سماج

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

زندگی کچھ لوگوں کے لیے ایسا سفر ثابت ہوتی ہے جس پر چل کر نہ صرف وہ آبلہ پا ہوتے ہیں بلکہ ان کی دلوں پر بھی کبھی نہ مندمل ہونے والے انمٹ چھالے بن جاتے ہیں۔ انسان میں یہ وصف عطیۂ خداوندی ہے کہ جو درد زندگی کا حصہ بن جائیں وہ ان کے ساتھ جینا سیکھ ہی جاتا ہے۔ وقت کی گرم و سرد لہریں کچھ لمحوں کے لیے حال کی تلخیوں سے بے پروا بھی کرتی ہیں اور یہی وہ چند لمحے ہوتے ہیں جن میں وہ گھائل و مضطر دل سب غم بھلا کر اپنی چھوٹی اور معمولی خوشیوں پر مسکراتے ہیں۔ ایسی ہی مختصر مسکراہٹیں کریمہ کی زندگی میں بھی نمودار ہوا کرتی تھیں۔ یہ وہ وقت ہوتا تھا جب وہ اپنے سارے غم ایک پوٹلی میں قید کر کے وقت کے دھارے سے ہنسی کے پل پل چراتی تھی۔ وہ شاید اتنی سادہ تھی کہ ہر بار اپنی پوٹلی میں موجود چھید سے انجان ہوجاتی جس سے کسی بہانے اس کے غم دبے پاؤں باہر آکر اپنی فتح کا رقص کرنے لگتے۔

اس کی مشکلوں بھری زندگی میں بہت برسوں بعد خوشی کی ایک گھڑی آئی تھی، اس کی بیٹی۔ بہت انتظارکیا تھا اس نے اس خوشی کا۔ اس کی بیٹی اور معذور شوہر ہی اس کی اولین ذمہ داری تھے۔ اس نے زندگی میں کبھی ہاتھ نہیں پھیلائے تھے، مشکل سے مشکل وقت محنت سے جھیلا تھا، یہاں تک کے زچگی کے دوران بھی بھیک مانگنے کی بجائے محنت کو ترجیح دی تھی۔ ہاں یہ اس کی بد نصیبی تھی کہ اسے کبھی مناسب تنخواہ نہ مل پائی۔ ہمارے ہاں کا دستور بھی کچھ یہی ہے کہ نوکر سے انتھک محنت لینے کے بعد بھی اسے انسان نہیں سمجھا جاتا اور اجرت کے نام پر دیے جانے والے چند روپوں کو دریا دلی اور سخاوت سمجھ کر غرور کیا جاتا ہے۔

کریمہ بھی دن رات محنت کرنے کے باوجود اتنے ہی روپے کما پاتی جو ایک کمرے پر مشتمل گھر کے کرایے، بلز، ضرورت کی چند چیزوں کے علاوہ اسے کچھ اور نہ دے پاتے۔ مالکنوں کے گھر کے بچے کچھے خراب کھانوں پر ہی اس کا گزارا تھا، اس کے علاوہ وہ کر بھی کیا سکتی تھی۔ بہت سی محنت اور کمزور جسم کے باعث پانچ بچوں کو اپنی کوکھ کے اندھیرے میں بھوک اور کمزوری کے بوجھ تلے دم گھٹتے اور موت کی نیند سوتے دیکھا تھا۔ ہر بار جب اللہ کا کرم اس پر ہوتا تو وہ مشکل حالات میں بھی اپنا خیال رکھنے کی کوشش کرتی پر نہ رکھ پاتی۔ وہ خود اپنا خیال رکھنا چاہتی تو بھی اس پر مسلط دنیاوی خدا اسے ایسا کرنے نہ دیتے تھے۔ انھیں اپنے سب کام پورے اور وقت پر چاہیے ہوتے تھے۔ اب یہ بیٹی ہی اس کی کل کائنات تھی جو ان سب طوفانوں سے گزر کر اسے ملی تھی۔

کریمہ کا اس بڑے شہر میں تھا بھی کون۔ ماں باپ حیات کے صحرا کی تپتی دھوپ میں اس کا ہاتھ اصغر کے ہاتھ میں تھام کر کچھ عرصے میں ہی چل بسے تھے۔ شادی کے شروع میں ماں باپ ہی اس کا سہارا تھے کیونکہ اصغر شروع سے ہی نکھٹو ثابت ہوا تھا۔ ماں باپ کے بعد وہ اصغر کے ساتھ شہر میں چند خوشیاں سمیٹنے آئی تھی۔ اصغر نے وعدے بھی کیے تھے کہ بڑے شہر میں روزگار بھی ہوگا اور وہ اسے گھر میں رانی بنا کر رکھے گا۔ پر زندگی کی آسودگیوں پر ہر کسی کا حق کہاں ہوتا ہے وہ تو غم ہی سمیٹنے آتے ہیں۔ کریمہ کا نصیب بھی ایسا ہی تھا۔اصغر مزدوری کی تلاش میں روز گھر سے نکلتا اور خالی ہاتھ لوٹتا۔ اپنی برادری کے دیگر مردوں کی طرح وہ بھی کم ہمت ثابت ہوا تھا۔ اسے بھی بچپن سے بیٹھ کر کھانے اور گھر کی عورتوں کو کام کرتا دیکھنے کی عادت تھی۔ سو ایک دن اس نے کریمہ سے مطالبہ کر ہی دیا کہ ’مجھے روز روز خالی ہاتھ دیکھ کر بھی تم سے اتنا نہیں ہوتا کہ باہر نکل کر جھاڑو پونچھے کا کام سنبھال لو۔ ہماری برادری کی ساری عورتیں کام کرتی ہیں، کما کر لاتی ہیں اپنے مجازی خدا کی خدمت کرتی ہیں اور تمھیں شوہر کی کمائی کھانے کی عادت ہوگئی ہے‘۔ وہ خالی آنکھوں، لب سیے اسے تکتے سوچتی ہی رہ گئی کہ کون سا ایسا دن اسے نصیب ہوا تھا جب اس نے بیٹھ کر شوہر کی کمائی کھائی ہو!!! روزانہ ہی تو برادری کی کوئی نہ کوئی عورت ترس کھا کر دو وقت کا کھانا اس طعنے کے ساتھ دے کر جاتی کہ ہم بھی غریب لوگ ہیں، تم شہر میں نئے ہو اور تمھارے آگے پیچھے بھی کوئی نہیں، پر کب تک ہم ایسے ہی بٹھا کر کھلاتے رہیں گے بی بی، اب تم ہی کچھ کرو۔

شومئی قسمت کہ اس بات کے اگلے ہی دن اصغر کی ٹانگ کو ایک ٹرک نے کچل دیا یوں شادی کے چند ہی ماہ بعد کریمہ کو کام کی تلاش میں گھر کی دہلیز پار کرنا پڑگئی۔ کچھ دن اپنی ہمسائی کے ساتھ گھر گھر جا کر کام کی درخواست کی اور بمشکل تین گھروں میں صفائی، برتن، اور کپڑے دھونے کا کام مل گیا۔ اس کے ساتھ زبان کا بھی مسئلہ تھا۔ شہر کی زبان اسے کم ہی سمجھ آتی تھی اور یہ سب سے بڑی مشکل تھی۔ پر دھیرے دھیرے وہ سب سیکھ گئی۔ اب اسے معذور شوہر کی تیمارداری بھی کرنا ہوتی اور سب کام بھی دیکھنے پڑتے۔ دن مشکل سے سہی پر گزر رہے تھے کہ اللہ نے اسے زحمت نما رحمت سے نواز دیا، وہ پیٹ سے ہوگئی۔ اب اسے سب کے ساتھ ساتھ خود کو بھی سنبھالنا تھا۔ چار ماہ نامناسب خوراک، گھروں کے تھکا دینے والے کام، اور شوہر کے وزنی وجود کو سہارا دینے کے بھاری بوجھ تلے دب کر پیٹ میں پلنے والی ننھی جان ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔ پھر ایسا بار بار ہونے لگا۔ ہر بار وہ اپنا خیال نہ رکھ پاتی یا رکھنا چاہتی تو بھی حالات نہ رکھنے دیتے۔ گو کہ اصغر اب ایک ٹانگ کے ساتھ ہٹا کٹا ہو گیا تھا کہ کہیں کوئی چھابڑی ہی لگا لیتا، پھر بھی دن بھر گھر میں بستر پر کمر توڑتا رہتا اور رات ہونے پر بچاری کریمہ کے تھکے ماندے جسم کو مزید توڑ دیتا۔ اس سب پر بھی کریمہ اف نہ کرتی، اسے شاید ساری زندگی کی محرومیوں کی وجہ سے صبر کرنے کی عادت ہوگئی تھی، اور صبر کے سوا کبھی اس کے پاس دوسری کوئی صورت بھی تو نہیں ہوتی تھی۔

پے در پے بچوں کے بطنِ مادر میں مر جانے سے کریمہ کا جسم لاغر اور بد نما ہوگیا تھا۔ وہ اندر سے بالکل کھوکھلی ہوگئی تھی پھر بھی ایک جان نے ہر بوجھ سہار کر اس کے بدن میں پروان چڑھنے کی ٹھان رکھی تھی۔ اللہ اللہ کر کے یہ نو مہینے گزرے اور ایک رسّی جیسا دبلا پتلا مگر چھوٹا سا من موہنا وجود اس کے جسم سے برآمد ہوا۔ یہ وہ واحد دن تھا جب کریمہ کو لگا کہ وہ بھی زندہ ہے۔ شاید ہر ماں کے لیے یہ دن زندگی کی نوید بن کر آتا ہے۔ اب کریمہ مجبور بے سہارا بیوی نما انسان کے ساتھ ساتھ ایک ماں بھی تھی۔ ماں ہونا شاید دکھوں کے خلاف اس کی پہلی اور آخری جیت تھی جسے سر پر سجائے اس نے زندگی کے بیس مشکل سال گزار دیے۔ پیسوں کے جوڑتوڑ کرکے چند سکے وہ ہر روز اپنی بیٹی کے مستقبل کے لیے بچا کر رکھتی۔ وہ ان پیسوں کو روز نکال کر گنتی اور آنے والے دنوں کی مسرّتوں میں کھو جاتی، پھر واپس کپڑوں کی تہوں میں لپیٹ کر رکھ دیتی۔ پورے دن میں یہی وہ لمحے ہوا کرتے جو اسے خوشی دیتے۔

اب بیٹی کی شادی کے دن قریب تھے اس کی خوشی کا ٹھکانا نہیں تھا۔ وہ تن دہی سے اضافی کام کر رہی تھی۔ کسی کی ماسی نہ آتی تو کریمہ وہاں کام کرتی ملتی،کسی کی جھاڑو، کسی کے کپڑے، کسی کے برتن دھو کر پچاس ساٹھ روپے کی دیہاڑی سے وہ روز دوسو کے قریب اضافی کما رہی تھی اور سب اپنی بٹیا کے لیے جوڑ رہی تھی۔  شادی میں ایک ہی ہفتہ رہ گیا تھا۔ وہ زندگی میں پہلی بار اتنا خوش تھی، پر خوشیاں اسے راس ہی کب تھیں۔ اگلی صبح سے وہ بےخبر تھی کہ وہ کیا رنگ لاتی۔۔۔ اگلی صبح گھر کی خوش گوار فضا پر افسردگی کے گہرےسائے تھے۔ اصغر ایک کمرے میں بے حس و حرکت پڑا تھا۔ وہ اسے زندگی میں کبھی کوئی سکھ نہ دے پایا پر تھا تو اس شوہر ۔ آج پہلی بار وہ شکوہ کناں تھی۔ صبر کا پیمانہ منھ تک بھر کر اب چھلک ہی گیا۔ آنسوؤں کا سیلاب تھا جس میں زندگی بھر کے غم بہہ رہے تھے وہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کس دکھ کا ماتم پہلے لازم ہے ۔ اصغر کی تدفین اور رسومات جیسے تیسے ان پیسوں سے ادا کی گئیں جو بیٹی کی شادی کے لیے قطرہ قطرہ جوڑے تھے۔ رقم میں کمی کے ساتھ ساتھ کریمہ کی امیدیں بھی دم توڑنے لگیں۔  بیٹی کی شادی باپ کے چالیسویں تک ملتوی ہوئی تھی لیکن لڑکے والوں نے کچھ دن بعد بہانہ بنا کر شادی ہی توڑ دی۔ بڑی مشکل سے کریمہ نے ایک اور رشتہ ڈھونڈا۔ وہ جیسے تیسے اپنے فرض سے فارغ ہونا چاہتی تھی۔ نجانے کون سے واہمے اسے اندر ہی اندر دہلا رہے تھے۔ اس نے پہلی بار باجیوں (بیگمات) سے پیسوں کی درخواست کی تھی۔ اسے کسی بھی طرح بیٹی کو رخصت کرنا تھا۔ وہ وقت سے پہلے ہی کمزور اور ضعیف ہوگئی تھی بمشکل ہی ہمت جمع کر پاتی تھی۔

وہ شادی جس کے لیے کریمہ نے اپنی زندگی تیاگ دی تھی، ایسے ہوئی جیسے کوئی بوجھ اتارا جاتا ہے۔ بیٹی کو آنسوؤں اور واہموں میں رخصت کر کے وہ اپنے ایک کمرے کے مکان میں اب بالکل تنہا تھی۔ پوری زندگی جیسے فلم کی طرح یادداشت کے پردے پر دوڑ رہی تھی۔ کیسے زندگی نے قدم قدم پر اسے جھلسایا تھا ،کیسے اس کی زندگی بھر کی ریاضت بے کار ہوئی کہ کبھی ہاتھ نہ پھیلانے والی کو اپنی خودی کو کچلنا پڑا تھا ۔وہ مسلمان ہونے کے باوجود کوئی ایسا عمل بھی نہ کر پائی تھی جس سے اس کا مسلمان ہونا ثابت ہوتا۔ نماز روزہ اور دوسرے مذہبی فرائض تک نہ ادا کرپائی تھی۔ آج پہلی بار اسے احساس ہوا تھا کہ اس نے کبھی کسی سے ہاتھ اٹھا کر مانگا ہی نہیں، اس رب سے بھی نہیں جو دینے پر قادر ہے۔ اسے اللہ یاد آرہا تھا؛ وہ اللہ جس کے صرف عکس سے وہ واقف تھی۔ اسی حساب کتاب میں پوری رات گزر گئی اور صبح کا تارا نمودار ہونے لگا تو غموں اور زندگی بھر کے دکھوں کی تاب نہ لا کر کریمہ کی زندگی کا ستارہ بھی صبح کے ستاروں سمیت کھو گیا۔

اس کی موت ہی اس کی زندگی معلوم ہوتی تھی لوگ اس کے چہرے کا سکون دیکھ کر حیران تھے؛ یہ سکون تو کبھی اس کی زندگی میں بھی نہیں تھا۔ لوگ کیا جان پاتے یہ سکون کس قید سے خلاصی کے بعد آیا ہے۔ کریمہ کے خالی ہاتھوں میں اب ایک ہی دعا بھٹک رہی تھی۔ اس کی بیٹی کا نصیب اس جیسا نہ ہو، اس کی زندگی اتنی تلخ نہ ہو ۔ پر اس کی بیٹی کی نئی زندگی کی ابتدا بھی تو اس کی اپنی زندگی سے مماثل تھی ۔ پر اب کون جانے وقت کس پر پھولوں کی برسات کر کے مہکاتا ہے اور کس پر بارشِ سنگ برسا کر پور پور زخمی کرتا ہے۔

کون جانے۔۔۔!

گل زہرہ طارق
گل زہرہ ترجمہ نویس اور بلاگر ہیں۔ سٹیزن آرکائیوز پاکستان سے منسلک ہیں۔ روزمرہ زندگی کے امور اور پلکے پھلکے موضوعات پر لکھنا پسند کرتی ہیں۔
http://[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کیجیے