طنز و مزاح نقطۂ نظر

ہم تو ایسے ہیں بھیا !

ہاں! تو اب ہم کیا کریں۔ ہماری کوئی کل جو سیدھی نہیں۔ یہ صرف ہمارا کہنا نہیں۔ ہمارے بڑوں کا کہنا ہے۔ سارا آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ نانی کا کہنا تھا کہ یہ چاند گرہن کا فتور ہے۔ اماں نے کروٹ جو بدل لی تھی۔

اب آپ دیکھیں۔ بکرا عید کو ہم نے کبھی بقر عید نہیں کہا۔ یہ تو بکریوں کی عید ہے ورنہ تو بکرے کی ماں کی شامت سال کے بارہ مہینے رہتی ہے مگر اس عید پر جو ان کی سجاوٹ اور بناؤ سنگھار ہوتا ہے ایسا تو ہماری اماں نے بھی کبھی ہمارا نہیں کیا تھا۔ بکریوں کے پاؤں میں گھنگرو با ندھ کر ان کی دلہنوں والی چال کی وجہ سے ہی تو انھیں ولیمےکی دلہن کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ تو ہم نے کیا غلط کہا۔

رمضان کو صرف رمضان کہنے پر نانی بگڑتی تھیں۔

اے بی!رمضان شریف کہو یا رمضان المبارک کہو۔ اس کے بعد ہم نے اپنے ڈرائیور کو ہمیشہ رمضان شریف ہی کہا اور نام لیتے ہوئے سر پر دوپٹہ رکھا۔

اب کل ہی کی بات ہے۔ ٹی وی اینکر نے بقرعید کو بڑی عید کہا ۔ اب بڑی یا چھوٹی عید۔۔۔ کیا معنی۔۔۔ عید تو عید ہے۔ اور ویسے بھی عید مؤنث ہے اور خواتین کو بڑی کہلوانا کیا کبھی پسند آیا ہے بھلا!

ہم نے اینکر پرسن کو فون کرکے ان کی توجہ اس طرف دلائی تو فرماتے ہیں ‘جب عمران خان قیادت کو قیامت کہہ جاتے ہیں تو کیا ہم اتنا بھی نہیں کہہ سکتے۔’ اب ہم ان کو اس کی باریکی کیا سمجھاتے کہ قیادت اور قیامت درپردہ ایک ہی لفظ ہیں۔

کل سے ہمارے گھر میں ایک تناؤ کی سی کیفیت ہے۔ عید کی صبح ہم نے میاں کے کپڑے نکال کر ہینگر میں لٹکا دیے تھے۔ وہ سمجھے کہ ہم نے غلطی سے جھاڑن کو ہینگر میں ڈال دیا۔ ان کے چیں بجبیں ہونے پر ہم نے وضاحت کی کہ آپ کو نیا سوٹ پہن کر کیا خون میں نہانا ہے! اس عید پر تو یہی سوٹ مناسب ہے۔ وہ بے چارہ اللہ کا بندہ سمجھ نہیں پایا اور الجھتے ہوئے برمودہ نیکر اور بنیائن پہن کر چلا گیا۔ لوگوں نے تو قصائی سمجھ کر ان کی خوب آؤبھگت کی مگر۔۔۔ آگے آپ خود سمجھ دار ہیں!

ہم کو کوئی آج تک سمجھ نہیں سکا، یہ ہمارا ماننا ہے۔ یہ اور بات آج کل ہر ایک کا یہی ماننا ہوا کرتا ہے۔ بہرحال ہماری بڑی بہنیں ہماری طرف یوں دیکھا کرتی ہیں جیسے ہمارے دماغ میں کوئی فتور ہو۔ ہم کیا کریں، کرتے ہیں تو اچھے کی نیت سے لیکن اکثر و بیشتر ہمارے ” عمل ” کا دارومدار ہماری نیت پر نہیں ہوتا۔

ہم لندن میں تھے۔ کوئی دس پندرہ عورتیں اور بچے۔ کھانا پکا نے کی ذمہ داری ہمیں دی گئی۔ ہم نے آلو انڈے بنائے اور اس میں اچار مسالہ ملا دیا۔ مقصد یہی تھا کہ چٹ پٹا بن جائے۔ پھر راشدہ سے گڑانبہ ذرا بگڑ گیا، ہم نے نہ صرف انتہائی مخلصانہ مشورہ دیا کہ اچار مسالہ ڈال دو چاشنی پیدا ہو جائے گی بلکہ جھٹ لپک کر گئے اور خود ہی اچار مسالہ ڈال دیا۔ اس دن سے ہمارے سامنے سے اچار کا جار اور اچار مسالے کے ڈبے ہٹا لیے گئے ہیں۔

اب ہم کیا کہیں، لگی لپٹی کے ہم قائل نہیں۔ صاف اور کھری بات منھ پر کہہ دیتے ہیں اور لوگ برا مان جاتے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ وہ ہماری نیک نیتی پر غور کریں، پر نہ جی! انھیں بس یہی تو نظر نہیں آتی۔ لے دے کے ہمیں منھ پھٹ کہہ دیتے ہیں۔ کہا کریں۔ ہم بھی برا نہیں مانتے۔

ہماری سہیلیاں ہمیں بڑی احتیاط سے (منھ سنبھال کے!) بات کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم ایسا کیوں کریں۔ کل دردانہ نے اپنی پوتی کے کپڑے پہن لیے اور اسکول چلی آئیں۔ چلو وہ خود ہم سے نہ پوچھتیں تو بہتر تھا۔ ہم بھی خاموش رہتے۔ مگر انھوں نے پوچھا اور ہم نے انھیں صاف صاف بتا دیا تو اس میں ہمارا کیا قصور؟

ہم تو ایسے ہی ہیں۔ مانا ہر مشکل کا حل ہمارے پاس ہے لیکن بنا مانگے تو ہم نہیں دیتے ناں کسی کو مشورے۔ نہ خواہ مخواہ ہم کسی کے کہے سنے کی کوئی ٹینشن پالتے ہیں۔ ایک تو لوگ ہمیں سمجھتے نہیں، اور ہماری طرف یوں شک بھری نظروں سے دیکھتے ہیں گویا ہم صحیح الدماغ نہیں۔

سیدہ رابعہ
اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں میں تدریس کا 50 سالہ تجربہ لیے سیدہ رابعہ ماما پارسی اسکول کے شعبۂ اردو کی ڈین بھی رہ چکی ہیں۔ رنگوں اور اسکیچنگ میں دل چسپی رکھتی ہیں اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بلاگنگ اور کالم نگاری بھی ان کا مشغلہ ہے۔ باغ و بہار سی شخصیت جن کی معیت میں آپ کبھی بور نہیں ہوسکتے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے