زبان و ادب

اک دل کا چین تھا کہ سدا ڈھونڈتے رہے

دل ٹوٹتے رہتے ہیں۔ کبھی نا قدریِ جذبات کے ہاتھوں کبھی بے مہریِ یار کے ہاتھوں۔ لیکن کوئی طوفان اور سیلاب نہیں آتا آخر کیوں؟

دل وہ جوہرِ کامل اور گوہرِ بے عدیل ہے کہ جسے خود پردوں کی پرتوں میں نظام فطرت نے پنہاں کر رکھا ہے۔ یہ وہ خورشید ضیا  بار ہے کہ بدلی میں چھپا رکھا ہے۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ اس کی تابناکی نہ ہو تو سرخیِ خوں اپنی روانی سے فروع جسم کو رنگ رنگ نہ کرے۔ اسی کی رمق کا اثر نہ ہو تو چشم آبی بھی دلفریب نہ رہے۔۔۔ لبوں کی لالی، رخسارِ گلابی اور رخ کی زیبائی نہ رہے۔

یہ دل ہی تو ہے جو قفس عنصری میں بھی راز دار دوست ہوتے ہوئے بھی اپنے احساسات کا مجاور ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھی دستارِ عقل پر حکم فرسا ہو کر سلطانی بھی کرنے لگتا ہے۔

اگر دل بہلا رہے تو خزاں کی افسردگی بھی شکیبائی معلوم دیتی ہے، فصلِ بہار کے منظر پر کشش لگتے ہیں ولیکن اگر دل مرجھا جائے تو نہ امواج سے کھیلتی صبا کی دھن جاذبِ گوش رہے اور نہ بادِ تند سے کھیلتے برگ و گل نغمہ سرا معلوم دیں۔

آخر کیوں دل ہی ٹوٹتے رہتے ہیں۔۔۔ شکستہ دل لوگ آخر جی کیسے لیتے ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جو طلسم حیرت کا مظہر ہے۔

جگر کی سوزش کا سامان یا حسد ہے یا پھر قلق۔ حسد بھی قلبی جذبہ ہے مگر دوسرے کو جلانے سے پہلے حاسد ہی کا جگر جل کے بھسم ہو جاتا ہے۔ البتہ قلق وہ حسرت ہے کہ صاحب دل اپنی ناتوانی اور بے اختیاری کے عوض لاچاری کا اقرار کرتا ہے۔

عجیب ہے نا!!!  قلق خود کافی ہے کہ دل کو توڑدے اور جگر کو جلا کر راکھ کر دے۔۔۔ پھر حسد کی گنجائش کہاں سے پیدا ہوتی ہے آخر حسد جیسی خودکشی کے لیے لوگ بے تاب کیوں رہتے ہیں؟  آخر کس مکتب و ہنر کدے میں پارۂ دل کو مزید پارہ پارہ کرنے کا ہنر سکھایا جاتاہے؟

مجھے سفید ریش لوگوں کو دیکھ کر تعجب ہوتا ہے۔ آخر کیسے۔۔۔ آخر کیسے یہ لوگ اتنا جی لیتے ہیں کہ بال بھی سفید ہوجاتے ہیں۔ یا یوں کہیے کہ انہیں جینے کیسے دیا؛ ان کے ہی جیسے دوسرے لوگوں نے۔۔۔ ان کے احساسات نے۔۔۔ ان کے دل و جگر نے۔۔۔؟!

میری آنکھوں سے جھلکتی حیرت دیکھ کر اکثر لوگ خود ہی سوال کھوج لیتے ہیں۔ میں بھی ان لوگوں سے ہنرِ مدافعت سیکھنا چاہتا ہوں۔ آخر کو ہم بھی تو دو دھاری تلوار کی زد میں ہیں؛ قلق اپنا ہے اور حسد بے مانگا تحفہ ہے جو عطائے کثیر کی مانند ملتا ہی چلا جا رہا ہے۔

میں نے ایسے کئی لوگوں کو دیکھا کہ جن کا ہنر ہی عشق تھا۔ ان کے پاس سوائے محبت اور چاہنے کے کوئی اور چیز کھوجی نہیں جا سکتی تھی۔ لیکن زمانے کی ناقدری اور مخاطب کی بے مہری نے نہ صرف یکتائے روزگار سے تنہائے روزگار کردیا بلکہ ایسا ستم ڈھایا کہ جوان کو بوڑھا کر دیا۔ زندگی محض سانس لینے کا نام رہ گئی ہے۔ ان کا دل دھڑک کیسے رہا ہے خدا معلوم ، مگر یہ ہے کہ شکستگی نے اسے اتنا بے باک کردیا ہے کہ کبھی اتنا مدھم کہ اب بجھا تب بجھا اور کبھی اتنا تند کہ اب پھٹا تب پھٹا۔

یہ حالت دیکھ کر کیوں بامِ فلک لرزہ براندام نہ ہوا؟ سینۂ خاک پر تھرتھری نہ آئی؟ بادِ صبا کیونکر نہ مچلی؟ دھرتی پر کہرام کیوں نہ مچا؟

کیا واقعی دل پنجرۂ سینہ میں مقید قیدی ہے جس کی نہ کوئی شنوائی ہے اور نہ کوئی خبر گیری؟ کیا محبت ایسا ہی گناہ ہے کہ اجل سے پہلے ہی اسفل السّافلین کی جیتی جاگتی مثال بن جایا جائے؟

پتہ چلے تو مجھے بھی بتائیے گا۔

ارتضیٰ ہاشمی
منظر کا رنگ روشنی کے سبب ظاہر ہوتا ہے وگرنہ ظلمت بے رنگی کا نام ہے۔ میری آنکھ بھی ہر ادیب کی طرح مخصوص جہت سے روشنی کا استعمال کرتی ہے اور منظر سے محظوظ ہوتی ہے۔ یہ منظر میرے امیج سینسر یعنی دل پر منعکس ہوتا ہے اور پھر اپنی روانی سے لبادۂ الفاظ اوڑھ کر طبعی روشنائی کی وساطت سے ضبط تحریر میں آتا ہے۔‎

اپنی رائے کا اظہار کیجیے