طنز و مزاح

موسمِ امتحانات

بچپن سے پڑھا، سال میں چار موسم ہوتے ہیں، سردی، گرمی، خزاں اور بہار۔ پھر زرا بڑے ہوئے تو پتا چلا کہ ایک موسم برسات بھی ہے؛ مزید بڑے ہونے پر، دل کا موسم ، پیار کا موسم ،غم کا موسم ، اداسی کا موسم، نیز حلوے کا موسم، حلیم کا موسم، بریانی کا موسم اور اس جیسے کئی موسم بھی سننے اور برتنے کو ملے (بلکہ کچھ لوگ تو یہ کہتے بھی پائے گئے ۔۔۔ کیا لڑکی ہوئی ہے؟ آج کل تو لڑکوں کا موسم ہے ہمارے خاندان میں بھی سب کے ہاں لڑکے پیدا ہوئے ہیں) ۔ بہرحال، آج عمر کے اس موڑ پر جو موسم سب سے زیادہ حواس پر چھایا نظر آتا ہے وہ ہے، امتحان کا موسم۔ چلیں بات کو کچھ اور واضح کیے دیتے ہیں! امتحان کئی اقسام کے ہوتے ہیں، جیسے چھ آٹھ ماہ کی عمر میں کوئی رشتے دارطوطے کی طرح اپنا نام رٹائے جارہا ہے، اگر غیرمبہم الفاظ میں جواب دے ہی دیا تو پاس ورنہ فیل، بچہ غبی ہے۔ دس ماہ کا ہوکر چلنے کا امتحان۔۔۔ اماں ابا چلانے کی کوشش میں گھنٹوں تھکا رہے ہیں کیونکہ ہر آن سننے کو مل رہا ہے: ہمارا بچہ تو 6 ماہ میں چلنے لگا تھا، ارے ہمارا تو 4 ماہ میں چلا تھا، ارے جناب ہمارا تو پیدا ہوتے ہی کھڑا ہوگیا اور ماں کی انگلی پکڑ کر بولا چلو اماں اب گھر چلتے ہیں۔ غرض کہ فخرومباہات اور بےچارے شیرخوار کی بچپن میں خواری۔۔۔ جوانی میں وہ محبوب والے نیز سسرالی امتحانات بھی کم نہیں لیکن سرِ دست ہم جس امتحان سے دوچار ہیں اور بہت زیادہ ہی دوچار چھ آٹھ ۔۔۔بلکہ گنتی ہی مک گئی ہے، وہ تعلیمی زمانے کے امتحان ہیں۔
عمر کے آغاز اور ابتدائی برسوں سے شروع ہونے والا یہ جان لیوا موسم پوری انسانی زندگی پر محیط نظر آتا ہے۔بچپن میں امتحان دیتے جوان ہوئے، شادی ہوئی دو چار سال گزرے اور اس کے بعد پھر امتحان لاحق۔۔۔ جہاں دیکھو امتحان ہی امتحان، (شاعر سے معذرت کے ساتھ) زندگی کیا کسی مفلس کی قبا ہے جس میں ہر گھڑی امتحان اور اس کے درد و الم کے پیوند لگے جاتے ہیں۔ پہلے امتحان دیتے تھے، رٹے لگاتے تھے، جان گھلاتے تھے، صلواتیں سنتے اور امتحان دیتے چلے جاتے، نتیجہ نکلنے کے بعد مزید صلواتیں سنتے اور اب پھر یہی حال ہے۔ شادی میں کیوں نہ آئے؟ فنکشن میں کیوں شریک نہ ہوئے ؟بچے کا امتحان تھا؛ آفس سے چھٹی کیوں چاہیے ؟ بچے کو امتحان کی تیاری کروانا ہے؛ ہائپر ٹینشن کیوں ہو رہی ہے؟ کیا کروں بچوں کو خود پڑھاتا ہوں؛ بیگم کا بی پی لو رہنے لگا ہے۔۔۔ کیا کرے بےچاری ساری رات بچوں کے لیےجاگتی ہے بچے امتحان کی تیاری جو کر رہے ہیں۔ ارے تم یہ آج کل صبح دوپہر چائے پاپا کیوں کھاتے ہو پراپر لنچ کیا کرو۔۔ کیا کروں یار بچت نہیں ہے نا! بچے کو امتحان کی تیاری کے لیےایک اور ٹیوشن لگوا کر دی ہے۔
بزرگوں سے سنا ہے پہلے کبھی اچھے وقتوں میں سال میں دو بار امتحان ہوتے تھے، پڑھ لیا تو پڑھ لیا نہیں پڑھا تو بھی کوئی بات نہیں اگلے سال پڑھ لے گا۔ ہمارے بڑے ماموں جان نے بلامبالغہ سولہ سال میں آٹھ جماعتیں پڑھیں؛ پھر بیچ میں شادی و دیگر مصروفیات آڑے آئیں، کچھ امتحان دیا کچھ کام کیا اور بالآخر پچھلے سال اپنے بیٹے کے ساتھ بی اے پاس کر ہی لیا (ریٹائرمنٹ پر بیٹھےتھے اور ایک پروموشن ڈگری کی شرط پر برسوں سے رکی ہوئی تھی)۔ پہلے دس بچے ہوتے تھے اور سب کے ایک ساتھ دو امتحان۔۔۔ آج دو بچے ہیں اور دونوں کے دس دس امتحان جبکہ بچوں کے ساتھ ساتھ ماں باپ کی تعلیمی قابلیت، حوصلے، ہمت، نیز جیب کا امتحان۔ اب تو تقریباً سارا سال ہی امتحان طاری رہتا ہے۔ماہانہ جانچ، دو ماہی، سہ ماہی، اور آخر میں حتمی جانچ جس میں گذشتہ ساری جانچ پڑتال میں حاصل کردہ نمبر شامل کیے جاتے ہیں اسی وجہ سے بچے اور والدین بس کولہو کے بیل کی طرح ایک دائرے میں گھومے چلے جاتے ہیں۔ بقول شاعر
رات آئی ہے بچوں کو پڑھانے میں لگا ہوں
خود جو نہ بنا ان کو بنانے میں لگا ہوں
بیٹا یہ کھلونوں سے کیوں کھیل رہے ہو؟ تمھارے امتحان ہیں ؛ تم کبھی پڑھتے بھی نظر آیا کرو، پتا ہے نا امتحان ہیں؛ بس آج سے رشتے داروں کو فون کر دو کوئی ہمارے گھر نہ آئے، امتحانات کی ڈیٹ شیٹ آگئی ہے۔ بچے کو گرمی میں باہر نہ بھیجو، بیمار پڑ گیا تو۔۔آگے امتحان ہیں؛ آج سے گھر کا ٹی وی بند، ہر جگہ آنا جانا بند، زور سے ہنسنا بولنا بند، ٹھنڈا پانی پینا بند، چاکلیٹ، آئس کریم، چاٹ، سموسہ کھانا بند۔۔۔ امتحان جو ہونے والے ہیں۔یہ سب پابندیاں صرف بچوں پر ہی نہیں بڑوں پر بھی یکساں طور پر لگتی ہیں۔ ایک امتحان کے نرغے سے نکل کر سکھ کا سانس بھی نہیں لے پاتے کہ دوسرا امتحان سر پر آجاتا ہے۔ پہلے کبھی جنگ کے زمانے میں جب سائرن بجتا ہر طرف گھپ اندھیرا کر دیا جاتا اور مکمل تاریکی و خاموشی طاری کر دی جاتی، بعینہٖ آج کل بچوں کے سونے کے بعد چوری چھپےانتہائی دھیمی آواز میں(مضمون کی اخلاقی پالیسی کو ملحوظ رکھتے ہوئے) خبریں دیکھی جاتی ہیں، کیونکہ بچوں کے امتحان ہیں۔
نجی اسکولز میں یوں تو سارا سال ہونے والے چھوٹے بڑے ٹیسٹ ملا کر حتمی نتیجہ بنایا جاتا ہے تاہم میٹرک، انٹر (یا او/اے لیولز) اور گریجویشن کی سطح پر اب بھی سالانہ امتحان کا رواج ہے۔ امتحان کی ان ہر دو صورتوں میں طالب علموں اور والدین پر یکساں دباؤ نظر آتا ہے۔ پڑھ پڑھ کر طالب علم اگر سر جھاڑ منھ پہاڑ ط ا ل ب ان نظر آنے لگتے ہیں تو والدین ان کے ظلم کا شکار عوام معلوم ہوتے ہیں۔ شرحیں (پنجاب میں خلاصے)، پانچ سالہ پرچہ جات، گیس پیپرز، سپر گیس پیپرز، تیر بہدف پیپرز، پیر صاحب کے تعویزات، قلم پر دم کروانے کی فیس، بچے کو پڑھ پڑھ کر پلائے جانے والے پانی، پھونکے جانے والے دم درود کے ساتھ رات بھر جاگ جاگ کر کیے جانے والے وظیفوں کی فیس نیز حلوے مانڈے، مغزیات کوٹ کوٹ کر بنائی گئی پنجیری کے اخراجات اس سے بھی سوا ہیں۔
امتحان سے قبل پورا خاندان ایک قسم کے غیر شعوری مقابلے کی دوڑ میں مشغول ہوتا ہے۔ سب سے زیادہ نمبرز کا جنون والدین کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ بچے پر ہی نہیں خود پر بھی جا و بے جا پابندیاں لگائیں نتیجتاً بچہ بدحواس ہوکر بے نتھے بیل کی طرح امتحان ہی نہیں تعلیمی عمل سے بھی جان چھڑا کر بھاگنے لگتا ہے۔ اب آگے آگے بچہ اور پیچھے پیچھے پورا گھر دوڑ لگاتا ہے؛ کہیں ماں آنسو بہا رہی ہے، جذباتی واسطے دے رہی ہے تو ابا جھڑکیاں اور دھمکیاں لگا رہا ہے، دادی اس لاپروائی کا الزام ماں اور ننھیال پر لگاتی ہیں تو پھوپھیاں طعنے دینے میں کسی سے کم نہیں اور چچا اپنی نوجوانی کی تعلیمی کامیابیوں کے جھوٹے سچے قصیدے سنا رہے ہیں، جبکہ بڑے بہن بھائی ماضی قریب میں خود پر گزری اسی واردات کا بدلہ لینے کے لیے اسے مشقِ ستم بنائے بیٹھے ہیں۔ ایک رن کا سا سماں ہےجس میں بچہ تو مانو غنڈوں میں پھنسی ۔۔۔ ہے ۔
خواہ اسے والدین کی بے جا توقعات مانا جائے، آئندہ زندگی میں اچھی ملازمت کے حصول کی مجبوری، یا بچے کے کم نمبرآنے کی وجہ سے رشتے داروں کے آگے نکّو بن جانے کا احساس، لیکن یہ امتحانات وہ بلا ہیں جنھیں ہم نے خود اپنے حواس پر طاری کر رکھا ہے۔ یہ وہ ڈگڈگی ہے جو زیادہ تر نجی تعلیمی ادارے بجا رہے ہیں اور ہم سب حتی المقدور ناچے چلے جارہے ہیں۔

حمیرا اشرف
لغت نویس، ترجمہ نگار اور بلاگر حمیرا اشرف اپنے ماحول میں مثبت رویوں کی خواہاں ہیں۔ بلا تفریق رنگ، نسل، زبان و جنس صرف محبت پر یقین رکھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام مسائل کا حل صرف محبت میں ہی مضمر ہے۔

2 thoughts on “موسمِ امتحانات”

  1. ہک ہا ۔۔۔
    کیا دور یاد کرادیا
    خوش قسمتی سے والدین ایسی کسی دوڑ میں کبھی شامل نہ ہوئے سو اپنی جان بچی رہی ۔۔۔ کھیل کود بھی خوب کیے البتہ پھر بھی خراب ہونے سے بچے رہے۔۔
    مگر مجھے لگتا ہمارا آئندہ نسل (مراد اپنے بچے ہیں) خوب اس ظلم کا شکار ہونگے کہ ہمارا ارادہ انہی ڈاکٹر انجئینیر بنانے کا ہے

    1. جی ایسا ہی ہے۔ ہمارا زمانہ کافی بہتر تھا لوگ بھی سادہ مزاج تھے اسٹیٹس کی دوڑ نہیں لگی ہوئی تھی۔ ہم گلیوں میں کھیل سکتے تھے اس لیے بھی بڑوں کی نظر میں نہ آتے تھے۔ شاید والدین بھی سوچتے تھے دس میں سے ایک آدھ خود ہی قابل نکل آئے گا اور یہ بھی کہ کس کس پر توجہ دیں۔ اب ہوتے ہیں بچے دو تین اور گھر سے باہر بھی نہیں جاسکتے بس نظروں کے سامنے گھر میں ان ڈور گیمز کھیلتے ٹی وی دیکھتے نظر آتے ہیں تو اماں ابا کو ان کی پڑھائی کی فکر بھی لاحق رہتی ہے۔ اور سب سے اہم بات واقعی ہم میٹیریلسٹک ہوگئے ہیں۔ ہمیں یہ خیال ہی خوف زدہ کر دیتا ہے کہ ہماری اولاد پڑھ لکھ کر بہت زیادہ تنخواہ والی نوکری حاصل نہ کرسکی تو اس کا کیا بنے گا!

اپنی رائے کا اظہار کیجیے