سیر و سیاحت مقامات نقطۂ نظر

محبت کا سفر (حصہ دوم)

مولا یا صلی وسلم دائماً ابداً
علیٰ حبیبک خیر الخلق کلھم
محمد سید الکونین والثقلین
ھوالفریقین من ربی و من عجمی
ھوا لحبیب الذی ترجیٰ شفاعتہ
لکل ھول من الاحوال مقتحم

محسن انسان و انسانیت، فخرموجودات، جمادات و نباتات، محبوب رب ذوالجلال، وجہ تخلیق کائنات کہ جن کا نام آتے ہی قلم مؤدب ہوجاتا ہے تو سیاہی اپنی خوش بختی پر نازاں ہوجاتی ہے۔ تخیل اپنی کوتاہی پرواز پر شرم سار نظر آتا ہے کہ ان کے فضائل و افکار کا احاطہ کرنا کہاں اپنے بس کی بات ہو۔ زندگی کی نیرنگیاں، حسن و خوبیاں، برف پہاڑ، چشمے، وادیاں، سبزہ، گلزار، موسموں کی حدت و شدت سے لے کر سائنس کی ایجادات تک، ایک ذرے سے لے کر فلک بوس پہاڑوں اور آسمان پر سجے کروڑہا ستاروں، سیاروں کی حدوں سے بھی پرے لامتناہی وسعتوں تک، سانس بھر ہوا سے لے کر تیز جھکڑ اڑاتی اور کہیں بہار کے نغمے گنگناتی، پرندوں کے پروں کو طاقت پرواز دیتی انھیں اونچا اڑاتی، اور انسانی کرشمہ سازی کے شاہکار جہازوں کو آسمان میں اڑاتی اور سمندروں کی وسعتوں میں آگے دھکیلتی ہوا؛ حلق کو تر کرتے ایک قطرے سے لے کر تمام چرندوں پرندوں، حشرات و سمندری مخلوقات کی ازلی و ابدی و انتہائی ضرورت کو سیراب کرتے، سبزے، پھول، پتے، رنگوں کے خلاق اور ایک ننھی سی کونپل سے ایک تن آور درخت کے بن جانے تک، چند قطروں سے بخارات کے بن جانے، بادل بننے اور برس کے صحراؤں کی پیاس بجھانے، جانداروں کے لیے مژدہ جان فزا بننے والے پانی؛ زمین سے پھوٹتے رنگ رنگ خزانوں اور ان سے تمام مخلوقات کو اسباب زندگی مہیا کرنے والے معدنیات تک کس کس شے کا ذکر کیا جائے کہ ان سب کی تخلیق، ان سب کی پیدائش اور اور افعال کے لیے کل عالمین جس ہستی کے احسان مند ہیں وہ عظیم ہستی، رحمت اللعالمین میرے پیارے نبی ﷺ کی ذات ہے۔

میرے نبی ﷺ کہ جن کی بارگاہ میں فرشتے بھی بصد احترام داخل ہوتے ہیں، وہ ہستی جو رحمت، محبت، شفقت، برکت، عزت و عظمت، عدالت، شجاعت، صداقت و دیانت کا پیکر ہے؛ حج کے بعد اب اس دل کا قافلہ اس سمت چل پڑا تھا جہاں اس کائنات کی روحِ رواں جلوہ افروز ہے۔ مکے سے مدینے کی جانب سفر ہر حاجی و زائر کے لیے متضاد کیفیات پیدا کرتا ہے ۔ ایک طرف حرمِ خدا کعبہ مشرفہ سے بچھڑنے کا دکھ تو دوسری طرف محبوب خدا، کعبے کے کعبے سے ملاقات، ان کے در کی باریابی کی خوشی؛ ایک طرف ایک نماز کے بدلے ایک لاکھ نمازوں، ایک روزے کے بدلے ایک لاکھ روزوں اور ایک نیک عمل کے بدلے ایک لاکھ نیکیوں کے ثواب کو چھوڑنے کا دکھ تو دوسری طرف ان نمازوں، روزوں اور تمام نیک اعمال کے سبب الاسباب کے قُرب کی خوشی۔ دل ارمانوں کی آماج گاہ بنا خانہ خدا سے وابستہ تشنگی سے بوجھل؛ دکھ آنسو بھرا اور خوشی بھی اشکوں سے معمور۔

طے شدہ وقت پر بسوں میں سوار ہو کر نم انکھوں سے مکہ کو الوداع کہتے سوئے طیبہ چلے۔ براستہ سڑک تقریباً 439 کلومیٹر پر محیط راستہ لگ بھگ چھ گھنٹوں میں طے ہوا۔ راستہ بھر بس سے باہر تاحد نگاہ سنگلاخ پہاڑ اور پھر لق و دق صحرا کا نظارہ ساتھ ساتھ چلتا رہا تو بس کے اندر ساتھی حجاج نعتیں، درود و سلام پڑھتے آقا کی نذر گزارتے چلے چا رہے تھے۔ ’’محمد کا روضہ قریب آرہا ہے، بلندی پہ اپنا نصیب آرہا، فرشتوں یہ دے دو نا پیغام ان کو، کہ عاشق تمھارا قریب آرہا ہے‘‘ یہی کلام ورد زبان تھا اور آنکھیں ہر ذرا دیر بعد آنسوؤں سے بھرجاتیں، جنھیں دیکھ کر علی (میرے شوہر) کبھی تسلی آمیز انداز میں مسکرادیتے تو کبھی خود بھی نم آنکھوں سے دیکھتے رہ جاتے۔

راستے بھر یہی سوچ ہم سفر رہی کہ آقا سے کیا کہوں گی، آپ کی غلام شرف باریابی چاہتی ہے، وہ غلام جو شرف غلامی کا حق ادا نہ کر سکی، جو ان کے امتیوں سے محبت کا سلوک کیے بغیر، دل کو نفرت، کینہ، عداوت، حسب و نسب، زبان، رنگ، نسل کے فرق سے آزاد نہ کرسکی، جو لوگوں سے بے مہری، تعصب، عدم رواداری و مساوات برتتی رہی، جو دوہرے معیارات زندگی اپنائے عمر گزارتی رہی؛ کیا میں یہ ثابت کرسکوں گی کہ آقا مجھے آپ سے محبت ہے؟ اگر آقا نے کہہ دیا کہ کیسی محبت! آقا نے آئینہ رکھ دیا میرے آگے تو! ہائے! میں تو کہیں کی نہ رہوں گی، اپنی نظر سے اور اُن کی نظر سے گر کر؛ پھر دل حوصلہ دیتا ، ہمت بندھاتا، سمجھاتا ایک ناصح کی طرح کے اے بے وقوف! وہ تو رحمت ہیں، سراپا شفقت ہیں، امتیوں کے لیے ان کی محبت بےکراں ہے، وہ تجھے سنبھالیں گے، وہ تو عفو درگزر کا پیکر ہیں، امت کے غم خوار ہیں۔ یہ ان کی عطا و مہربانی ہی ہے کہ یہاں، اس در تک رسائی کا اذن ملا ہے، انھوں نے بُلایا ہے تو وہی سہارا دیں گے، ڈوبتے دل کو سنبھالیں گے، اور بھٹکتے راہی کو نشان منزل دیں گے۔

ہاں میں اطاعت شعار نہیں، ہاں وفا شعار بھی نہیں، عمر ان کی نافرمانیوں میں گزاری ہے، نامہ اعمال جفاکاریوں، سیاہ کاریوں، گستاخیوں، لاپرواہیوں سے سیاہ ہے، لیکن وہ میرے نبی، میرے آقا، میرے چارہ ساز، میرے ہم درد، دم ساز، غم خوار، وہ تو دل دار ہیں۔ ہم منا لیں گے اپنے آقا کو، گرجائیں گے ان کے قدموں میں، رولیں گے مچل جائیں گے، گڑگڑائیں گے کیونکہ جانتے ہیں ہم کہ وہ تو رحم دل ہیں، کافروں پر بھی رحمت و شفقت کرتے رہے ہیں تو اپنی اس بھٹکی امتی کو اس تمام بھٹکی امت کو بھی معاف فرمائیں گے۔

مدینے کے آثار نظر آتے ضبط کے سب بندھن ٹوٹ گئے، دل جو مچل مچل کر رویا ہے تو سب ہوش بھی چلے گئے۔ سب حجاج ہی زاروقطار رو تے ہوئے مشغول دعا تھے۔ میرے ماں باپ جن پر قربان،، میری اولاد، میرا مال اسباب، میری زندگی جن پر قربان وہ میرے میٹھے، سوہنے،پیارے، مکی، مدنی آقا کے شہر دل پذیر کی دید سے آنکھیں شرف یاب ہورہی تھیں۔ ہر بُن مو سے پسینہ پھوٹ پڑا تھا اور عرق انفعال کی فراوانی تھی، دل دھڑک دھڑک کر بس آقا کے قدموں میں جانے کو بےتاب تھا۔

جب مدینے پہنچے عصر کا وقت قریب تھا، لہذا غسل کرکے سفید لباس (کیونکہ آقا کو سفید رنگ پسند تھا) زیب تن کیا، سرمہ لگا کر اور عطر میں خود کو بسا کر روضے پر حاضری اور ریاض الجنتہ میں نفل کے ارمان لیے مسجد پہنچے۔ محبوب سے ملاقات کا عالم وہ لوگ بخوبی جان سکتے ہیں جنھوں نے محبت کی ہے، کیسے دل امنگوں سے بھرا اور خدشات سے معمور ہوتا ہے۔ دل و دماغ بس محبوب کو رام کرنے، اس کی روشن جبین کو کسی ناپسندیدگی کی سلوٹ سے بچانے کو ظاہر و باطن ہر طرح سے خود کو محبوب کی پسند کے سانچے میں ڈھال کر محبوب سے ملاقات کو پہنچتے ہیں۔ درود و سلام کا ہدیہ لیے اور لب پر اسی ہدیے کو سجائے ہوئےمسجدِ نبوی میں داخل ہوکر عصر کی نماز پڑھی اور ایک خاتون سے معلوم کرکے روضے کی جانب جانے والے خواتین کے لیے مختص دروازے نمبر 25 اور 26 کی جانب بڑھ گئے۔ مسجد کے ہال میں قدم رکھتے ہی سامنے گہرے بھورے رنگ کی لکڑی کی دیوار نظر آتی ہے جس میں جابجا دروازے لگے ہیں ان سے گزر کر سامنے ایک اور دروازوں والی سنہری مائل بھورے رنگ کی دیوار ہے اس سے آگے روضہ ہے۔ اس حد پر آکر دروازے بند ملتے ہیں۔ خواتین کے لیے روضے پر حاضری کا وقت فجر، ظہر اور عشا کی نماز کے بعد کا ہے۔ یعنی اب عشا کے بعد تک انتظار کرنا تھا۔ علی جا کر زیارت کرسکتے تھے کیونکہ خواتین کے لیے مقرر اوقات کے علاوہ مرد حضرات کسی بھی وقت زیارت سے مشرف ہوسکتے ہیں۔ دکھ اور مایوسی کی ایک لہر سی خود میں دوڑتی محسوس کی تو ہم نے خود کو سمجھایا کہ یہ عظیم المرتبت شہر تو سراسر تسلیم و رضا ہے، مصائب سہہ کر بھی صبر کرنا اور خندہ پیشانی سے رہنا ضروری ہے۔ یہاں شکوہ شکایت اور مایوسی و ناامیدی کی کوئی اجازت نہیں۔

علی سے روضے کا جو احوال ملا وہ پیش خدمت ہے: ریاض الجنۃ میں آدمیوں کو بھی ہجوم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سرکار کے دیوانے پروانہ وار وہیں منڈلاتے نفل ادا کرتے رہتے ہیں۔سامنے کی جانب سے مسجد کے صحن میں داخل ہوتے ہی ہمیں واضح طور پر دو گنبد نظر آتے ہیں: سفید گنبد جو مسجد کے لیے ہے اور اس کے دائیں جانب سبز گنبد جو روضے پر سایہ فگن ہے۔ روضہ مسجد کے انتہائی دائیں جانب حضرت عائشہ کے حجرے میں واقع ہے۔ روضے سے لے کر منبر تک کا مقام “ریاض الجنۃ” یعنی جنت کی کیاری، کہلاتا ہےیہ تقریبا 22 میٹر لمبا اور 15میٹر چوڑا قطعہ زمین ہے جس کے بارے میں مروی ہے کہ یہ جنت کا حصہ ہے جو آخرت میں واپس جنت کی طرف لوٹایا جائے گا، واللہ اعلم بالصواب۔ منبر سے ذرا آگے صفہ کا چبوترا ہے جو اسلام کی پہلی جامعہ ہے۔ اس چبوترے پر نبی محتشم ﷺ صحابہ کرامؓ کی تعلیم و تعلم میں مشغول رہتے۔ ریاض الجنۃ میں نفل پڑھتے ہوئے روضے کا چکر لگاتے ہوئے سلام درود پڑھتے نیز شفاعت کی درخواست کرتے ہوئے صفہ کے چبوترے پر بھی ازراہ ثواب نفل ادا کرتے باہر نکل آتے ہیں۔

ہم روضے پر حاضری کے لیے عشا سے پہلے ہی مقام مقرر پر مسجد کے ہال میں جا کر بیٹھ گئے تاکہ جوں ہی اذن حاضری ہو تو کوئی اور رکاوٹ مانع نہ ہو۔ یہ مقام حقیقتاً خوش بخت مقام ہے جہاں میرے نبیﷺ کے قدم پڑتے ہوں گے، ہر ہر جگہ یہی
خیال رہتا کہ شاید یہاں سے وہ گزرے ہوں گے، یہاں بیٹھے ہوں گے، یہاں صحابہؓ سے کلام فرماتے ہوں گے، یہاں ان کی مسکراہٹ کے پھول بکھرے ہوں گے، ان ستونوں نے ان کی شیریں آواز سنی ہوگی، امت کی غم خواری میں مبارک آنکھوں سے بہتے اشکوں کی رازدار بھی یہی جگہ رہی ہوگی تو امت کے لیے کی گئی دعاؤں میں ان کے ساتھ شامل بھی رہی ہوگی۔ مسجد نبوی، اطراف مدینہ و حرم کعبہ ان سب جگہوں کو دیکھنا، انھیں چھونا، پورے وجود کا احساس بن جانا اور آقا کی موجودگی کو دل جان سے محسوس کرنا، خوش نصیبی اس سے بڑھ کے اور کیا ہوگی۔

عشا کی نماز کے بعد سیاہ عبا پوش خواتین نے عربی، ایرانی، ترکی، وسط ایشیائی اور اردو بولنے والی (پاکستانی بنگالی اور بھارتی) خواتین کے الگ گروپس بنائے۔ گروپ بندی کے بعد طے شدہ طریقے پر کسی ایک گروپ کے سامنے موجود دروازہ کھُل جاتا اور اس گروپ کی خواتین دیوانہ وارروضے کی جانب دوڑنے لگتیں۔ احترام کا مقام آچکا تھا، بس میں ہوتا تو قدموں کی جگہ سر کے بل چلتے؛ رواں رواں زبان حال بن چکا تھا۔ خواتین کے غول کے ساتھ آگے بڑھتے بہت سے ستونوں سے گزرتےاس منزل مقصود تک پہنچے جہاں روضے کی سنہری و سبز جالیاں آنکھوں کے سامنے تھیں۔ خواتین کے لیے مختص جگہ کو سفید ٹینٹ لگا کر روضے سے الگ کر دیا گیا ہے، خواتین جالیوں کا اوپری حصہ ہی دیکھ سکتی ہیں۔ ٹینٹ کے اس پار سے نظر آتی روضے کی جالیاں، آقا سے اتنے قریب آکر بھی دوری کا احساس، جالیوں کو نہ چھو سکنے کی محرومی۔۔۔درود سلام کے ساتھ کتنے ہی بےآواز آنسو بہتے چلے گئے۔ اس مقام پر گروپس کو روک کر مزید چھوٹے گروپس میں منقسم کر کے باری باری ریاض الجنۃ کی طرف بھیجا جاتا ہے۔ مسجد میں جابجا سرخ قالین ہیں لیکن ریاض الجنۃ میں سبز قالین ہے، لہذا چلتے چلتے جب سبز قالین قدموں تلے آجائے تو جان لیں آپ ریاض الجنۃ پہنچ گئے ہیں۔ ریاض الجنۃ میں حاضرہو کر نفل پڑھے اور ٹینٹ کے اس پار نظر آتے منبر کو چھونے کی خواہش دل میں لیے حسرت بھری نظروں سے منبر کو تکتے واپسی کا راستہ لیا۔

یہاں دو اہم امور کی جانب خصوصی توجہ دلانا چاہوں گی جیسا کہ میرا مشاہدہ رہا کہ خواتین و حضرات ریاض الجنۃ میں زیادہ ثواب کے لالچ میں 20 نفل پڑھتے ہیں، بہتر ہے 2 نفل پڑھ کر دوسروں کو موقع دیا جائے کہ ہمارے نبیﷺ کی سنت یہی ہے کہ ان کے دیگر امتیوں کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے۔ دراصل نوافل کی کثرت سے ہم اپنے دیگر مسلمان بہن بھائیوں کے لیے آزار کا باعث بن رہے ہوتے ہیں جو وہاں نفل پڑھنے کی تمنا میں تڑپ رہے ہوتے ہیں اور جگہ کی عدم دستیابی پر کبھی نفل نہیں بھی پڑھ پاتے ہیں (یہی نصیحت حطیم اور مقام ابراہیم پر نفل پڑھنے پر بھی صادق آتی ہے)۔ دوسری اہم بات یہ کہ وہاں دھکم پیل کرکے اور نظم و ضبط پر مامور خواتین کو نظرانداز کرکے یا ان کے بتائے گئے اصولوں کو توڑ کر ہم اپنے ملک اور اپنے لوگوں کا بھی منفی تاثر پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی ہمارا یقین ہے کہ نبی کریم ﷺروضے میں حیات ہیں اور ہمیں سُن رہے ہیں اس لیے بھی اس مقام پر دھکم پیل اور شور شرابے سے گریز کیا جائے کیونکہ ادب محبت کے قرینوں میں اولین قرینہ ہے اور ہمیں حکم بھی یہی ہے کہ نبی پاک کی آواز سے اونچی آواز نہ رکھیں۔

مدینے کی دیگر زیارات میں سے اہم ترین مسجد قبا کی زیارت ہے۔ ایک روایت کے مطابق مسجد قبا میں دو نفل پڑھنے کا ثواب ایک مقبول عمرے کے برابر ہے۔ احد ہمارے محبوب ﷺ کا محبوب پہاڑ اور اس کے دامن میں ہمارے نبی مکرم ﷺ کے عزیز ترین چچا اور جنگ احد کے 70 کے قریب شہدا کی قبریں ، بئرِ عثمان اس کے علاوہ مسجد نبوی کے اطراف میں صحابہ کرام سے منسوب کئی چھوٹی بڑی مساجد ، اور جنت البقیع اہم زیارت گاہیں ہیں۔ کچھ ساتھی حجاج کرام (خواتین) کا یہ معمول بھی دیکھا کہ تہجد و فجر پڑھ کر روضے پر حاضری دیتے اور پھر مسجد قبا نفل پڑھنے جاتے اور واپسی پر سوجاتے ظہر میں نماز اور ایک بار پھر روضے پر حاضری نیز عصر مغرب و عشا کی نمازیں پڑھ کر بعد نماز عشا ایک بار پھر روضے پر حاضری کا ثواب پاتے اور آنکھوں کو دید سے سیراب کیے جاتے۔ (نوٹ : روضے پر خواتین کی حاضری کے مخصوص اوقات ہیں جو بعد نمازِ فجر، ظہر اور عصر کے ہیں؛ مرد حضرات ان اوقات کے علاوہ کسی بھی وقت روضے پر حاضری دے سکتے ہیں)۔ مسجد کے گیٹ نمبر 6 پر دو چھوٹے چھوٹے میوزیم زائرین کے لیے عام ہیں۔ ان میں سے ایک اللہ عزوجل کے اسمائے حسنیٰ کی خطاطی کے فن پاروں پر مشتمل ہے اور دوسرا مسجد نبوی کی تاریخ اور اس کی تعمیر سے متعلق تصویری تاریخ پر مبنی ہے۔

مدینے سے خریداری کو اکثر حجاج پسندیدہ قرار دیتے ہیں اور کچھ کے نزدیک یہ باعثِ ثواب و برکت بھی ہے۔ اکثریت کے خیال
میں مدینہ خریداری کے اعتبار سے اس لیے بھی اچھا ہے کہ یہاں مصنوعات خاصے ارزاں نرخوں پر دستیاب ہوتی ہیں۔ اس ضمن میں میرا ذاتی تجربہ یہی ہے کہ جو لوگ بھاؤتاؤ اور مول تول کرنے میں ماہر ہیں وہ یہاں سے بخوشی خریداری کرسکتے ہیں ورنہ میرے جیسے لوگ شاید بن داؤد سے مہنگی ترین اشیائے ضروریہ خرید کر دنوں اس مہنگے سودے کو یاد رکھیں گے۔ گیٹ 22 سے نکلیں تو سامنے چیل چوک پر ایک بازار لگتا ہے جہاں سے مناسب دام میں خریداری کی جاسکتی ہے۔ قریب ہی بنگالی بازار بھی ہے جہاں سے آپ کو انڈا پراٹھا، سموسہ، پکوڑے اور ایسی ہی اشیا باآسانی مل سکتی ہیں۔ گیٹ 15 کے بائیں ہاتھ پر چند قدم کے فاصلے پر بھی ایک بازار ہے جبکہ گیٹ نمبر 5 اور 6 کے سامنے بھی بازار لگتے ہیں۔یہ بازار بالکل ایسے ہی ہیں جیسے ہمارے ہاں لگنے والے ہفتہ وار بازار۔ دکان دار بھی زیادہ تر ہم زبان ہی ملیں گے۔ احد پہاڑ سے خریداری کرنا بھی اکثر کے مطابق باعثِ برکت و ثواب ہے۔ مدینے سے سونے کی اشیا خریدنا بھی پسندیدہ قرار دیا جاتا ہے۔ خریداری پر اس قدر زور دینے کی بظاہر یہی وجہ ہمیں سمجھ آئی کہ اہل مدینہ کا ذریعہ معاش غالباً اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ زائر و حجاج اس شہر کو اپنے طور پر جو اچھا بدل دے سکتے ہیں وہ یہی ہے کہ زیادہ سے زیادہ خریداری کرکے یہاں کی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیتے رہیں۔

مکے اور مدینے کے قیام میں ایک مختلف سی کشش ہے جب ہم دنیا میں ہوتے ہوئے بھی اغراض دنیا سے پرے ہوتے ہیں۔ مسجد اسلام میں کس مرکزی اہمیت کی حامل ہے، اذان کی آواز پر مارکیٹیں کیسے ویران ہوتی ہیں، نمازیوں کو راستہ دینے کے لیے بڑی سے بڑی گاڑی رُک جاتی ہے، اور “حی علی الفلاح” کی پکار پر لوگ کیسے دنیا چھوڑ کر مسجد کی جانب بڑھے چلے جاتے ہیں۔ وہاں زندگی کا مقصد خدا کو راضی کرنے ، مغفرت کی دعائیں مانگنے اور اسلام کی حقیقی روح کو جاننے اور سمجھنے کو سوا اور کوئی نہیں ہوتا۔ بےشک تحصیلِ علم و ادب اسلام کا اہم ترین جُز ہے۔ مکے اور مدینے کے قیام میں مجھے خدا ملا، اس کے ساتھ کا احساس ملا، اس کی طرف بڑھنے اس کی ہوجانے کا احساس اور بہت جلد اسی ذات اصلیہ کے پاس جانے کا شعور ملا۔ گو مدینے سے گھر واپسی کا سفر شروع ہوا لیکن محبت کا سفر تو ہنوز جاری و ساری ہے۔

حمیرا اشرف
لغت نویس، ترجمہ نگار اور بلاگر حمیرا اشرف اپنے ماحول میں مثبت رویوں کی خواہاں ہیں۔ بلا تفریق رنگ، نسل، زبان و جنس صرف محبت پر یقین رکھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل صرف محبت میں ہی مضمر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے