طنز و مزاح نقطۂ نظر

محبِ محترم المعروف گَشت والی سرکار – ایک نامکمل خاکہ

چہرہ بھرا بھرا، نقش متناسب، ہنستی بولتی سرمہ بھری آنکھوں میں شرارت کی چمک، سفید گھنی داڑھی میں خال خال لہریے دار سیاہی، فربہ جسم مائل بہ مزید فربہی، چال میں وقار، ڈھال میں عہدے کا خمار، پیٹ میں ڈکار۔ زرد چارخانے کا رومال،  کندھے پر ڈال لیں تو یوں لگے ابھی ابھی تہتر  کے آئین کے تناظر میں سرحد پار سے ڈیزل و  ڈیزلی ہو کر آ رہے ہیں۔ یہی ہیں ہمارے ممدوحِ  مکرم۔

موصوف کو ہم تب سے جانتے ہیں جب خود کو بھی ٹھیک طرح سے جاننا شروع نہیں کیا تھا گویا، نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں، والا معاملہ ہے۔ فسٹ ایئر فُول سے فُول پروف بننے تک کے اس سفر میں کیا کیا پڑاؤ نہیں آئے، زیرِ تعمیر شاہراہِ ریشم کے کمر توڑ دھکوں سے ہو کر گلگت کی کنکریلی سڑکوں پر گشت آئے، الحیات ہوٹل راولپنڈی میں طویل قیام آیا، َرکھ چراگاہ کی مہندی والے ریتیلے کھیتوں میں قرار آیا، مونا کی چلچلاتی دوپہروں میں شاہ پور برانچ میں الٹی سیدھی چھلانگیں آئیں، بنکاک کی رنگین دنیا میں ہمارے ممدوح کے سینے کے بالوں کی طرف اٹھتی نگاہیں آئیں۔ پتھم تھانی کی کلونگ کے کنارے والے ولیج میں تھائی نار کے ساتھ چیکو کے ناشتے آئے، پت پانگ کے عصیانی فٹ پاتھوں پر شوق کے سجدے آئے۔ اس کے باوجود اگر کوئی پوچھے تو سچ تو یہ ہے کہ کچھ بھی تو نہیں جانتے ممدوح مکرم کے بارے میں  کہ ان کی شخصیت ایسی ہے مانیں  ‘ ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں’۔ یہ البتہ آج تک معلوم نہیں ہو سکا تغیر زمانے میں زیادہ ہے یا ہمارے ممدوح میں۔ زمانے  کے بارے میں اکثر سیانوں سے سن رکھا ہے کہ زمانہ قیامت کی چال چلتا ہے مگر ہمارے ممدوح کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ زمانے کے ساتھ بھی قیامت کی چال چل جاتے ہیں۔ 

اپنی جملہ کوتاہ علمی اور بے خبری کے باوجود ہم میں  اور ہمارے ممدوح میں کئی قدریں مشترک ہیں؛  مثلاً انھیں  گشت پسند ہے تو ہمیں مٹرگشت، یہ ڈالر کے اسیر ہیں تو ہم ڈالر گزیدہ۔ ڈالر کی محبت نے ہمیں چلچلاتی دھوپ سے اٹھا کر کپکپاتے برف زاروں میں لا پھینکا ہے تو ڈالر ان کی محبت کے اسیر ہو کر ان کی شیروانی کی جیبوں میں عافیت تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ ہم بنکاک کی ناریوں کو للچائی نظروں سے دیکھتے تھے تو تھائی ناریاں ان کے سحر میں مبتلا نظر آتی تھیں۔ بنکاک میں ان کے ساتھ کے کمرے میں شب بسری کرنے آنے والی تھائی ناری کو ان کے سامنے ناشتے کی میز پر بیٹھے دیکھنے کا منظر آنکھوں میں بھرنے کے لیے ہم اپنا ناشتہ بھول جاتے تھے اور وہ مسحور حسینہ ان کے سینے کے گھنے بالوں میں راسپوٹین کو ڈھونڈھتی رہتی تھی۔

کہتے ہیں سفر وسیلۂٴ ظفر ہوتا ہے مگر ہمارے ممدوح نے اس محاورے کا منظر تو کیا پس منظر ہی بدل ڈالا ہے۔ ان کے لیے  یہ محاورہ ’گشت وسیلہٴ ظفر‘ ہے‘۔ اسی گشت کے وسیلے سے انھیں  گھر بھی ملا،  گھر والی بھی اور ریاض بسرا سے نسبت بونس میں۔ اندر کی ماہیت میں کیا فرق آیا یہ جاننے کا موقع ملا نہ ضرورت محسوس ہوئی- ویسے بھی اندر کی بات کے بارے میں کہنے کا ہمارا مقام اس لیے  نہیں ہے کہ اس کے تار کہیں اور ملے ہوتے ہیں اور جس سے تار ملے ہوں وہی بہتر جانتا ہے کہ تار میں بجلی دوڑ رہی ہے تو کتنی، اس کا وولٹیج دو سو بیس ہے یا چار سو بیس۔ 

ہمارے ممدوح نے زکریا مسجد لائل پور سے گشت تب شروع کر دیا تھا جب ابھی ان کی مسیں بھی نہیں بھیگی تھیں۔ تب سے اب تک حالتِ گشت میں ہیں۔ یہ الگ بات کہ اب ہوائ گشت زیادہ کرتے ہیں۔ گشت ان کے لیے  تصویرِ یار کی طرح ہے جب کبھی گردن جھکائی دیکھ لی۔ تین دن کی رخصتِ گشت لی، شیروانی پہنی، دائیں جیب والا پاسپورٹ نکال کر باہر رکھا، بائیں والا اندر ہی رہنے دیا اور یہ جا وہ جا۔۔۔۔۔ اسے پنجابی میں کہتے ہیں حج دا حج تے وپار دا وپار،  یعنی گشت کے ارادے کا ثواب الگ سے اور گشت کے نتیجے میں ڈالروں کی بھرمار الگ سے۔

ہمارے ممدوح یوں تو مضبوط جسم، مضبوط ذہن اور مضبوط دل کے مالک ہیں مگر ان کی سب سے بڑی خوبی ان کے مضبوط کندھے ہیں جن کا استعمال وہ اس مہارت سے کرتے ہیں کہ زد میں آنے والا شخص بھی عش عش کر اٹھتا ہے اور اس وقت تک کرتا رہتا ہے جب تک کسی اور کو ان کے کندھوں کا نشانہ بنتے نہیں دیکھ لیتا۔ پھر وہ اپنی تکلیف بھول کر موصوف کو یہ کہتے ہوئے بے اختیار داد دینے پر مجبور ہو جاتا ہے ’تک اوہ پیا جاندا ای‘۔

طاقت کے کھیل میں سب سے زیادہ اہمیت طاقت کے حصول اور طاقت کے استعمال کو حاصل ہے۔ ہمارے ممدوح کی طاقت کا راز ان کے طوطے میں ہے جس کا نام ڈالر ہے۔ ایک سنہرے پل میں دوستوں کی بھرپور مدد سے وہ طوطا ان کے ہاتھ آ گیا۔ یہ طوطا ہمارے آنے تک ان کے پنجرے میں پھڑپھڑا رہا تھا۔ سنا ہے اب اڑ کر نئی منڈیر پر بیٹھ گیا ہے مگر اب بھی پرانی شناسائی کے حوالے سے دُوروں  دُورو اکھیاں مارنے سے باز نہیں آتا۔

محبِ محترم محبت کرنے والی شخصیت ہیں۔ جاندار اشیا سے تو ہر کوئی محبت کر لیتا ہے،سو انھیں  بھی ہے۔ مگر ان کا اصل وصف بے جان اشیا سے محبت ہے۔ اسی لیے  وہ سب سے زیادہ محبت بھی ڈالر سے کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمہ وقت اور بیک وقت سب سے زیادہ جان دار و بے جان چیز  ڈالر ہے، اور یہی وہ چیز ہے جس کی ایک ہی جھلک پر، بقول ایک امریکی کے، کوئی بھی اپنی سب سے زیادہ قابلِ احترام چیز بھی فروخت کرنے پر تیار ہو جاتا ہے۔ واقعتاً یہ بات بالکل غلط ہے کیونکہ کرنے والوں نے ہر دور میں صرف ان اشیا کو ڈالروں کے عوض فروخت کیا ہے جن کے نام کے ساتھ ’مطلوب‘ لگتا ہے۔ بہرحال ہر دور کےاپنے تقاضے ہوتے ہیں اور ڈالروں سے بڑھ کر اور کیا ’تقاضا‘ ہو سکتا ہے۔ 

بارٹر سسٹم کے تحت موصوف سے تعلق ہمارے بھی اتنا ہی کام آیا جتنا ہم ان کے کام آتے رہے لیکن وہ خود پر کمال کا اختیار رکھتے ہیں اور بوقتِ ضرورت لب و لہجہ ہزار رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ ہمارے ازلی دوست ہیں اور دوست بھی ایسے کہ کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے ، تو بتائے نہ بنے۔

ظہیر پراچہ
”نہ تو زہر ہلاہل کو قند کہنے کا مرض ہے اور نہ لائکس کی تمنا “ زندگی کی چاشنی میں حقائق کی تلخی سے گندھے ، سماجی ناہمواریوں، نیز دیہی زندگی کے مسائل کے 20 سالہ قریبی مشاہدے، زرعی تحقیق کے میدان میں ملازمینِ سرکار کی رفاقت کے تجربے کے ساتھ ساتھ جہاں گردی اور لکھنے کے شغف کا حامل ،” ایک ستریا بہتریا “

اپنی رائے کا اظہار کیجیے