سماج نقطۂ نظر

فیشن اور سماج

پاکستانی معاشرہ بڑی حد تک اسلامی معاشرہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ آبادی کی اکثریت مسلمان ہے ۔ گو کہ یہاں دیگر مذاہب کے لوگ بھی ہیں ۔ نیز مسلمان آبادی بھی مختلف مکتبۂ فکر و زبان و ثقافت سے تعلق رکھنے والے افراد میں بٹی ہوئی ہے یہی وجہ ہے کہ ہمیں فیشن کے حوالے سے بھی خاصا تنوع اور رنگا رنگی نظر آتی ہے۔ کہیں فیشن مذہب کے رنگ میں رنگا ہے تو ساتھ ہی مغربی فیشن بھی قبولِ عام حاصل کر رہا ہے۔ کچھ قدامت پسند لوگ بھی ہیں جو ہر قسم کے فیشن کو بےحیائی کا نام دیتے ہیں ۔ اکثریت کے نزدیک صرف وہی لباس اور انداز اچھے ہیں جو انھوں نے اپنائے ہیں اور اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے وہ بےحیائی ہے۔ لیکن کیا یہ درست ہے؟

میرے نظریات اور خیالات بالکل اس کے برعکس ہیں، مجھے لگتا ہے کہ جو لوگ کسی کے بھی انداز و اطوار کو کسی انداز میں بےحیائی کا نام دیتے ہیں وہ بھی اپنے کسی نہ کسی انداز میں اسے اپنا بھی رہے ہوتے ہیں۔ کوئی لباس جو رواج میں نہ ہو تو بےحیائی لگتا ہے جب سب ہی پہننے لگیں تو کسی کو بھی اسے اپنانے میں بےحیائی محسوس نہیں ہوتی۔ کبھی لمبی ٹخنوں کو چھوتی عبایہ نما قمیضوں کا فیشن تھا تو مختصر اور گھٹنوں سے اونچی قمیض بےحیائی لگتی تھی لیکن اب یہ عام ہے۔ چوڑی دار پاجامہ کسی کو مشرقی روایت کا علم بردار لگتا ہے تو ٹائٹس پہننا بے حیائی جبکہ دونوں میں کچھ خاص فرق بھی نہیں۔ اس کو بے حیائی کا نام دے رہے ہیں کہی نہ کہی یہ سب ہمارے ہی ہاتھوں بے حیا ہوئے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ لباس سے زیادہ حیا اور بے حیائی کا کانسیپٹ ہمارے ذہن میں کہیں پیوست ہوتا ہے جسے ہم نے لباس اور انداز سے منسلک کر کے بالخصوص خواتین کو پابند کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ اگر کوئی آج کوئی اونچی قمیض یا پینٹ یا روایتی کپڑوں سے الگ کوئی فیشن اپنایا ہے تو ضروری نہیں کہ وہ بے حیائی ہی ہو۔ اگر کوئی لڑکی بغیر سر ڈھکے جاتی ہے یا کوئی پوری پردے میں تو وہ کسی صورت بھی برائی پھیلانے یا شہوت انگیزی کی ذمہ دار نہیں کیونکہ برائی کے لیے سر ڈھکا یا کھلا ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہمارے سماج میں جہاں زینب جیسی ہزاروں بچیاں انسانی ہوس کا شکار ہوجاتی ہیں انھوں نے کوئی بے ہودہ یا شہوت انگیز لباس زیب تن نہیں کیا ہوتا نہ ہی وہ ہزاروں لڑکیاں جو روز کسی ایسی انسانی ہوس کا شکار بنتی ہیں وہ بھی غلط لباس زیب تن کیے ہوتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کپڑے نہیں سوچ تبدیل کی جائے۔

