لائف اسٹائل مذہب

انفاق فی سبیل اللہ

انفاق قرآن مجید کی اہم ترین اصطلاح ہے۔ جو صداقت، خیرات، زکوٰة اور صدقہ فطر ان تمام چیزوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ "نفق” اس سرنگ کو کہتے ہیں جس کے دو راستے ہوں۔ اسی سے انفاق کا لفظ نکلا ہےکہ مال ایک طرف سے حاصل کر کے دوسری طرف خرچ کر دیا جائے۔ اللہ تعالی کی شانِ کریمی ہے کہ  وہ ہمارے اندر بہترین صفات پیدا کرنا چاہتا ہےاور بری صفات کو ہم سے دور کرنا چاہتا ہے جب کہ مال کی محبت انسان کے اندر بہت سی بری صفات پیدا کرتی ہے۔اسی لیے اللہ تعالی نے اپنے دیے ہوئے مال میں سے اپنے بتائے ہوئےطریقےکے مطابق دوسروں پر خرچ کرنے کا حکم دیا تا کہ اک طرف تو  ہمارے درجات  بلندہوں۔ اور دوسری حکمت اس میں  یہ ہےکہ مال ودولت کی گردش رہے۔ معاشرے میں دولت کی وہی حیثیت ہے جو انسانی جسم میں خون کی ہے۔ اگر یہ سارا خون دل میں (یعنی مال دار طبقے ) میں جمع ہو جائے تو پورے اعضائے جسم (یعنی عوام) کو مفلوج کر دینے کے ساتھ ساتھ خود دل کے لیے  بھی مضر ثابت ہو گا۔ اور اس کےساتھ معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ہے ۔ اس اعتبار سے مال و دولت اور سرمائے کی گردش انسانوں کے لیے  فائدہ مند ہے۔

یہ جہان پروردگار عالم کی ربوبیت کا شاہکار ہے۔ اس جہان میں قسم قسم کے لوگ، رنگ رنگ کی مصروفیات  میں مگن نظر آتے ہیں ۔ امیر اور غریب ، غلام اور آقا ، بائع اور مشتری، آجر اور اجیر سب ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرنے اور احتیاجات کی تکمیل میں مصروف ہیں۔ یہ سب کچھ یوں ہی کھیل تماشے میں نہیں بن گیا بلکہ اس کے لیے ازل سے فاطر السماوات نے منصوبہ بندی کررکھی تھی ۔ چنانچہ ارشادفرمایا: اس دنیٰوی زندگی میں ہم نے ان کا سامانِ معیشت تقسیم کیا ہے۔ چناں چہ ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت بخشی تا کہ وہ با ہم ایک دوسرے سے کام لے سکیں اور تیرے رب کی رحمت ان سب چیزوں سے بہتر ہے جو یہ جمع کر رہے ہیں۔ (سورۃ الزخرف36)

اسلام کے نقطۂ نظر سے انسان کی فلاح نہ تو اس بات میں مضمر ہے کہ یہ فرق مراتب مٹا دیا جائے اور تمام انسانوں کو معیشت کے اعتبار سے ایک ہی صف میں لا کر کھڑا کردیا جائے اور نہ ہی  کامیابی  اس میں ہے کہ انسانوں کو ادنیٰ اور اعلیٰ طبقات میں تقسیم کردیا جائے۔ پھر ان کے درمیان ایسی مضبوط دیواریں اٹھا دی جائیں کہ ایک دو سرےکے ماحول میں آنا تو درکنار سانس لینا بھی دشوار ہو جائے۔ان دو انتہاؤں کے درمیان انسانیت کے لیے اسلام نےشاہراہ ِمستقیم قائم کی ہے تا کہ کاروبارِ زندگی خوبصورتی سے چلتا رہے۔ انسان باہمی تعاون سے ایک دوسرے کی ضروریات پوری کرتے رہیں ۔ اور اپنے حصے کی معیشت سمیٹتے رہیں۔

