حالاتِ حاضرہ سماج نقطۂ نظر

دیوانے کا خواب

آرویل رائٹ اور ولبر رائٹ ، یہ دونوں بھائی تھے۔ شادی کی نہیں دونوں نے۔ کچھ عرصہ سائکلوں کا کام کیا پھر دماغ میں سودا سمایا ہوا میں اڑنے کا۔  پہلے  تو گلائیڈر اڑانے کی کوشش کی۔ مزہ نہ آیا۔ پھر لگ گئے تجربات میں ۔ دونوں   ایک  مدت تک ہوائی جہاز بنانے کے تجربات کرتے رہے۔ لوگ ان کا مذاق اڑاتے لیکن یہ ان تھک محنت اور عزم و ہمت سے اس بظاہر ناممکن کام کو ممکن بنانے میں لگے رہے۔ کئی بار تجربے کیے، اڑنے کی کوشش میں چوٹیں بھی کھائیں۔ آخر کار   17 دسمبر 1903ء کو انھوں نے ہوابازی  کی تاریخ کا حیران کن کارنامہ انجام دیا اور  نارتھ کیرولینا کے ساحل پر اپنے ایجاد کیے جہاز کے ذریعے  ہوا میں 6 میٹر بلند ہوکر  12 سیکنڈ میں 37 میٹر کا فاصلہ طے کیا۔ اس دن انھوں نے 3 بار مزید کامیاب اڑان بھرنے کے تجربات کیے جن میں سب سے طویل تجربہ 59 سیکنڈز میں 260 میٹر کا فاصلہ طے کرنا تھا۔  یوں ایک ایسی تبدیلی ظہور پذیر ہوئی جس کے ثمرات سے آج ہم سب واقف ہیں۔ فاصلے سمٹ گئے اور انسان کی  خشکی اور پانی پر  قائم حکمرانی کے ساتھ ساتھ  اب فضائیں  بھی اس نے مسخر کر لیں۔

محمد فیاض ایک اسکول میں ناکام طالب علم، میٹرک فیل، جو تعلیم کو خیر باد کہہ کر روزگار میں جت گیا۔ نہ انجینئرنگ کی ڈگری لی نہ ہی رسمی تعلیم حاصل کی۔ سائنس کا کوئی فارمولہ نہ رٹ سکا۔  پیٹ بھرنے کو  دن میں پاپ کارن بیچنے لگا تو  رات کو چوکیداری پر مامور ہوگیا۔ پر یہ ایک ناکام طالب علم کا دماغ تھا جو اوٹ پٹانگ سوچتا رہتا۔

دیوانے نے ایک خواب دیکھا، ہوائی جہاز بنانے کا خواب!

جہاز بنانے کے لیے کچھ پیسے جمع کیے، کچھ زمین بیچی، دوستوں سے قرضہ لیا، بلکہ بینک سے بھی پچاس ہزار قرض لیے۔  کباڑی کی دکان  سے پرانا بڑا انجن ‘ جنریٹر اور بارہ وولٹ کی بڑی بیٹری ‘ جہازوں کے پرانے پرزے‘ پرانی گاڑی کی پرانی سیٹ اور پٹرول کے دو کین  خریدے اور لگ گیا کام سے۔

فیاض نے مہینوں مختلف تجربات کیے۔ جاننے والے اس کے سامنے تجسس بھرے سوال پوچھتے تو پیچھے اس کی ہنسی اڑاتے۔ لیکن وہ کسی بھی حوصلہ شکن بات کو خاطر میں نہ لایا۔  اس نے ایک سیٹ کے چھوٹے سے جہاز کا ڈھانچہ تو بنالیا اب وہ دن اس کی زندگی میں آنا تھا جب وہ اس ڈھانچے کو اڑانے میں کامیاب ہوجاتا۔

جاگتی آنکھوں خواب دیکھتا: ستارہ امتیاز ملنے کا، دنیا بھر میں نام کمانے کا اور پاکستان کا فخر بننے کا خواب۔  ایک دن وہ جہاز کو کھیتوں میں لے گیا، پٹرول کے دو کین پائلٹ کی سیٹ کے پیچھے باندھے اور جہاز اڑا لیا۔  بالآخر وہ کامیابی سے ہم کنار  ہوگیا۔ جہاز میں  چند ایک  چھوٹے موٹے نقص تھے اس نے انھیں ٹھیک کیا اور ہر طرح سے درست کرکے 31 مارچ 2019ء کوعارف والا کے گاؤں 50 ای بی میں جہاز اڑانے کا اعلان کر دیا۔ لوگوں نے پھر مذاق اڑایا۔ اس کی ہنسی اڑانے ایک مجمع اکٹھا ہوگیا۔  محمد فیاض نے اپنا جہاز اسٹارٹ کیا۔ جہاز اڑنے لیے  تیار ہوا لیکن۔۔۔

 پھر اچانک پولیس پہنچ گئی۔ کیونکہ اول تو  فیاض کا جہاز بنانا  بڑا جرم تھا اور دوسرا جرم یہ کہ وہ علی الاعلان اسے اڑانے بھی پہنچ گیا۔  مجمع جمع کرنا تیسرا جرم ہوسکتا تھا تو رائے عامہ کو گم راہ کرنا چوتھا جرم، کارِ سرکار میں مداخلت پانچواں جرم (کیونکہ جہاز اڑنے اڑانے کی اجازت دینا تو سرکار کا کام ہے) ۔ فیاض کو آلاتِ جرم یعنی انجن‘ جنریٹر‘ بیٹری‘ پٹرول کے دو کین اور سیٹ سمیت حراست میں لے لیا، جہاز ٹریکٹر پر لاد کر تھانے  رنگ شاہ لے جایا گیا اور مجرم کے خلاف 285‘ 286 اور 287 کا پرچہ درج کر دیا گیا۔

مقامی حکام  کے مطابق محمد فیاض نے جہاز اڑا کر نہ صرف اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالا جبکہ دیگر افراد کی زندگیوں کو بھی خطرے سے دوچار کیا۔ جہاز اڑانے کا اعلان کیا لیکن اس کے لیے ضروری تربیت  حاصل نہ کی (خواہ وہ جہاز اس نے خود ایجاد کیا ہو) ۔   نہ ہی  کوئی لائسنس ہی حاصل کیا( اور ایک میٹرک فیل کو جہاز اڑانے کا لائسنس بھلا کون دے سکتا ہے)۔

ایک زمانے سے بحث ہورہی ہے کہ ہم کتاب خواں، رٹو طوطے اور  محض حاشیہ بردار پیدا کر رہے ہیں سائنس دان نہیں۔ اب یہ میٹرک فیل سائنس دان سامنے آیا ہے جو یقیناً موجد بننے کے تمام اوصاف رکھتا تھا۔ دماغ میں اپج بھی تھی، آنکھیں خواب دیکھنے والی اور جسم محنت کا عادی بھی تو کیا وجہ تھی جو یہ ہمارے رسمی نظامِ تعلیم سے ناکام اور بھگوڑا قرار پایا؟

یہاں سوال ہمارے سماجی و قانونی  نظام کے  نقائص پر بھی اٹھتا ہے اور تعلیمی نظام کی کریڈیبلٹی پر بھی۔

اگر آج آرویل اور ولبر رائٹ ہمارے سماج میں ہوتے تو ۔۔۔

سحر صفدر
آرٹ سے شغف ہے اور تدریس ان کا پیشہ۔ شاید اسی لیے سماج کو تعلیم کے آئینے میں دیکھتی ہیں اور دردمندی سے قرطاس پر منتقل کر دیتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے