سیر و سیاحت مذہب مقامات نقطۂ نظر

محبت کا سفر (حصہ اول)

کسی نے مجھ سے پوچھا، کعبے پر پہلی نظر پڑتے ہی ٹھہر نہیں پاتی، اٹھتے ہی جھک جاتی ہے نا!، جاہ و جلال اور انوار و تجلیات سے معمور کعبہ، آنکھوں کو اس یکتا و بےمثال حسن کے خیرہ کن جلووں کی تاب ہی نہیں رہتی، کیا واقعی تم پر بھی یہی بیتا؟

میں کیا بتاؤں کہ کیا گزری، نہ دل پر اختیار تھا، نہ ذہن پر، نہ سوچ، نہ حواس، نہ خیال، نہ زماں کی فکر نہ مکاں کا ہوش، بےاختیاری سی بےاختیاری تھی۔ وہ سارے رشتے ناتے جو پیچھے چھوڑ آئے وہ سب اس جستجو کی طلب میں کہیں دھندلے مٹے نقوش بن چکے تھے، جان سے پیارے مبہم یاد کی صورت بھی کہیں نہیں تھے، تھی سامنے تو آنسوں کی ایک چادر تنی تھی اور اس چادر کے پار سیاہ رنگ عمارت کہ جس پر تن کر سیاہی بھی اپنے نصیب پر نازاں تھی۔ دل قابو میں آتاتو شاید اندازہ ہوتا، لیکن یہاں تو وجود آنسو تھا، بس! ہر احساس سے عاری ہوکر بھی کئی جذبات کی آماجگاہ۔ کیسی متضاد کیفیات تھیں کہ بیان سے باہر، گماں سے پرے اور امکان کی حدوں سے لاعلم۔ اک طرف اپنے عصیاں کے بوجھ کی شرمندگی تو دوسری طرف خوش بختی پر حیرانی۔۔۔ اور ان سب پر مستزاد اشکوں کی فراوانی۔

کیا بتاؤں کہ کیا دیکھا! وہ لمحات اب شعوری یاد سے پرے ہیں، ہاں یہ ضرور ہے کہ پہلی بار کوتاہیِ بصارت کا اندازہ ہوا۔ آخر دو آنکھوں سے کتنا دیکھا جاسکتا ہے؟ برسوں سے تشنہ آنکھوں کی تشنگی لمحوں میں مٹ سکتی ہے؟ نظارے کو آنکھ بھر کر نہ دیکھنا نظارے کی حق تلفی نہیں!اب تو یاد نہیں پہلی نظر میں کیا دیکھا کتنا دیکھا، بس آنکھوں میں خانہ خدا کا عکس ہے اور تشنگی برقرار ہے۔

سفر حج میرے لیے یا یوں کہیں اکثریت کے لیے محض فرض کی ادائیگی نہیں ہوتا۔ یہ شوق کا، محبت کا، عقیدت کا، غلامی کا، بندگی کا، اطاعت، فرمانبرداری، سپردگی، اپنا اختیار خدا کو کامل طور پر سونپ دینے کا سفر ہے، وہ سفر جو سراسر تسلیم و رضا ہے، خلوص، جانثاری ہے۔ یہ سفر جو “میں ” کی موت اور ” لاالہ الااللہ ” کا سفر ہے۔ یہ اس مقام تک رسائی کا سفر ہے جہاں “من” کی نفی ہوکر “تُو” کو اثبات مل جاتا ہے۔

حج کا ارادہ باندھنے سے لے کر باقاعدہ سفر پر نکلنے کا درمیانی عرصہ وسوسوں اور اندیشوں میں گزرتا رہا تھا۔ نئی جگہ، اجنبی ماحول، انجان زبان، اور دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں لوگ اور ان کی بھانت بھانت کی بولیاں، اور اس ہجوم میں گم ہوجانے اور بچھڑ جانے کا ڈر، سعودی ثقافت اور سخت رواجات، پردے کی پابندیاں، نقل و حرکت میں محرم کا لازمی ساتھ سمیت، اچانک بھگدڑ مچ جانے اور دوران حج حادثات کا ذکر، تقریباً تمام ہی دوست، احباب، جاننے والے ان سب امور کا ذکر کرتے ہمیں محتاط کرنے کو اپنے تئیں خلوص سے لیکن نادانستہ طور پر ہمیں خوف دلانے کی کوشش کرتے۔ ایسے ہی اندیشوں سے گھبرا کر ہم کبھی اپنی ساس توکبھی والدہ اور کبھی بہن کو اپنی وصیت لکھوانے بیٹھ جاتے۔ لیکن بفضل خدا ایسا نہ ہوا کہ فرض حج کی ادائیگی اور زیارت بیت اللہ کے ہمارے ارادے میں لرزش بھی آئی ہو۔

مجھے علم نہیں کہ سب کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے یا نہیں لیکن میرے ساتھ یہی معاملہ تھا۔ میں گنہگار، دنیا دار انسان جو اپنی زندگی اپنے رشتوں میں مگن اور اپنے کام کی محبت میں جکڑا ہوتا ہے اور وسوسوں میں گھرا ناچاہتے ہوئے بھی اس دنیا سے رخصت ہوجاتا ہے۔ حج میں بھی یہی معاملہ ذرا سے فرق سے درپیش تھا۔ حاجی عموماً گھر سے احرام باندھ کر عمرے کی نیت سے گھر سے نکلتے ہیں جسے سفر آخرت بھی گردانا جاتا ہے۔ اس سفر میں ہم خود کو غسل دے کر اپنے ہاتھوں سے سفید کفن میں ملبوس کرکےاپنے پیاروں اور احباب سے رخصت ہوتے ہیں۔۔۔ ایک انجانے سفر پر۔ ہمارے اس سفر میں ہم ساکت و جامد بےحس و حرکت نہیں لیٹے تھے بلکہ خود بھی رونے دھونے میں مصروف تھے کہ دوبارہ یہ پیاروں کہ پیارے چہرے جانے نصیب ہوں کہ نہ ہوں۔ اس کفن پوش رخصت میں آنسو تو تھے لیکن خوشی بھی موجود تھی۔ کاش کہ موت کا سفر بھی ایسا ہی سفرِ عروس بن جائے، اللہ سے ملاقات کا سفر، جب بچھڑنے کا دکھ ہو تو اس سے بڑھ کر انعام۔۔۔ قرب الہی کی خوشی ہو۔

مکہ پہنچ کر، سامان فندق (ہوٹل) میں رکھ کر والہانہ، لیکن کبھی جھجکتے، کبھی سہمتے، ڈرتے، گھبراتے، گناہوں پر شرماتے، اور کبھی اپنی خوش بختی پر نازاں ہوتےعازم سوئے حرم ہوئے۔ ایک قدم تیز پڑتا تو اگلا ہی قدم سست ہوجاتا کہ اپنی گزری عمر (اور اس کی کوتاہیاں، سرکشیاں، گستاخیاں، جفاکاریاں، ریاکاریاں) نظر کے آگے گھوم جاتیں۔ حرم کا دروازہ آنے تک یہ حال تھا کہ دل دھڑک دھڑک کر باہر آنے کو بےتاب تھا اور وسوسے کہتے تھے کہ کیا مجھ کو باریابی مل پائے گی؟ کہاں میرے عصیاں آلود قدم اور کہاں یہ در مقدس! بےشک آج ہی رحمن و رحیم کا مفہوم سمجھ آیا۔ وہ جو علیم و خبیر ہے، جو ہم ظاہر کرتے ہیں اس سے بھی واقف ہے تو جو ہم چھپاتے ہیں اس کا بھی رازداں، جو مالک الملک ہے اور ذوالجلال بھی ہاں وہی ولاکرام بھی ہے۔ ہم نے تو سنا تھا وہ قاہر و جابر ہے لیکن وہ تو انتہائی غفور و رحیم نکلا۔ ایسی محبت! ایسا ظرف! ہمارے گناہوں سے جفاکاریوں سے پہلوتہی کیے بس عطا کرنے میں لگا ہے، کیا کسی نے کی ہوگی ایسی محبت جو میرا رب کرتا ہے ہم بندوں سے۔

مکے میں رہ کر سب سے زیادہ جس رویے کا سامنا کیا وہ “احترام ” کا رویہ تھا۔ حج کے لیے آنے سے پہلے سعودی انتظامیہ کی جس سختی اور درشت برتاؤ کی کہانیاں سنی تھیں ان سے تو واسطہ نہیں پڑا۔ انتظامیہ سے لے کر ساتھی حجاج تک سب ایک دوسر کا احترام کرتے، مسکراہٹیں بانٹتے پائے گئے۔ رواداری،شفقت، بھائی چارہ، اور ایک لڑی میں پروئی ہوئی امت کی عملی مثال یہیں نظر آئی۔ نہ کام کا بوجھ، نہ دوسروں کو پیچھے دھکیلنے کا جنون، نہ میڈیا، خبریں، ٹاک شوز، اور نہ ملکی و گھریلو سیاستیں۔

اللہ کی میزبانی میں اس کے حضور سجدہ ریز ہوکر صبح کا آغاز ہوتا اور حرم پہنچ کر دیواروں، ستونوں کی آڑ سے نظر آتی خانہ
خدا کی جھلک پر دوڑ کر پروانہ وارکعبے کے عین سامنے پہنچ جانا، جتنی بار بھی دیکھو، طلب اور بڑھتی لگے۔ ہائے! کیسی ٹھنڈی سوہنی یادیں ہیں، طواف کعبہ اور صحن حرم میں سجدہ ریز ہونا، اور سجدے سے اٹھ کر سامنے کعبے کو پانا۔ کیا بتاؤں کہ ہوش سنبھال کر جس کعبے کے تصور کو سجدے کیے اس مسجود کو پانے کی کیفیت کیا ہوتی ہے۔ شہ رگ سے بھی نزدیک خدا کی موجودگی سے غافل رہنے والے کے لیے وہاں خیالوں ہی خیالوں میں خدا سے ہمکلام ہونے، اس سے رازونیاز کرنے، وہ جو رازدار اعظم ہے، جو ہمیں ہم سے زیادہ جانتا ہے اسےخود پر بیتی بتانا کیسا ہے!

سفر حج سے متعلق مضمون لکھنے کا ارادہ باندھا تو یہی سوچا کہ کیا لکھا جائے، ویسے تو بےشمار باتیں ہیں، مناسک حج و عمرہ بیان کیے جائیں یا ان کی سنتیں اور آداب، یا وہاں کے انتظامی مسائل۔۔۔ لیکن ان سب پر تو ہزاروں کتابیں دستیاب ہیں لہٰذا داخلی و خارجی کیفیات و مشاہدات کا بیان ہی سب سے بہتر لگا۔ داخلی بیان تو جاری ہے تاعمر رہے گا اب، کچھ خارجی احوال بھی پیش خدمت ہے۔ دیس دیس کے لوگ، ان کے رواجات، رنگ رنگ پہناوے، اور ان پہناووں کی دلچسپ تراش خراش۔ مصری خواتین کے منفرد لباس جس میں مرادانہ انداز کی چھوٹی قمیض پر تنگ مہری کا کھلا سا پاجامہ ہوتا، انڈونیشی خواتین کے پھول دار چکن کے سفید یا آسمانی رنگ کے اسکارف اور ہم رنگ خوب لمبے زمین کوچھوتے اسکرٹ ہوتے جنھیں وہ ہاتھ میں پکڑے چلتیں اور نماز شروع ہوتے ہی ہاتھ سے اتار کر پہن لیتیں، ترکی خواتین کے کوٹ نما عبایہ، ملائشین خواتین کے ٹراؤزر شرٹس، ایک رنگارنگی سی ہوتی۔ احترام کے ساتھ ساتھ برتاؤ میں ہر ایک کے مخصوص طرز فکر کی جھلک نظر آتی۔ کچھ گروپ میں قطار در قطار چیونٹیوں کی مانند دعائیں پڑھتے چلے جاتے تو کچھ سیاہ فام ہنستے کھیلتے والہانہ اپنی جسمانی طاقت سے بےخبر لمبے قد کاٹھ کے ساتھ آگے بڑھتے تو مجھ اپنا آپ نہ صرف بونا لگتا بلکہ بھیڑ میں توازن کھونے کا خوف لاحق ہوجاتا۔

ہم پاکستانی، بھارتی اور بنگالی بھی الگ ہی نظرآتے۔ میری چینی، مصری، ترکی، بنگلہ دیشی، بھارتی، شامی، ایرانی، سیاہ فام کافی خواتین سے بات چیت رہی، اور ذریعہ اظہار کیا ہوتا؟ جی ہاں وہی یونیورسل اور قدیم ترین زبان، یعنی اشاروں کی زبان جس میں ہم بات چیت کرتے اور کبھی جوش خطابت میں اشارے بھول بھال اپنی زبان میں بولنا شروع ہوجاتے تو سامنے والی نافہم انداز میں ، بنا ٹوکے مسکرائے ہی چلی جاتیں۔ ایک اس بات کا بھی اندازہ ہوا کہ اردو جس سے جان چھڑانے کو ہمارے لوگ بے تاب ہیں ملک سے باہر اسے کتنی پذیرائی نصیب ہے۔ مسجد حرام اور خانہ کعبہ کی حدود میں ہر جگہ ہدایات عربی، انگریزی اور اردو میں لکھی گئی ہیں۔ ہجوم میں چلتے ہوئے پیچھے سے آواز آتی”باجی! راستہ دو!” جو پیچھے مڑ کر دیکھیں تو کوئی سیاہ فام، شامی، یمنی یا ایشیائی صاحب وہیل چیئر چلاتے چلے آرہے ہیں۔ شرطی (مقامی پولیس) اور سیکورٹی پر مامور افراد بھی “چلو، آگے سے ہٹو، راستہ دو،” بولتے پائے جاتے۔ ٹیکسی والے اور کچھ چاہے نہ جانتے ہوں لیکن کرایہ پانچ ریال، دس ریال، بیس ریال کہنا خوب جانتے ہیں۔ بس والے ، دکان دار دور ہی سے “دو ریال” کی سدا لگانا شروع کردیتے، یعنی اردو کی گنتی بھی یکساں مقبولیت کی حامل تھی۔ صفائی اور معمولی خدمات پر زیادہ تر بنگالی، بھارتی اور پاکستانی ہی مامور ہیں اس لیے اجنبیت نہ ملی۔ ہاں کبھی کسی عربی کے منھ سے اردو کے الفاظ سن کر اس سے مزید علیک سلیک کی کوشش کرتے تو جواب ملتا “مافی معلوم” یعنی مجھے نہیں پتا۔

ہم نے سرکاری حج اسکیم سے درخواست دی تھی اور منتخب ہونے کے بعد 40 دن سعودیہ میں گزارے۔ مجموعی طور پر
سرکاری اسکیم بہت بہتر اور اچھی لگی۔ چند ایک معمولی انتظامی نوعیت کے مسائل کے سوا کوئی بڑا مسئلہ پیش نہ آیا۔ہاں دوران حج جن تجربات سے میں گزری وہ ابھی تک حیران کر دیتے ہیں۔ شدید گرمی میں تپتی دھوپ میں میلوں پیدل چلنا، یا گرم گرم زمین پر کھلے آسمان تلےلاکھوں مردوزن کے بیچ رات گزارنا، پتھروں پر بیٹھ کر مطلوبہ سائز کی کنکریاں چننا، اور کئی اجنبی خواتین کے ساتھ خیمے میں رہنا بستر شیئر کرنا، سب ہی حیران کن تجربات تھے۔ یہی نہیں عورتوں اور مردوں کے ازدھام میں کہیں عورت مرد کا احساس نہ تھا، کوئی فقرے بازی نہیں ، کہیں کوئی تکتی گھورتی نظر نہ ملی کبھی کوئی فضول حرکت نظر نہ آئی ، وہاں بھی سب مردو زن ہی تھے لیکن نیت اور ارادے کا فرق تھا۔ اسلام کتنا لبرل ہے، عورت اور مرد کو کس طرح شانہ بشانہ رکھتا ہے اس کا اندازہ مجھے اسی سفر میں ہوا۔

یہ مقامات بہت حسین ہیں کہ دل رک سا جاتا ہے، بالخصوص کعبہ اس قدر حسین ہے کہ بیان سے باہر ہے۔ یہ دل کو ایسا جکڑ لیتا ہے کہ اس سے دور رہنا ناممکن لگنے لگتا ہے۔ زمین پر اللہ کا گھر جس کی سمت تمام مسلمان جھکتے ہیں۔ سجدوں کو مسجود کی خواہش ہمیشہ ہی رہتی ہے اور شاید کعبے کو مجسم نگاہ کے سامنے پا کر ہمارے بت پرست دل کو تسکین ملتی ہے۔ پہلے پیار جیسا احساس جب حواس پر تصور جاناں سوار رہتا ہے، میرے حواس پر بھی کعبے ہی کی حکومت ہے۔ دعا ہے کہ میں اب کبھی کعبے والے کو ناراض نہ کروں، اور میں جانتی ہوں کعبے والے کی رضا حاصل کرنے کا واحد طریقہ اس کے بندوں سے محبت اور انھیں آسانیاں فراہم کرنا ہے۔

حمیرا اشرف
لغت نویس، ترجمہ نگار اور بلاگر حمیرا اشرف اپنے ماحول میں مثبت رویوں کی خواہاں ہیں۔ بلا تفریق رنگ، نسل، زبان و جنس صرف محبت پر یقین رکھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل صرف محبت میں ہی مضمر ہے۔

6 thoughts on “محبت کا سفر (حصہ اول)”

  1. دل قابو میں آتا تو شاید اندازہ ہوتا، لیکن یہاں تو وجود آنسو تھا۔
    کیسا سچا جذبہ لکھ ڈالا تم نے حمیرا

    1. شاید محبت اسی کا نام ہے سر! ، ہم دنیا میں گم بھٹکے ہوئے لوگ جب اپنے اپنے گناہوں کی گٹھڑی لادے اس در پر جاتے ہیں تو عمر کے پچھتاوے وجود کو یونہی آنسو کر دیتے ہیں۔

  2. سجدوں کو مسجود کی خواہش ہمیشہ ہی رہتی ہے اور شاید کعبے کو مجسم نگاہ کے سامنے پا کر ہمارے بت پرست دل کو تسکین ملتی ہے۔

    ایک اعلٰی تحریر، ایک مختصر پیرائے میں دریا کو کوزے مں بند کر دیا

    سلامت رہو

  3. شکریہ بابر!
    یہ میرے نہیں سب ہی زائرین کے جذبات ہیں، کیسے کیسے نہ تڑپتے سسکتے دیکھا ہے وہاں لوگوں کو۔ محبت مجسم شکل میں کیسے سامنے آتی ہے یہ کعبے کو دیکھ کر پتا چلتا ہے، کیسے اس کی جانب پورا وجود کھنچتا ہے، کیسے کعبے کو چومتے دل بے اختیار ہوتا ہے، کیسے اشکوں کی جھڑی لگتی ہے، کیسے سب اختیار جاتے ہیں، کیسے نفی و اثبات کا شعور ملتا ہے، کیسے لاالہٰ کی گردان دل سے پھوٹتی اور الااللہ کی صورت دل میں واپس جاگزیں ہوتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے