مذہب نقطۂ نظر

ایصالِ ثواب (حصہ سوم)

ایصالِ ثواب نامی اس تحریر میں اب تک آپ کی ملاقات جس کردار سے ہوئی یہاں ہم  اس میں کسی قدر تبدیلی دکھائیں گے۔ تبدیلی بنام "واپسی” بےشک ہم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے۔ ہم میں سے تقریباً سب ہی،  خواہ کسی بھی مکتبہ فکر یا علم و عمل کے حامل ہوں، سفر میں ہیں۔ خدا تک پہنچنے کے سفر میں۔ ہاں خدا کا راستہ غور و فکر اور تدبر میں پنہاں ہے۔ ہمارے کردار جناب "مخدوم صاحب” کی واپسی کے سفر کا آغاز بھی یہاں سے ہوا چاہتا ہے۔ کردار بھی وہی ہے اور نامہ نگار بھی لیکن اب راستہ مختلف ہے۔ ملاحظہ فرمائیے گا۔

واپسی


نامہ نگار: معذرت کے ساتھ ، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ جو ثواب آپ بخشش دیتے ہیں وہ متعلقہ آدمی تک پہنچ جاتا ہے ؟
مخدوم : معذرت کی ضرورت نہیں ، یہ ایسے سوال ہیں جو ہمارے ذہنوں میں ابھرتے رہتے ہیں اور ہم کوشش کرتے ہیں کہ اس کا تسّلی بخش جواب مل جائے یا پھر اپنے سینے میں دبائے رکھتے ہیں اور کبھی اس کا جواب تلاش کرنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ دوسری صورت میں انسان کے اندر خوف اور حزن رہتا ہے۔ اور نہ ہی اطمینان۔  بھائی یہ تو اللہ تعالیٰ کو ہی علم ہے کہ یہ کیسے ہوتا ہے،  ثواب پہنچتا ہے یا۔۔۔ ہم اپنی طرف سے تو پوری کوشش کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کا اپنا ایک نظام ہے وہ یہ سب کچھ کیسے کرتا ہے اس کا اندازہ ہمارے لیے  مشکل اور ناممکن ہے ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ ہم کچھ جو کرتے تھے شروع شروع میں مجھے اس پر مکمل یقین تھا اور ہم یہ سب کچھ نیک نیتی سے اور خلوصِ نیت سے کرتے تھے۔ لیکن آہستہ آہستہ میرے دل میں وسوسے پیدا ہونے شروع ہوئے۔ میں یہ سمجھتا کہ شیطان ورغلانے کی کوشش کر رہا ہے اس لیے  میں ایسے وسوسوں کو جھٹک کر پھینک دیتا اور خوشی محسوس کرتا کہ میں نے شیطانی خیالات پر قابو پا لیا ہے اور پھر اسی کام میں مگن ہوجاتا۔ میں نے جیسے پہلے بھی بتایا تھا کہ میں تھوڑا کُند ذہن تھا لیکن اس کے باوجود تعلیم کوجاری رکھا اور امتحانات میں پاسنگ مارکس مل جاتے تھے ۔ میں چونکہ حافظ نہیں تھا اس لیے  بعض اوقات کوشش کرتا کہ اپنے حفاظ دوستوں سے قرآن کریم کے بارے میں گفتگو کر کے اپنے علم میں اضافہ کروں۔ لیکن اس معاملے میں وہ مجھ سے بھی گئے گزرے تھے۔ رموز حفظ کے علاوہ انھیں  دنیا جہاں کی کچھ خبر نہ تھی ۔ قرآن میں کیا مضامین بیان کیے گئے ہیں یا کیسا منبعِ علم اس میں پوشیدہ ہے حفاظ کو نہ ان سے کوئی غرض تھی نہ مطلب۔ چونکہ انتطامی امور میرے ذمے تھے اور لوگوں سے رابطہ کرکے اور ان سے لچھے دار باتیں کرکے دعوت و تبلیغ اور ان کو اپنے اثر میں لانا بھی میری ذمہ داری تھا اس لیے  تلاوت کے ساتھ ساتھ  میں نے یہ جاننے کی کوشش بھی شروع کی کہ اللہ تعالیٰ کا یہ کلام ہمیں کیا پیغام دیتا ہے۔ اس سے قرآن اور اسلام کے مطالعےکا شوق پیدا ہوا ۔شروع شروع میں ایک ہی فرقے کی کتابوں کا مطالعہ کیا تو اس کاروبارِ حیات کے متعلق اور بھی تقویت ملتی  رہی کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں یہ سب نہ صرف درست ہے بلکہ بہت بڑی نیکی ہے۔ لیکن جوں جوں مطالعہ وسیع ہوا اور  مطلب اور معانی پہ غور کرنے لگا تو سوچتا کہ یہ ثواب جو ہم بھیجتے ہیں تو کیا ہر آیت کا ثواب پہنچتا ہوگا؟، جیسے قرآن کریم کی ایک آیت کے معانی  ہیں جھوٹ بولنے والوں پر اللہ کی لعنت  ۔ یا زانی اور زانیہ کی سزا اسّی اسّی کوڑے۔۔۔ یہ احکام تو  عمل کرنے کے لیے  ہیں،  لیکن عمل سے گزرے بنا ہم ان کا ثواب بھی بزرگوں کو ارسال کر دیتے ہیں،  یہ کیسے ممکن ہے ۔
ایک اور راز کی بات بتاؤں کہ یہ جو کہا جاتا ہے کہ اسلام میں داڑھی ہے لیکن داڑھی میں اسلام نہیں۔  میری رائے میں تو یہ محاورہ یا قول  بھی غلط ہے۔ اصل محاورہ یہ ہے کہ ” نہ اسلام میں داڑھی ہے نہ داڑھی میں اسلام ” دیکھو ! اسلام تو ایک زندہ جاوید ضابطۂ ہدایت ہے۔ اسلام کی سر بلندی ،کامیابی اور کامرانی میں داڑھی کا کوئی کمال نہیں،  بلکہ یہ تو  ان اصحاب کے کردار اور عمل کا نتیجہ تھا۔ آج بھی اگر مسلمان اپنے کردار اور عمل کو قرآن کریم کے بیان کردہ احکام اور اصولوں کے تابع لے آئیں تو آج بھی وہی نتائج نکلیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ میرے اعمال میں بھی داڑھی  کا کوئی کردار نہیں، اسی لیے میری داڑھی نہیں۔ ہاں میں داڑھی کے خلاف نہیں ہوں، یہ انسان کی اپنی مرضی اور خواہش پر منحصر ہونا چاہیے کہ وہ داڑھی رکھنا چاہتا ہے یا نہیں۔
نامہ نگار : لیکن یہ کہا جا تا ہے کہ داڑھی سُنت ہے تو پھر آپ کیا کہیں گے؟
مخدوم : دیکھیں جی ! کیا نبی اکرمﷺ کوئی شلوار قمیض اور سبز یا کوئی مخصوص رنگ کی ٹوپی پہنتے تھے؟ ظاہر ہے کہ آپﷺ عربی لباس پہنتے تھے، نبوت کے ساتھ ساتھ جتنے بھی عہدے ہو سکتے ہیں ، انھیں  بروئے کار لانے کے باوجود وہ اپنا کام خود کرتے تھے۔ کلاشنکوفوں والے ان کے محافظ نہ تھے۔ اُمتی اگر اونٹوں پر سفر کرتے تھے، وہ بھی اونٹ پر ہی سفر کرتے تھے۔ وہ امین اور صادق تھے، یہ سُنت نبوی کے درخشندہ گوشے ہیں۔ پھر مولوی حضرات ان چیزوں کی پاس داری کیوں نہیں کرتے۔ میں تو کہتا ہوں کہ مسلمان اگر نبی اکرمﷺ کی ایک ہی سُنت پر عمل کریں تو مسلمانوں کا معاشی مسئلہ بڑی آسانی سے حل ہو سکتا ہے نہ ہی کسی ملک کی محتاجی کرنی پڑے گی اورنہ دوسرے ممالک سے قرضے لینے کی ضرورت۔ اس ایک سُنت کو پورا کرنے سے معاشرے کے ہر فرد کو ضروریات زندگی آسانی سے میسر آئیں گی۔ نہ تو کوئی شخص بھوکا پیاسا سوئے گا نہ اس کے معصوم بچے۔ یہ انسانیت کی سب سے بڑی خدمت اورسب سے افضل نیکی اور عوام کے دکھوں کا مداوا ہوگا۔ یہی ہے وہ مساوات انسانی جس کا چرچا تو آپ ہر جگہ سُنتے ہیں لیکن معاشرے میں کہیں نظر نہیں آتی ۔ 
نامہ نگار : وہ کونسی سُنت ہے جس پر عمل کرنا اتنامشکل ہے؟
مخدوم : اس سنت پر عمل اتنا بھی مشکل نہیں ہے،  صرف اپنی سوچ  کا انداز بدلنا پڑتا   ہے۔ اگرہم  دوسرے  مسلمان کو اپنا بھائی سمجھ کر، اس کی ضرورتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے جذبہ ہمدردی کے تحت سوچ کر اس سُنت پر عمل کریں گے تو اور بھی آسانی ہو جائے گی۔ یہ سُنت اتنی معروف اور مشہور ہے کہ ہر کسی کو اس کا علم ہے۔ وہ یہ کہ حضور نبی اکرمﷺ نے اپنی پوری زندگی زکوٰۃ نہیں دی ۔ وہ اس لیے  کہ زکوٰۃ  تو اُس مال پر ہوتی ہے جو آپ جمع رکھتے ہیں تونبی اکرمﷺ نے کبھی کوئی رقم یا مال جمع نہیں کیا ۔ ضرورت سے زیادہ جو کچھ ہوتا وہ آپﷺ ضرورت مندوں میں تقسیم کر دیتے ۔ آپ ﷺ کا یہ واقعہ بھی بڑا مشہور ہے کہ جب آپﷺ کے وصال کے دن قریب تھے اور بیماری کی حالت میں بھی ان درہم کے بارے میں، جو گھر میں پڑے تھے، بار بار پوچھتے تھے اور جب تک وہ درہم تقسیم نہیں کیے گئے تھے آپ ﷺ کو سکون نہ ملا تھا۔
نامہ نگار : بس مخدوم صاحب بس میں اسی بات پر آپ کا مرید بن گیا ہوں کیا پتے کی بات ہے۔ صرف ایک سُنت پر عمل کرنے سے مسلمانوں کا معاشی مسئلہ بڑی آسانی سے حل ہو جاتا ہے ۔ لیکن ہمارے یہ علما  حضرات اس پر عمل کرنے کی تلقین کیوں نہیں کرتے؟ 
مخدوم : یہ مسلمان قوم کی بدقسمتی ہے کہ اس فکر کو عام نہیں ہونے دیا گیا اور اگر کسی نے یہ کوشش کی بھی تو اس کی سخت مخالفت ہوئی اور اس کی آواز کو حتی المقدور دبانے کی کوشش کی گئی حتیٰ  کفر کے فتوے تک صادر کیے گئے۔ اسلام کی رُو سے علما  کیا ہوتے ہیں یہ بھی کبھی عرض کروں گا۔ انھوں  نے اپنا نام علمائےکرام رکھ لیا ہے اس قسم کی تعلیم دینا ان کی اپنی موت کے مترادف ہے۔ ایک بار عطاالحق قاسمی نے اپنے ایک کالم جس کا عنوان تھا” عالم اسلام اور دولے شاہ کے چوہے”  لکھا تھا اس کا کچھ اقتباس درج کرنا ضروری ہے اس سے سوال کے سمجھنے میں آسانی ہوگی۔
لکھتے ہیں ۔۔۔۔”آج صورت حال یہ ہے کہ اپنے ذہن سے سوچنے کی آزادی سلب کر لی گئی ہے، بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہم اس کے سر پر اپنے نظریات کا کالبد چڑھا دیتے ہیں جس کے نتیجے میں اس کا سر چھوٹا اور منہ بڑا ہو جاتا ہے ” آخر میں لکھا ہے کہ” عالم اسلام دولے شاہ کے چوہوں کے نرغے میں ہے اگر ہم اپنی عظمتِ رفتہ کی بحالی چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے آزادی فکر کے لیے  جد و جُہد کرنا ہوگی”۔
اس سے  یہ بات سمجھنا اور بھی آسان ہو گیا ہے کہ مسلمان قوم دولے شاہ کے چوہے بن کر ان مجاوروں کے نرغے میں ہے اور انھوں  نے اس قوم کے دماغوں میں یہ بٹھا دیا ہے ۔

– کہتے ہیں اللہ جسے چاہے امیر بنا دے جسے چائے غریب رکھے۔ اس لیے امیر کو چاہیے کہ وہ اپنی دولت سے غریبی مٹانے کی کوشش نہ کرے۔ اس لیے کہ اگر غریب و محتاج نہ ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کا یہ حکم کہ خیرات اور صدقات دیا کرو، کیسے پورا کرے گا؟

دوسری جانب یہ تعلیم عام کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی تقدیر پہلے سے لکھ دی ہے ۔ کس کو کتنا رزق ملے گا ۔ کون کتنی دیر زندہ رہے گا ، موت کب اور کیسے واقع ہو گی ۔ کتنی دیر بیمار رہے گا ، شفا  کب ملے گی۔ پھر اس سلسلے میں بہت سے واقعات اورقصّے سنائے جاتے ہیں کہ فلاں میاں بیوی گھر کے اندر بیٹھے تھے اچانک ایک ٹرک آیا ، گھر کی دیوار توڑتاہوا گھر میں گھسا اور آدمی کو کُچل دیا، ساتھ بیٹھی عورت بال بال بچ گئی۔ اللہ نے اُس آدمی کی اس دن موت لکھ دی تھی لیکن آدمی بالکل صحت مند تھا اس لیے  اللہ نے اس کی موت کا یہ سبب بنایا ۔ اس لیے کہ موت کی جو گھڑی لکھ دی گئی ہے وہ ٹل نہیں سکتی۔ سبحان اللہ کہہ کر بات ختم کر دی جاتی ہے یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ اُس ڈرائیور کا پولیس نے کیا حشر کیا؟ یا اُس کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے گئے کہ یہ وہ ڈرائیور ہے جس نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اللہ کی تقدیر کو پورا کیا۔
اگران کے کہنے کے مطابق واقعی اس نے اللہ کی تقدیر کے مطابق ایک شخص کو ہلاک کر ڈالا ہے تو پھر پولیس اسے پکڑ کر کیوں لے جاتی ہے اُس پر مقدمہ کیوں چلایا جاتا ہے اسے سزا کیوں دی جاتی ہے ۔ کیا اللہ تعالیٰ اپنا کام کرتا رہتا ہے اور دُنیا کی عدالت اپنا ؟
بات دراصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن اور اشرف المخلوقات بنایا ہے تو اس کی ایک خاص وجہ ہے،  وہ یہ کہ اسے اختیار اور ارادہ دیا ہے۔ دوسری مخلوق کی طرح اسے مجبور نہیں بنایا ، جس طرح بکری کو گھاس کھانے اور شیر کو گوشت کھانے پر مجبور کیا ہے اس طرح انسان کومجبور نہیں کیا۔ اس کی صرف رہنمائی  کی گئی ہے کہ کون سی چیزیں حرام اور ضرر رساں ہیں اور کونسی حلال اور طیّب۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بھی معلوم تھا کہ تنہا عقل کے سہارے یہ زندگی کے مسائل حل نہیں کر سکے گا اس لیے اپنے نیک اور برگزیدہ بندوں کی وساطت سے بذریعہ وحی اس کی رہنمائی  بھی خود کر دی۔ اس سلسلے کی آخری کڑی حضور نبی اکرمﷺ کی ذاتِ گرامی ہے۔ آپ ﷺ نے اللہ تعالی کی اس رہنمائی پر خود عمل کر کے بتایا اور لوگوں سے بھی یہی کہا اگر تم نے اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کرنا ہے تو یہ صرف اور صرف قرآن کریم پر عمل درآمد سے ممکن ہو گی ۔ میں خود بھی اس پر عمل کرتا ہوں اور تم بھی اسی پر عمل کرو۔ اسی کو ضابطہء حیات کہا گیا اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لے لی کہ یہ آخری کتاب ہے اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری ہماری ہے اور اب قیامت تک کوئی بھی اس میں کسی قسم کی تبدیلی یا حک و اضافہ نہیں کر سکے گا ۔ 
نامہ نگار: آپ کا تعلق کس جماعت سے ہے؟
مخدوم : توبہ توبہ ہمارا تعلق نہ کسی جماعت سے ہے اور نہ کسی فرقے سے۔ ہم صرف مسلمان ہیں اپنے آپ کو مسلمان ہی سمجھتے ہیں۔اب آپ یہ پوچھیں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے ہر کسی کا کسی نہ کسی فرقے سے تعلق ضرور ہوتا ہے۔ اس لیے  ابھی سے اس کی بھی وضاحت کردوں کہ اسلام میں فرقہ بندی کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں بلکہ فرقہ بندی کو شرک قرار دیا گیا اور شرک ایک بڑا جُرم ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ اپنا کرم کرے اور ہمیں اس جُرم سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ مسلمانوں کی صرف ایک ہی جماعت ہے، پوری کی پوری مسلمان قوم مل کر ایک اُمت بنتی ہے اور فرقہ بندی سے اسے ٹکڑے ٹکڑے کرنا سخت گناہ اور عذاب ہے۔ 
میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا یہ کلام جو آخری اور غیر متبدل ہے ایک اُمت کی تشکیل کا سبق دیتا ہے  ۔ یہ ایک قانون کی کتاب ہے اور قانون کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو اس پر عمل کے بغیر نہ کوئی ثواب ملتا ہے نہ کوئی نتیجہ نہیں نکلتا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کی توفیق دے  امین!

ملک خادم حسین
محکمہ تعلیم سے گذشتہ 33 برس سے وابستہ ہیں اس کے علاوہ قرآنک ریسرچ، ناروے کے چیئرمین بھی ہیں۔ ان کا مقصدِحیات قرآن کریم کا مطالعہ اور غور و تدّبر، روایتی نہیں بلکہ عربی زبان کے قواعد کے مطابق، قصّے کہانیوں اور روایات سے ہٹ کر یہ معلوم کرنا کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں براہ راست ہمیں کیا پیغام دیتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے