بچوں کا ادب طنز و مزاح لائف اسٹائل

فرخندہ کا چڑی روزہ

ماہِ رمضان  کی آمد آمد تھی اور مجھے اس وقت جس آزمائش کا سب سے زیادہ سامنا تھا وہ میری بیٹی فرخندہ کی روزہ رکھنے کی ضد تھی۔ میں ذاتی طور پر چھوٹے بچوں سے روزہ رکھوانے کی قائل نہیں ہوں۔ میرے سامنے اکثر و بیشتر لوگ مثالیں لے کر آتے ہیں جن کے پاس اپنے 5 سالہ بھتیجے یا 6 سالہ بھانجی کے روزہ رکھنے کے قصے ہوتے ہیں یا کچھ لوگ اپنی 4 سالہ بیٹی کی ضد پر اس کا روزہ رکھوا دیا کرتے ہیں۔  ایک صاحبہ نے تو کہا انھوں نے پہلا روزہ 3 برس کی عمر میں رکھا تھا۔ کسی کے مطابق ان کی نوزائیدہ بچی تو اتنی سعادت مند تھی کہ رمضان میں سحر تا افطار سارا دن دودھ ہی نہ پیتی تھی ۔ ارے جناب آپ نوزائیدہ سے  روزہ رکھوا دیجیے اور اس کے اشتہار بھی لگوائیے لیکن روزہ تو جس عمر میں  فرض ہونا ہے ہم تو اپنی بچی کی تب ہی روزہ  کشائی کروائیں گے۔

خیر فرخندہ کا اصرار جاری تھا اور میں ابھی 8 برس کی عمر میں ان کا روزہ رکھوانے پر تیار نہ تھی۔ میں نے ہمیشہ یہی سوچا تھا کہ جب ان پر روزہ فرض ہوگا اس رمضان ہی ان کے پہلے روزے کے ساتھ ان کی روزہ کشائی کی جائے گی۔ روزہ کشائی کے دن کو یادگار بنانے کے بھی حسبِ استطاعت کافی منصوبے بنا رکھے تھے۔  لیکن وہ تو ہر منصوبے پر پانی پھیرنے کو تیار تھیں۔ صبح و شام ضد کہ نہیں ماما میں تو روزہ رکھوں گی۔ لاکھ سمجھایا بیٹا آپ کیسے بھوکی پیاسی رہیں گی، آپ کو تو تین سے چار گھنٹے بعد بھوک لگنے لگتی ہے۔ لالچ بھی دیے کہ دیکھیں ہم نے تو یہ ۔۔۔منصوبے سوچ رکھے ہیں  پر انھوں نے ایک نہ سُنی۔

ہاں بچوں پر زبردستی کے ہم قائل نہیں اور ان کی جائز خواہشات کو پورا کرنا بھی اپنا فرض سمجھتے ہیں۔  اس لیے انھیں بطور پریکٹس چڑی روزہ رکھنے کی اجازت دی گئی۔

چڑی روزہ  کی اصطلاح سے تو اکثریت ہی واقف ہوگی۔ چھوٹے بچوں کو بہلانے کے لیے  کسی قدر نرمی برتتے ہوئے آدھے دن کا روزہ رکھوا دیا جاتا ہے ۔ یا  کہیں چڑیا جتنا تھوڑا تھوڑا سا کھانے کی  یا پینے کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ کہیں ایک داڑھ کا روزہ رکھوا دیا جاتا ہے، یعنی منھ کے ایک جانب سے کھا پی سکتے ہیں۔ ہم نے بھی فرخندہ سے کہا بیٹا آپ کل چڑی روزہ رکھ لیں تاکہ کنفرم ہوجائے کہ آپ روزہ رکھ سکتی ہیں۔  آپ سحری سے دوپہر ایک بجے تک کا روزہ رکھ لیجیے ایک بجے آپ افطار کر لیجیے گا (تاکہ دوپہر کی گرمی میں پانی پی سکیں)۔ لیکن ان کا اصرار کہ روزہ تو میں 7 بجے آپ سب کے ساتھ ہی افطار کروں گی۔ تو دوسرا آپشن یہ تھا کہ وہ دوپہر ایک بجے سے شام 7 بجے تک چڑی روزہ رکھ لیں۔ اس پر ان کا شوق تھا کہ سحری بھی ضرور کرنی ہے۔ خیر طے پایا کہ وہ اٹھ لر سحری تو کریں گی لیکن ان کے روزے کا آغاز دوپہر ایک بجے سے ہوگا۔ ٹھیک ساڑھے بارہ بجے ہم نے فرخندہ کو کھانا کھلایا، خوب سا پانی پلایا ۔ گویا وہ اب سے اپنے روزے کے آغاز کو تیار تھیں۔

ایک بجے مدرسے قرآنِ پاک کی تعلیم کے لیے گئیں اور 3 بجے واپس آئیں تو  پیاس سے برا حال۔ ماما بہت پیاس لگ رہی ہے کیا روزہ 3 بجے سے شروع نہیں ہوسکتا۔ ہم نے کہا بالکل ہوسکتا ہے آپ ابھی پانی پی لیجیے 3 بجے سے روزے کا آغاز ہوجائے گا۔ وہ گھڑی دیکھنے گئیں اور آکر اداسی سے بولیں ماما اب تو 3 بج کر 10 منٹ ہوگئے۔ ہم نے کہا چلیں اس وقت آپ پانی پی لیجیے اور اب سے آپ کے روزے کا آغاز ہوجائے گا، لیکن اب اس کے بعد پانی نہیں پئیں گی آپ۔ روزے میں صبح فجر سےلے کر مغرب تک کچھ بھی کھانا پینا ممنوع ہے۔ آپ کا چڑی روزہ ہے اس لیے آپ کو اب تک رعایت دی گئی ہے۔

خیر 3 بجنے کے بعد سے ان کے چڑی روزے کا آغاز ہوا۔  تھوڑی دیر آرام کے بعد کھیل میں لگ گئیں اور 5 بجے سے افطار کی تیاریوں میں مدد کرنےلگیں۔ ساتھ ساتھ ان کی پلاننگز بھی چل رہی تھیں۔ ماما میرے چڑی روزے کی روزہ کشائی ہوگی آج؟ ہم نے کہا آپ کیا چاہتی  ہیں۔ بولیں زیادہ نہیں بس میرے فرینڈز کو بلا لیجیے۔ نامیہ، اطیب اور معین کو بلا لیجیے اور مریم فاطمہ تو ہمارے ساتھ ہی رہتی ہیں۔ ہم نے کہا بلا لیتے ہیں اور کیا کریں۔ کہنے لگیں افطار تو یہی ٹھیک ہے چلیں وہ اپنے گھر افطار کرلیں اور اس کے بعد آجائیں تو ہم سب کو آپ آئس کریم کھلانے لے جائیں تاکہ چڑی روزے کی پارٹی ہوجائے۔ ہم نے اس پر بھی رضامندی ظاہر کردی اور وہ خوش ہوگئیں۔

6 بجے سے انھیں پیاس اور بھوک لگنا شروع ہوگئی۔ پہلے دبے دبے لفظوں میں اظہار کیا۔ ہم نے تنبیہہ کی کہ بس اب کچھ کھانا پینا نہیں ہے آپ کا  چڑی روزہ ہے نا۔ انھوں نے مدد طلب نظروں سے دیکھا تو ہم نے صاف کہہ دیا آپ اگر چڑی روزہ توڑیں گی تو ہم آئس کریم کا پلان بھی ختم کردیں گے۔ اس پر وہ چپ ہوگئیں۔ سوا 6 بجے انھیں چکر آنے لگے اور بھوک کے مارے  پیٹ میں درد ہونے لگا۔  ہم نے کہا 3 بجے کے بعد سے تو روزہ رکھا ابھی سے بھوک؟ بولیں کھانا  تو 1 بجے سے پہلے کھایا تھا نا۔

ساڑھے 6 بجے تک ان کی حالت غیر ہوچکی تھی۔ اب وہ مارے درد کے بس پیٹ پکڑے گھوم رہیں تھیں۔ ہم نے حال پوچھا تو سینے سے لگ گئیں۔ ہم نے کہا  کیا ہوا، منھ چلاتے ہوئے اشاروں سے بولیں، کھانا (اب منھ چل رہا تھا اور آواز نہ نکل رہی تھی اس لیے اشارے بھی چل رہے تھے)۔ ہمیں ترس آنے لگا۔ بہت بھوک لگ رہی ہے۔ اثبات میں سر ہلا دیا۔ کھیرا کھاؤ گی؟  پھر اثبات میں سر ہلا۔ ہم نے کہا آئس کریم پارٹی کینسل؟ بولیں جی ٹھیک ہے۔ اور ہم نے انھیں کھیرا پکڑایا تو منھ کھول دیا گویا اپنے ہاتھ سے کھانے کی بھی سکت نہیں۔ خیر ہمارے ہاتھ سے کھیرا کھایا اور اچھلتی کودتی صحت مند ہوگئیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
اس کے بعد راوی کا بیان ہے کہ افطار بھرپور طریقے سے کرنے کے بعد بھی تادیر وہ اس بات پر مصر رہیں کہ انھوں نے کامیابی سے چڑی روزہ رکھا ہے اور انھیں آئس کریم کھلانا ہم پر فرض ہے۔ پارٹی تو نہ ہوسکی لیکن انھیں اور گھر کے سب بچوں کو ان کی پسند کی آئس کریم ہمیں دلانا ہی پڑی۔

حمیرا اشرف
لغت نویس، ترجمہ نگار اور بلاگر حمیرا اشرف اپنے ماحول میں مثبت رویوں کی خواہاں ہیں۔ بلا تفریق رنگ، نسل، زبان و جنس صرف محبت پر یقین رکھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل صرف محبت میں ہی مضمر ہے۔

2 thoughts on “فرخندہ کا چڑی روزہ”

  1. بچے بیچارے ہر چیز میں خوشی تلاش کرتے رہتے ہیں، چاہے کھیل کود ہو یا کھانا پینا، یا ماں باپ کی طرح روزہ رکھنا،،، جسے رکھنے کا عزم خاص تفاخر سے انہیں سرفراز کرتا ہے۔ اللہ سب کے بچوں کو آباد و شاد رکھے۔ آمین

اپنی رائے کا اظہار کیجیے