فیشن کوئی برا نہیں ہوتا اگر وہ باوقار ہو ۔ فیشن اپنانا اور معاشرے کے کے ساتھ چلنا سماجی تقاضا بھی ہے اور خود انسان بھی پسندیدہ لباس و انداز میں خود کو پُراعتماد محسوس کرتے ہیں یو ں کام میں تخلیقیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ ہمارے روایتی فیشن ہوں یا نئے زمانے کے انداز ان کے امتزاج سے ہی آج پاکستانی فیشن تخلیق ہو رہا ہے جو دنیا بھر میں پاکستان کے علیحدہ تشخص کو اجاگر کرتے ہیں۔ آج کے جدید دور میں جہاں انسانی زندگی بہت فاسٹ ہوچکی ہے وہاں فیشن ایک اہم ضرورت کے طور پر سامنے آیا ہے بچوں سے لے کر ضعیفوں میں بھی اس کا رجحا ن بڑھ رہا ہے۔ پرانے لباس و انداز کو کار آمد بناکر اسے ایک نیا انداز بھی دیا جاتا ہے اور نئے نئے ڈیزائنز بھی تخلیق کیے جارہے ہیں۔ پبلک ڈیمانڈ ہی ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں روزانہ کی بنیاد پر نئے نئے ڈیزائنرز سامنے آرہے ہیں۔ شادی کی تقریب ہو یا عیدین ، خوشی کا موقع ہو یا غم کا عرصہ، کاروباری میٹنگ ہو، لنچ، ڈنر، یا کوئی رسمی و غیر رسمی گیٹ ٹو گیدر ہر جگہ کے اعتبار سے الگ الگ لباس و زیورات کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ جیسے لوگوں کی طلب بڑھ رہی ہے وہیں مارکیٹیں بھی رنگ برنگ سامانِ فیشن سے پٹی پڑی ہیں۔ مارکیٹ میں ہمیں ہر طرح کی ورائٹی مل جاتی ہے۔

جہاں فیشن باعثِ تسکین و خوشی ہے وہیں ہمیں کچھ خرابیاں اور نقصانات بھی نظر آتے ہیں۔ جیسے ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ کہیں کسی چیز کا فائدہ ہوتا ہے تو کہیں کچھ نقصان بھی ہوتے ہیں ۔آج کے ماڈرن دور میں ہمارا معاشرہ فیشن اور سجنے سنورنے کو ترقی کی معراج سمجھنے لگا ہے۔ انسانی عزت کا معیار اس کی سیرت و اخلاق سے بڑھ کر اس کے تن پر سجے لباس اور زیورات کو بنا لیا گیا ہے۔ خاص طور پر نوجوانوں میں یہ رویہ بڑھ رہا ہے۔ لوگ باطن کی جگہ ظاہر پرست ہوچکے ہیں۔ فیشن ضرور اپنائیں لیکن اسے تعلقات اور احترام کا معیار نہ بنایا جائے۔ جدت پسندی اور فیشن اچھی چیز ہیں لیکن انھیں سماج کی تباہی کا ذریعہ نہ بنائیں۔ اگر فیشن ہاتھ سے کتاب لے کر ہمیں دنیاوی شو آف کی جانب لے جارہا ہے تو یہ بھی غلط ہے۔ فیشن کے بارے میں بس اتنا کہنا چاہوں گی کہ بے شک یہ معاشرے کی اہم ضرورت ہے تاہم اسے اعتدال میں ہی اپنا جائے۔ اس کے استعمال سے ہم نہ صرف ظاہری طور پر بہتر نظر آئیں بلکہ ہمارا باطن بھی اچھا ہوجائے ۔ اگر آج کے نوجوان تعلیم کو چھوڑ کر اور صرف فیشن کی جانب متوجہ رہیں گے تو ہمارا معاشرا اور ملک دونوں زوال پذیر ہو جائیں گے۔

اقرا اکرم
رنگ، تتلی، خوشبو اور خوب صورت پہناووں کی دلدادہ اقرا انٹر کی طالبہ ہیں۔ ابھی ٹین ایج میں ہیں لیکن معاشرے کو بہت سنجیدہ نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ سماجی مسائل پر قلم اٹھانے میں دل چسپی رکھتی ہیں اور مطمئن پاکستانی معاشرے کی خواہاں ہیں۔

One thought on “فیشن اور سماج”

  1. ماشااللہ بہت اچھا لکھا ہے۔ آپ نے ٹھیک کہا کہ فیشن کوئی برا نہیں ہوتا اگر وہ باوقار ہو۔ یقینا ہمیں بحیثیت مسلمان اور پاکستانی اپنی حدود اور اقوام عالم میں اپنی ممتاز حیثیت کا پاس ہونا چاہیے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے