سماج نقطۂ نظر

جہیز خوری بند کرو

بچپن سے سنتے آرہے ہیں کہ جہیز ایک لعنت ہے۔ پھر بھی معاشرے میں اس کا چلن کم نہیں ہوا بلکہ اکثر ہی  لڑکے والوں کے اصرار اور لڑکی والوں کی خواہش نے اس رسم کو توانا کیا۔ گذشتہ برس 19 دسمبر 2018ء  کو پاکستان میں خواتین کے لیے کام کرنے والے اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے کی طرف سے فیس بُک اور انسٹاگرام پر ایک تصویر ڈالی گئی۔ تصویر میں مہندی کے ڈیزائن کے اندر لکھا ’جہیز خوری بند کرو‘  کا پیغام بہت واضح  تھا۔ جس کے بعد شوبز سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے اپنے ہاتھوں پر ’جہیز خوری بند کرو‘ کا پیغام چھاپ کر اس مقصد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جہیز سے متعلقہ تشدد بھی ہمارے معاشرے میں نظر آتا ہے، جو خواتین کا سراسر استحصال ہے۔ اب سوشل میڈیا کے دور میں جب دنیا سمٹ کر ہماری مٹھیوں میں آچکی ہے، اس طرح کی مہمات اکثر معاشرتی رویے پر اثر انداز ہوتی نظر آرہی ہیں۔ جیسے رمضان میں مصنوعی مہنگائی کے خلاف مہم نے اچھے اثرات مرتب کیے،  وغیرہ  وغیرہ۔

جہیز کا مسئلہ خاصا متنوع ہے۔ مثال کے طور پر بعض اوقات لڑکے والوں کے مطالبے پر جہیز دیا جاتا ہے،  کبھی لڑکی والے نام نہاد خوشی سے اپنی بیٹی کو سامانِ حیات تفویض کرتے ہیں، یا لڑکے والوں کا مطالبہ نہ ہونے کے باوجود لڑکی والوں کو پتہ ہوتا ہے کہ کس قدر سامان دینا ضروری ہوگا۔ معاشرے میں اکثر افراد اس کے خلاف بات کرتے نظر آتے ہیں لیکن جب ان سے پوچھا جائے کہ آپ نے اپنی بیٹی کو جہیز دیا یا بیٹے کی شادی میں جہیز لیا تو ان کا جواب اثبات میں ہوگا۔ یہ منافقت بھی اس مسئلے کے  حل میں رکاوٹ ہے۔ دوسری جانب حکومتی عدم توجہی جہاں دیگر امورِ ریاست اور معاشرتی مسائل کے حل کی بابت نظر آتی ہے، وہیں  ہمارے مذہبی طبقے کی طرف سے بھی بے اعتنائی دیکھی جاتی۔ حکومت شادیوں پر ون ڈش کا نفاذ کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے تو جہیز کی لعنت سے معاشرے کی جان چھڑانے میں بھی سرخرو ہوسکتی ہے۔ محض جہیز نہ ہونے کی وجہ سے وطنِ عزیز میں خواتین کی ایک بڑی تعداد کے شادی کے سہانے خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوپاتے اور اسی انتظار میں ان کی سیاہ رلفیں چاندی کی چادر اوڑھ لیتی ہیں۔  ایک طرف تو حال ہے تو دوسری جانب صاحب حیثیت اشخاص جہیز کے مطالبوں سے درکنار اپنی خوشی سے بغیر مانگے ڈھیروں اشیا اپنی بیٹیوں کو دینا چاہتے ہیں، بسا اوقات خواتین خود بھی اس بات کی خواہاں ہوتی ہیں کہ والدین ان کے ارمان پورے کریں۔ والدین کے بیٹیوں کی خوشی پوری کرنے میں بظاہر کوئی مضائقہ نہیں ہے ، تاہم اسے چلن بنا لیا جائےاور پھر سفید پوش والدین کو بھی قرض لے کر اپنی لخت ہائے جگر کو  وہ سب کچھ دینے پر مجبور کیا جائے جن سے انھیں سسرال میں نام نہاد توقیر میسر آسکے گی یا ان کے ارمان پورے ہوسکیں گے تو یہ سراسر زیادتی ہے۔ ایسا بھی مشاہدے میں آیا ہے کہ لڑکے والے جہیز لینا نہیں چاہتے اور لڑکی والے دینے پر تُل جاتے ہیں، سخت گیر ی کا یہ ماحول بھی کسی جوڑے کی مدد کرکے خوشنما بنایا جاسکتا ہے۔

دراصل  جب والدین جہیز دینے کی استطاعت رکھتے ہیں تو معاشرے میں اسے اس وقت  برائی سمجھا نہیں جاتا، اس کی حوصلہ شکنی نہیں کی جاتی، اسی بنا پر سماج میں اس روایت کو نہ صرف ہوا ملتی ہے بلکہ اس دور میں بھی یہ سلسلہ روز بہ روز نشو ونما پارہا ہے۔  اگر صاحب حیثیت والدین  نمود نمائش سے بالاتر ہوکر اپنی بیٹیوں کے جہیز  میں تخفیف کرکے کسی ایسے جوڑے کے لیے سامان مہیا کردیں جو اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے  تو یقیناً اس  سے بھی ایک نئی روایت جنم لے گی۔

جہیز تو ایک لعنت ہے ہی مگر اس سے منسلکہ معاملات بھی خاصے سنگین نوعیت کے ہیں، جیسے شادی کو  لڑکے کے لیے اتنا مشکل بنادیا جاتا ہے ایک  عمر گزرجاتی ہے اس دشت کی سیاحی میں، مثلاً، اگر لڑکا ملازمت پیشہ ہے تو اس کی آمدنی کی ایک خاص  حد ہونی چاہیے، جس کا تعین لڑکے والوں کی حیثیت سے ہوتا ہے، حالانکہ اگر لڑکا پڑھا لکھا، خاندانی شرافت کا امین، جدوجہد کرنے والا اور مستقبل کے امکانات سے لبریز  ہے تو شادی جیسے نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہیے، لیکن کبھی آئیڈیل کی تلاش خواتین اپنا وقت ضائع کرتی ہیں تو کبھی ماں باپ کسی گلفام کی تلاش میں اپنی لڑکی کے قیمتی سال ضائع کردیتے ہیں۔   حالانکہ خوشحال مستقبل کی ضمانت تو کسی کے پاس بھی نہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اپنی بچیوں کے لیے خوش و خرم زندگی کے خواب سجائے والدین اکثر بے جوڑ شادیاں بھی کردیتے ہیں، ان کا ماننا ہوتا ہے کہ عمر میں بھلے ہی بیس برس کا فرق ہے مگر ہماری بیٹی کو آسائشیں تو میسر ہوں گی۔ آنکھوں دیکھی مکھی نہ نگلیں  لیکن اللہ پر توکّل کرنا تو سیکھں۔

فی الحقیقت یہ مسئلہ معاشرتی منافقت کا ہے۔ آپ شادی سے پہلے کسی لڑکے یا اس کے ما ں باپ سے پوچھیں کہ کیا آپ جہیز لیں گے تو وہ شاید صاف انکار کردیں لیکن شادی کے بعد جب جہیز کاسامان گھر کی زینت بن چکاہوتا ہے ، پھرپوچھنے پر یہ جواب ملتا ہے کہ لڑکی کے ماں باپ نے اپنی خوشی سے دیا ہے، ہمارا کوئی مطالبہ نہیں تھا۔ آج تک آپ نے ہم نے تو یہ نہیں سنا کہ کہیں جہیز گیا ہو اور لڑکے والوں نے اسے لعنت سمجھتے ہوئے واپس بھیج دیاہوا، بلکہ یہاں تک دیکھا  گیا ہے کہ گھر میں اشیا ئے ضرورت موجود ہونے پر نقدی کی فرمائش زور پکڑ لیتی ہےکہ بچے ہنی مون پر چلے جائیں گے یا اپنی مرضی سے سامان خرید لیں گے۔  جہیز لینے سے منع سب کرتے ہیں انکار کوئی نہیں کرتا۔

یہ تو اکثریت مانتی ہے کہ جہیز دراصل ہندوانی رسم ہے، جس میں  لڑکے کے ماں باپ باقاعدہ  نقدی اور سامان کا مطالبہ کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے بیٹے کو ڈاکٹر بنایا، اس پر لاکھوں روپے خرچ کیے، وغیرہ وغیرہ اور اب ہم اس کی شادی سے وصولی کریں گے۔ یہی وجہ ہےکہ بھارت جہاں دنیا میں ہندوں کی سب سے بڑی تعداد موجود ہے، وہاں  جہیز نہ ہونے کی وجہ سے خواتین کی ایک بڑی تعداد اپنے گھروں میں بیٹھی رہ جاتی ہے۔ حالت تو یہ ہے کہ ماں باپ الٹرا ساؤنڈ میں لڑکی کی شناخت ہونے کے بعد اسقاطِ حمل تک سے نہیں کتراتے تھے، تاہم اب وہاں قبل از پیدائش اولاد کی جنس  جاننا غیر قانونی ہوچکا ہے۔  ہمارے ہاں بھی  صورتِ حال کچھ مختلف نہیں ہے، بلکہ  ایک کمیونٹی میں تو لڑکے کو طلائی زیورات کی کچھ مقدار جمع کرنی ہوتی ہے ، اس سے قبل شادی نہیں ہوسکتی۔ حالانکہ حقِ مہر اس کے علاوہ ہوتا ہے۔

دوسری جانب مذہبی علماء ، مفتیان ِ کرام اور مذہبی سیاسی قائدین کی نظر میں بھی یہ مسئلہ کوئی خاص اہمیت نہیں  رکھتا ، اسی لیے اس ضمن میں ان حلقوں کا کوئی فعال کردار نظرنہیں آیا، کسی جمعے کو جبری  جہیز  کے خلاف میں نے کوئی ریلی نہیں دیکھی،  کسی تقریر میں اور نہ ہی ان کے الیکشن منشور میں اس مسئلے کو اٹھاتے دیکھا ؛ حالانکہ جبری جہیز دینِ اسلام کے سماجی تصورات کے منافی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ زبانی جمع خرچ سے بالاتر ہوکر جہیز کی لعنت کے خلاف ہمیں انفرادی سطح سے جدوجہد کی جائے۔ جہیز محض نقد اور سامان  کا نام ہے، خدارا! اپنی حمیت کو اس کے عوض فروخت نہ کریں۔ ہم سب کو اپنی ذات سے اس کے خاتمے کے لیے تگ و دو کرنا ہوگی ۔ جب عورت کسی مرد کے نکاح میں آتی ہے تو اللہ تعٰالی اس کے نصیب کا رزق اس کے شوہر کو عطا کرتا ہے۔ اپنے زورِ بازو پر بھروسا  کریں ، بصورتِ دیگر قوانین، حکومتی اقدامات اور وعظ سے بھی یہ معاشرتی عفریت ختم نہیں ہوسکے گا اور تنگ دست ماں کی خوشیوں کو نگلتا رہے گا۔

فیضان رحیم
ترجمہ نگار، صحافی، محقق، بلاگر فیضان رحیم رجائیت پسندی پر یقین رکھتے ہیں۔ مطالعہ اور سیاست و سماجی مسائل پر خامہ فرسائی ان کا مشغلہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے