لائف اسٹائل نقطۂ نظر

یومِ والد اور ایک باپ کے احساسات

یومِ والد یا یومِ پدر (فادرز ڈے) پر عموماً تحاریر اپنے والد کے نام ہوتی ہیں۔ یہ مختصر سا اظہارِ خیال ایسا نہیں ہے۔ یہ بطور والد اپنے احساسات کا اظہار ہے۔

مجھے اپنی اولاد سے بے حد محبت ہے۔

یقیناً سبھی والدین کو ہوتی ہے۔

لیکن مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب کے والدین اپنی اولاد سے زیادہ محبت کرتے ہیں۔ نجانے کیوں! کیا اس لیے کہ اب والدین اور اولاد کے درمیان تعلق کی نوعیت خاصی تبدیل ہوگئی ہے اور اُس میں دوستی کا عنصر زیادہ شامل ہوگیا ہے، یا واقعی نئی نسل کو اپنی اولاد سے محبت زیادہ ہے۔

ہمارے والدین بننے سے پہلے جو والدین تھے/ہیں، اُن کا اپنی اولاد سے تعلق محبت کے ساتھ ساتھ رعب اور دبدبے کا بھی تھا۔ اُس میں رکھ رکھاؤ تھا، فاصلہ تھا۔ بے تکلفی نہیں تھی۔ اب اس میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔

والدین اور اولاد کے حوالے سے ایک اور نمایاں تبدیلی بھی مجھے محسوس ہوتی ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ اب باپ اپنی اولاد سے زیادہ قریب ہوگئے ہیں۔ اُن سے زیادہ محبت کرنے لگے ہیں۔ اُن کی زیادہ فکر کرتے ہیں۔ اُنھیں زیادہ وقت دینا چاہتے ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ میں باپ بننے کے بعد اپنی اولاد کے لیے جو محبت محسوس کر رہا ہوں، اُس کے آگے مجھے اپنے والدین کی محبت اور توجہ کم لگ رہی ہے۔ میں نے کئی رشتے دار اور جان پہچان والے باپوں کے رویوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ یہاں تک کہ میں نے نوجوان ماؤں کو طنزاً اپنے شوہروں سے یہ کہتے ہوئے بھی سنا ہے کہ آپ کو ماں سے زیادہ اولاد کی مامتا ہے۔ لیکن آج کے والد اپنے بچوں میں لڑکے اور لڑکی کی تخصیص نہیں رکھتے اور ان سے یکساں طور پر دوستوں کی طرح برتاؤ کرتے ہیں، ان کے ساتھ کھیلتے اور وقت گزارنا چاہتے، انھیں اپنے سامنے بڑھتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے چھوٹے چھوٹے کام اپنے ہاتھ سے کرنا چاہتے ہیں اور ان کی تربیت کے عمل میں بھی برابر سے شریک ہوتے ہیں۔

آپ کو کیا لگتا ہے؟ کیا واقعی ایسا ہے؟

 

عمار ابنِ ضیا
عمار ضیا مصنف، مترجم، بلاگر، ایڈیٹر اور صداکار ہیں۔ ہمہ صفت موصوف عمار ضیا https://www.televistan.com/ کے نام سے ویب سائٹ اور یوٹیوب چینل کے خالق بھی ہیں۔
http://ibnezia.com

اپنی رائے کا اظہار کیجیے