معاشرہ انسانوں کے مجموعےسے تیار ہوتا ہے، اس میں طرح طرح کے افراد ہوتے ہیں، صاحبِ ثروت بھی اور غریب، فقرا  اور مساکین بھی۔ صالح اور نیک معاشرےکی ذمہ داری ہے کہ اس کے صاحب حیثیت افراد ان لوگوں کی خبر رکھیں جو خستہ حالی سے دو چار ہیں، جب وہ ان کے اوپر انفاق کریں گے، ان کے مالی مسائل کو حل کریں گے، تو غربا  و مساکین کے اندر بھی تعاون کا جذبہ پیدا ہوگا اور وہ بھی موقع پاکر ان کی مدد کریں۔ اس طرح معاشرے میں انفاق کے ذریعہ تعاونِ باہمی کا جذبہ بھی پیدا ہوگا، اور معاشرہ فلاح و ترقی کی طرف گامز ن ہوگا، برعکس اس معاشرے کے جس کے امرا  تو پیٹ بھر کر سوئیں اور غربا   فاقہ کشی میں مبتلا ہوں، اس معاشرےمیں نہ تو تعاون باہمی کا جذبہ ہوتا ہے اور نہ ہی معاشرہ فلاح و کامرانی اور ترقی کی طرف گامزن ہوتا ہے۔

انفاق حقوق العباد کو ادا کرنے کا بھی ایک اچھا ذریعہ ہے۔ انفاق کرنے سے جہاں ایک طرف حقوق اللہ ادا ہوتے ہیں، وہیں دوسری طرف حقوق العباد بھی ادا ہوجاتے ہیں، ساتھ ہی ساتھ اس میں باہمی الفت و محبت بھی پیدا ہوتی ہے۔ اہل ثروت جب غربا  و مساکین سے مالی تعاون کریں گے تو غربا  کے دلوں میں ان کی عزت و محبت گھر کر لے گی، ا س سے ایک طرف غریبی کا خاتمہ ہوگا، وہیں دوسری طرف الفت و محبت ایک ایسے تناور درخت کی شکل اختیار کرلے گی جس کو باطل ہواؤں کے جھونکے کبھی گرا نہ سکیں گے، اور ان کے دلوں میں کبھی نفرت کے بیج نہ بو سکیں گے۔

انفاق فی سبیل اللہ ایک ایسا کام ہے جس کے ذریعے انسان میں جذبۂ قربانی، ایثار و بے نفسی اوراستغنا  کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ مال و دولت اور دنیا دائمی نہیں بلکہ عارضی شے ہے، مرنے کے بعد کچھ کام نہ آئے گا، اگر کچھ کام آئے گا تو صرف وہ جو اس نے اللہ کی راہ میں خرچ کیا، کیونکہ وہ اللہ کے پاس ذخیرہ ہو گیااسلامی معیشت کی بنیادانفاق فی سبیل اللہ پر قائم ہے ۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اے ایمان والو جو کچھ ہم نے تم کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرو۔ اس سے پہلے کہ وہ دن آ جائے کہ جس میں نہ خریدوفروخت ہوگی نہ دوستی کام آئے گی نہ کسی کی شفاعت سے کچھ حاصل ہو گا ۔ اور جو لوگ اس دین کے منکر ہیں وہی در حقیقت اپنے اوپرظلم ڈھانے والے ہیں۔( سورۃ البقرہ254)

اہل ایمان سے اللہ تعالی کا یہ مطالبہ ہے کہ وہ اپنی جائز آمدن میں سے اپنی ضروریات اپنے اہل  خانہ اور ماتحت افراد کی ضرور یات نیز صلہ رحمی کے تقاضوں کو پوراکرنےکے بعد اوراپنے مستقبل کی نا گزیر پیش بندیوں کے بعد جو کچھ بچ جائےاسے اللہ کی راه میں اعزہ واقارب پر، یتیموں اور مساکین  پر، غلاموں اور ملازمین پرقرض داروں اور حاجت مندوں پر اور معاشرے کے دیگر مفلوک الحال طبقات نیزدین و ملت کے تقاضوں پر اور دفاع وجہاد فی سبیل اللہ پر صرف کریں۔آج ہمارے معاشرے میں جب ا نفاق فی سبیل اللہ کا لفظ بولا جاتا ہے تو عموماً لوگ یہ مراد لیتے ہیں کہ یہ مالداروں پر ضروری ہے، غریب افراد اس سے مستثنیٰ ہیں، حالانکہ اس لفظ میں غریب وامیر سب شامل ہوتے ہیں۔ یہ سوچ غلط ہے کہ ہم مال نہیں رکھتے تو انفاق کیسے کریں گے، مطلوب یہ ہے کہ ہر شخص اپنی حیثیت کے مطابق انفاق کرے اوراس کارخیر میں حصہ لے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں مقدار نہیں بلکہ اخلاص دیکھا جاتا ہے۔ اخلاص کے ساتھ دیا ہوا معمولی مال بڑی بڑی رقموں پر فضیلت رکھ سکتا ہے۔

انفاق کی اہمیت وترغیب

قرآن مجید میں فرمایا گیا: جو لو گ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں،ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات بالیں نکلیں اور ہر بالی میں سو(۱۰۰)دانے ہوں ۔اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے افزونی عطافرماتا ہے۔وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی۔ (سورۃ البقرہ: ۲۶۱)

اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے پر حاصل ہو نے والے اجر و ثواب کو ایک بہترین تمثیل سے واضح کیا گیا۔یقیناًجو بندہ آخرت کے لیے  اور اللہ کی رضا کی خاطر جس قدر خلوص اور گہرے جذبہ سے اس کی راہ میں خرچ کرے گا، اس کو فراخ دست اور باخبر خدا اسی لحاظ سے بڑھا چڑھا کر ایسے زبردست اجروانعام سے نوازے گا جس کا اس دنیا میں ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔

آپؐ نے فرمایا: جہنم کی آگ سے بچو خواہ ایک کھجور کے آدھے حصے کے ذریعے کیوں نہ ہو۔ (بخاری)

مطلب یہ ہے کہ اگرانسان کے پاس مال و دولت نہ ہو تو وہ اگر اخلاص کے ساتھ کھجور کے آدھے حصے کا بھی انفاق کرتا ہے تو اللہ کی نظر میں اس کی بہت اہمیت ہے، کیونکہ صدقہ میں دی ہوئی چیز آخرت کے دائمی بینک میں جمع ہوتی اور محفوظ رہتی ہے۔دنیا کا عام قاعدہ ہے کہ جو چیز خرچ کرو اس میں کمی واقع ہوتی ہے لیکن انفاق کا معاملہ اس کے بالکل برخلاف ہے اس کو خرچ کرنے سے اس میں زیادتی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کا نعم البدل ان کو فراہم کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسی کے متعلق قرآن میں ارشاد فرمایا : اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہرگز ظلم نہ ہوگا۔ (سورۃ الانفال)

اسی طرح ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا: جو کچھ تم (اللہ کی راہ میں) خرچ کر دیتے ہو اُس کی جگہ وہی تم کو اور دیتا ہے، وہ سب رازقوں سے بہتر رازق ہے۔ (سورۃ سبا)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بندے جب صبح کرتے ہیں تو آسمان سے دو فرشتے نازل ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک کہتا ہے کہ اے اللہ! جو تیری راہ میں خرچ کرے اسے اس کا بدلہ عطا فرما اور جو بخل کرے اور دولت روک کر رکھے اسے برباد کردے۔

اس حدیث سے اس بات کی بھی وضاحت ہوجاتی ہے کہ جہاں ایک طرف اللہ تعالیٰ نے انفاق کرنے والوں کے انعام و اکرام اور فضیلت کو بیان فرمایا، وہیں دوسری طرف بخل سے کام لینے والے کا انجام بھی بتادیا۔

کس پر انفاق کیا جائے؟

قرآن مجید ارشاد ہے: ترجمہ:لوگ پوچھتے ہیں کہ ہم کیا خرچ کریں؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے، اللہ اس سے باخبر ہوگا۔ (سورۃ البقرۃ 215)

مذکورہ آیت ہماری رہنمائی کرتی ہے کہ انفاق کی ابتدا اہل وعیال  سے کی جائےچنانچہ ایک حدیث میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:اے ابن آدم !تیرے لیے اپنی ضرورت سے زائدچیز کا خرچ کرنا ہی بہتر ہے اور ضرورت سے زائد چیز کو روکے رکھنا تیرے لیے بُرا ہے اور بقد ر ضرورت اپنے پاس رکھنے پر تجھے کچھ ملامت نہیں ہے پہلے ان پر خرچ کرو جو تمہارے زیر کفالت ہیں اور (یادرکھو) اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔(مسلم، ترمذی)

سارا نہیں بلکہ ضرورت سے زائد مال خرچ کرنے کا حکم ہے

یہ دنیا دار الاسباب ہے اوراللہ تعالی ہی نے ہمیں  اسباب اختیار کرنے کا حکم دیا ہے، مال ودولت بھی دنیاوی اسباب ہیں اسی وجہ سے ہمیں پورے مال کو انفاق کرنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ جو ضرورت سے زائد ہو اسے خرچ کرنے کا حکم دیا گیا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے: وہ آپ سےپوچھتے ہیں: ہم راہ خدا میں کیا خرچ کریں؟ کہو: جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح اللہ تمہارے لیے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے، شاید کہ تم  غوروفکر کرو۔ (سورۃ البقرۃ 219)

شیطانی وساوس :

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شیطانی وساوس کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

شیطان تم کو فقر وفاقہ سے ڈرا تا ہے اوربے حیائی کا حکم دیتا ہے، لیکن اللہ تم سے رحمت و مغفرت کا وعدہ کر رہا ہے اور اللہ بہت کشادہ اور جاننے والا ہے۔ (سورۃ البقرہ: ۲۶۸)

یہ آیت شیطانی و سا وس کی حسین منظر کشی کرتی ہے۔ شیطان ہر آن اس کوشش میں ہوتا ہے کہ بندہ دنیا اور مال کی محبت میں گرفتارہواور یہ کہتے ہوئے ڈراتا ہے کہ اگر تم اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کروگے تو یہ تمہارا مال گھٹتا جائے گا اور تم فقر و ناداری میں مبتلا ہوجاؤگے،جبکہ اللہ نے بندہ کو ترغیب دلائی کہ راہ خدا میں مال  خرچ کرنے سے مغفرت اور فضل دونوں چیزیں دی جائیں گی، بندہ سوچتا ہے کہ ابھی تو میرے پاس بہت قلیل رقم ہے جس سے میری اپنی ضروریات ہی پوری نہیں ہو تیں جب کشادگی ہوگی اور ضروریات سے زائد مال ہو گا تو راہ خدا میں خرچ کریں گے۔ یہ وسوسہ شیطان دل میں ڈالتا ہے، اس وسوسہ کے شکا ر لوگ کبھی بھی اور کسی بھی وقت اپنے آپ کو اس حا لت میں محسوس نہیں کرتے کہ وہ اپنے علاوہ دوسروں پر خرچ کریں۔ اسی لیے  اللہ تعالیٰ نے ہماری رہنمائی فرمائی کہ یہ خیال جو تمہارے دل میں آچکا ہے وہ شیطان کا ڈالا ہوا ہے اور تم اس سے اسی وقت بچ سکتے ہو جبکہ شیطان سے دوری اور اللہ سے قربت اختیارکرو۔اور اللہ سے قربت کا بہترین ذریعہ انفاق فی سبیل اللہ ہے۔

نام ونمود کے لیے انفاق

راہ خدا میں انفاق کرنا پسندیدہ عمل ہے، لیکن اس عمل کو اتنا ہی محتاط طریقے سے انجام دینا چاہیے، ذرا سی غفلت آپ کی ساری کمائی کو بے وقعت بنا سکتی ہے اور آخرت میں الگ اس کے انجام سے دو چار ہونا پڑے گا۔ انفاق کرتے وقت ذرا بھی نام و نمود، شہرت، دکھاوا، یا کسی بھی طرح بلندی کا احساس آپ کے اندر نہ ہو، صرف خدا کی رضا جوئی ہی مقصود ہو تو آپ کا عمل قابل قبول ہوگا ورنہ اس کا کوئی فائدہ نہیں، سورۃ البقرہ میں ارشاد فرمایا گیا: جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں پھر اپنے اس انفاق کے پیچھے احسان او رایذا کی آفت نہیں لگا دیتے ان کا صلہ ہے ان کے رب کے پاس نہ ان کے لیے  کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے، ہمدردی کا ایک کلمہ اور بخش دینا بہتر ہے اس صدقہ سے جس کے پیچھے دل آزاری ہو، اور اللہ بے نیاز اور علیم ہے۔ اے ایمان والو! تم اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دل آزاری کرکے باطل نہ کرو اس شخص کے مانند جو اپنا مال دکھانے کے لیے  خرچ کرتا ہے اور اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اس شخص کی تمثیل ایسی ہے جسے ایک چٹان ہو، جس پر کچھ مٹی ہو اور اس پر بارش ہو جائے اور اس کو بہا کر چٹان کو چٹیل چھوڑ دے ایسے لوگوں کو ان کی کمائی سے کچھ بھی ملے نہ پڑے گا اور اللہ کا فروں کوراہ یاب نہیں کرتا۔ ( البقرہ ۲۶۲؍تا ۲۶۴)

ان آیات سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو انفاق کرنے کے بعد احسان جتائیں اور نام و نمود کے خواہشمند ہوں۔ ان کے لیے  یہ سودا بجائے نفع کے خسارے کا سودا ہوگا۔ یہ مال و دولت جو کہ اللہ کا دیا ہوا ہے بغیر اس کی رضا کے تم نے اپنے آپ سے اس کو حاصل نہیں کیا ہے اس لیے  اس کو اسی کی مرضی کے مطابق خرچ ہونا چا ہئے۔

اللہ تعالیٰ  کی راہ میں صرف پاکیزہ مال خرچ کرو

ترجمہ:اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے، اُس سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو ایسا نہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لیے بری سے بری چیز چھانٹنے کی کوشش کرنے لگو، حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمہیں دے، تو تم ہرگز اُسے لینا گوارا نہ کرو گے الّا یہ کہ اس کو قبول کرنے میں تم اغماض برت جاؤ تمہیں جان لینا چاہیے کہ اللہ بے نیاز ہے اور بہترین صفات سے متصف ہے۔ (سورۃ البقرۃ 267)

ریا کاری کے بغیراللہ تعالیٰ  کی راہ میں علانیہ اور خفیہ دونوں طرح مال خرچ کرنا صحیح ہے

ترجمہ:تم نے جو کچھ بھی خرچ کیا ہو اور جو نذر بھی مانی ہو، اللہ کو اُس کا علم ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں اگر اپنے صدقات علانیہ دو، تو یہ بھی اچھا ہے، لیکن اگر چھپا کر حاجت مندوں کو دو، تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے تمہاری بہت سی برائیاں اِس طرز عمل سے محو ہو جاتی ہیں اور جو کچھ تم کرتے ہوئے اللہ کو بہر حال اُس کی خبر ہے ۔ (سورۃ البقرۃ 270-271)

اللہ تعالیٰ  کی راہ میں دن رات مال خرچ کرنے والےخوف وحزن سے آزاد ہونگے

جو لو گ اپنے مال شب و روز کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور اُن کے لیے کسی خوف اور رنج کا مقام نہیں۔ (سورۃ البقرۃ 274 )

اللہ تعالیٰ  کی راہ میں مال خرچ کرنے والا اور خرچ نہ کرنے والا برابر نہیں

اللہ ایک مثال دیتا ہے ایک تو ہے غلام، جو دوسرے کا مملوک ہے اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا دوسرا شخص ایسا ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق عطا کیا ہے اور وہ اس میں سے کھلے اور چھپے خوب خرچ کرتا ہے بتاؤ، کیا یہ دونوں برابر ہیں؟ الحمدللہ، مگر اکثر لوگ (اس سیدھی بات کو) نہیں جانتے۔(سورۃ النحل 75)

اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے والے ایسی تجارت کر رہے ہیں جس میں ہرگز خسارہ نہیں

جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے اُنھیں رزق دیا ہے اس میں سے کھلے اور چھپے خرچ کرتے ہیں، یقیناً وہ ایک ایسی تجارت کے متوقع ہیں جس میں ہرگز خسارہ نہ ہوگا۔(سورۃ فاطر 29)

محمد عثمان طاہر
محمد عثمان طاہر گذشتہ 7 برسوں سےشعبۂ درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔ کراچی یونی ورسٹی سے اسلامیات میں ایم اے کیا ہے۔ مختلف تعلیم گاہوں میں تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔

3 thoughts on “انفاق فی سبیل اللہ”

  1. ماشا اللہ ! عثمان طاہر صاحب
    بہت اچھا اور معلوماتی مضمون لکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علم میں برکت عطا فرمائے۔ آمین

اپنی رائے کا اظہار کیجیے