لائف اسٹائل

فیصلہ سازی: کامیاب زندگی کی بنیاد

زندگی بے خوف فیصلوں کی متقاضی ہوتی ہے۔  پورے عرصۂ حیات میں انسان کو لاتعداد فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ یہ فیصلے انتہائی سادہ نوعیت کے بھی ہوسکتے ہیں جیسے لباس یا غذا کا انتخاب، کہیں جانے آنے کا ، سواری استعمال کرنے کا انتخاب،  کتاب پسند کرنے کا یا ٹی وی چینل بدلنے کا انتخاب یا کچھ مشکل و پیچیدہ نوعیت کے بھی جیسے دوستوں یا پروفیشن کا انتخاب یا شادی کا فیصلہ۔ کبھی کبھار بہت سادہ نوعیت کے فیصلے محض غلطی کی بنا پر پیچیدگی اختیار کرلیتے ہیں اور تباہ کن نتائج  پیدا کرتے ہیں۔ مثلاً غذا کے انتخاب میں لاپروائی بیماری کی طرف لے جائے یا بیماری  معاملاتِ زندگی کو مفلوج کردے، اسی طرح سواری کا غلط انتخاب بھی اکثر اوقات بڑے حادثے سے دوچار کر دیتا ہے۔ اسی صورتِ حال کی وجہ سے فیصلہ کرنا اور اس بات کا انتخاب کہ کیا اور کیسے کرنا ہے،  انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔  ہمارے فیصلے اور انتخاب ہماری شخصیت اور سوچ کے بھی عکاس ہوتے ہیں اس لیے بھی ان کی اہمیت دوچند ہوجاتی ہے۔  ایک نامناسب فیصلہ غیرمناسب نتائج کا تسلسل بن جاتا ہے۔  بہترین فیصلہ کرنے کی کوشش کیجیے، لیکن اگر کبھی ایسا نہ ہوسکے، ہمت نہ ہاریں کیونکہ مزید بہتر فیصلے کرکے ایک غلط فیصلے کے اثرات زائل کرنے کا موقع آپ کے پاس ہمیشہ موجود ہوتا ہے۔

خوف ایک ایسا عنصر ہے جو اکثر اوقات ہماری فیصلہ سازی کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ مثلاً ہرن جو شیر کے مقابلے میں کہیں زیادہ رفتار کا حامل ہوتا ہے لیکن شیر کے پیچھے لگنے پر خوف کے مارے مڑ مڑ کر دیکھتا رہتا ہے اور یہ خوف  اسے شیر کی پہنچ سے نکل  جانے کا درست فیصلہ نہیں کرنے  دیتا۔ رفتار کے تفاوت کے باوجود بیشتر مواقع پر ہرن شیر کا شکار بن جاتا ہے۔  بس ہم انسانوں کی بھی کچھ ایسی ہی فطرت بن جاتی ہے کہ ہم  اپنے ماحول، سماج اور معاشی ناہمواری و عدم استحکام کے خوف خود پر سوار کرلیا کرتے ہیں یوں اس خوف کے باعث غلط فیصلے کا عفریت ہمیں نگل جاتا ہے۔

زندگی میں درست فیصلے لینا محض اٹکل پچو نہیں بلکہ یہ ایک منضبط قسم کا عمل ہے۔ جو لوگ اس کے تکنیکی عمل سے واقف ہوجائیں ان کے لیے پچھتاوے کے مواقع کم ہی آتے ہیں۔ ہم زندگی میں جتنے بھی کامیاب لوگ دیکھتے ہیں ان کے پس پشت بہت سے کامیاب اور سوچے سمجھے فیصلے ہی ہوا کرتے ہیں۔ درست فیصلے کے لیے ان امور پر غور کرنا ضروری ہے:

  • معاملے کی نوعیت کیا ہے؟
  • آپ کیا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں؟ یا اگر دو یا زائد آپشنز ہیں تو وہ کیا ہیں؟
  • فیصلے/ ہر آپشن کے اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟ قلیل مدتی ہیں یا طویل مدتی؟
  • فیصلے کے نتیجے میں آپ کو کن حالات سے گزرنا ہوگا؟
  • ان حالات پر قابو پانے کے لیے دستیاب آپشنز کون کون سے ہیں؟
  • اگر آپ ابھی فیصلہ نہ لیں اور ملتوی کریں تو اس کے کیا نتائج ہوسکتے ہیں؟
  • 10+10+10 کا فارمولہ استعمال کریں۔ یعنی خود سے پوچھیں۔۔۔ کیا میں فیصلے کے 10 منٹ بعد خوش ہوں گا؟ فیصلے کے 10 ماہ بعد خوشی محسوس کروں گا؟ فیصلہ کرنے کے 10 سال بعد بھی میں خوش ہوں گا؟
  • فیصلے / ہر آپشنز کے فوائد کو جمع کیجیے، اور پھر فیصلہ کیجیے۔

اپنے فیصلے پر کبھی پچھتاوا محسوس نہ کریں۔ ہاں ان سے سبق سیکھیں۔  کیونکہ فیصلے سے سبق سیکھنا ہی اگلے کئی کامیاب فیصلوں کی بنیاد ثابت ہوتا ہے۔

کاشف علی
کاشف علی ایک بینکر ہیں۔ لکھنے پڑھنے سے شغف رکھتے ہیں۔ زندگی اور سماج کے حوالے سے معتدل نظریات کے حامل ہیں۔ عملی زندگی میں پروفیشنل رویوں کی ترویج کے خواہاں ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کیجیے