ وطن سے چٹھی آئی ہے 

اور وہ فلمی گانا۔ خط لکھ دے سنوریا کے نام بابو

اور چٹھی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دو۔۔۔

ارے میاں یہ کیا اول فول گا رہے ہو، کوئی دیکھ لے گا تو کیا سوچے گا، اس عمر میں سٹھیا گئے ہیں دونوں، مرزا نے ہمیں گھُرکا۔

ساٹھ سال کے بعد ہی تو سٹھیائے ہیں نا دوست، ورنہ آج کل کے بچے تو۔۔۔

ہمارے جواب پر ہمیں گھورتے ہوئے کہنے لگے، خیر اب تم سے کیا کہیں۔ پڑھے لکھے ہوتے تو مولانا ابولکلام آزاد کا نام لیتے۔ کیا تم نے غبار خا طر پڑھی ہے؟

ہماری خالی نظروں اور نفی میں ہلتے سر کو دیکھ کر فرمانے لگے، 

میاں یہ  وہی کتاب ہے جس میں دیسی چائے،  جو تم پیتے ہو، اس کے بارے میں لکھتے ہیں۔

ہم نے غبار خاطر تو پڑھی نہیں ، ہاں میٹرک کے اردو نصاب میں مرزا غالب کے تین خطوط ضرور  رٹے تھے۔۔۔

خیر۔ چلو میٹرک پاس کرنا تمہارے کچھ تو کام آیا۔ تم کیا جا نو مرزا کے خطوط کی ادبی اہمیت؟ میاں کچھ خطوط تو تاریخ بنا گئے ہیں ۔ جواہرلال نہرو کے خطوط پڑھو جو انھوں نے اپنی بیٹی کے نام لکھے ہیں۔

ہم اچھل پڑے۔

ارے ہاں مرزا صاحب وہ اپنی مریم  نواز بھی تو تاریخ بنانے جارہی ہیں ابھی کل ہی نیوز میں سُنا ہے کہ  نوازشریف نے ان سے خط لکھنے کی  فرمائش کی ہے۔

خیرررر!!!

مرزا  نے خیر کے   ‘ر’    کو لمبا کھینچا اور پھر کہنے لگے،

فیض احمد فیض کے ان خطوط کو پڑھو جو ا نھوں نے جیل سے لکھے ہیں ایلس کے نام۔

یک بیک وہ اپنے زانو کو پیٹنے لگے،

"ہائے ظالم! تو نے پی ہی نہیں!  یہ خطوط اردو ادب میں کلاسک ہیں، اور کچھ نہیں تو صفیہ اختر کے خطوط ہی پڑھ لو”

ہم نے مرزا سے کہا ، اور کوئی نام بھی ہے جو تم  بھول گئے ہو۔۔۔

"ہاں  ہاں! بابائے اردو مولوی عبدالحق کے خطوط۔”

خیر۔ مرزا میں تو ویلنٹائن ڈے والے بابا کے بارے میں بات کر رہا تھا۔

"ویسے وہ بھی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ اب تو خط لکھنا نوجوانوں کے نزدیک ماضی کا ایک قصہ ہےاور واقعی بقول شخصے صرف میٹرک کے نصاب تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ہر رات لیپ ٹاپ پر بیٹی سے دن بھر کی مصروفیت کے بارے میں گپ شپ ہو جاتی ہے مگر اب وہ ادب پارے کہاں رہ گئے۔ وہ تحریر میں پیار کی چاشنی کہاں گئی۔ وہ الفاظ کی نزاکت  تو کہیں کھو گئی۔

مرزا کو کھویا ہوا دیکھ کر ابا میاں یاد آگئے۔ ہمیں آج بھی یاد ہے کہ پردیس سے آنے والے بہنوں کے خطوط کو وہ اس وقت تک پڑھتے رہتےجب تک کہ اگلا خط مو صول نہ ہوجاتا۔ ڈاکیے کے انتظار میں گھنٹوں راہداری میں ٹہلتے ٹہلتے مانو میلوں کے فاصلے طے کرلیتے۔ یہاں تک کہ انھوں  نے ان خطوط کی ایک فائل تیار کر دی تھی۔ افسوس کہ ہجرت اور جدیدیت  نے جہاں بہت سی چیزوں سے محروم کردیا وہاں ہم اس  نعمت سے بھی محروم ہوگئے۔

کہنے لگے، اب تو ای میل کا دور ہے جو جذبات کو ظاہر ہی نہیں کرتا۔ای میل کے مقابلے میں بیٹھ کر خط لکھنا ، نامہ نگار اور وصول کرنے والےکو احساسات اور جذبات سے بھر دیتا ہے۔ اب تم ہی بتاؤ۔ ای میل اور جی میل کی  ہے کوئی ادبی اہمیت۔ لے دے کہ سائبر کرائم اور بلیئنگ کی زد میں ہی آتے دیکھے ہم نے یہ ای میل کے رابطے۔

ہم مرزا کے سامنے کہہ نہ سکے کہ آج کل کے ڈیجیٹل دور نے فاصلوں کو سمیٹ کر اتنا قریب کردیا ہے،  بقول غالب

خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہو۔

اب کون قلم ڈھونڈے۔ نیلے رنگ کا لیٹر پیڈ ابا میاں کے لیے اور گلابی رنگ کا زوجہ محترمہ کے لیے رکھے۔قلم میں روشنائی بھرنے کا جھنجٹ کون پالے۔ ڈاک کے ٹکٹ کو تھوک لگا کر لفافے پر کون چسپاں کرے۔ اور تو اور میل بھر پیدل چل کر لال رنگ کے پوسٹ بکس میں خط ڈال کر اس کے ڈھکنے کو ہلا ہلا کر کون اطمینان کرے کہ خط اس کی گہرائی تک پہنچ چکا  ہے۔ مرزا لوٹ آؤ ۔زندہ قومیں ماضی میں نہیں، حال میں جیتی ہیں۔

سیدہ رابعہ
اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں میں تدریس کا 50 سالہ تجربہ لیے سیدہ رابعہ ماما پارسی اسکول کے شعبۂ اردو کی ڈین بھی رہ چکی ہیں۔ رنگوں اور اسکیچنگ میں دل چسپی رکھتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بلاگنگ اور کالم نگاری بھی ان کا مشغلہ ہے۔ باغ و بہار سی شخصیت جن کی معیت میں آپ کبھی بور نہیں ہوسکتے۔

One thought on “خط، ایک بُھولی کہانی”

  1. بہت خوب۔ پردیس میں رہتے ہوئے تقریبا”آدھی صدی گزر گئ۔ شروع شروع میں دوپہر کے کھانے کے وقفے میں دفتر کے آس پاس کسی باغ میں ہریالی پر بیٹھ کر جو خط بہن بھائیوں اور والدین کو لکھ کر پوسٹ کرتے تھے اس کی یاد تازہ ہو گئ۔ مضمون پڑھ کر واقعی کسی کھوئ ہوئ خوشی کا احساس اجاگر ہونے لگا اور ادبی اہمیت رکھنے والے ان سارے خطوط کی یاد تازہ ہو گئ۔ اس مضمون میں ایک لڑکی کا جواب کہ اس نے میٹرک کے امتحان میں پہلا اور آخری خط لکھا تھا۔۔۔۔ایک سچا معصوم لیکن ساتھ ساتھ ‘ظالم ‘ جواب ہے۔ سیدہ رابعہ آپ دکھتی رگوں کو بڑی مہارت سے پہچان لیتی ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے